پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ’اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کرنے کے لیے ریاض پہنچے تو ان کا شاندار استقبال
دُنیا بھر میں بڑی معیشتیں چاہتی ہیں کہ اُن کی برتری ختم نہ ہو۔ یہ فطری خواہش ہے اور بڑی معیشتیں اِس خواہش کو عملی جامہ پہناتے رہنے کی تیّاریاں بھی کرتی رہتی ہیں۔ وقت
بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے اسٹوڈنٹ وِنگ ’بنگلادیش اسلامی چھاترو شِبر‘ نے ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین (DUCSU) کے الیکشن میں تمام کلیدی عہدے جیت لیے ہیں۔ یہ فتح غیرمعمولی مارجن کی ہے۔ اسلامی چھاترو
کسی ملک کو اسرائیلی حملے سے محفوظ سمجھنا چاہیے تھا تو وہ قطر تھا۔ ایک چھوٹا ملک جو اسرائیل کے لیے کسی حقیقی خطرے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ امریکا کا اتحادی اور مشرقِ وسطیٰ
زیرِ نظر مضمون ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی، کراچی‘‘ کی شائع کردہ کتاب ’’تہذیبی کشمکش میں علم و تحقیق کا کردار‘‘ کا پیش لفظ ہے۔ مضمون کی اہمیت و افادیت کے پیشِ نظر اِسے ’’معارف فیچر‘‘ میں
’بی بی سی‘ کی ایک تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں امدادی مراکز کی حفاظت پر مامور ایک نجی کمپنی نے اپنی مسلح سکیورٹی ٹیم میں امریکا کے ایک ایسے بائیکر گینگ
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا کہ جب جغرافیائی سیاسی میدان میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خَلل ڈالنے والی
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو مَعاشی اور مُعاشرتی، دونوں ہی اعتبار سے انتہائی اَکھاڑ پچھاڑ کا ہے۔ دنیا بھر کے معاشرے اور معیشتیں نشیب و فراز کے مختلف مراحل سے گزرنے
دنیا بھر میں پارسی بہت کم رہ گئے ہیں۔ اِن کی اکثریت ممبئی میں ہے یا پھر کراچی میں۔ بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی پارسی رہتے ہیں مگر بہت کم۔ پارسی کمیونٹی کے لیے
رُوس نے ڈھائی سَو سال میں کئی بار پولینڈ پر حملے کیے ہیں اور بیشتر مواقع پر منہ کی کھائی ہے۔ استعماری دَور ہو یا اشتراکی، روس نے پولینڈ کے حصّے بَخرے کرنے میں کوئی