نوٹ: ذیل میں دیا گیا مضمون ایک اسرائیلی فوجی نے اسرائیلی اخبار ’’ہارٹز‘‘ کے لیے لکھا۔ اخبار نے مضمون لکھنے والے اس فوجی کی شناخت کو خفیہ رکھا ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج (آئی ڈی

ابھی حال ہی میں ہندوستان کے شمالی اتراکھنڈ صوبہ کے ہری دوار کے ایک کالج میں ہندوانتہا پسندوں نے مسلم طلبہ کی طرف سے منعقد افطار پارٹی کو درہم برہم کردیا۔ بعد میں پرنسپل نے

امریکا اور یورپ کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ایشیا سے درپیش ہے۔ تین دہائیوں سے یہ بات ہو رہی ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی ہوگی یعنی ایشیا عالمی سیاست و معیشت اور

ایک زمانے سے یورپ میں بہتر دفاعی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اب برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے مل کر معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کو مضبوط بنانے کا

شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے پانچ سال بعد بھی سماجی تقسیم اور دوری ختم ہوئی ہے اور نہ ہی اس تشدد کے متاثرین کو مناسب معاوضہ ملا ہے۔ انصاف تو آج بھی دور

اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کو جس نوعیت کے انتشار نے گھیر رکھا ہے، اُس کے ہوتے ہوئے عالمی سیاست کے انتہائی اہم معاملات اور پہلوؤں کا نظروں سے اوجھل رہنا ممکن بھی ہے اور

سابق امریکی صدر ولیم جیفرسن کلنٹن نے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو اُن کی شناخت بن گیا تھا۔ جملہ تھا ’’احمق، یہ معیشت ہے!‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بالکل واضح عالمِ تکبر میں

اگر آپ کسی دشن ملک کے سیکورٹی اہلکار ہیں تو اس لمحے کو غنیمت جانیں۔ امریکی حکومت کے راز چرانے کے لیے اس سے زیادہ اچھا وقت کبھی نہیں رہا۔ اور جب راز چرانا اتنا

اسرائیل کے قابض حکام نے ایڈورائم نامی آؤٹ پوسٹس کے اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ یہ آؤٹ پوسٹس الخلیل کے جنوب میں دراء کی زمین پر قائم کی گئی تھی۔ اس کا

یکم اپریل ۲۰۲۵

۷

:شمارہ نمبر

|

۱۸

:جلد نمبر