سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کا دَور

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جو مَعاشی اور مُعاشرتی، دونوں ہی اعتبار سے انتہائی اَکھاڑ پچھاڑ کا ہے۔ دنیا بھر کے معاشرے اور معیشتیں نشیب و فراز کے مختلف مراحل سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ جدید ترین ٹیکنالوجیز معاملات کو اِتنی تیزی سے بدل دیتی ہیں کہ فرد، معاشرہ، حکومتیں۔۔۔ سبھی دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مالیاتی مارکیٹ کا ڈانوا ڈول ہونا بھی اب عام بات ہے۔ دنیا بھر کی مضبوط حکومتیں بھی مالیاتی عدم توازن کا شکار رہتی ہیں۔ ایسے میں پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کی مشکلات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

معاملات کو ڈیجیٹائز کرنے کا چَلن اِس قدر ہے کہ اب شاید ہی کوئی شعبہ ہوگا جو ڈیجیٹائز نہ ہوسکا ہو۔ عام آدمی بھی ڈیجیٹل کلچر سے بہت اچھی طرح واقف اور اُس کا عادی ہے۔ بینکنگ، میڈیا، تعلقاتِ عامہ، نظمِ عامہ، شیئر مارکیٹ، سرکاری ادارے، کارپوریٹ سیکٹر اور دیگر تمام شعبہ ہائے مَعیشت و مُعاشرت کو اِس طور ڈیجیٹائز کیا جاچکا ہے کہ اب اِس کے بغیر جینے کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔

دنیا بھر میں ڈیجیٹل کرنسی کو تیزی سے اپنایا جارہا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے لَین دَین آسان سے آسان تر ہوتا جارہا ہے اور حساب کتاب میں بھی خاصی آسانی رہتی ہے۔ حکومتیں چاہتی ہیں کہ لوگ کاغذی زَر سے چُھٹکارا پائیں اور ڈیجیٹل لین دَین کی طرف آئیں تاکہ فرسودگی کی شکل میں ہونے والے نقصان سے بچا جاسکے۔ ڈیجیٹل کرنسی کو اپنانے یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لین دَین کرنے کی صورت میں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ کے بنیادی تقاضوں کو نبھانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔


قومی کرنسیوں کے ڈیجیٹل ورژن کو، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی متعین کردہ تعریف کے تحت، سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (سی بی ڈی سی) کہا جاتا ہے۔ اِسے ریاست کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ سی بی ڈی سی کو محفوظ اور مستحکم سمجھا جاتا ہے اور یہ چونکہ اِس کا نظم و نسق مرکزی سطح پر ہوتا ہے، اِس لیے خامیوں اور خرابیوں کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ ریاستی نظم کے تحت حساب کتاب رکھنے کی صورت میں گھپلوں کی گنجائش بھی زیادہ نہیں رہتی۔

ڈیجیٹل کرنسی اپنے طور پر کام کرنے والا کوئی سُست رفتار انقلاب نہیں بلکہ یہ تو تیزی سے پَنپتے ہوئے مالیاتی انقلاب کا تیز رفتار جواب ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کو آنا ہی تھا اور وہ آگئی۔ حکومتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ دنیا بھر کے معاملات ڈیجیٹل کرنسی میں طے کیے جائیں۔ ایسی صورت میں لین دین بہت اچھی طرح انجام کو پہنچتا ہے۔ ریاستی نظم و ضبط کی حد سے دُور رہتے ہوئے کام کرنے والی کرپٹو کرنسیز کا ایک مؤثر جواب سی بی ڈی سی کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ روایتی کاغذی زَر کے لیے کرپٹو کرنسیز بہت بڑے خطرے کے رُوپ میں اُبھری ہیں۔ حکومتیں پریشان ہیں کہ اِس نئے دردِ سر سے کیونکر نپٹیں۔ کرپٹو کرنسیز کے ہاتھوں پیدا ہونے والا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ کرنسیز روایتی نظامِ زَر کو بائی پاس کرتے ہوئے کسی بھی مُلک کے مَعاشی اور مالیاتی نظام کو عدَم استحکام سے دَوچار کرسکتی ہیں اور کر رہی ہیں۔ یہ بڑی تبدیلی کسی ملک یا خِطّے تک محدود نہیں۔ سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز اب تجرباتی مرحلے میں نہیں بلکہ نظام کا حصّہ بن کر اپنا کردار بخوبی ادا کر رہی ہیں۔

دی اٹلانٹک کونسل نے کئی سال کے اعداد و شمار کا موازنہ کرکے بتایا ہے کہ جولائی ۲۰۲۵ء تک چین، بھارت، نائیجیریا اور برازیل سمیت ایشیا، افریقا، یورپ اور شمالی و جنوبی امریکا کے ۱۳۵؍ممالک ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے میں تجربے بھی کر رہے ہیں اور اپنے لین دَین کے معاملات کو آسانی سے اور بخوبی نپٹانے میں کامیابی سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ ۲۰۲۰ء میں ایسے ممالک کی تعداد زیادہ سے زیادہ ۳۵ تھی۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں حکومتیں کتنی تیزی سے سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کی طرف لپک رہی ہیں۔ سوال اخراجات گھٹانے کا بھی تو ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی میں لین دین سے انسانی وسائل کی ضرورت کا گراف گرتا ہے اور متعلقہ اداروں اور شعبوں کے لیے اخراجات گھٹانا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔

چین کا قائدانہ کردار

چِین نے دوسرے بہت سے معاملات کی طرح ڈیجیٹل کرنسی کے شعبے میں بھی سَبقت حاصل کی ہے۔ چین کی ڈیجیٹل کرنسی (دی ڈیجیٹل یوآن) بہت تیزی سے چَلن کا حصّہ ہوتا جارہا ہے۔ جون ۲۰۲۴ء کے دوران چین کے ۱۷؍صوبوں میں ۷ ہزار ارب یوآن (۹۸۶؍ارب ڈالر) کا لین دَین ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے ہوا۔ صحتِ عامّہ، سیاحت اور تعلیم کے شعبوں میں ڈیجیٹل کرنسی کا چَلن بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مارچ ۲۰۲۵ء میں بھارت میں ڈیجیٹل روپے میں کم و بیش ۱۰؍ارب روپے (۱۲؍کروڑ ۲۰ لاکھ ڈالر) کا لین دَین ہوا۔

دُنیا بھر میں مقبولیت

دنیا بھر کی حکومتیں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسیز کی طرف بہت تیزی سے مائل ہو رہی ہیں۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اُنہیں بہت مدّت سے کسی ایسے پلیٹ فارم کی تلاش تھی جو متوازی معیشتوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی کرنسیوں یا پے منٹ سسٹم کا نعم البدل ثابت ہوسکے۔ کرپٹو کرنسیز کے ذریعے دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد کالے دَھن کو تیزی سے سفید کرتے ہیں۔ اسمگلنگ اور دیگر بہت سی غیرقانونی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھنے کے لیے کرپٹو کرنسیز کی ضرورت بہت بڑھ گئی ہے۔ سی بی ڈی سی کے ذریعے غیرقانونی تجارت کی روک تھام میں بھی بہت حد تک مدد مل سکتی ہے۔ کالے دَھن کو سفید بنانے کے عمل کی راہ میں بھی دیوار کھڑی کی جاسکتی ہے۔ علاوہ ازیں سی بی ڈی سیز کی مدد سے محصولات سے یافت بھی معقول حد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

سی بی ڈی سیز سے ویسے تو بڑے ملکوں کو بھی غیرمعمولی فوائد حاصل ہوئے ہیں تاہم ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کے لیے یہ بڑی نعمت ہے کیونکہ اِس کے ذریعے اُنہیں عالمی مالیاتی نظام میں داخل ہونے کا موقع مِلا ہے۔ جو لوگ روایتی یا رسمی مالیاتی نظام پر بہت زیادہ بھروسا نہیں کرسکتے، اُنہیں سی بی ڈی سیز قریب لاتی ہیں، لین دَین بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ کسی بھی مُلک کے دُور اُفتادہ، دیہی علاقوں کے لوگوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کا پلیٹ فارم بہت کام کی چیز ہے کیونکہ اُن کے لیے کاروباری معاملات میں لین دین بھی آسان ہو جاتا ہے اور رقوم کی ترسیل بھی مشکلات پیدا نہیں کرتی۔

ایک اچھّی مَشق

سی بی ڈی سیز پر بڑھتے ہوئے انحصار کا مطلب یہ ہے کہ اس کرنسی پر اب لوگوں کا اعتماد بڑھتا جارہا ہے۔ بینکوں کو اِس کیفیت سے بہت فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اُن کے ہاں ڈپازٹس بڑھتی جارہی ہیں اور وہ زیادہ قرضے جاری کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ اِس کے نتیجے میں معیشتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آتی ہے اور معاشی یا معیشتی نظام کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

آبادیوں کی بڑھتی ہوئی ضرورتوں، تنخواہ کی سطح اور خدمات میں پائے جانے والے خَلا کی نشاندہی کرکے سرکاری اخراجات کی اَفادیت کا گراف بھی بلند کیا جاسکتا ہے۔ اِس معاملے میں سی بی ڈی سیز کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

ہر کاروباری لین دین کا میٹا ڈیٹا انفرادی نوعیت کے سَودوں سے منسلک کرکے ریکارڈ کو زیادہ بارآور طریقے سے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں حکومت کو ایسے شعبوں اور مقامات کا سراغ لگانے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے جہاں فنڈز کی شدید کمی پائی جاتی ہو۔ کسی بھی حکومت کو اِس حوالے سے شعبوں کی مجموعی کیفیت اور اعداد و شمار کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر معاملات کی کڑی نگرانی ممکن ہی نہیں بلکہ آسان بھی بنالی جائے تو بدعنوانی کے ارتکاب میں خاصی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ یوں معاملات میں شفافیت بڑھتی ہے۔

راستہ کہیں کہیں دشوار بھی ہے!

بہت سے ممالک کو ڈیجیٹل کرنسی اپنانے میں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ اِس کا بنیادی سبب بنیادی ڈھانچے کا نہ ہونا ہے۔ ایک بڑا مسئلہ متواتر رابطہ برقرار رکھنے کا بھی ہے۔ پے منٹ سسٹم کو ہر اعتبار سے محفوظ بنانا بھی لازم ہے۔ بلاک چین ٹیکنالوجی اور مؤثر ڈیٹا سینٹرز کے نہ ہونے سے بھی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو چلانے کے لیے تربیت یافتہ افراد بھی درکار ہوتے ہیں جو متعلقہ ٹیکنالوجیز سے اچھی طرح واقف ہوں۔ ڈیجیٹل کرنسی اور لین دین کا نظام تیار کرنا بچّوں کا کھیل نہیں۔ اِس کے لیے غیرمعمولی ذہانت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انسانی مزاج کی پیچیدگیوں کو بھی ذہن نشین رکھنا لازم ہے۔ دنیا بھر کے کروڑوں، بلکہ اربوں انسانوں کو کاغذی یا روایتی زَر تَرک کرکے ڈیجیٹل کرنسی کی طرف لانا آسان کام نہیں۔ یہ معاملہ صرف بنیادی ڈھانچے یا متبادل کرنسی کا نہیں بلکہ انسانی مزاج کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے اُن پر قابو پانے کا بھی ہے۔ اِس کے لیے لازم ہے کہ اعتماد کی فضا پیدا کی جائے، لوگوں کو بتایا جائے، تعلیم دی جائے اور رابطے کے لیے محفوظ اور تیز طریقے اختیار کیے جانے چاہئیں۔

آج کی لازمی ضرورت

اب کسی بھی حکومت کے پاس تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی کو اپنانے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ بہت تیزی سے کرنا ہے۔ دنیا بھر میں ہر شعبہ ٹیکنالوجیز کی زَد میں ہے۔ مالیات کی دنیا میں بھی ٹیکنالوجیز بہت تیزی سے اپنے وجود کو منوا رہی ہیں۔ سی بی ڈی سی اب کسی بھی مرکزی بینک کی طرف سے مالیات کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کا جواب ہے۔ عوام بھی زیادہ سے زیادہ تیزی اور سہولت چاہتے ہیں۔ مالیات کی دنیا میں دن رات تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اِن تبدیلیوں پر نظر رکھنا لازم ہے۔

اگر حکومتوں نے معاملات کو درست کرنے پر توجہ نہ دی اور عام آدمی کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کی ضرورت کے مطابق متبادل اور موزوں پلیٹ فارم فراہم نہ کیے تو روایتی بچتیں غیرمستحکم اور غیرمنظم کرپٹو اثاثوں میں کھپانے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اِس کے نتیجے میں معیشتیں غیرمستحکم ہوتی رہیں گی۔

راتوں رات کچھ نہ ہوگا

کسی بھی ملک کو اگر پوری طرح ڈیجیٹل کرنسی کی طرف بڑھنا ہے تو لازم ہے کہ مرحلہ وار آگے بڑھے اور رفتار معقول رکھے۔ معاملات کو نچلی سطح سے شروع کیا جائے تاکہ ہر معاملہ اپنے وقت پر انجام کو پہنچے اور کوئی اُسے سمجھنے میں غلطی نہ کرے۔ روایتی، کاغذی زَر سے ڈیجیٹل کرنسی کی طرف بڑھنے کے معاملے میں رفتار معقول رکھی جائے تو اِس سے عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور وہ اِس بڑی تبدیلی کو زیادہ تیزی اور آسانی سے قبول کرسکیں گے۔ یہ سب کچھ راتوں نہیں ہوسکتا اور راتوں رات سب کچھ بدلنے کی کوشش میں سب کچھ پلٹ بھی سکتا ہے۔

جو کچھ مقصود ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی کی سمجھ میں نہ آسکے۔ دنیا کے ہر ملک اور ہر حکومت کو ایک ایسا ڈیجیٹل مستقبل درکار ہے جو محفوظ اور مؤثر ہو اور جس میں تمام ہی معاملات سموئے جاسکیں۔ کاغذی زَر کے دن اب گِنے جاچکے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم کس قدر جَلد اور کس طور اِس منزل تک پہنچتے ہیں۔

(مترجم: ابو صباحت)

“The worldwide rush toward central bank digital currencies”.

(“The Globalist”. September 1, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں