امریکی راز چُرانا کبھی اتنا آسان نہ تھا

اگر آپ کسی دشن ملک کے سیکورٹی اہلکار ہیں تو اس لمحے کو غنیمت جانیں۔ امریکی حکومت کے راز چرانے کے لیے اس سے زیادہ اچھا وقت کبھی نہیں رہا۔ اور جب راز چرانا اتنا آسان ہوجائے تو معلوم نہیں کہ اسے چوری کہا بھی جاسکتا ہے یا نہیں۔ یوں سمجھیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے خزانے کے دروازے کھول دیے ہیں، اس کی حفاظت پر مامور آدھے سیکورٹی گارڈز کو برطرف کر دیا ہے اور باقیوں سے بہت معمولی اجرت پر کام کروایا جارہا ہے۔ اب آپ جب چاہیں یہاں آئیں اور جو چاہیں لے جائیں۔

موجودہ دور حکومت کے ابتدائی دو مہینوں میں ٹرمپ نے ایسے اقدامات کیے ہیں جو حکومت کو غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کمزور بنا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف دی اٹلانٹک کی جانب سے سامنے لائی گئی گروپ چیٹ تک محدود نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلیٰ عہدیداروں کی چھان بین کے عمل کو کمزور کردیا ہے، حکومتی رازوں تک رسائی رکھنے والے ہزاروں ملازمین کو جبری طور پر برطرف کردیا ہے اور خفیہ غیرملکی اثرات کے خلاف حفاظتی اقدامات بھی کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کی چھت پر ایلون مسک کے سیٹلائیٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز نصب کیے گئے ہیں جو بظاہر سیکورٹی کنٹرولز سے بچنے کے لیے تھے۔ اسی طرح ایلون مسک کی کمپنی کے ایک نوجوان کو حساس حکومتی سسٹمز تک رسائی دے دی گئی ہے۔ یہ نوجوان ’بگ بالز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کا سائبر کرائم میں ملوث ہونے کا ریکارڈ موجود ہے۔

اپنی پہلی مدت صدارت میں صدر ٹرمپ نے روسی سفیر کو ایسی خفیہ معلومات بتا کر ہلچل مچا دی تھی جو امریکا کے حقیقی اتحادیوں سے بھی مخفی رکھی جاتی تھی۔ اب تو صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ اب تو کسی بھی امریکی راز کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوچکی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سیکورٹی کو صرف ایک اور فرسودہ روایت سمجھ رہی ہے، جو اس کی تیز رفتاری، بیورو کریٹک اثر و رسوخ کو توڑنے اور اسے ایک طاقتور منتظمہ سے بدلنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ٹیکنالوجی اور فنانس کے لوگوں کو یہ پرانی پابندیاں برداشت نہیں کرنی پڑتیں تو وائٹ ہاؤس کیوں کرے؟

مخالفین اسی قسم کے انتشار، الجھن اور مواقع کی تاک میں رہتے ہیں۔ ایک خفیہ چینی نیٹ ورک برطرف کیے گئے امریکی سرکاری ملازمین کو بھرتی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نیول کریمنل انویسٹی گیٹو سروس نے کہا ہے کہ غیرملکی مخالفین ٹرمپ انتظامیہ کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں سے ’فائدہ اٹھانے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم صرف چین اور روس ہی نہیں ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کو نظرانداز کرنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ خفیہ معلومات اکٹھا کرنا اب سب ہی کے لیے آسان ہو گیا ہے۔

نام نہاد ’زیرو کلک اسپائی ویئر‘ اب دنیا بھر کی حکومتوں اور کارپوریشنوں کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایپل نے ۱۵۰؍ممالک کے صارفین کو اطلاع دی ہے کہ وہ اس کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔ اسرائیلی اسپائی ویئر بنانے والی کمپنی این ایس او گروپ کا ایک پروگرام سعودی عرب، اسپین، ہنگری، بھارت، میکسیکو اور روانڈا میں استعمال ہوچکا ہے۔ ایف بی آئی کے سابق انسداد جاسوسی ڈائریکٹر فرینک فگلیوزی کا کہنا ہے کہ اب چھوٹے یا ترقی پذیر ممالک بھی جاسوسی میں آسانی سے کامیاب ہوسکتے ہیں، اس کے لیے کسی ملک کو بہت زیادہ جدید ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہ وہ وقت ہے جب سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ تقریباً ایک ہزار ایف بی آئی ایجنٹوں کو ان کے معمول کے کاموں سے ہٹاکر جیفری ایپسٹین کی کیس فائلوں کی چھان بین کے لیے لگا دیا گیا ہے۔ نیویارک شہر جو غیرملکی جاسوسی سرگرمیوں کا گڑھ ہے، وہاں بھی ایف بی آئی کا فیلڈ آفس ایپسٹین کیس پر پوری طرح مرکوز ہے۔ دریں اثنا محکمہ انصاف نے نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز پر غیرملکی حکومتوں کے ممکنہ اثرات کی تحقیقات روک دی ہیں۔ روسی تخریب کاری اور سائبر حملوں کے خلاف ۷؍ایجنسیوں کا مشترکہ آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے اہلکاروں کو اب ٹیسلا گاڑیوں کو نقصان پہنچانے والوں کے پیچھے لگایا جا رہا ہے جبکہ نئی ’جوائنٹ ٹاسک فورس اکتوبر ۷‘ جامعات میں ’حماس کی غیرقانونی حمایت‘ کی تحقیقات کر رہی ہے۔

جہاں تک اس واقعے کا تعلق ہے جس میں ایک صحافی کو فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کے ساتھ انتہائی خفیہ گفتگو میں شامل کر لیا گیا تو یہ جاننا مشکل ہے کہ کون سی بات زیادہ تشویشناک ہے، یہ کہ گروپ چیٹ میں موجود لوگوں کو دیگر ممبران کے بارے میں معلوم ہی نہیں تھا یا پھر یہ کہ سینئر حکومتی عہدیدار موبائل فون پر خفیہ بات چیت کررہے تھے۔ اس گروپ چیٹ کے شرکا نے شاید سوچا ہوگا کہ وہ محفوظ ہیں کیونکہ ان کے پیغامات سگنل ایپ پر انکرپٹڈ تھے، جو دنیا بھر میں رازداری پسند افراد میں مقبول ایپ ہے لیکن کوئی بھی چیٹ صرف اتنی ہی محفوظ ہوتی ہے جتنا اسے استعمال کرنے والے۔

کچھ دن پہلے ہی پینٹاگون نے خبردار کیا تھا کہ روسی ہیکرز لوگوں کو دھوکا دے کر ان کے سگنل گروپ کے پیغامات کو دوسری ڈیوائس پر بھیج رہے ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ماسکو میں بیٹھ کر اس گروپ چیٹ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

مسٹر وٹکوف نے بعد میں کہا کہ وہ ایک محفوظ سرکاری ڈیوائس استعمال کررہے تھے، لیکن کسی بھی فون کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ناممکن ہے۔ ایس سی آئی ایف نامی وہ محفوظ کمرے جہاں اعلیٰ اہلکار انتہائی حساس گفتگو کرتے ہیں، وہاں فون اندر لے جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی۔

سگنل گیٹ کے مرکزی کردار یعنی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز، سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ، نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گیبارڈ یہ سب جانتے ہیں۔ ان سب نے فوج میں خدمات انجام دی ہیں اور انہوں نے بلا شک و شبہ انسداد جاسوسی کے ماہرین سے حساس ڈیٹا چرانے کے مختلف طریقوں کے بارے میں لاتعداد لیکچر سنے ہوں گے۔ لیکن یہ ایک ایسی انتظامیہ ہے جو ماہرین کی رائے کو سرعام مسترد کرنے پر فخر محسوس کرتی ہے۔ یہ ان لوگوں کو کرپٹ، اصل دشمن، یا ’ڈیپ اسٹیٹ‘ قرار دیتی ہے اور ان کی بات نہ ماننے کو اپنی راست بازی کی دلیل سمجھتی ہے۔ اس نظریے کے مطابق سیکورٹی اداروں کو وائٹ ہاؤس کی مرضی کے تابع ہونا چاہیے اور اگر اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے پاس روایتی قابلیتیں نہیں ہیں تو یہ اور بھی بہتر ہے۔ یہ وہ انتظامیہ ہے جو ’فاکس نیوز‘ کے میزبان کو دنیا کی سب سے بڑی فوج کا سربراہ بنا دیتی ہے، ایک سازشی نظریات رکھنے والے پوڈکاسٹر کو ایف بی آئی کا انچارج مقرر کرتی ہے اور جس کی سربراہی ایک ریئلٹی اسٹار سے صدر بننے والا شخص کررہا ہے۔ نتیجے کے طور اس قسم کی حماقتیں ناگزیر ہیں۔

میٹ ٹیٹ ایک معروف سائبر سیکورٹی کنسلٹنٹ اور برطانوی سگنل انٹیلی جنس سروس جی سی ایچ کیو کے سابق تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یقینا ان کے اپنے نجی واٹس ایپ گروپس اور سگنل گروپس ہیں۔ بنیادی طور پر انہیں اپنے ماتحت سول سروسز پر بھروسا نہیں اور یہ روایتی طور پر اختیار کی جانے والی کسی بھی قسم کی پابندیوں کو اپنے اوپر لاگو نہیں سمجھتے۔

آنے والے دنوں میں موجودہ امریکی انتظامیہ کے مداح یہ کہیں گے کہ وفاقی حکومت جن چیزوں کو خفیہ قرار دیتی ہے، ان میں سے زیادہ تر حساس نہیں ہوتیں اور گزشتہ ۲۰ سال یا اس سے زائد عرصے سے تمام حکومتوں کے اہلکار اپنی ذاتی ڈیوائسز پر جنگ اور دیگر امور کے حوالے سے بات چیت کرتے رہے ہیں۔

ان کی یہ دلیل حالیہ سگنل گیٹ کو جواز فراہم نہیں کرتی۔ مسٹر والٹز نے تجویز پیش کی کہ جیفری گولڈ برگ، وہ صحافی جسے یمن پر حملہ کرنے کے حوالے سے بنائے گئے سگنل گروپ میں غلطی سے شامل کیا گیا تھا، شاید ہیکنگ کے ذریعے اس گروپ میں شامل ہوا۔ والٹ کی یہ دلیل توسیکورٹی خدشات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتی ہے۔ مسز گیبارڈ نے دعویٰ کیا کہ گروپ میں ہونے والی بات چیت جس میں جاری امریکی حملے کے اہداف، وقت اور استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تفصیلات تھیں، کسی طرح بھی خفیہ درجہ بندی میں نہیں آتیں اور وجہ سے کوئی راز دراصل لیک نہیں ہوا۔

لہٰذا اگر آپ کسی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کو چلا رہے ہیں تو پرسکون رہیں۔ آپ کے پاس بہت وقت ہے۔ یہ ناکامی ٹرمپ کی ٹیم کو جگانے کے لیے کافی ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے سیکورٹی طریقہ کار میں اصلاحات کریں لیکن اس انتظامیہ نے دوسری سمت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کو کہا کہ ’مجھے بالکل معلوم ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ کوئی بھی جنگی منصوبوں کے بارے میں پیغام رسانی نہیں کر رہا‘، حالانکہ وہ بالکل یہی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔

(ترجمہ: ادارہ)

“Foreign spies to team Trump” (“The New York Times”. March 26, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں