پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف گزشتہ دنوں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ’اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط کرنے کے لیے ریاض پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تعلقات میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ الیمامہ پیلس ریاض میں شاہی دیوان میں ہونے والی اس معاہدے کی دستخطی تقریب میں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔
یہ معاہدہ ایک نہایت نازک موقع پر سامنے آیا ہے۔ خطے کی سیاست غزہ میں گزشتہ ۲ برسوں سے جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث بدل کر رہ گئی ہے، اس جارحیت کا نقطۂ عروج گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر اسرائیلی حملہ تھا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں بھی ہوا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ مئی میں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک مختصر مگر شدید تنازع ہوا، جس نے پورے جنوبی ایشیا کو مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی ’سلامتی کو مضبوط بنانے اور علاقائی امن کو فروغ دینے‘ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ وعدہ بھی کرتا ہے کہ ’کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو تقویت‘ دی جائے گی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ’معاہدے کے مطابق کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا‘۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم اسٹِمسن سینٹر کے سینئر فیلو اسفندیار میر نے اس معاہدے کو دونوں ممالک کے لیے ایک ’سنگِ میل‘ قرار دیا۔ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا ’پاکستان نے ماضی میں سرد جنگ کے دوران امریکا کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کیے تھے لیکن وہ ستر کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے ختم ہو گئے۔ حتیٰ کہ چین کے ساتھ بھی، وسیع دفاعی تعاون کے باوجود پاکستان کے پاس کوئی باضابطہ باہمی دفاعی معاہدہ موجود نہیں ہے۔
محمد فیصل، جو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی میں ساؤتھ ایشیا کے سکیورٹی محقق ہیں، نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے تاکہ وہ متحدہ عرب امارات اور قطر، جو خلیج کے دو اہم شراکت دار ہیں، کے ساتھ اسی نوعیت کے دوطرفہ دفاعی تعاون میں شامل ہوسکے۔
محمد فیصل نے کہا کہ ’قلیل مدت میں یہ معاہدہ جاری کثیرالجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط اور باضابطہ بنائے گا اور اسے وسعت دینے کے لیے نئے راستے تلاش کیے جائیں گے، جن میں مشترکہ تربیت، دفاعی پیداوار اور سعودی عرب میں تعینات پاکستانی افواج کے دستے میں ممکنہ توسیع شامل ہو سکتی ہے۔‘
تاریخی تعلقات اور فوجی تعاون
اگست ۱۹۴۷ء میں آزادی کے فوراً بعد پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔ ۱۹۵۱ء میں دونوں ممالک نے ’معاہدۂ دوستی‘ پر دستخط کیے، جس نے کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک، سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعاون کی بنیاد رکھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی مسلح افواج کئی بار سعودی عرب میں تعینات رہیں اور خلیجی ممالک اور پاکستان میں سعودی اہلکاروں کو تربیت بھی فراہم کی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق، پاکستان نے ۱۹۶۷ء سے اب تک ۸ ہزار سے زائد سعودی اہلکاروں کو تربیت فراہم کی ہے۔ ۱۹۸۲ء میں طے پانے والے ایک معاہدے نے اس تعاون کو مزید مضبوط کیا، جس کے تحت ’پاکستانی مسلح افواج کے اہلکاروں کی تعیناتی اور سعودی عرب میں فوجی تربیت‘ کو یقینی بنایا گیا۔
تاہم تازہ ترین معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی جنگ اور خطے کے دیگر ممالک پر اسرائیلی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان میں سے اکثر اب بھی امریکا کی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کرتے ہیں، حالانکہ واشنگٹن اسرائیل کا قریبی ترین اتحادی ہے۔
قطر، جسے ۹ ستمبر کو اسرائیل نے حماس کے رہنماؤں کی میزبانی کے باعث نشانہ بنایا، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مرکزی اڈے کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے۔
۲۰۲۵ء کے وسط تک، مشرق وسطیٰ میں تقریباً ۴۰ سے ۵۰ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں، جو بڑے فوجی اڈوں اور کم از کم ۱۹ ؍چھوٹے فارورڈ بیسز پر موجود ہیں، ان میں ریاض کے قریب پرنس سلطان ایٔر بیس بھی شامل ہے۔
اگرچہ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کم از کم ایک سال سے زیرِ غور تھا، لیکن واشنگٹن میں مقیم آزاد سکیورٹی تجزیہ کار سحر خان کے مطابق اس کی زبان امریکا میں تشویش کا باعث بنے گی۔
۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران، صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے پاکستان کے مبینہ بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے سات مرتبہ پاکستانی شخصیات اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں۔ بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے یہ خدشات بھی کھل کر ظاہر کیے کہ پاکستان جو میزائل تیار کر رہا ہے، وہ کہاں تک مار کر سکتے ہیں اور آیا وہ امریکا تک جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
سحر خان نے الجزیرہ کو بتایا کہ پاکستان کو واشنگٹن میں پہلے ہی اعتبار کے مسئلے کا سامنا ہے اور یہ معاہدہ اسے کم نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ واضح کرے کہ اس کا جوہری اور میزائل پروگرام بھارت تک محدود ہے، اور اگرچہ اس کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں لیکن وہ سعودی جنگیں نہیں لڑے گا بلکہ صرف متعلقہ مدد فراہم کرے گا۔
رواں سال جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف ۱۲؍روزہ جنگ چھیڑی جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ فوجی اور سویلین رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں امریکی بمبار طیاروں نے بھی اسرائیل کا ساتھ دیا اور فردو، جو ایران کی اہم جوہری سائٹس میں سے ایک ہے، پر بڑے تباہ کن بم گرائے۔
تین ماہ بعداسرائیل نے دوحہ کے ایک پُرسکون رہائشی علاقے میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جہاں سفارت خانے، سپر مارکیٹیں اور اسکول قائم ہیں۔ اس حملے میں کم از کم پانچ حماس ارکان اور ایک قطری سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔
دوحہ حملے کے بعد عرب اور اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ دفاعی نظام کو فعال کرنے کا اعلان کیا۔
محمد فیصل نے کہا کہ پاک۔سعودی دفاعی معاہدے کو انہی حالات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات نے خلیجی ممالک کی سلامتی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے اور امریکا کی سکیورٹی ضمانت پر اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ جب خلیجی ممالک اپنی سلامتی کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں تو پاکستان، مصر اور ترکی جیسے علاقائی ممالک قدرتی شراکت دار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
تاہم سحر خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ معاہدے کے وقت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس کا تعلق قطر پر اسرائیلی حملے سے ہے، لیکن ’ایسے معاہدوں پر بات چیت میں برسوں نہیں تو مہینوں لگ ہی جاتے ہیں‘۔ تاہم اسٹِمسن سینٹر کے اسفند یار میر نے نشاندہی کی کہ یہ معاہدہ اس بات کا بھی امتحان ہوگا کہ پاکستان اور سعودی عرب کس طرح ان ممالک کے ساتھ ایک دوسرے کے تنازعات میں اپنے کردار کو سنبھالتے ہیں جن کے ساتھ وہ اب تک محتاط تعلقات رکھتے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو اس خطرے کا سامنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی علاقائی رقابتوں، خصوصاً ہمسایہ ایران کے ساتھ الجھ سکتا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب نے خود کو پاکستان کے تنازعات کا حصہ بنا لیا ہے، خاص طور پر بھارت کے ساتھ، اور ممکنہ طور پر طالبان کی قیادت والے افغانستان کے ساتھ بھی۔
بھارت
اس دفاعی معاہدے پر ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بھارت بھی گہری نظر رکھے گا۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات، جو پہلے ہی تاریخ کی نچلی ترین سطح پر تھے، اپریل میں پہلگام حملے کے بعد مزید خراب ہوگئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا جسے پاکستان نے مسترد کردیا۔
چند روز بعد مئی میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ جھڑپ ہوئی، جس میں ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ تقریباً تین دہائیوں میں یہ سب سے سنگین کشیدگی تھی، جو بالآخر ۱۰؍مئی کو جنگ بندی پر ختم ہوئی، جس کا سہرا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سر باندھا۔
گزشتہ دنوں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارتی حکومت معاہدے پر دستخط سے آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس پیشرفت کے مضمرات کا مطالعہ کریں گے، تاکہ اپنی قومی سلامتی، علاقائی اور عالمی استحکام کو یقینی بنا سکیں۔ حکومت بھارت کے قومی مفادات کے تحفظ اور ہمہ جہتی قومی سلامتی کے عزم پر قائم ہے‘۔
تاہم محمد فیصل کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو نئے توازن کی طرف لے جا سکتا ہے، جو حالیہ برسوں میں زیادہ تر پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے سعودی مالی امداد پر مبنی تھے، جب کہ ریاض بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کر رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور پاک۔سعودی تعاون کو دفاعی اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں وسعت دینے کے لیے نئی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔‘
گزشتہ دہائی میں پاکستان کی لڑکھڑاتی معیشت سعودی امداد پر زیادہ انحصار کرتی رہی ہے، اسی دوران بھارت نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کیا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپریل میں سعودی عرب کا تیسرا دورہ کیا۔
اسفند یارمیر کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب اب بھی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور بھارت کی کوششوں کے باوجود اسلام آباد خطے میں تنہا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بالکل ایسے موقع پر جب پاکستان کو بھارتی فوجی کارروائی کے خطرے کا سامنا ہے، اسلام آباد نے سعودی عرب سے ایک مضبوط دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ اس لیے یہ مستقبل کے پاک بھارت تعلقات میں کافی پیچیدگیاں لے آئے گا‘۔
پاکستان کی ایٹمی قوت اور سعودی عرب؟
سعودی عرب طویل عرصے سے جوہری ٹیکنالوجی کے حصول میں دلچسپی ظاہر کرتا آیا ہے تاکہ توانائی کے ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے۔ جنوری میں سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاض یورینیم کو افزودہ کرنے اور فروخت کرنے کے لیے تیار ہے، جو کہ جوہری پروگراموں کا ایک اہم جزو ہے۔
تاہم سعودی عرب بارہا واضح کر چکا ہے کہ اس کی ایٹمی ہتھیاروں کو حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
امریکی صحافی باب ووڈورڈ نے اپنی ۲۰۲۴ء کی کتاب وار میں ایک گفتگو کا حوالہ دیا ہے جس میں مبینہ طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سے کہا تھا کہ ریاض یورینیم کو صرف توانائی کے مقاصد کے لیے افزودہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
جب گراہم نے سعودی ایٹم بم کے امکان پر تشویش ظاہر کی تو ووڈورڈ نے لکھا کہ محمد بن سلمان نے جواب دیاکہ ’مجھے بم بنانے کے لیے یورینیم کی ضرورت نہیں، میں تو بس پاکستان سے خرید لوں گا‘۔ تاہم تجزیہ کار سحر خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کی حدود کے حوالے سے کچھ چیزیں ابھی واضح نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ اگرچہ پاکستان نے اس سے پہلے بھی دفاعی معاہدے کیے ہیں، لیکن ان میں سے کسی نے نہ تو جوہری ضمانت فراہم کی اور نہ ہی کسی قسم کی ’ایٹمی ڈھال‘ تشکیل دی۔ اس معاہدے میں بھی ایسی کسی ایٹمی ڈھال یا کسی وسیع تر مزاحمتی ڈھانچے کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔‘
اسفند یار میر نے خبردار کیا کہ مضبوط اتحاد بھی خطرات سے خالی نہیں ہوتے، انہوں نے کہا کہ ’یہ معاہدہ ایک نئی اتحادی سیاست کو جنم دے گا کہ یہ کن امور کا احاطہ کرتا ہے اور کن کا نہیں، اس میں ڈٹیرینس، وسائل کی فراہمی اور عملی تفصیلات جیسے پہلو شامل ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے اس معاہدے کی سیاسی اہمیت کم نہیں ہوتی اور ’یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔‘
محمد فیصل نے بھی اس بات سے اتفاق کیا اور نشاندہی کی کہ اگرچہ اس معاہدے میں ایک ملک پر حملے کو دونوں پر حملہ قرار دینے کا ذکر ہے لیکن فی الحال یہ زیادہ تر ایک سیاسی بیان معلوم ہوتا ہے نہ کہ ایک باقاعدہ اتحاد یا مشترکہ دفاعی عہد۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان سیاسی اور دفاعی تعاون مزید گہرا ہوگا اور دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرے گا۔‘
(مترجم: ابن فاروق)
“‘Watershed’: How Saudi-Pakistan defence pact reshapes region’s geopolitics”.
(“Aljazeera”. September 18, 2025)