قطر پر اسرائیلی حملہ، عرب دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

کسی ملک کو اسرائیلی حملے سے محفوظ سمجھنا چاہیے تھا تو وہ قطر تھا۔ ایک چھوٹا ملک جو اسرائیل کے لیے کسی حقیقی خطرے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ یہ امریکا کا اتحادی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کا سب سے بڑا فوجی اڈّہ بھی اِسی کی سرزمین پر قائم ہے۔

مئی میں قطر نے امریکی معیشت میں سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا۔ قطر نے خود کو ایک ثالث اور اَمن قائم کرنے والے ملک کے طور پر بھی پیش کیا ہے اور کئی تنازعات میں ثالثی کی ہے۔ صرف گزشتہ ماہ ہی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ کی دوحہ میں قطری حکومت کی جانب سے میزبانی کی گئی، جو غزہ میں طویل عرصے سے جاری جنگ بندی مذاکرات کا حصہ تھا۔ تاہم، یہ تصویر شاید حد سے زیادہ سادہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قطر کو کبھی بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے تھا اور نہ ہی خطے کے کسی دوسرے ملک کو ایسا گُمان ہونا چاہیے۔ اسرائیل خود کو ان اصولوں میں قید نہیں کرتا جو ریاستوں کے تعلقات کو منظم کرتے ہیں۔ یہ بین الاقوامی قوانین کو روندتا ہے، توسیع پسندی کے لیے خدائی مینڈیٹ کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والے ہر ایک کو رکاوٹ سمجھ کر ہٹا دیتا ہے۔

اسرائیلی جارحیت

اسرائیل محض ایک بدمعاش ریاست نہیں ہے جو قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرتی ہو۔ یہ ایک ایسی ریاست ہے جو کھلے عام تمام اصولوں اور روایات کو مسترد کرتی ہے، جس کے رہنما طویل عرصے سے گریٹر اسرائیل کے خواب کو فروغ دیتے آئے ہیں، جو عراق میں دریائے فرات سے لے کر مصر میں دریائے نیل تک پھیلا ہوا ہے۔

یہ کوئی خفیہ سازش نہیں ہے اور نہ ہی اسے سمجھنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے اُمور میں اعلیٰ ڈگریوں کی ضرورت ہے۔ بس اسرائیلی سیاست کو سرسری طور پر دیکھ لینا کافی ہے۔ اگست میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسرائیلی ٹی وی پر اس منصوبے سے اپنی وابستگی کا اعادہ بھی کیا ہے۔

دہائیوں سے اسرائیل نے متعدد عرب سرزمینوں پر غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل کُشی کی مہم جاری رکھی ہے۔ کوئی اور ملک ایسا نہیں جس کے خلاف اقوام متحدہ کی اتنی زیادہ قراردادیں منظور کی گئی ہوں۔

گزشتہ ۲ برسوں میں اسرائیل نے غزہ کو برباد کر دیا ہے۔ ۶۴ ہزار سے زائد فلسطینی مارے جاچکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچّوں کی ہے۔ صحافی اور امدادی کارکن ریکارڈ تعداد میں جاں بحق ہوئے ہیں، جس نے تاریک عالمی ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ حتیٰ کہ انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیموں نے بھی حال ہی میں اس حقیقت کو تسلیم کرنا شروع کردیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نسل کُشی کے مترادف ہیں۔

غزہ میں اسرائیل نے نام نہاد ’’ضاحیہ ڈاکٹرائن‘‘ پر عمل کیا ہے، جس کا مقصد شہریوں اور شہری علاقوں کو زیادہ سے زیادہ سزا دینا ہے۔ یہ پالیسی شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ دانستہ طور پر انہیں نشانہ بناتی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج ایک اور ۱۰۰ کے اصول پر کام کر رہی ہیں، یعنی ایک کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے وہ خود کو ۱۰۰ سے زائد عام شہریوں کو قتل کرنے کا حق دیتی ہیں۔ ایک پروگرام، جسے ’’ویراز ڈیڈی؟‘‘ کہا جاتا ہے، میدانِ جنگ میں لڑنے والوں کو نہیں بلکہ رات گئے اُن کے گھروں کو نشانہ بناتا ہے، تاکہ وہ اپنے خاندان کے افراد سمیت سوتے ہوئے مارے جائیں۔

یہی طرزِ عمل مغربی کنارے میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اسرائیل نے یہاں بڑے پیمانے پر زمینیں ضبط کی ہیں اور قتل و غارت گری کی ہے، جس میں صرف اس سال ایک ہزار سے زائد فلسطینی قتل ہو چکے ہیں اور سیکڑوں عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں۔ یہ سب کچھ ٹرمپ انتظامیہ کی کھلی آشیرباد کے ساتھ باضابطہ انضمام کی جانب بڑھنے کے مترادف ہے۔

فلسطین سے آگے بڑھتے ہوئے اسرائیل نے اپنی جنگی مشین لبنان، شام، یمن اور ایران تک پھیلا دی ہے۔ لبنان میں اس نے اسکولوں کی چھٹّی کے وقت گنجان آبادی والے علاقوں میں دھماکا خیز پیجرز پھاڑ دیے۔ یہ حملہ، جس کا مقصد شہریوں کی تکلیف کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا تھا، سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے اسے ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔

اب قطر میں اسرائیل نے ایک نئی حد پار کرلی ہے۔ دوحہ پر حملے میں حماس کے رہنماؤں کے اہل خانہ اور ایک قطری افسر جاں بحق ہوئے، حماس نے کہا کہ حملے میں اس کے سینئر رہنما محفوظ رہے۔ قطر نے اس حملے کو ’’بزدلانہ اور مجرمانہ کارروائی‘‘ اور ’’سو فیصد غداری‘‘ قرار دیتے ہوئے اپنی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کہا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور پوپ لیو نے بھی اس خطرناک اور بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر خبردار کیا۔

منگل کو قطر پر حملے سے کئی سبق حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ اسرائیل جیسی بے قابو ریاست کے خلاف عربوں کی بے توجہی کچھ کام نہیں آتی۔ یہ بالکل واضح ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملہ عرب اور مسلم ممالک کی گزشتہ دو سال کی کمزوری اور اسرائیلی جارحیت کے سامنے ان کی خاموشی کا نتیجہ ہے۔

ان حکومتوں نے غزہ، مغربی کنارے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے جرائم کے جواب میں کچھ نہیں کیا۔ دہائیوں سے اسرائیل یہ سیکھ چکا ہے کہ وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے، کرسکتا ہے اور عرب رہنماؤں کی طرف سے کوئی مزاحمت یا آواز بلند نہیں ہوگی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ کچھ طاقتور عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات مزید مضبوط کررہے ہیں۔ صرف تین ہفتے قبل مصر، جو سب سے بڑا عرب ملک اور سب سے مضبوط فوج رکھتا ہے، نے اسرائیل کے ساتھ ایک بڑا گیس معاہدہ کیا جس کے تحت آئندہ پندرہ سالوں میں اسے ۳۵؍ارب ڈالر کی گیس فراہم کی جائے گی۔

یہ حملہ قطر اور امریکا کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ آخر ایک اتنی بڑی امریکی سینٹرل کمانڈ بیس کا مقصد کیا ہے، خاص طور پر اگر وہ اپنے ہی اتحادی کو اس ملک پر حملہ کرنے سے نہ روک سکے جو اسے میزبانی فراہم کر رہا ہے؟

ایک اور سوال امریکا سے متعلق ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے خود اس حملے کی ’منظوری‘ دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب وقت نہیں آگیا کہ عرب ممالک بالآخر واشنگٹن سے آگے دیکھیں، شاید روس، چین یا کسی اور طرف؟

یقینا امریکی حکومت پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، چاہے وہ ریپبلکن ہو یا ڈیموکریٹ۔ بائیڈن انتظامیہ نے غزہ میں پندرہ ماہ کی نسل کُشی کے دوران اسرائیل کو مکمل سفارتی اور فوجی حمایت فراہم کی، مگر کبھی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔ دوسری جانب، ٹرمپ کی ٹیم میں ایسے صیہونی موجود ہیں جو ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کے لیے خود کئی اسرائیلیوں سے زیادہ پرعزم ہیں۔

ایک فیصلہ کن لمحہ

اب وسیع تر عرب خِطّے کو سخت سوالات کا سامنا ہے۔ کیا ان ممالک کی جانب سے کوئی اجتماعی ردعمل سامنے آئے گا جو یہ حقیقت تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ براہِ راست ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے منصوبے کی راہ میں ہیں؟ کیا عرب ریاستیں اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے اور واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے اثر و رُسوخ کا استعمال کرنے پر غور کریں گی تاکہ کوئی تبدیلی لائی جاسکے؟

کیا یہ بھی ممکن ہے کہ عرب ریاستیں ایک ایسا اتحاد تشکیل دیں جو فوجی طور پر اسرائیل کو للکار سکے؟ یا پھر وہ اسی بے عملی کے ساتھ ردّعمل دیں گی جو طویل عرصے سے اُن کے رویے کی پہچان ہے؟ کچھ ریاستیں کھلے طور پر یا خفیہ طور پر اس حملے کا خیرمقدم بھی کرسکتی ہیں، یہ سوچ کر کہ اس سے انہیں سکیورٹی مل گئی ہے۔ متحدہ عرب امارات، جسے اکثر ’’اسرائیل کا مضافاتی علاقہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہ سمجھتا ہو گا کہ وہ محفوظ ہے۔۔۔ مگر یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔

قطر پر حملے نے ثابت کر دیا کہ پُرانے اتحاد، سفارتکاری یا امریکی تحفظ، کسی عرب ملک کو اسرائیل کی تشدّد پسندی سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اگر اسرائیل کو روکا نہ گیا تو خطے کے ہر ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ممکنہ ہدف ہے۔

فی الحال سوالات کے مقابلے میں جوابات کم ہیں۔ مگر ایک سچ واضح ہے کہ جب تک کوئی اسے روکے گا نہیں اسرائیل خود رُکنے والا نہیں۔                                               

(مترجم: ابن فاروق)

“Israel’s attack on Qatar should be a wake-up call for the Arab world”.

(“middleeasteye.net”. September 9, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں