یورپ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش

رُوس نے ڈھائی سَو سال میں کئی بار پولینڈ پر حملے کیے ہیں اور بیشتر مواقع پر منہ کی کھائی ہے۔ استعماری دَور ہو یا اشتراکی، روس نے پولینڈ کے حصّے بَخرے کرنے میں کوئی کَسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔ اِن ڈھائی صدیوں کے دوران پولینڈ تین حصّوں میں تقسیم ہوا ہے اور پولینڈ کا اچھّا خاصا رقبہ روس کی طرف جھکاؤ رکھنے والا ہوچکا ہے۔ پولینڈ کے فوجی کہتے رہے ہیں کہ ہم جرمنز سے اِس لیے لڑتے ہیں کہ اُنہیں مارنا ہمارا فرض ہے مگر روسی فوجیوں سے لڑنا، اُنہیں منہ توڑ جواب دینا ہمارے لیے موجبِ مسرّت ہے۔

مذموم روسی روایات

ایک زمانے سے روسی قائدین کے لیے محفوظ ترین سرحد وہ رہی ہے جس کے دونوں طرف روسی رہتے ہوں۔ پھر چاہے قوم کوئی بھی ہو۔ روس اگرچہ ایک پورے برِّاعظم کے برابر بلکہ اُس سے بھی بڑا ہے مگر پھر بھی اُس کے لیے لڑنا کبھی آسان کام نہیں رہا۔ اِس وقت روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پولینڈ سے کِھلواڑ کرکے دراصل پورے یورپ کو پریشان کر رہے ہیں، لڑائی پر اُکسا رہے ہیں۔ صدر پیوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین تک محدود رہنے والی جنگ آگے بڑھے، یورپ میں پھیلے۔

جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹس ویسے بھی کسی بھی روسی اقدام کو لَتاڑنے سے گُریزاں رہی رہتے ہیں۔ اس لیے اُمید کی جانی چاہیے کہ وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے اور یورپ کو جنگ میں گھسیٹنے کی صدر پیوٹن کی کوشش کو بَرمَلا تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز ہی کریں گے۔ وہ چونکہ حکومت کا حصہ بھی ہیں، اِس لیے اب اُن سے یہ توقع وابستہ نہیں کی جاسکتی کہ وہ غلَط کو غلَط کہنے کی ہمّت اپنے اندر پیدا کر پائیں گے۔

اِس وقت روسی صدر کی بھرپور کوشش یہ ہے کہ یورپ کو کسی نہ کسی طور گھیر کر میدانِ جنگ تک لایا جائے اور ایسا اُلجھا دیا جائے کہ پھر اُس کا نکلنا ممکن نہ رہے۔

جب دنیا قطر میں حماس کی قیادت پر اسرائیل کے حملے کے معاملات میں اُلجھی ہوئی تھی تب صدر پیوٹن نے پولینڈ کی فضائی دفاع کی صلاحیت کو آزمانے کا سوچا اور جو کچھ اُنہوں نے دیکھا، اُس پر اُنہیں بہت حیرت ہوئی۔

یورپ تیار تھا۔ اَطالوی اور وَلندیزی ایف۔۳۵ طیاروں نے روسی ڈرونز کو مار گرانے کے حوالے سے بھرپور تیاری دِکھائی۔ جرمن پیٹریاٹ میزائل اور نگرانی کے معقول نظام کے علاوہ پرواز کے دوران لڑاکا طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت نے بتا دیا کہ یورپ اپنے دفاع کے لیے اچھا خاصا تیار ہے۔

یہ معاملہ برطانیہ کے لیے زیادہ پریشان یا خطرناک نہ تھا مگر وہ بھی تیار دکھائی دیا۔ صدر پیوٹن چاہتے ہیں کہ اگر اُنہیں یوکرین میں کسی نہ کسی طور جیتنے کا موقع دیا جائے تو اہلِ یورپ کی اکثریت اُن کے منصوبوں کے بارے میں شُکوک کا اظہار نہ کرے۔ اگر روس کی فوج یوکرین کی فوج کو زیر کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو بالٹک ریاستوں اور پولینڈ کی باری بھی آسکتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ صدر پیوٹن واک اوور کی ضمانت نہیں دے سکتے۔

بیلاروس کو استعمال کرنے کی کوشش

اب سوال یہ ہے کہ صدر پیوٹن پولینڈ کی فضاؤں میں ہونے والی جھڑپوں سے کیا کام لینا چاہتے تھے۔ پولینڈ اب بیلاروس سے ملنے والی سرحدیں بند کر رہا ہے۔ بیلاروس کو اَب بہت حد تک روس کے بچّے کی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں سے روس پولینڈ پر زیادہ آسانی سے حملہ کرسکتا ہے۔ پولینڈ کی قیادت جانتی ہے کہ بیلاروس سے ملنے والی سرحد بند نہ کی گئی تو معاملات بہت زیادہ خرابی کی طرف چلے جائیں گے۔ یاد رہے کہ روس اور بیلاروس ستمبر کے اواخر میں زمینی جنگ کی سب سے بڑی مشقیں زیپیڈ کرنے والے ہیں۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملات کس حد تک بگڑے ہوئے ہیں اور خِطّے کی تزویراتی کہانی میں کسی بھی وقت کوئی بڑا یا نازک موڑ آسکتا ہے۔

پولینڈ کے وزیرِ خارجہ اور سابق وزیرِ دفاع رادیک سِکورسکی آکسفرڈ کے پڑھے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولینڈ کی قیادت کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ کسی بھی وقت روس کی طرف سے بہت بڑے پیمانے پر جارحیّت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اِس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

روس اور بیلاروس کی زمینی مشقوں پر خطّے کے تمام ممالک کی نظر ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن چاہتے ہیں کہ معاملات یوکرین تک محدود نہ رہیں بلکہ علاقائی سطح پر جنگ پھیلے اور معاملات کسی بھی ملک کے ہاتھ میں نہ رہیں۔ مغربی یورپ کو جنگ کی بھٹّی میں جھونکنے کے حوالے سے پیوٹن بہت بے تاب دِکھائی دیتے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ مغربی یورپ نے کئی عَشروں تک دُنیا بھر میں خرابیاں پیدا کی ہیں۔ افغانستان کو بنیاد بناکر امریکا کے ساتھ یورپ نے بھی پورے وسطِ ایشیا کو غیرمستحکم رکھّا ہے اور اب بھی وہ افریقا سمیت کئی خطّوں کو خرابیوں سے دوچار کیے ہوئے ہے۔ یہ بات بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ روسی صدر یورپ کے رہنماؤں میں فرانس کے صدر میکرون، برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے نفرت کرتے ہیں۔ اور کسی نہ کسی طور اُن کے ملکوں کو جنگ کی بھٹّی میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ سِکورسکی کہتے ہیں کہ جارجیا پر حملے سے قبل بھی روس نے مشقیں کی تھیں۔ یوکرین پر حملے سے قبل بھی مشقیں کی گئی تھیں۔ اب روسی صدر سے شاید برداشت نہیں ہو پارہا اور وہ معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے ارکان پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے بھی مشقیں کر رہے ہیں۔

پولینڈ دَم سادھے اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ امریکی صدر کچھ ایسا کریں کہ معاملات دُرستی کی طرف جائیں۔ اس بات کا ویسے اِمکان خاصا مخدوش ہے کہ کسی بھی مستحکم ورلڈ آرڈر کے لیے پیوٹن کو ایک بڑا خطرہ سمجھنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی صدر چند یورپی جمہوریتوں کے ساتھ مِل کر کھڑے ہوں گے۔ صدر ٹرمپ اب تک بیشتر معاملات میں روسی ہم منصب سے فکری یا نظریاتی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

پولینڈ کی اندرونی سیاست بھی الجھی ہوئی ہے۔ پولینڈ کے صدر کیرول نوروکی انتہائی دائیں بازو کے قوم پرست ہیں جو اِس بات کے حق میں زیادہ نہیں ہیں کہ پولینڈ کو یورپی یونین کا حصّہ ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُن کا جھکاؤ روس کی طرف ہے کیونکہ اُنہوں نے بھی یوکرین پر روس کی لشکر کَشی کی مذمت کرنے میں بُخل سے کام نہیں لیا ہے۔ ہاں، اس بات کا زیادہ اِمکان نہیں ہے کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے ہاتھ مضبوط کریں گے، اُسے ہتھیار یا فنڈز فراہم کریں گے۔ وہ اس بات کو کسی طور پسند نہیں کریں گے کہ یوکرین جنگ کو روسی حدود میں زیادہ آگے لے جانے میں پولینڈ کا کوئی بڑا کردار ہو۔ کچھ کچھ ایسا ہی اٹکا ہوا ذہن امریکی صدر کا بھی ہے جو اپنے دوست روسی ہم منصب سے تعلق کسی بھی صورت ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر اُرسُلا وان ڈیر لیئن کہتی ہیں کہ روسی حملے روکنے کے لیے ڈرونز کی دیوار بنانے کی ضرورت ہے اور اِس کے لیے یورپی یونین کے تمام ارکان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کو ہماری طرف سے بھرپور اظہارِ یکجہتی کی ضرورت ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Putin tries it on with Poland and aims to drag Europe into his war of conquest”.

(“The Globalist”. September 12, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں