دہلی فسادات کے ۵ سال: معاوضہ اور انصاف آج بھی بہت دور

شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے پانچ سال بعد بھی سماجی تقسیم اور دوری ختم ہوئی ہے اور نہ ہی اس تشدد کے متاثرین کو مناسب معاوضہ ملا ہے۔ انصاف تو آج بھی دور کی کوڑی ہے۔

’میرے بھائی کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ پہلے انہوں نے اسے گولیوں سے بھون دیا۔ پھر انہوں نے اسے لاٹھیوں سے پیٹا۔ اور آخرکار آگ کے حوالے کر دیا۔‘

یہ بات دہلی میں کاروانِ محبت کے زیر اہتمام ۲۶ فروری کو منعقد یکجہتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلیم نے کہی:

شمال مشرقی دہلی کے مزدور طبقے کے علاقے میں ہوئے فرقہ وارانہ قتل عام کی پانچویں برسی کے موقع پر اس اجلاس کا انعقاد کیا گیا تھا، اس تشدد کی شروعات ۲۳ فروری ۲۰۲۰ء کو ہوئی تھی۔

سلیم نے مزید کہا، ’میں یہ سب کچھ پڑوس کی ایک عمارت کی تیسری منزل پر بیٹھ کر دیکھ رہا تھا۔‘ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’میں بے بس تھا۔ میں اپنے بھائی کی جان بچانے کے لیے کچھ نہیں کر سکا۔‘

’میرا گھر، میرا کارخانہ، سب کچھ لوٹ لیا گیا۔ ہجوم نے ان عمارتوں پر پٹرول چھڑک کر آگ کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے ہماری گاڑیاں بھی جلا دیں۔ ہمارا سارا سامان جل کر راکھ ہو گیا۔ ہم اپنی جان بچانے کے لیے پولیس کو فون کرتے رہے لیکن کوئی نہیں آیا۔‘

’ہم صرف اپنے ہندو پڑوسی ابھیشیک کی وجہ سے زندہ ہیں۔ میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے میرے ماتھے پر تلک لگایا تاکہ میں ہندو جیسا نظر آؤں۔ وہ ہمارے خاندان کے تمام نو افراد کو اپنے گھر لے گئے۔‘

’کچھ دنوں بعد، جب تشدد کم ہوا تو میں پڑوسیوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں نے ہجوم کو میرے بھائی کو زندہ جلاتے ہوئے دیکھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ زندہ ہے یا مرگیا اور اگر وہ مر گیا ہے تو مجھے اس کی لاش چاہیے۔ پولیس نے مجھے یقین دلایا کہ وہ تحقیقات کریں گے۔ انہوں نے مجھے اس جگہ سے فون کیا جہاں میں نے اپنے بھائی کو جلتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اس کی لاش نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک پیر ملا۔‘

انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’کیا تم اس کے پیر کو پہچان سکتے ہو؟‘ میں نے ان سے کہا کہ ’ہم بچپن سے ساتھ رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ میں اس کے پیر کو پہچان لوں گا‘۔ اس رات میں جی ٹی بی اسپتال کے مردہ خانے میں گیا، جہاں انہوں نے مجھے پلاسٹک میں لپٹی ہوئی ٹانگ دکھائی۔ میں نے ان سے کہا، ’یہ میرا بھائی ہے‘۔ مجھے یقین تھا۔ میں اپنے بھائی کی باقیات واپس لینے ہر دوسرے دن اسپتال جاتا تھا۔ بالآخر ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد تصدیق ہوئی کہ ٹانگ واقعی میرے بھائی کی تھی۔ ایک سال بعد مجھے اس کی ٹانگ ملی۔

جب سلیم نے اپنے درد اور مایوسی کی داستان سنائی تو ہال میں بہت کم آنکھیں ایسی تھیں جو نم نہیں ہوئی تھیں۔

کاروانِ محبت کے اس اجلاس میں دوسرے متاثرین نے بھی اپنے درد کا اظہار کیا۔ ان میں سے ایک ممتاز بیگم تھیں، جو سسک رہی تھیں اور ٹھیک سے بول نہیں پارہی تھیں۔ ان کے شوہر نے اپنے چھوٹے سے گھر کی کھڑکی سے باہر جھانکا ہی تھا کہ انہیں بھیڑ کی خوفناک دھاڑ سنائی پڑی۔ اسی وقت کسی نے ان کے چہرے پر کوئی مائع پھینک دیا۔ جو تیزاب نکلا۔ ڈاکٹروں نے دو سال تک ان کا علاج کیا، لیکن ان کی بینائی واپس نہیں آئی۔ تیزاب کی وجہ سے وہ مکمل طور پر نابینا ہوگئے۔ حملے سے پہلے وہ کریانے کی چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ اب یہ خاندان بالکل بے سہارا ہوگیا ہے۔

ریحانہ بیگم نے ان تلخ سماجی فاصلوں کے بارے میں بات کی، جس کے باعث ان کا علاقہ الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’پانچ سال پہلے ہونے والا تشدد اب تک ختم نہیں ہوا۔ تشدد جاری ہے۔ میں جس علاقے میں رہتی ہوں، وہاں لوگ اب بھی ہمارے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں جیسے ہم نے کسی کو قتل کیا ہو یا کسی کو لوٹ لیا ہو۔ فسادات کے بعد جب ہم گھر لوٹے تو لوگ ہماری طرف ایسے دیکھتے تھے جیسے ہم نے ان کے گھروں کو لوٹ لیا ہو۔ جب ایودھیا میں مندر کا افتتاح ہوا تو حالات اور بھی بدتر ہوگئے۔ پھر انہوں نے سڑکوں پر نعرے لگانے شروع کر دیے جس سے ہم بہت زیادہ خوفزدہ ہوگئے۔ ہم آج بھی اس ڈر کا سامنا کررہے ہیں۔‘

لیکن سلیم جیسے کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جان ان کے ہندو پڑوسیوں نے بچائی۔ شہزاد اصغر زیدی کی ایک دکان تھی۔ ان کی پانچ بیٹیاں ہیں اور بیٹا کوئی نہیں، دکان سے انہیں اچھی کمائی ہوجاتی تھی۔ فسادات کے دن ایک ہندو پڑوسی نے انہیں بتایا کہ ہجوم نے ان کی دکان کو آگ لگا دی ہے۔ وہ دور سے بے بسی سے دیکھتے رہے۔ ایک دن بعد وہ ملبے میں کچھ اہم دستاویزوں کی تلاش میں دکان پر گئے۔ وہاں ایک شخص نے ان پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایک ہندو دوڑ کر ان کے درمیان کھڑا ہو گیا اور کہا کہ وہ شہزاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ ’جس آدمی نے مجھے مارنے کی کوشش کی وہ ہندو تھا جس نے مجھے بچایا، وہ بھی ہندو تھا۔ میں کیا کہوں؟‘

اس کے بعد جو سلسلہ شروع ہوا، زیدی اسے انصاف اور معاوضے کے لیے اپنی ’دوسری جنگ‘ کی طرح دیکھتے ہیں۔ کسی کو ان کی دکان لوٹنے اور جلانے کی سزا نہیں دی گئی۔ حالانکہ ان کا نقصان پانچ یا چھ لاکھ روپے کا تھا، لیکن مسلسل حکومت کے دروازے کھٹکھٹانے کے بعد انہیں صرف پانچ ہزار روپے بطور معاوضہ دیا گیا۔

موج پور چوک پر استعمال شدہ کپڑوں کی دو منزلہ دکان چلانے والے رفیق کا ہاتھ پانچ سال بعد بھی خالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ۲۳فروری کو بی جے پی لیڈر کپل مشرا کی نفرت انگیز تقریر کے فوراً بعد لوٹ مار، آتش زنی اور پتھراؤ شروع ہوگیا تھا۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا کر بھاگے۔ کسی طرح وہ تنگ گلیوں سے دوڑتے ہوئے گھر پہنچے۔ چار دن بعد ان کے پڑوسیوں نے انہیں اطلاع دی کہ گیس سلنڈر پھوڑ کر ان کی دکان جلا دی گئی۔ پھر بھی انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔

محمد شہزاد کے پاس ایک ’دھرم کانٹا‘ تھا، جس میں ٹرک جیسی بھاری گاڑیوں کا وزن کیا جاتاہے۔ انہوں نے ۱۵ سے ۲۰ ملازموں کو کام پر رکھا ہوا تھا، جن میں اکثر ہندو تھے۔ ایک ہندو ملازم نے گھبراہٹ میں انہیں فون کیا اور بتایا کہ ایک مشتعل، نعرہ بازی کرنے والا ہجوم جمع ہوگیا ہے اور ترازو کو آگ لگا رہا ہے۔ شہزاد نے پولیس کو فون کیا۔ دوسری طرف موجود شخص نے انہیں یقین دلایا کہ وہ جلد اپنی فورس بھیج دیں گے۔ پھر اس نے شہزادے کا نام پوچھا۔

صاف تھاکہ فون کرنے والا مسلمان تھا۔ ہجوم کو منتشر کرنے یا آگ بجھانے کے لیے کوئی پولیس فورس وقت پر نہیں پہنچی۔ ان کے ملازم نے بعد میں انہیں بتایا کہ جب پولیس پہنچی تو بہت زیادہ تباہی ہوچکی تھی، لیکن انہوں نے ہجوم کو توڑ پھوڑ اور آتش زنی جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ ہجوم نے ترازو کے قریب کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی، اور ایک ملازم کو تقریباً مار ڈالا۔

جب یہ سب ہو رہا تھا تب شہزاد اپنے گھر والوں کے ساتھ گھر میں چھپا ہوا تھا۔ وہاں بھی ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا تھا، اور اتنے پتھر اور اینٹیں پھینکیں کہ جلد ہی فرش نظر نہیں آ رہا تھا،اس کے بعد انہوں نے کئی ہفتوں تک پولیس کا پیچھا کیا، لیکن انہوں نے مجرموں کو گرفتار نہیں کیا۔ بلکہ پولیس انہیں دھمکیاں دیتی رہی۔

شہزاد نے بتایا کہ ان کے والد ایک غریب مزدور تھے اور کم عمری میں ہی انتقال کرگئے۔ انہوں نے اپنا کاروبار کھڑا کرنے کے لیے بہت جدوجہد کی۔ اب سب کچھ برباد ہوچکا ہے۔ انہیں کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہیں جو معاوضہ ملا ہے، وہ صرف ساڑھے ۱۲؍ہزار روپے ہے۔

فیضان کی عمر صرف ۱۴؍سال تھی، جب فرقہ وارانہ تشدد کے دوران اچانک گولی لگنے سے اس کی زندگی بدل گئی۔ ان کی والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔ ان کے والد نے انہیں اور ان کے بھائی کو چھوڑ دیا تھا۔ ان کی دادی نے ان کی پرورش کی۔ تشدد کے دوسرے دن، ان کی دادی نے انہیں اپنی گلی میں ایک دکان سے کچھ کھانا خریدنے کے لیے بھیجا۔ اسی وقت ایک پرتشدد ہجوم محلے میں داخل ہوا، فیضان خوفزدہ ہو کر بھاگا لیکن ایک گولی اسے لگ گئی اور وہ نیچے گر پڑا۔ پڑوسی انہیں کلینک لے گئے۔ ان کی کمر پر گولی کے گہرے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ کلینک کے ڈاکٹر نے زخم پر پٹی تو باندھ دی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر اس کی جان بچانی ہے تو اسے فوراً اسپتال لے جانا پڑے گا۔ لیکن یہ ناممکن لگ رہا تھا۔ ہر طرف ہجوم تھا، پتھر برسائے جارہے تھے، عمارتوں کو آگ لگائی جارہی تھی۔ کسی گاڑی، ایمبولینس کو آگے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

ایک رحم دل صحافی نکیتا جین نے ان کی جان بچائی۔ ان کے پڑوسیوں کی مدد سے انہوں نے انہیں لکڑی کی ایک گاڑی پر لٹایا اور چادر سے ڈھانپ دیا۔ بھیڑ کے درمیان سے ہوتے ہوئے وہ اس گاڑی کو پولیس جیپ تک لے گئے۔ وہاں صحافی نے پولیس والوں سے درخواست کی کہ وہ انہیں اسپتال لے جائیں۔ پولیس شروع میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی تھی لیکن آخرکار مان گئی، لیکن جب وہ انہیں اسپتال لے جا رہے تھے، فیضان کو یاد ہے کہ وہ ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کہا، ’باہر جا کر دوبارہ احتجاج کرو۔ تمہارے ساتھ یہی ہوگا۔ تمہیں وہی ملا ہے جس کے تم مستحق ہو۔‘

سال ۱۹۶۱ء میں جبل پور میں آزادی کے بعد ہوئے پہلے بڑے فسادات کے بعد سے ہی بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو انصاف اور معاوضہ دلانے میں، ایک آدھ معاملے کو چھوڑ کر، ہندوستانی حکومتوں کا ریکارڈ بری طرح سے داغدار ہے۔ لیکن ان شرمناک مثالوں سے قطع نظرشمال مشرقی دہلی کا فرقہ وارانہ قتل عام بالکل الگ ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تشدد قومی راجدھانی میں ہوا، جہاں سے ملک اور دہلی کی حکومتیں چلتی ہیں۔ دہلی تمام مسلح افواج اور بیشتر نیم فوجی دستوں کا قومی ہیڈ کوارٹر ہے۔ اگر نیت ہوتی تو شہر کے مزدور طبقے کے علاقے میں شروع ہونے والی معمولی جھڑپوں پر چند گھنٹوں میں قابو پایا جاسکتا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ چھ دن تک بلاتعطل جاری رہا، یہ نہ صرف ریاست کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ مجرموں اور ریاست کی ملی بھگت کا ثبوت بھی ہے۔ تشدد لمبے وقت تک صرف اس لیے جاری رہا کہ ریاست اس کو جاری رکھنا چاہتی تھی۔

بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کی نفرت انگیز تقاریر کے باوجود، اور دہلی ہائی کورٹ میں ہماری مداخلت اور قائم مقام چیف جسٹس مرلی دھر کی سخت سرزنش کے باوجود، پولیس نے ان میں سے کسی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔ ’دیش کے غداروں کو‘ گولی مارنے کی اپیل کرنے والوں میں سے ایک کو مرکزی کابینہ کا وزیر بنایا گیا۔ پانچ سال بعد دہلی حکومت میں دوسرے کو وزیر بنایا گیا، وہ بھی وزیر برائے قانون و انصاف۔

تشدد کو روکنے یا اس پر قابو پانے میں ناکام ہونے کے بعد، ریاست کا اگلا فرض ان لوگوں کی حفاظت کرنا تھا جن کی جانوں، املاک اور گھروں کو فسادی ہجوم نے نشانہ بنایا تھا۔ لیکن پولیس نے ان ۱۳؍ہزار فون کال کو نظرانداز کر دیا، جو اسے کی گئیں۔

ریاستی حکومت نے ۲۰۰۲ء میں گجرات حکومت کے شرمناک اقدام کی پیروی کرتے ہوئے ریلیف کیمپ قائم کرنے کے لیے شروع میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ جب اس کی بڑے پیمانے پر تنقید کی گئی تو دہلی حکومت نے نو بے گھر پناہ گاہوں کو ریلیف کیمپ کے طور پر نامزد کیا۔ یہ تشدد سے بے گھر ہونے والے ہزاروں لوگوں کی توہین کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بے گھر پناہ گاہیں خالی ٹین شیڈ ہیں جن میں بے گھر افراد کو غیرصحتمند اور غیرصحت بخش حالات میں، خاص طور پر سردیوں کے مہینوں میں پیک کر دیا جاتا ہے۔

یہ فرقہ وارانہ تشدد سے بے گھر ہونے والے ہزاروں لوگوں کے لیے حفاظت اور علاج و معالجے کی جگہیں کیسے ہوسکتی ہیں؟ قومی راجدھانی دہلی کے پاس اتنے وسائل تھے، جنہیں آسانی سے مثالی ریلیف کیمپوں کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا، جیسے کہ اسٹیڈیم اور کالج کی عمارتیں۔ لیکن حکومت نے فرقہ وارانہ تشدد کے شکار لوگوں کو مؤثر ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی آپشن نہیں چنا۔

کاروانِ محبت کی رپورٹ میں بیان کی گئی معاوضے کی کہانی، جس کا عنوان ہے ’غیر حاضر ریاست: ۲۰۲۰ء کے دہلی فسادات کے متاثرین کو معاوضہ اور نقصان کی بھرپائی سے انکار‘، اس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے۔ مرکزی حکومت نے معاوضے کی اسکیم کا اعلان نہیں کیا اور تشدد کے متاثرین کو پانچ سالوں میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔

ریاستی حکومت نے ایک اچھی شروعات کی، لیکن یہ صرف چند ہفتے ہی چل سکی۔ اس نے کم از کم معاوضے کی اسکیم کا اعلان کیا، حالانکہ ۱۹۸۴ء کے سکھ مخالف فسادات کے مقابلے میں یہ بہت محدود پیمانے پر تھا۔ ریاستی حکومت کے اہلکاروں نے موت کے معاوضے اور ایکس گریشیا کو مؤثر طریقے سے تقسیم کیا۔

لیکن جلد ہی، مارچ میں ہی، دہلی کی ریاستی حکومت نے معاوضے کا اندازہ لگانے اور تقسیم کرنے کے لیے ایک علیحدہ ایجنسی قائم کرنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ یہ ناقابل فہم اور ناقابل معافی تھا، کیونکہ فرقہ وارانہ اور نسلی تشدد سے متاثرہ افراد کا بچاؤ، امداد، معاوضہ اور بحالی ریاست کا ایک بنیادی فرض ہے، جو درحقیقت تشدد کے متاثرین کے جینے کے آئینی بنیادی حق سے ماخوذ ہے۔ یہ ذمہ داری کسی بیرونی ادارے کے سپرد کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

اس کام کے لیے ہائی کورٹ کی طرف سے ایک کمیشن مقرر کیا گیا، جو درحقیقت بالکل مختلف، بلکہ مخالف مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد سرکاری املاک کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگانا تھا، جسے فسادیوں سے وصول کیا جانا تھا۔ فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کی اس بڑی ذمہ داری کے ساتھ، کمیشن کو اپنا کام شروع کرنے میں سات مہینے لگے۔ اس کے بعد اس نے متاثرین کو ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے بے ترتیب ڈھنگ سے پرائیویٹ ایویلیویٹرکو مقرر کیا۔

ان پرائیویٹ ایویلیویٹروں کے عمل اور طریقۂ کار کو عام نہیں کیا گیا۔ نہ تو جائزہ لینے والوں نے اور نہ ہی کمیشن نے ان کی بات سُنی، جن کا نقصان ہوا تھا۔ انہوں نے عام طور پر اپنی تشخیص کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور تشخیص کے خلاف اپیل کی ایک بھی شق نہیں تھی۔ یہ سب فطری انصاف کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔

تشدد کا نشانہ بننے والوں کے بنیادی حقوق پر حملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ کمیشن کی طرف سے جن درخواستوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، ان میں معاوضے کی سطحیں طے کی گئی ہیں جو کہ اصل نقصانات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ لیکن کمیشن نے کہا کہ اس کے پاس معاوضے کی معمولی رقم بھی تقسیم کرنے کے لیے فنڈ نہیں ہیں۔ ۲۰۲۰ء اور اس کے بعد کے تمام سالوں کے لیے ریاستی حکومت کے بجٹ کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ بجٹ میں معاوضے کی ادائیگی کے لیے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی علیحدہ بجٹ رکھا گیا تھا۔

دہلی حکومت کے تقریباً ۷۵ہزار کروڑ روپے کے کل بجٹ میں، یہاں تک کہ فراخدلانہ معاوضے کے انتظامات بھی اس کی کل رقم کے ۱۔۲ فیصد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے، ۲۰۲۰ء کے دہلی کے فرقہ وارانہ تشدد کے متاثرین کو معاوضہ دینے سے انکار فنڈز کی کمی کی وجہ سے ہونے والی غلطی نہیں تھی۔

۲۰۲۰ء کے دہلی فرقہ وارانہ تشدد کے بعد پولیس نے ۷۵۸؍ایف آئی آر درج کیں، جن میں سے ایک میں دعویٰ کیا گیا کہ شہریت ترمیمی قانون ۲۰۱۹ء کے خلاف احتجاج کرنے والے اور امدادی کاموں میں سرگرم افراد دراصل سازشی تھے جنہوں نے فرقہ وارانہ قتل عام کا منصوبہ بنایا تھا۔

گزشتہ اپریل میں ہائی کورٹ کو دیے گئے ایک بیان میں پولیس نے کہا تھا کہ ۲۸۹ مقدمات میں تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ عدالت میں ۲۹۶ مقدمات زیر التوا ہیں اور ۱۷۳؍مقدمات کو عدالت نے خارج کر دیا ہے۔

محمد شہزاد کا کروڑوں روپے کا دھرم کانٹا جل گیا، تاہم انہیں صرف ساڑھے ۱۲؍ہزار روپے معاوضہ دیا گیا۔ شہزاد نے کہا، ’کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ میں یہاں کیوں پیدا ہوا؟ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے آپ انصاف کہہ سکیں۔ میرا کیا قصور ہے کہ مجھے اتنا برداشت کرنا پڑا؟‘

یا سلیم، جس نے ایک ہجوم کو اپنے بھائی کو گولی مارتے ہوئے اور پھر جلاتے ہوئے دیکھا۔ اس کا کارخانہ اور گھر جلا دیا گیا، اور وہ اپنے بچوں کو کھلانے اور پڑھانے کے لیے جدوجہد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’زندگی بہت مشکل ہے۔ لیکن مجھے پیسے نہیں چاہیے۔ مجھے اپنے بھائی کے لیے انصاف چاہیے، مجھے اس سفاکی کی سزا چاہیے جس کے ساتھ اسے مارا گیا۔‘

اس نے آہستہ سے کہا، ’اگر مجھے انصاف نہیں ملا تو میں اپنی جان لے لوں گا۔‘

لیکن کیا کسی نے انہیں سنا؟۔۔ کیا کسی کو ان کی پروا ہے؟

(بحوالہ: ’’دی وائر اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۲۰ مارچ ۲۰۲۵ء) 

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں