دنیا بھر میں پارسی بہت کم رہ گئے ہیں۔ اِن کی اکثریت ممبئی میں ہے یا پھر کراچی میں۔ بھارت کے دوسرے شہروں میں بھی پارسی رہتے ہیں مگر بہت کم۔ پارسی کمیونٹی کے لیے اپنی شناخت برقرار رکھنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پارسی کمیونٹی کے لوگ چونکہ تعداد میں بہت کم ہیں، اِس لیے وہ دِکھائی بھی کم دیتے ہیں اور اُن کے ادارے بھی برائے نام ہیں۔ اِس وقت پارسیوں کے جتنے بھی ادارے ہیں، وہ شدید کمزوری کی حالت میں ہیں۔ میڈیا میں پارسی کمیونٹی کی نمائندگی برائے نام ہے۔ اوّل تو پارسیوں کے جرائد برائے نام ہیں اور جو ہیں وہ بھی کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔
بھارت کے تجارتی دارالحکومت کا درجہ رکھنے والے ممبئی کے ایک پُرہجوم علاقے میں واقع خاصی پُرانی عمارت میں پارسی کمیونٹی کے جریدے ’’پارسیانا‘‘ کا دفتر ہے۔
’’پارسیانا‘‘ ۱۹۶۴ء میں پارسی ڈاکٹر پیستونجی وارڈن نے جاری کیا تھا۔ وہ صندل کی لکڑی کے تاجر بھی تھے۔ ’’پارسیانا‘‘ کے اجرا کا بنیادی مقصد ممبئی میں پارسی کمیونٹی کی سرگرمیوں کا ریکارڈ رکھنا تھا اور اُس کی آواز کو حکومت اور عوام تک پہنچانا تھا۔ یہ کام اِس جریدے نے بہت عمدگی سے کیا۔
’’پارسیانا‘‘ نے سبسکرپشن پر بہت زور دیا تھا۔ پارسی کمیونٹی کے لوگ اس جریدے کے باضابطہ خریدار بنے اور یوں جریدے کی اشاعت میں توسیع ہوتی چلی گئی۔ ماہنامہ ’’پارسیانا‘‘ کی وساطت سے پارسیوں کو اپنی کمیونٹی کی سرگرمیوں کے بارے میں معلوم ہوتا رہتا تھا اور دوسروں کو بھی پتا چلتا تھا کہ پارسی کمیونٹی کی کیا حالت ہے، وہ کیا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پارسیوں کو اِس جریدے نے آپس میں جُڑنے کا پلیٹ فارم مہیا کیا۔ تیزی سے گَھٹتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر پارسیوں کی ایک بڑی نفسیاتی ضرورت یہ تھی کہ اُنہیں ایسا پلیٹ فارم ملے جس کے ذریعے اُنہیں آپس میں جُڑے رہنے کی مسرّت حاصل رہے۔
اب یعنی ۶ عشروں کے بعد سب کچھ بدل گیا ہے۔ ’’پارسیانا‘‘ کا سنہرا دور گزر چکا ہے۔ پہلے الیکٹرانک اور اِس کے بعد اب ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ہونے والی غیرمعمولی ترقی نے پرنٹ میڈیا کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دنیا بھر میں اخبارات اور جرائد کی اشاعت شدید متاثر ہوئی ہیں۔ بہت سے بڑے اخبارات اور جرائد کی اشاعت بند کرکے اُنہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کردیا گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی دنیا میں دَر آنے والی مشکلات نے ’’پارسیانا‘‘ کے لیے بھی بقا کا مسئلہ کھڑا کیا۔ سبسکرائبرز کی گَھٹتی ہوئی تعداد اور فنڈز کی کمی نے ’’پارسیانا‘‘ کا تسلسل ناممکن بنادیا ہے۔ اور پھر یہ بات بھی ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ کا نظم و نسق سنبھالنے والوں کو جانشین بھی نہیں مل رہے۔ پارسی کمیونٹی کے لیے بُری خبر یہ ہے کہ آئندہ ماہ یعنی اکتوبر میں ’’پارسیانا‘‘ کو بند کیا جارہا ہے۔ اِس بُری خبر نے صرف اِس جریدے کے مستقل خریداروں ہی کو نہیں بلکہ اِس کے شاندار ورثے سے باخبر لوگوں کو بھی اُداس کردیا ہے۔
اٹھارہ سالہ سُشانٹ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ کی اشاعت کا بند ہونا گویا ایک عہد کا ختم ہونا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ ایک دَور تھا جب اُسے پارسی نہیں سمجھا جاتا تھا جو ’’پارسیانا‘‘ کے بارے میں نہ جانتا ہو۔
اگست کے شمارے کے اداریے میں ’’پارسیانا‘‘ کے بند کیے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ تب سے اب تک جریدے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ستمبر کے شمارے میں ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے لکھا ہے کہ پارسی کمیونٹی بہت چھوٹی ہے اور اِس کے لوگ بہت بکھرے ہوئے ہیں۔ اِن کی سرگرمیوں کو عمدگی سے پیش کرنا اور پوری کمیونٹی کا معقول ریکارڈ رکھنا بہت بڑا کام تھا اور یہ کام بھرپور جوش و خروش اور کام کرنے کی سچی لگن کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ’’پارسیانا‘‘ کے پلیٹ فارم نے یہ کام بخوبی کر دکھایا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے لکھا ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ محض جریدہ نہیں بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پارسیوں کو جوڑ کر رکھنے والا پُل اور اچھا ساتھی ثابت ہوتا رہا ہے۔ واشنگٹن سے ایک قاری نے لکھا ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ نے کمیونٹی کے لوگوں کو جوڑ کر ہی نہیں رکھا بلکہ انتہائی اختلافی معاملات میں حقیقت پسندی کا رنگ بھی بھرا تاکہ ہم آہنگی کو زیادہ سے زیادہ فروغ مل سکے۔
جہانگیر پٹیل پارسیانا کو ۱۹۷۳ء سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ اب ۸۰ سال کے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ’’پارسیانا‘‘ کو ہمیشہ صحافت کے میدان میں ایک بڑی مہم جُوئی سے تعبیر کیا ہے اور اِس بات کی بھرپور کوشش کی ہے کہ قارئین کو یہ جریدہ کچھ الگ اور ہٹ کر محسوس ہو۔
پیستونجی وارڈن نے جب پارسیانا جاری کیا تھا تب یہ ماہنامہ تھا اور اِس کے ہر شمارے میں یا تو پارسیوں کی تحریریں شائع ہوتی تھیں یا پھر پیستونجی وارڈن کی وہ تحریریں جن کا تعلق طِب کے شعبے سے تھا۔ جہانگیر پٹیل نے چارج لینے کے بعد ’’پارسیانا‘‘ کو پندرہ روزہ جریدے میں تبدیل کیا۔ اُنہوں نے خاصے منفرد انداز سے دلیرانہ رپورٹنگ کرتے ہوئے جریدے کو نیا رنگ روپ بخشا۔ اُنہوں نے جریدے کی رنگینی بڑھائی اور پارسی کمیونٹی کے حساس معاملات اور مسائل کو بھی پوری دیانت کے ساتھ خاصے ہلکے پھلکے انداز سے پیش کیا۔ یہ انداز لوگوں کو بہت پسند آیا۔
جہانگیر پٹیل اِس جریدے سے عشق کرتے تھے۔ وہ اِس کا تسلسل بھی چاہتے تھے، اِس لیے انہوں نے نوجوانوں کو بَھرتی کیا اور اُن کی تربیت کی۔ سبسکرپشن کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا۔ اُن سے پہلے یہ جریدہ بلیک اینڈ وائٹ تھا، اُنہوں نے اِسے رنگین بنایا۔
جہانگیر پٹیل کو یاد ہے کہ اُنہوں نے ’’پارسیانا‘‘ کے مینیجنگ ایڈیٹر کا چارج لینے کے بعد پہلی اسٹوری پارسی کمیونٹی میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح سے متعلق تھی۔ یہ اسٹوری بہت پسند کی گئی۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ ایک متنازع فیہ موضوع پر خاصی بولڈ اسٹوری شامل کی جائے گی۔ فیڈ بیک میں کہا گیا کہ ایسی اسٹوریز ہر شمارے میں ہونی چاہیے تاکہ کمیونٹی میں پائی جانے والی سوچ اور رجحانات کا بخوبی اندازہ ہوسکے۔ لوگوں کو چونکہ یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایسی کوئی اسٹوری ’’پارسیانا‘‘ میں شائع ہوسکتی ہے، اِس لیے اُنہوں نے کہا کہ ایسی مزید اسٹوریز کی ضرورت ہے تاکہ بات کُھل کر کہنے کا ماحول پیدا ہو۔
پارسی کمیونٹی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ اِس کے لوگ دوسری کمیونٹیز میں شادی نہیں کرتے۔ دُنیا بھر میں ایسی اور بھی کمیونٹیز پائی جاتی ہیں جو اپنے سے باہر شادی کی قائل نہیں مگر پارسی اِس معاملے میں بہت زیادہ ’’ساکت و جامد‘‘ ہیں۔ ۱۹۸۷ء میں ’’پارسیانا‘‘ نے دوسرے مذاہب اور نسلی برادریوں میں شادی سے متعلق اشتہارات کی اشاعت کا آغاز کیا۔ یہ بہت بڑا اور خاصا بے باک قدم تھا۔ ’’پارسیانا‘‘ میں انٹرفیتھ یعنی بین المذاہب شادیوں کے اشتہارات کی اشاعت سے کھلبلی سی مچ گئی۔ کمیونٹی کے بڑوں نے اِس پر سخت اعتراض کیا۔ جہانگیر پٹیل خاصے وسیع النظر واقع ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی کمیونٹی پر واضح کردیا کہ وہ نئی دنیا میں جی رہے ہیں، اِس لیے پُرانے طور طریقوں کے مطابق جینے کو کسی بھی حال میں ترجیح نہیں دے سکتے۔ انہوں نے ’’پارسیانا‘‘ میں بین المذاہب شادی کے اشتہار نہ شائع کرنے سے معذرت کرلی۔
جہانگیر پٹیل کہتے ہیں کہ ’’پارسیانا‘‘ نے کبھی تنازعات کے سامنے وہ طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جو بلّی کو سامنے پاکر کبوتر اختیار کیا کرتے ہیں۔ ’’پارسیانا‘‘ نے تمام متنازع معاملات پر الگ الگ تناظر پیش کیا تاکہ قارئین کی حقیقی راہنمائی ہوسکے۔ پارسی کمیونٹی میں پیدا ہونے والے بحرانوں اور پیچیدگیوں کے حوالے سے ’’پارسیانا‘‘ نے ہمیشہ خاصی ہمّت دکھاتے ہوئے ہر وہ بات کہی جس کا شدید ردِعمل ہوسکتا تھا۔
’’پارسیانا‘‘ نے ہمیشہ کمیونٹی کی کامیابیوں، اہم سماجی اور مذہبی تقریبات اور مواقع اور نئے پارسی اداروں کا ریکارڈ رکھا اور پیش کیا۔ مئی ۲۰۲۵ء میں ’’پارسیانا‘‘ نے ممبئی میں قائم کیے جانے والے الپائی والا میوزیم کی افتتاحی تقریب کی بھی کوریج کی۔ یہ دنیا بھر میں پارسیوں سے متعلق واحد میوزیم ہے۔
’’پارسیانا‘‘ کی ٹیم ۱۵؍افراد پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ عمر کی ساٹھویں اور ستّرویں دہائی میں ہیں۔ ’’پارسیانا‘‘ کی بندش کا مطلب ہے اِن سب کے صحافتی کیریئر کا بھی خاتمہ۔ جہانگیر پٹیل کا کہنا ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ کی بندش کے موقع پر دُکھ اور شدید تھکن ساتھ ساتھ ہیں۔ ہم نے ایک طویل مدت سے اِن دونوں کیفیتوں کا پامردی سے سامنا کیا ہے۔
’’پارسیانا‘‘ کا دفتر بھی، جو پُرانے شماروں کی فائلوں سے بھرا ہوا ہے، شدید تھکن کا اظہار کرتا ہے۔ دفتر کی چھت انتہائی کمزور ہوچکی ہے، رنگ بالکل ماند پڑچکا ہے۔ پورا دفتر پھیکا پھیکا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دفتر جن کمروں میں واقع ہے، وہاں پہلے اسپتال ہوا کرتا تھا۔ یہ عمارت ایک مدّت سے خالی پڑی تھی۔ جہانگیر پٹیل کا کہنا ہے کہ ’’پارسیانا‘‘ کی ٹیم نے اپنے آخری دن کے لیے کوئی خاص پروگرام تیار نہیں کیا ہے۔ اکتوبر کے یعنی آخری شمارے میں ’’پارسیانا‘‘ کے طویل سفر اور ورثے کے بارے میں مضامین شامل کیے جائیں گے۔ اِس موقع پر ’’پارسیانا‘‘ کے عملے کو ظہرانہ دیا جائے گا۔ کوئی کیک کاٹا جائے گا اور نہ ہی کسی اور انداز کی سیلیبریشن ہوگی۔ جہانگیر پٹیل کا کہنا ہے کہ یہ غم کا لمحہ ہے، ایسے میں کس بات کو اور کیسے سیلیبریٹ کیا جائے؟
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“India’s iconic Parsi magazine to shut after 60 years”. (“bbc.com”. September 6, 2025)