دُنیا بھر میں بڑی معیشتیں چاہتی ہیں کہ اُن کی برتری ختم نہ ہو۔ یہ فطری خواہش ہے اور بڑی معیشتیں اِس خواہش کو عملی جامہ پہناتے رہنے کی تیّاریاں بھی کرتی رہتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ بدلنا اُنہیں خوب آتا ہے۔ جدید ترین علوم و فنون میں پیشرفت کا بازار گرم رکھنا ایسی تمام معیشتوں کے لیے ناگزیر ہوا کرتا ہے جو دُنیا پر راج کرنے کا مزاج رکھتی ہوں۔ امریکا اور یورپ نے کئی صدیوں تک دنیا پر بِلاشرکتِ غیرے راج کیا ہے اور آج بھی دنیا بہت حد تک اُن کی مُٹھّی میں ہے۔ چِین، رُوس، برازیل، بھارت اور ترکی وغیرہ نے مغرب کی مکمل بالادستی کو چیلنج ضرور کیا ہے تاہم وہ اب تک اِس بالادستی کو ختم کرنے کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
امریکا چاہتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اُس کی برتری باقی رہے۔ اِس معاملے میں اُسے یورپی یونین سے تعاون اور اشتراکِ عمل کی ضرورت ہے۔ یورپی یونین اِس حوالے سے مخمصے میں مبتلا ہے۔ اگر وہ امریکا کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ قانون کی بالادستی کو داؤ پر لگانے جیسا معاملہ ہوگا۔
امریکا کو عالمگیر ڈیجیٹل معیشت کی غیرمعمولی طاقت کا بخوبی اندازہ ہے۔ اِس شعبے میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے امریکا کے تجارتی مذاکرات کار خاصی چالاکی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یورپی یونین، چین، روس اور برازیل سے مسابقت درپیش ہے۔ اِس مسابقت کو جَھیلنا اُسی وقت ممکن ہے جب ہر کارڈ بہت سوچ سمجھ کر کھیلا جائے۔ اِس کے لیے غیرمعمولی ذہانت، بلکہ چالاکی درکار ہے۔ ایک دُنیا جانتی ہے کہ امریکا مذاکرات کی میز پر اپنے تمام کارڈز بہت اچھی طرح کھیلنا جانتا ہے۔ اِس وقت بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ چین، روس، بھارت، برازیل اور ترکی کا پوری قوّت سے سامنا کرنے کے لیے لازم ہے کہ امریکا کو یورپی یونین سے بھرپور مدد ملے۔ اِس کے لیے مذاکرات جاری رہے ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ یورپی یونین اپنی راہ الگ نہ کرے اور اُس کے ساتھ مل کر چلتی رہے۔ یورپی یونین کے بہت سے بڑے ارکان چاہتے ہیں کہ باقی دنیا سے تجارتی اور مالیاتی معاملات میں بہتر ڈِیلنگ کے لیے امریکا سے تھوڑا سا فاصلہ رکھا جائے، اُس کی ہر پالیسی کو آسانی اور خوش دِلی سے قبول نہ کیا جائے اور باقی دنیا کو یہ تاثر قائم کرنے کا موقع نہ دیا جائے کہ یورپی یونین اوّل و آخر امریکا کا دُم چَھلّا ہے۔
امریکی مذاکرات کار یورپی یونین کے رہنماؤں سے مذاکرات کے دوران خاصی چالاکی اور موقع شناسی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپی یونین کو ناراض کرکے وہ عالمی معیشت کو کنٹرول کرنے کی راہ پر زیادہ دُور تک نہیں جاسکتے۔
امریکی تجارتی مذاکرات عالمی معیشت سے امریکا کے لیے زیادہ سے زیادہ فوائد بٹورنے کی خاطر میٹا، گوگل، امیزون، ایپل اور دیگر امریکی ڈیٹا پلیٹ فارمز کی عالمی بالادستی کو زیادہ سے زیادہ طول اور وسعت دینے کے لیے ایڑی چَوٹی کا زَور لگارہے ہیں اور اِس راہ میں حائل کسی بھی دیوار کو یورپی یونین کی مدد سے گرانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ امریکا عالمی ڈیجیٹل معیشت سے اپنے لیے زیادہ سے زیادہ آمدنی چاہتا ہے۔ اُس کے تجارتی مذاکرات کار قانونی اور اَخلاقی طور پر دُرست مسابقت، جدّت، تمدّن اور آئینی اُمور سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات اور اعتراضات کو راہ سے ہٹانے کی خاطر ایسے تجارتی معاہدے کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جو ترجیحاً یک طرفہ طور پر تھوپے جائیں۔ اور اگر اِس عمل میں اُنہیں چور دروازے کا سہارا لینا پڑے تو اِس کے لیے بھی وہ تیار ہیں کیونکہ امریکی قیادت کی نظر میں ہر وہ کام جائز ہے جو قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے لازم ہو۔
امریکی قیادت اچھی طرح جانتی ہے کہ یورپی یونین یا کسی بھی اور فریق کو اگر اپنے حق میں اور اپنے ساتھ رکھنا ہے تو لازم ہے کہ اُس کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے، اُس کے مطلب کی بھی بات کی جائے۔ امریکی تجارت کار یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ٹریڈنگ پارٹنرز کو کاریں تیار کرنے کے علاوہ زرعی شعبے میں بھی چند ایک بڑی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں۔
امریکی مذاکرات کار جب اپنے بڑے یورپی ٹریڈنگ پارٹنرز کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کا یقین دلا چکے ہیں تو پھر اگلے قدم کے طور پر تجارتی معاہدوں میں ایسی دفعات اور شِقیں شامل کرواتے ہیں جن کا بنیادی مقصد عالمی معیشت پر امریکی بالادستی کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور وسیع بنانا ہے۔ یورپی ٹریڈنگ پارٹنرز بھی امریکی قیادت کی ذہنیت اور ترجیحات کو بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں۔
امریکا نے برطانیہ کے ساتھ اکنامک پراسپیرٹی ڈیل کی اور دوسری طرف کینیڈا اور برازیل سے بھی تجارتی معاہدے کیے۔ اِن تجارتی معاہدوں کے ذریعے امریکا عالمی ڈیجیٹل اکانومی پر اپنا فیصلہ کُن تسلّط قائم کرنے کی خاطر ایسی شِقیں بھی شامل کرواتا رہا ہے جو بظاہر بے ضَرر سی ہیں مگر غور کیجیے تو وہ بہت دُور رَس اَثرات کی حامل دکھائی دیتی ہیں۔
یورپی یونین نے بھی ہائی ٹیک کے میدان میں اپنے آپ کو منوانے پر بہت توجہ دی ہے، بہت محنت کی ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ یورپی ٹریڈنگ پارٹنر ڈیٹا کو مقامی سطح تک محدود رکھنے کے معاملے سے دُور رہے۔ امریکی تجارتی مذاکرات یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ وہ یورپی یونین کو زیادہ سے زیادہ ڈیٹا بروئے کار لانے کی آزادی دینا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ڈیٹا کنٹرول کے معاملے میں یورپی یونین کی پوزیشن کمزور کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یورپی طاقتیں چاہتی کہ عالمگیر ڈیجیٹل معیشت میں اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مضبوط رکھیں تاکہ غیرمعمولی فوائد کا حصول زیادہ مشکل نہ رہے۔
جرمنی امریکی پیادہ بن گیا؟
یورپ کی کئی بڑی طاقتیں عالمی معیشت میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ گلوبل ڈیجیٹل اکانومی کے معاملے کو بھی اِن طاقتوں نے نظرانداز نہیں کیا ہے۔
ایک دنیا جانتی ہے کہ امریکا کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر خِطّے میں حاشیہ برداروں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِنہیں پِٹھو یا پیادے بھی کہا جاسکتا ہے۔ یورپی یونین میں امریکی مفادات کے منافی کسی بھی بات کو روکنے کے لیے امریکی قیادت نے روایتی طور پر جرمنی کا سہارا لیا ہے۔ جرمن حکومت عمومی سطح پر امریکا نواز ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگاتی۔ اِس کا سبب شاید یہ ہے کہ اُسے بھی برطانیہ اور فرانس کے مقابل اپنے آپ کو بڑا ثابت کرنے کے لیے امریکا کی ضرورت پڑتی ہے۔
جرمنی میں آٹو انڈسٹری کے لیے مشکلات بہت بڑھ گئی ہیں۔ اُسے نئی منڈیوں کی تلاش ہے اور موجودہ منڈیوں میں مسابقت بہت بڑھ گئی ہے۔ امریکا اپنے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔ جرمن حکومتیں قومی معیشت کے استحکام کے لیے ایسے فیصلے بھی کرتی رہی ہیں جن کے نتیجے میں اُنہیں نقصان بھی پہنچتا رہا ہے۔ جرمن قیادت بڑی تصویر دیکھنے کی عادی نہیں۔ وہ بہت بڑے پیمانے کی سوچ سے عاری ہے۔ امریکی قیادت بہت بعد کا سوچتی ہے۔ جرمن قیادت میں یہ وصف یا تو ہے ہی نہیں یا پھر بہت کمزور ہے۔
اگر جرمن قیادت آنکھیں بند کرکے امریکی مفادات کی نگہبانی کرتی رہی تو اِسے یورپ کے لیے اَلمیہ ہی سمجھا جائے گا۔ جرمن آٹو انڈسٹری نے طویل مدّت تک اسٹریٹجک نوعیت کی غلطیاں کرکے اپنی مارکیٹ خود خراب کی ہے۔ یہ انڈسٹری طویل المیعاد بنیاد پر استحکام کی منزل سے بہت دُور دکھائی دیتی ہے کیونکہ اِس حوالے سے سوچا گیا ہے نہ عملی سطح پر تیاری کی گئی ہے۔ ڈیجیٹل اکانومی کی طرح جرمنی نے آٹو انڈسٹری کی بقا پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ اِس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ جرمن گاڑیوں کی مارکیٹ خاصی سُکڑ چکی ہے۔
امریکا کے لیے ایک بڑا پلَس پوائنٹ یہ ہے کہ یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود جرمنی نے حکومتی سطح پر سنجیدہ نوعیت کا ڈیجیٹل ایجنڈا ایک طویل مدّت تک تیّار نہیں کیا۔ اِس طرف توجہ اُس وقت دی گئی جب معاملات بے قابو ہوگئے، پانی سَر سے گزرنے لگا۔ متعلقہ فیصلہ سازی کے لیے جس دُوراندیشی کی ضرورت پڑتی ہے، وہ جرمن قیادت میں نہیں۔ اُس نے متعلقہ تحقیق کے میدان میں بھی زیادہ کچھ کر دِکھانے پر توجہ نہیں دی۔
یورپی ڈیجیٹل خودمختاری کا تحفّظ
امریکا چاہتا ہے کہ چند ایک چھوٹے معاملات میں کچھ رعایتیں دے کر یورپ سے اُس کا ڈیجیٹل مستقبل ہتھیالے۔ کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ کاروں کی برآمد پر ٹیرف میں تھوڑی سی رعایت کے عِوض یورپ کے ڈیجیٹل مستقبل کو داؤ پر لگادیا جائے۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت تو شاید ہے ہی نہیں کہ یورپی باشندوں کی خودمختاری کو بہت حد تک محدود کیا جاچکا ہے۔
اگر جرمن قیادت نے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حوالے سے کوئی بڑی غلطی کی تو اُس کے ساتھ ساتھ پورا یورپ گڑھے میں جاگِرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدِ صدارت میں امریکا تجارتی معاملات میں جس نوعیت کی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے یہ بات بِلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ امریکا کے ساتھ کام کرنے کی صورت میں کچھ خاص ملے گا تو نہیں، البتہ قانون کی پاسداری اور بالادستی ضرور داؤ پر لگ جائے گی۔
اگر امریکا کو زیادہ رعایتیں دی گئیں تو یورپ کے پاس اپنے ڈیٹا کو ریگولیٹ کرنے، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس لگانے اور اپنے ٹیک چیمپینز تیار کرنے کا اختیار نہیں بچے گا۔ امریکی قیادت کی ہٹ دھرمی اور سخت گیری یورپ کے لیے ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں آزادانہ کام کرنے کی زیادہ گنجائش نہیں چھوڑے گی۔
واشنگٹن کے ساتھ ڈیلنگ میں برلِن نے اگر محض آٹو انڈسٹری کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے نام پر چند رعایتیں لے لِیں تو نارڈ اِسٹریم ٹو کی سی نوعیت کا کوئی بڑا المیہ رُونما ہوسکتا ہے۔ اگر جرمن قیادت نے ایسا کوئی معاہدہ کیا تو یہ انحصار کا معاملہ ہی کہلائے گا۔ اِس بار روس کی گیس کے بجائے امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار پذیر رہنا پڑے گا۔
ٹرمپ کی وَیک اَپ کال
یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ امریکی صدر کو اپنے عزائم چُھپانے سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اور کرنا چاہتے ہیں، اُسے کسی بھی سطح پر چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک بھرپور وَیک اَپ کال دی ہے جو صرف یورپ کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تھی۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دَوٹوک الفاظ میں کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکس، ڈیجیٹل سروسز سے متعلق قوانین اور ڈیجیٹل مارکیٹ کے قواعد و ضوابط امتیازی نوعیت کے اور سراسر امریکا مخالف ہیں یعنی امریکی ٹیکنالوجی کو کسی نہ کسی طور نیچا دِکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے خبردار کیا کہ جو ملک ایسا کرے گا یا ایسا کرنے کی طرف جائے گا اُسے امریکا کی طرف سے غیرمعمولی اقدامات اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکا ٹیرف بھی بڑھائے گا اور برآمدات کو محدود کرنے کے دیگر ہتھکنڈے اختیار کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
یہ حقیقت سب پر عَیاں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے دستخط کیے ہوئے کسی بھی تجارتی معاہدے میں، جب بھی ضرورت محسوس ہو تب، یک طرفہ طور پر شرائط تبدیل کردیتے ہیں۔ ایسے میں یورپ کے لیے دانش کا سَودا یہ ہے کہ وہ صنعتی مالِ تجارت پر معمولی سی رعایتوں کے عِوض امریکا کو ایسی کوئی رعایت نہ دے جس کے ہاتھوں اُس کے وسیع تر مفادات کو ضَرب لگتی ہو۔
یورپ کو انکار ہی کرنا چاہیے!
اگر یورپی یونین کے ارکان مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والی طاقت کے حوالے سے یورپ کے لیے کوئی بڑی اُمید زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو اُنہیں امریکا سے معاملات کرتے وقت جرمن قیادت کی طرف کی جانے والی ایسی کسی بھی ضمانت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے جو امریکی مفادات کو مستحکم کرتے ہوئے یورپی معاملات کو مزید خرابی کی طرف لے جاتی ہو۔
ڈیجیٹل معاملات میں امریکا کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے بہت سے معاملات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مستقبل کے حوالے سے دباؤ بڑھے گا۔ ایسے میں امریکی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یورپی یونین کے ارکان کا انحصار بڑھ جائے گا، عالمگیر سطح پر معیارات کے تعین سے متعلق ساکھ، جو پہلے ہی کمزور ہے، مزید کمزور پڑے گی۔ ایسی صورت میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اَجارہ داری کے سامنے اپنا دِفاع یورپی یونین کے ارکان کے لیے مزید دُشوار ہوجائے گا۔
ایسا نہیں ہے کہ یورپ کے لیے تجارتی معاملات بہتر اُسی وقت ہوں گے جب وہ امریکا سے تجارت تَرک کرکے دوسرے خِطّوں میں پارٹنرز تلاش کرے گا۔ سوال امریکا سے تجارتی روابط کمزور کرنے کا نہیں بلکہ دُرست تجارتی معاہدے کرنے کا ہے تاکہ مفادات خواہ مخواہ داؤ پر نہ لگیں۔ یورپی یونین کے پاس اپنی حدود میں ہونے والے تمام لین دَین پر ٹیکس لگانے کا اختیار ہر حال میں ہونا چاہیے۔
ایک اچّھی اور اُمید اَفزا علامت یہ ہے کہ امریکی تجارتی مذاکرات کاروں کے عزائم بے نقاب ہونے کی صورت میں جرمن قیادت کو بھی زیادہ ذہانت کے ساتھ تجارتی معاملات طے کرنے کا موقع ملا ہے، اُس کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں جرمنی اور فرانس کی سربراہ ملاقات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ جرمنی نے بہت حد تک سبق سیکھ لیا ہے۔
یورپ تاحال مؤثر ہے!
اگر واشنگٹن کوئی ایسا معاہدہ کرنے سے گُریز یا اِنکار کرتا ہے جس کے نتیجے میں اُس کی پوزیشن خطرے میں پڑتی ہو یا مفادات اپنی خواہش کے مطابق محفوظ نہ رہ پاتے ہوں تو یورپی یونین کے پاس بھی اپنا اثر و رُسوخ بنائے رکھنے کا اختیار موجود ہے۔ یورپ سے خدمات کے شعبے کی تجارت میں امریکا کا سرپلَس بہت بڑا ہے۔ ذہنی اثاثوں کے تحفظ سے متعلق سَودے بازی یورپ کے لیے ٹیکنالوجی سیکٹر میں پیشرفت ممکن بنانے کی بھرپور گنجائش پیدا کرے گی۔
یورپی یونین کو اگر امریکا سے تجارت میں تھوڑا بہت رعایت چاہیے تو اِس کی ایک مؤثر صورت صرف یہ ہے کہ وہ سنگل مارکیٹ کے طور پر ڈیل کرے گا۔ یورپی طاقتیں یکے بعد دیگرے امریکا سے ڈیلنگ کریں گی تو اُن کی مجموعی طاقت بکھر جائے گی اور یوں وہ امریکا سے مؤثر سَودے بازی کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ جرمنی اور فرانس کے قریب آنے کو نیک فال سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ اب یورپی یونین میں اندرونی سطح کے مناقشوں اور قضیوں کی راہ مسدود ہونی چاہیے۔ ایسے میں یورپی یونین میں اندرونی سطح کے اختلافات بہت حد تک ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے اُن کی پروگرامنگ پہلے سے کرلی گئی ہو۔ (مترجم: ابو صباحت)
“Germany risks selling out Europe’s digital future”. (“The Globalist”. September 9, 2025)