اسلامی چھاترو شِبر کی شاندار فتح

بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے اسٹوڈنٹ وِنگ ’بنگلادیش اسلامی چھاترو شِبر‘ نے ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل اسٹوڈنٹس یونین (DUCSU) کے الیکشن میں تمام کلیدی عہدے جیت لیے ہیں۔ یہ فتح غیرمعمولی مارجن کی ہے۔ اسلامی چھاترو شِبر کے امیدواروں نے انتخابی میدان میں جاتیاتابادی چھاتر دَل، بائیں بازو کے اتحادوں اور آزاد امیدواروں کو پچھاڑا۔

اسلامی چھاترو شِبر کے حمایت یافتہ ابو صادق قائم اور ایس ایم فرہاد نے نمایاں پوزیشنیں حاصل کیں۔ واضح رہے کہ اسلامی چھاترو شِبر کا پورا پینل فتح یاب ہوا ہے۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر غیرمعمولی نوعیت کے اور مضبوط امیداروں کو اسلامی چھاترو شِبر کے امیدواروں نے کیسے پچھاڑا۔ اِس سوال کا ایک سادہ سا اور فوری جواب یہ ہے کہ اسلامی چھاترو شِبر غیرمعمولی تنظیمی ڈھانچے اور قابلِ رشک ڈِسپلن کی حامل ہے، ابلاغ کی سطح بہت بلند ہے، وقت کی موزونیت کا بہت خیال رکھا جاتا ہے اور طلبہ میں تنظیم کے حوالے سے تصوّر اور تأثر بہت بلند ہے۔

ابو صادق قائم اور اُن کے رننگ میٹ (کور کینڈیڈیٹ) ایس ایم فرہاد کے درمیان ووٹوں کا فرق بھی بہت نمایاں ہے۔ صادق نے ایس ایم فرہاد سے چار ہزار زائد ووٹ لیے۔ بہت سے طلبہ کے نزدیک شیخ حسینہ واجد کے خلاف تحریک چلانے والوں میں صادق نمایاں حیثیت کے حامل تھے۔ وہ محض امیدوار نہ تھے بلکہ انقلاب کی علامت تھے۔ علامتی شناخت نے اُنہیں غیرمعمولی طاقت فراہم کی۔ بہت سے طلبہ کے ذہن میں یہ تأثر اور تصوّر تھا کہ صادق کو ووٹ دے کر وہ دراصل گزشتہ جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کو زندگی اور توانائی فراہم کر رہے تھے۔ یہ ایموشنل اپیل تھی جس کے زیرِ اثر طلبہ نے اسلامی چھاترو شِبر کے ووٹ بینک سے ہٹ کر بھی اپنا کردار ادا کیا۔ نظریاتی ہم آہنگی نہ رکھنے والے افراد نے بھی اسلامی چھاترو شِبر کے حق میں رائے دی۔ اسلامی چھاترو شِبر نے اس الیکشن کی تیاری ۵؍اگست سے شروع کی تھی۔ اُس نے اپنے ووٹ بینک کو مستقل محنت اور منصوبہ سازی کے ذریعے توسیع دی۔ ایک ایک ہال اور ایک ایک لابی میں طلبہ سے فرداً فرداً ملاقات کی اور اُنہیں اپنی اہلیت کا قائل کرنے کی کوشش کی۔

اسلامی چھاترو شِبر کے سامنے کھڑے ہونے والے گروپ کوشش کے باوجود کُھلے میدان میں آکر کام کرنے کے قابل نہ ہوسکے۔ بنگلادیش گنتانترک چھاترا سنگسد، پروتیرودھ پورشود، بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والا امامہ فاطمہ گروپ اور چھاترا دل بہت حد تک منتشر اور منقسم رہے۔ یہ لوگ طلبہ سے براہِ راست رابطہ کرنے کے بجائے میڈیا کے ذریعے اُن سے مخاطب ہونے کو ترجیح دیتے رہے۔ اُن کا زور پریس کانفرنسوں پر رہا۔

جے سی ڈی کے عبدالسلام خان کی سب سے بڑی کمزور تھی ٹائمنگ۔ وہ پولنگ سے صرف ۱۳؍دن قبل انتخابی دوڑ میں شریک ہوئے۔ تعلیم و تعلّم کے حوالے سے اُن کی ساکھ بہت اچھی تھی۔ وہ سابق طلبہ میں بھی بہت اچھی پوزیشن کے حامل تھے۔ کئی پلس پوائنٹس ہونے کے باوجود وہ کم وقت میں اپنے لیے زیادہ جگہ بنانے میں ناکام رہے۔ بہت سے غیرجانبدار ووٹرز نے یہ محسوس کیا کہ وہ خاصے غیرسنجیدہ امیدوار ہیں۔ اگر جے سی ڈی نے اُن کے امیدوار ہونے کا اعلان بہت پہلے کیا ہوتا یا کوئی پینل تشکیل دیا ہوتا تو اُن کی پوزیشن مضبوط ہوتی۔

جگن ناتھ ہال کا معاملہ بہت حد تک استثنیٰ کا درجہ رکھتا ہے۔ بہت سے طلبہ نے نائب صدر کے لیے عابدل کو ووٹ دیا۔ جنرل سیکرٹری کے لیے اُنہوں نے میگھ ملار بوسو کو ووٹ دیا۔ یہ حساب کتاب اسٹریٹجک نوعیت کا تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ صرف عابدل ہی نائب صدر کے لیے ابو صادق کو منہ دے سکتا ہے اور یہ کہ جنرل سیکرٹری کے لیے صرف میگھ ملار بوسو میں اسلامی چھاترو شِبر کے امیدوار کو پریشان کرنے کی اہلیت تھی۔ اِس ٹیکٹیکل ووٹنگ پیٹرن سے اندازہ ہوا کہ طلبہ کے چند پاکٹس نے اسلامی چھاترو شِبر کی طاقت کے سامنے بند باندھنے کی شعوری اور منظم کوشش کی۔

ایک بنیادی فرق بولنے کے انداز کے فرق سے بھی واقع ہوا۔ ابو صادق اور ایس ایم فرہاد جیسے امیدواروں نے نرم اور مہذّب لب و لہجہ اختیار کیا۔ اُنہوں نے بات کو گھما پھرا کر بیان کرنے بجائے سادہ زبان استعمال کرنے کو ترجیح دی۔ اُنہوں نے سیاست دانوں کی طرح بات کرنے کے بجائے طلبہ سے اِس طور بات کرنے کی کوشش کی، گویا وہ اُن کے بزرگ ہوں اور اُن کا بھلا چاہتے ہوں۔ اُن کا لہجہ نرم اور پرسنل تھا۔ طلبہ اُن سے بات کرنے میں الجھن محسوس نہیں کرتے تھے۔

اُمامہ فاطمہ اور میگھ ملار جیسے امیدواروں نے بھاری سیاسی زبان استعمال کرنے کو ترجیح دی۔ اُن کی تقریریں گفتگو سے زیادہ منشور کے اعلان جیسی سُنائی دیں۔ عام طلبہ کو ابلاغ میں واضح خلا محسوس ہوا۔ عابدل نے دس بارہ کیمروں کے ساتھ اپنی انتخابی مہم چلائی جو بہت حد تک بناوٹی اور دکھاوے پر مبنی تھی۔ طلبہ کو اچھا پیغام نہیں گیا۔ اور اِس کا نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے۔

اِدراک کا معاملہ بھی ایک عامل کے طور پر سامنے آیا۔ جب عام طلبہ نے محسوس کرلیا کہ ابو صادق کی پوزیشن بہت مضبوط ہے تو اُنہوں نے کمزور امیدواروں پر اپنا ووٹ ضائع کرنے کے بجائے ابو صادق کو ووٹ دینے کو ترجیح دی۔ اِس کے نتیجے میں اُن کی برتری زیادہ اور نمایاں ہوگئی۔

اسلام چھاترو شِبر کو طالبات کی زیادہ حمایت حاصل ہوئی، بالخصوص رقیہ ہال میں۔ اِس کے لیے اسلامی چھاتری سنگستھا نے بہت معیاری گراؤنڈ ورک کیا تھا۔ اسلام چھاترو شِبر کے ویمین ونگ نے بہت پہلے سے نیٹ ورکنگ کرلی تھی اور اِس کا معیار بلند کرنے پر غیرمعمولی محنت جاری رکھی۔ مستحق طالبات کی مالی امداد بھی کی گئی۔ اِس کے نتیجے میں اسلامی چھاترو شِبر کے امیدواروں کے لیے اُن کے دل میں حمایت پیدا ہوئی۔ ڈھاکا یونیورسٹی کی طالبات پُرتشدد سیاست کو بالکل پسند نہیں کرتیں۔ اسلامی چھاترو شِبر نے اِس حوالے سے صاف اور پسندیدہ امیج برقرار رکھنے پر زیادہ توجہ دی۔

میگھ ملار بوسو نے غیررہائشی طلبہ سے اچھے خاصے ووٹ حاصل کیے۔ سیاسی کارکن کی حیثیت سے اُن کی ساکھ نے اُنہیں پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع فراہم کیا۔ انتخابی مہم کے دوران وہ بیمار پڑگئے جس کے باعث تحرک برقرار نہ رکھ پائے اور یوں ان کے لیے مشکلات بڑھ گئیں اور پھر وہ ہار گئے۔ دوسری طرف اسلامی چھاترو شِبر کا انتظامی ڈھانچا بہت مضبوط تھا جس کے آگے ٹِکنا بہت مشکل تھا۔

چند ایک ووٹروں نے یہ بھی خیال کیا کہ چھاترا دل نے چھاترا لیگ کی طرح اقتدار پرستانہ پالیسیاں اختیار کیں۔ کالعدم چھاترا لیگ کی سرگرمیوں میں بھتہ خوری بھی نمایاں تھیں۔ وہ لوگوں پر دباؤ ڈال کر کام نکلوانے کی بھی عادی تھی۔ یہی سبب ہے کہ عام طلبہ اس تنظیم سے الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ شاید یہی چھاپ چھاترا دل کے لیے مائنس پوائنٹ بن گئی اور اُسے زیادہ ووٹ نہ مل سکے۔ بہت سے طلبہ کو ایسے ماحول میں اسلامی چھاترو شِبر ایک اچھے متبادل کے طور پر دکھائی دی۔

اسلامی چھاترو شِبر نے میڈیا کے حوالے سے متوازن پالیسی اختیار کی۔ اُس نے میڈیا کے معاملے میں قدرے کم آمیز رویہ اختیار کیا۔ وہ بلند بانگ دعووں پر مبنی کوریج کی قائل نہ تھی۔ اُس نے میڈیا پر پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے میدان میں جاکر کام کرنا مناسب جانا اور اِس کا پھل بھی پایا۔ اسلامی چھاترو شِبیر نے اِس بات کا خاص خیال رکھا کہ اُس کے امیدواروں کے چہرے میڈیا میں زیادہ دکھائی نہ دیں۔ بیشتر پریس کانفرنسیں فرہاد نے کیں جبکہ ابو صادق نے خاموش رہنا اور متوازن طرزِ عمل اختیار کرنا مناسب جانا۔

حتمی تجزیے میں جے سی ڈی اور بائیں بازوں کے اتحادوں کی مِلی جُلی ناکامی محض تنظیمی سطح پر نہ تھی بلکہ ثقافتی سطح پر بھی تھی۔ اُنہوں نے طلبہ کے مُوڈ کو سمجھنے میں غلَطی کی۔ آج کے طلبہ بھاری بھرکم سیاسی اندازِ گفتگو اور بڑھک پر نرم لہجے اور ذاتی نوعیت کے رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسلامی چھاترو شِبر نے اِس فرق کو سمجھا اور خود کو اِس کے مطابق ایڈجسٹ کیا جبکہ دیگر تنظیمیں پُرانے انداز یا طریقِ کار کے مطابق کام کرتی رہیں۔ آزاد امیدوار ہیما چکمہ نے محض اس لیے کامیابی حاصل کی کہ اُس نے سوشل میڈیا پر ہلکا پھلکا، شائستہ مواد پوسٹ کیا اور سیاسی نوعیت کی لیکچر بازی سے گریز کیا۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فی زمانہ طلبہ سے رابطہ کرنے کا انداز کس درجہ اہمیت رکھتا ہے۔

ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل یونین کے انتخابی نتائج کو محض نظریات یا دھاندلی کے الزامات کے ذریعے سمجھا یا سمجھایا نہیں جاسکتا۔ یہ حقیقت ماننا پڑے گی کہ اسلامی چھاترو شِبر نے طویل مدّت سے گراؤنڈ ورک پر بہت محنت کی تھی۔ وہ ابلاغ کے شائستہ اور مؤثر انداز کو اپنانے پر یقین رکھتی تھی اور اُس نے ایسا ہی کیا۔ اُس کے امیدوار علامتی نوعیت کے تھے۔ ایسے امیدوار سامنے لائے گئے جن کی ساکھ بہت اچھی تھی۔ پولنگ مینجمنٹ نظم و ضبط سے عِبارت تھی۔ طالبات اور غیررہائشی طلبہ سے رابطوں کو بھی اسلامی چھاترو شِبر نے بہت اہمیت تھی۔ اُس کے مقابلے میں جے سی ڈی، بنگلا دیش گنتانترک چھاترا سنگسد، بائیں بازو کے گروپ اور آزاد امیدوار انتخابی اکھاڑے میں دیر سے اترے، بہت حد تک منقسم رہے، سیاسی لب و لہجے پر بہت زیادہ انحصار کیا اور عام طلبہ سے رابطوں میں خصوصی طور پر ناکام رہے۔

ڈھاکا یونیورسٹی سینٹرل یونین کے حالیہ انتخابات کے نتائج کا پیغام بہت واضح ہے: آج کی ڈھاکا یونیورسٹی میں تنظیم، تأثر و اِدراک اور رابطے کے انداز کو پُرانے سیاسی نعروں پر بہت زیادہ فوقیت حاصل ہے۔ اسلامی چھاترو شِبر نے اِس حقیقت کو سمجھنے میں غلَطی کی نہ دیر لگائی اور یوں شاندار فتح نے اُس کا رُخ کیا۔

جہانگیر نگر یونیورسٹی

ہفتہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۵ کو جہانگیر نگر یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی بار اسلامی چھاترو شِبر نے سینٹرل یونین کے انتخابات میں ہمہ گیر نوعیت کی کامیابی حاصل کی۔ اُسے ۲۵ میں سے ۲۰ نشستیں ملیں۔

سوتنتر شِکھارتھی سومیلون کے عبدالرشید زیتو نے نائب صدر کا منصب جیتا جبکہ اسلامی چھاترو شِبر کے حمایت یافتہ سمونیتو شِکھارتھی جوت کے مظہرالاسلام جنرل سیکرٹری کے منصب پر کامیاب ہوئے۔ زیتو نے ۳۳۴,۳ ووٹ حاصل کیے جبکہ اسلامی چھاترو شِبر کے حمایت یافتہ عارف اللہ ادیب کو ۳۹۲,۲ ووٹ ملے۔

ایم اے انگریزی کے طالب علم اور جہانگیر یونیورسٹی میں اسلامی چھاترو شِبر کے آفس سیکرٹری مظہرُل نے ۹۳۰,۳ ووٹ لیے جبکہ بنگلا دیش گنتانترک چھاترا سنگسد کے امیدوار ابو توحید محمد صائم ۲۳۸,۱ ووٹ لے سکے۔

ادب و ثقافت کے تقابلی مطالعے میں ایم اے کے طالبعلم زیتو گزشتہ برس جولائی میں شیخ حسینہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈزکریمینیشن پلیٹ فارم کے سینٹرل کوآرڈی نیٹر تھے۔ اِس سے قبل وہ جہانگیر نگر یونیورسٹی میں چھاترا لیگ کے ایگزیکٹیو ممبر تھے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں چھاترا لیگ پر پابندی لگادی گئی تھی۔

جماعتِ اسلامی پر ایک نظر

جماعتِ اسلامی ۱۹۴۱ء میں برطانوی راج کے دوران ہندوستان کے صوبے پنجاب کے علاقے پٹھان کوٹ میں قائم کی گئی تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد جماعتِ اسلامی کا صدر دفتر پاکستان منتقل کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ بھارت میں بھی جماعتِ اسلامی کی ملک گیر شاخ قائم کی گئی۔ ۱۹۵۵ء میں سابق مشرقی پاکستان میں جماعتِ اسلامی کا مشرقی بازو قائم کیا گیا۔ ۱۹۷۱ء میں سقوطِ مشرقی پاکستان اور بنگلادیش کے قیام کے بعد وہاں جماعتِ اسلامی پر پابندی عائد کردی گئی۔ جماعتِ اسلامی کے مشرقی وِنگ نے بنگلادیش کے قیام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔ اِس کی پاداش میں جماعتِ اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کو انسانیت سوز مظالم سہنا پڑے۔ بنگلا دیشی حکومت کی نظر میں جماعتِ اسلامی کے لوگ غدّار تھے، اِس لیے عوام میں اِس تاثر اور تصوّر کو خوب پروان چڑھایا گیا کہ جماعتِ اسلامی ملک کا بھلا نہیں چاہتی اور اب بھی پاکستان کی بات کرتی ہے۔

جماعتِ اسلامی کو بنگلا دیش کی نصف صدی کی تاریخ کے ہر دور میں غیرمعمولی امتیازی سلوک اور مظالم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوامی لیگ نے سابق مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنانے کی تحریک چلائی تھی، اِس لیے اُس کا جماعتِ اسلامی کے خلاف ہونا فطری امر ہے۔ گزشتہ برس بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد کی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے کے بعد عوامی لیگ کو شدید عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ عوامی لیگ تب سے اب تک عوام کے غیظ و غضب کا سامنا کر رہی ہے اور دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے لیے سُکون و راحت کے ساتھ ساتھ مکمل بحالی کا ماحول بھی پیدا ہوا ہے۔ بنگلا دیشی معاشرے میں اب جماعتِ اسلامی کے لیے قبولیت غیرمعمولی، بلکہ قابلِ رشک حد تک بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ برس شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم کرنے میں بھی جماعتِ اسلامی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ عوامی تحریک میں جماعتِ اسلامی اور اسلامی چھاترو شِبر (اسلامی جمعیت طلبہ) کے لوگ پیش پیش رہے اور یہ بات ملک بھر کے باشندوں نے نمایاں طور پر محسوس کی۔

جماعتِ اسلامی کی چند اہم تاریخیں:

۱۹۴۱: سید ابوالاعلیٰ مودودیؓ نے جماعتِ اسلامی قائم کی۔

۱۹۴۷: اس جماعت کا نیا نام جماعتِ اسلامی پاکستان طے کیا گیا۔

۱۹۵۵: جماعتِ اسلامی پاکستان کا ایسٹ پاکستان ونگ قائم کیا گیا۔

۱۹۷۱: سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد بنگلا دیش کی حکومت نے جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی جماعتوں پر پابندی عائد کردی۔

۱۹۷۵: بنگا بندھو شیخ مجیب الرحمن اور اُن کے اہلِ خانہ کے قتل کے بعد بنگلا دیش جماعتِ اسلامی پر پابندی ختم کردی گئی۔

۱۹۷۹: جنرل ضیاء الرحمن کی حکومت نے جماعتِ اسلامی کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دی۔

۱۹۹۰ کا عشرہ: بنگلا دیش جماعتِ اسلامی نے جمہوریت کی بحالی کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے مل کر کام کیا اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سے مل کر حکومت تشکیل دی۔

۲۰۰۸: بنگلا دیش جماعتِ اسلامی نے عام انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمنٹ کی ۲ نشستیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کیں۔

۲۰۱۰: عوامی لیگ کی حکومت نے ۱۹۷۱ء کی جنگ کے دوران نام نہاد جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کی ابتدا کی۔

۲۰۱۳: بنگلا دیش کی سپریم کورٹ نے، عوامی لیگ کے دباؤ پر جماعتِ اسلامی کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔

۲۰۲۴: شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے بنگلا دیش جماعتِ اسلامی پر پابندی عائد کردی۔ یہ پابندی شیخ حسینہ کی حکومت کے ختم کیے جانے کے کئی ماہ بعد ہٹائی گئی۔  (مترجم: ابو صباحت)

“Why Shibir-backed candidates won the DUCSU polls”. (“The Daily Star” Dhaka. Sep. 10, 2025)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو