غزہ امدادی مراکز پر مامور امریکی گینگ

’بی بی سی‘ کی ایک تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں امدادی مراکز کی حفاظت پر مامور ایک نجی کمپنی نے اپنی مسلح سکیورٹی ٹیم میں امریکا کے ایک ایسے بائیکر گینگ کے ارکان کو شامل کر رکھا ہے، جن کی اسلام دشمنی عیاں ہے۔

’بی بی سی‘ نے تصدیق کی ہے کہ Infidels Motorcycle Club کے دس ارکان غزہ میں UG Solutions نامی نجی ادارے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز پر سکیورٹی فراہم کرتا ہے، جہاں سیکڑوں افراد بھوک کے باعث امداد حاصل کرنے کی کوشش میں بہیمانہ فائرنگ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

تحقیق میں مزید انکشاف ہوا کہ اس گروہ کے سات ارکان سینئر عہدوں پر فائز ہیں اور اسرائیل اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ ہیں، وہ اس متنازع امدادی آپریشن کے مختلف مقامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

یو جی سلوشنز نے اپنے عملے کے انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی فرد کو اس کی ’’ذاتی دلچسپیوں یا غیرمتعلقہ وابستگیوں‘‘ کی بنیاد پر مسترد نہیں کرتے، بشرطیکہ اس کی پیشہ ورانہ کارکردگی متاثر نہ ہو۔ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن نے وضاحت کی کہ اس کی ’’نفرت انگیز یا امتیازی رویوں اور سرگرمیوں کے لیے صِفر برداشت‘‘ کی پالیسی ہے۔

انفیڈلز موٹر سائیکل کلب ۲۰۰۶ء میں عراق جنگ میں شریک امریکی فوجیوں نے قائم کیا تھا۔ اس گروہ کے ارکان خود کو جدید دور کے ’’صلیبی جنگجو‘‘ تصور کرتے ہیں اور ’’صلیبی جنگجوئوں کی مخصوص صلیب‘‘ کو اپنا نشان بنائے ہوئے ہیں، جو اُن مسیحی لشکروں کی علامت تھی جنہوں نے قرون وسطیٰ میں بیت المقدس پر قبضے کے لیے مسلمانوں سے جنگیں لڑیں۔

یہ گینگ اپنے فیس بک صفحے پر اسلام مخالف نفرت انگیز بیانات نشر کرتا ہے اور ماضی میں رمضان المبارک کے خلاف احتجاجاً ’’سُوّر کا گوشت کھانے کی دعوت‘‘ کا اہتمام بھی کرچکا ہے۔

امریکا کی معروف مسلم سول رائٹس تنظیم کونسل آن امریکن۔ اسلامک ریلیشنز CAIR)) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈورڈ احمد مچل نے کہا کہ ’’غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے انفیڈلز بائیکر کلب کو ذمّہ دار بنانا ایسا ہی ہے جیسے سوڈان میں یہ ذمہ داری Ku Klux Klan کو سونپ دی جائے۔ یہ سراسر ناقابلِ فہم فیصلہ ہے‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ اِقدام لازمی طور پر تشدّد کو جنم دے گا، اور یہی کچھ ہم غزہ میں ہوتا دیکھ رہے ہیں‘‘۔

اس گروہ کا سربراہ جانی ’’ٹاز‘‘ مَل فورڈ (Johnny “Taz” Mulford) امریکی فوج کا سابق سارجنٹ ہے، جسے رشوت، چوری اور فوجی حکّام سے جھوٹے بیانات دینے کے جُرم میں سزا مِل چکی ہے۔ مئی سے اگست تک وہ یو جی سلوشنز کے غزہ میں کنٹریکٹ کے ’’کنٹری ٹیم لیڈر‘‘ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔

’بی بی سی‘ نے جب انفیڈلز موٹر سائیکل کلب سے تبصرے کی درخواست کی تو جانی مل فورڈ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ کسی قسم کا جواب نہ دیا جائے، لیکن غلطی سے ’رِپلائے آل‘ پر کلک کرنے کے باعث ’بی بی سی‘ کو بھی وہ ای میل موصول ہوگئی، جس میں کلب کے کئی ارکان کے نام اور ای میل ایڈریس ظاہر ہو گئے۔ ان میں بعض وہ اہلکار بھی شامل تھے جو غزہ میں کام کر رہے تھے۔

مزید تحقیق اور یو جی سلوشنز کے اندرونی ذرائع کی گواہی کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مل فورڈ نے انفیڈلز کلب کے کم از کم دس ارکان کو غزہ میں اپنے ساتھ ملازمت پر رکھا۔

ان میں مل فورڈ کے علاوہ تین اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں جو غزہ میں یو جی سلوشنز کے سینئر مناصب پر فائز تھے لیری ’’جے۔راڈ‘‘ جیریٹ، جو انفیڈلز کا نائب صدر ہے اور لاجسٹکس کے شعبے کا انچارج تھا۔ بل ’’سینٹ‘‘ سیبے، جو کلب کا قومی خزانچی ہے اور غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے چار ’’محفوظ تقسیم مراکز‘‘ میں سے ایک کے سکیورٹی انچارج کے طور پر کام کر رہا تھا۔ رچرڈ ’’اے۔ٹریکَر‘‘ لوفٹن، جو کلب کے بانی ارکان میں سے ایک ہے اور دوسرے امدادی مرکز پر ٹیم لیڈر کے طور پر مامور تھا۔

خفیہ دستاویزات، اوپن سورس معلومات اور سابق کنٹریکٹرز کی شہادت سے مزید چھ بائیکر ارکان کی شناخت بھی ہو گئی جو غزہ میں ملازمت پر رکھے گئے۔ ان میں سے تین افراد مسلح سکیورٹی ٹیموں کے سربراہ یا نائب سربراہ ہیں۔ تاہم جیریٹ، سیبے اور لوفٹن نے ’بی بی سی‘ کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یو جی سلوشنز نے دعویٰ کیا کہ وہ ’’جامع بیک گراؤنڈ چیک‘‘ کرتے ہیں اور صرف ’’قابلِ اعتماد افراد‘‘ کو تعینات کرتے ہیں۔ لیکن ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ جیریٹ دو سال قبل امریکا میں شراب پی کر گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار ہوچکا ہے اور اس سے تقریباً ایک دہائی پہلے بھی اسی الزام کا سامنا کر چکا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوا۔

مزید یہ کہ یو جی سلوشنز کے بانی و چیف ایگزیکٹیو جیمیسن گووونی کو اس سال نارتھ کیرولائنا میں مبیّنہ طور پر ایک ’’ہِٹ اینڈرن‘‘ حادثے اور پولیس سے فرار کی کوشش پر گرفتار کیا گیا۔ گووونی انفیڈلز کلب کا رکن نہیں ہے اور اس نے اس معاملے پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

اب تک صرف مل فورڈ ہی انفیڈلز کلب سے وابستہ شخص کے طور پر شناخت ہوا تھا، لیکن ’بی بی سی‘ کی تفتیش نے یہ ظاہر کیا کہ اس نے اپنے کلب کے ساتھیوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا، بالخصوص ان مناصب پر جو بہتر تنخواہوں والے تھے اور مسلح سکیورٹی ٹیموں کی قیادت سے متعلق تھے۔

سوشل میڈیا پوسٹس سے پتا چلتا ہے کہ مئی میں، غزہ روانگی سے صرف دو ہفتے قبل، مل فورڈ نے اپنے فیس بک فالوورز میں سے امریکی فوجی سابقین کو بَھرتی کرنے کی دعوت دی۔ اس نے لکھا: ’’جو اب بھی نشانہ لگا سکتے ہیں، حرکت کر سکتے ہیں اور بات چیت کرسکتے ہیں، وہ رابطہ کریں۔‘

سابق کنٹریکٹر کے مطابق، یو جی سلوشنز کے کل ۳۲۰ ملازمین میں سے تقریباً ۴۰ انفیڈلز موٹر سائیکل کلب سے بھرتی کیے گئے تھے۔ دستاویزات کے مطابق، یو جی سلوشنز ہر کنٹریکٹر کو یومیہ ۹۸۰ ڈالر (۷۲۰ پاؤنڈ) ادا کرتا ہے، جبکہ ٹیم لیڈرز کی تنخواہ ۱ء۵۸۰ ڈالر (۱ء۱۶۰ پاؤنڈ) یومیہ تک پہنچتی ہے۔

غزہ میں سکیورٹی ٹیم کے ایک لیڈر جوش ملر نے فیس بک پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں کنٹریکٹرز کا گروپ ’’میک غزہ گریٹ اگین‘‘ (Make Gaza Great Again) کے نعرے والے بینر کے ساتھ کھڑا تھا۔ یہ بینر اس کی اپنی کمپنی کا اشتہار تھا، جو ٹی شرٹس اور کپڑے فروخت کرتی ہے۔ ان میں ایک پر ’’تشدد کو گلے لگاؤ‘‘ اور دوسرے پر ’’سارا دن سرفنگ، ساری رات راکٹ، غزہ سمر ۲۵‘‘ درج ہے۔

ملر کی کمپنی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں اسلحہ استعمال کرنے کے مناظر دکھائے گئے اور پیغام دیا گیا: ’’یاد رکھو، ہمیشہ گولی چلاتے رہو جب تک خطرہ ختم نہ ہو جائے‘‘۔

ملر کے ہاتھوں کی انگلیوں پر Crusader اور انگوٹھوں پر ۱۰۹۵؍کا ٹیٹو کندہ ہے۔ ۱۰۹۵؍وہ سال ہے جب پوپ اربن دوم نے پہلی صلیبی جنگ کا آغاز کیا اور مسلمانوں کو ’’گھٹیا نسل‘‘ قرار دیا۔

انفیڈلز موٹر سائیکل کلب اپنے فیس بک صفحے پر ’’۱۰۹۵‘‘ والی ٹوپی فروخت کرتا ہے جسے وہ صلیبی جنگوں کے آغاز کی علامت قرار دیتے ہیں۔ یہ وہ مہم تھی جس میں مغربی یورپی افواج نے یروشلم اور فلسطین پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کی کوشش کی۔

مل فورڈ، جو کلب کا لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ فلوریڈا میں ’’انفیڈلز ایم سی‘‘ کمپنی کا رجسٹرڈ ایجنٹ بھی ہے، نے اپنے جسم پر ۱۰۹۵ کا ٹیٹو بنوا رکھا ہے۔ اس کے بازوؤں پر صلیبی جنگجوئوں کی مخصوص صلیب اور ’’انفیڈلز‘‘ کے الفاظ کندہ ہیں۔

ایڈورڈ احمد مچل (CAIR) نے کہاکہ ’’جب آج کے دور میں اسلام مخالف انتہاپسند ۱۰۹۵ یا صلیبی جنگوں کا جشن مناتے ہیں تو دراصل وہ مسلمانوں کے قتل عام اور یروشلم سے مسلمانوں اور یہودیوں کے صفائے کا جشن مناتے ہیں‘‘۔

ان کے مطابق یہ گروہ انہی اسلام مخالف نفرت انگیز جماعتوں کی طرز پر چل رہا ہے جو دہائیوں سے ’’انفیڈلز‘‘ کے نام کا استعمال کرتی رہی ہیں۔

گینگ کے اسلام مخالف رجحانات میں ایک ایسا پمفلٹ بھی شامل ہے جس میں رمضان المبارک کے دوران ’’سوّر کا گوشت کھانے کی دعوت‘‘ کا اعلان کیا گیا تھا۔ بی بی سی نے یہ پمفلٹ ایک محفوظ شدہ ویب صفحے پر دریافت کیا۔ اس میں درج ہے کہ ’’اسلامی مہینے رمضان کی صریح مخالفت میں۔۔۔ ہم آپ کو انفیڈلز ایم سی کولوراڈو اسپرنگز چیپٹر کی اوپن بائیک پارٹی اور سوّر کا گوشت کھانے کی دعوت دیتے ہیں‘‘۔

اس پمفلٹ میں ایک خاتون کی تصویر بھی موجود ہے جس نے برقعہ اوڑھا ہوا ہے، مگر گردن سے نیچے اس برقعے کو پھاڑ دیا گیا ہے اور اس کا جسم عریاں دکھایا گیا ہے۔

اسی طرح، انفیڈلز ایم سی کے فیس بک صفحے پر بھی واضح طور پر اسلام مخالف اور نفرت انگیز مباحث شائع کیے گئے ہیں۔ ۲۰۲۰ء میں اس کلب نے ایک جعلی اور طنزیہ خبر کا لنک شیٔر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چار امریکی ڈیموکریٹ سیاستدانوں (جن میں سے دو مسلمان تھے) چاہتے ہیں کہ بائبل کو ’’نفرت انگیز تقریر‘‘ (hate speech) قرار دیا جائے۔

اس فیس بک گروہ کے اراکین کی جانب سے کیے گئے تبصروں میں شامل تھا: ’’میں اپنی میگزین کو مکمل طور پر گولیوں سے بھر رہا ہوں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارا مسلمانوں کے ساتھ ٹکراؤ ہو‘‘۔ ’’ان نکمّے اور بے وُقعت لوگوں کو جِلاوطن کر کے کسی پسماندہ تیسرے درجے کے گندے ملک میں بھیج دو جہاں وہ بائبل مقدس سے ناراض نہ ہوں‘‘۔

اور ایک اور تبصرے میں مسلمانوں اور حضرت محمدﷺ کے بارے میں نہایت توہین آمیز کلمات استعمال کیے گئے۔

بدھ کے روز تک یہ تمام تبصرے انفیڈلز ایم سی کے فیس بک صفحے پر موجود تھے۔

انفیڈلز ایم سی کی ویب پر ایک وقت میں وہ لوگو بھی نمایاں کیا جاتا رہا ہے جو مارول کامکس کے پرتشدد کردار Punisher سے منسوب ہے۔ یہ علامت بالادست سفید فام گروہوں نے بھی اپنائی ہوئی ہے۔ اس لوگو پر عربی رسم الخط میں ’’کافر‘‘ لکھا گیا تھا، جس کا ترجمہ ’’انفیڈل‘‘ کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

غزہ میں امداد کی تقسیم کے مراکز پر مئی کے آخر سے افراتفری اور خطرے کے مناظر معمول کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ دو ستمبر تک، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی اُمور (OCHA) کے مطابق، غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (GHF) کے مراکز کے قریب خوراک کے حصول کی کوشش میں ۱۱۳۵؍بچے، خواتین اور مرد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ زیادہ تر یہ ہلاکتیں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہوئیں۔ اسرائیلی فوج (IDF) کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امداد کے حصول کے دوران عام شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے واقعات کا حکام کی جانب سے ِ جائزہ لیا جارہا ہے۔

یو جی سلوشنز نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اس کے سکیورٹی کنٹریکٹرز نے عام شہریوں پر فائرنگ کی اور یہ کہ خوراک کے متلاشی افراد کو خطرے میں ڈالا گیا۔ تاہم کمپنی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ ضرور کی گئی۔

شمالی کیرولائنا میں قائم یو جی سلوشنز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جانی مَل فورڈ ایک ’’بااعتماد اور قابلِ احترام شخصیت‘‘ ہیں، جنہیں امریکا اور اس کے عالمی اتحادیوں کی معاونت میں ۳۰ برس سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے۔ کمپنی نے کہاکہ ’’ہم ان کی شہرت، کارکردگی اور پیچیدہ مشنز کی کامیابی میں ان کی خدمات کے ساتھ کھڑے۔

یو جی سلوشنز (UGS) نے کہاکہ ’’ہم ملازمت کی کارکردگی یا سکیورٹی کے معیارات سے غیرمتعلقہ ذاتی مشاغل یا وابستگیوں کی بنیاد پر کسی کو مسترد نہیں کرتے۔ ہر ٹیم ممبر کی مکمل جانچ کی جاتی ہے اور صرف اہل اور تصدیق شدہ افراد ہی یو جی سلوشنز کے منصوبوں میں تعینات کیے جاتے ہیں‘‘۔

GHF نے کہا کہ وہ غزہ میں امداد فراہم کرنے اور مقامی لوگوں کا اعتماد جیتنے کے لیے ’’ہر پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد‘‘ پر انحصار کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق ’’ہمارے مراکز پر امداد فراہم کرنے والی ٹیم متنوع ہے، اور اسی وجہ سے کامیاب بھی ہے۔                                          

(مترجم: محمود الحق صدیقی)

“Anti-Islamic US biker gang members run security at deadly Gaza aid sites”.

(“bbc.com”. September 10, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں