ایشیا شدید عدم توازن کی زد میں

اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کو جس نوعیت کے انتشار نے گھیر رکھا ہے، اُس کے ہوتے ہوئے عالمی سیاست کے انتہائی اہم معاملات اور پہلوؤں کا نظروں سے اوجھل رہنا ممکن بھی ہے اور حیرت انگیز بھی نہیں۔ ہم سبھی سگنل گیٹ، روس اور یوکرین کے مذاکرات، یورپ کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی ناراضی، تیزی سے پروان چڑھتے ہوئے تجارتی جنگ کے خطرے، امریکا کینیڈا تعلقات میں بگاڑ کی شکل میں اپنے ہی لگائے ہوئے زخم اور امریکا کی حدود میں جمہوری یعنی منتخب اداروں کو کمزور کرنے والے اقدامات میں الجھے ہوئے ہیں۔ اگر آپ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ تمام معاملات بہت الجھانے والے ہیں اور آپ کے لیے ان سب کو جھیلنا ممکن نہیں تو فکرمند نہ ہوں، اس معاملے میں آپ اکیلے نہیں۔

آئیے، میں آپ کو چند لمحات کے لیے خبروں اور تجزیوں کی شہ سُرخیوں سے تھوڑا دور لے جاتا ہوں اور ایک بہت بڑے مسئلہ کی طرف متوجہ ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔ یہ مسئلہ ہے ایشیائی ریاستوں سے امریکی تعلقات کی بدلتی ہوئی نوعیت۔ اس وقت ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ایشیا میں امریکا کی شراکت داریوں اور اتحادوں کا مستقبل کیا ہے یا کیا ہوسکتا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک بڑا بھنڈ مارا ہے۔ انہوں نے یمن میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کے منصوبے کو ایک غیر محفوظ ایپ کے ذریعے اپنے رفقائے کار کو ٹیکسٹ میسج کی شکل میں بھیجا اور یہ پیغام ایک صحافی کو بھی مل گیا۔ دوسری طرف وہ ایشیا میں امریکا کے شراکت داروں کو طرح طرح کی یقین دہانیاں کرانے میں مصروف ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ ایک طرف تو ہیگستھ کی ناتجربہ کاری ہے اور دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کی غیرمتوازن اور نامعقول پالیسیاں ہیں۔ یہ دونوں باتیں مل کر امریکی وزیرِ دفاع کے کام کو انتہائی مشکل بنادیں گی۔

ابھی کچھ دن پہلے تک معاملات یہ تھے کہ میں نے اِس موضوع یعنی طاقت کے توازن کو سمجھانے کے لیے ایک پُرانی کہانی استعمال کی تھی۔ یہ کہانی چین کی تھی جو افلاس زدہ تھا، ٹیکنالوجی میں بہت پسماندہ تھا اور فوج بھی اُس کی بہت کمزور تھی۔ اب چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت ہے۔ وہ بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا بھرپور اختیار رکھتا ہے۔ علاقائی اور عالمی سطح پر معاملات بدل چکے ہیں۔

اس کہانی کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ چین میں رونما ہونے والی بنیادی تبدیلیوں اور ترقی کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں نے امریکا کے ساتھ ساتھ چین کے پڑوسیوں کو بھی چوکنا کردیا تھا۔ اس کے نتیجے میں امریکا نے ایشیا میں شراکت داروں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ ایشیا کے چند ممالک امریکا کے حلیف رہے ہیں مگر امریکی قیادت کو نئے پارٹنرز درکار تھے تاکہ نئے اتحاد تشکیل پائیں۔ چین کی پیشرفت روکنے کے لیے ایسا کرنا لازم تھا۔ چین کو علاقائی سطح پر بالادستی قائم کرنے سے روکنے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر تھا۔ اس حوالے سے امریکا کو بڑے پیمانے پر اقدامات کرنا تھے اور اُس نے کیے۔ امریکی افواج کو دھیرے دھیرے ایشیا میں تعینات کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بعد میں AUKUS کی راہ ہموار ہوئی یعنی آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا نے مل کر ایک اتحاد قائم کیا۔ امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان سلامتی کے معاملات میں تعاون کے لیے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا۔ فلپائن کو اس بات پر قائل کیا گیا کہ اپنا راستہ بدل کر امریکا سے گہرے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرے۔ اس کے نتیجے میں فلپائن میں امریکی فوج کی موجودگی کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ امریکا نے سلامتی کے معاملات میں بھارت سے بھی تعلقات مضبوط بنانے کی ابتدا کی۔ امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا نے مل کر QUAD کے نام سے اتحاد قائم کیا ہے۔ ان ملکوں کی بحری قوت کے درمیان وسیع تر اشتراکِ عمل کی راہ بھی ہموار ہوئی ہے۔ تائیوان کی حمایت و مدد کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جون ۲۰۲۱ء میں جاپان کے وزیرِ دفاع نوبوؤ کِشی نے کہا کہ تائیوان کا امن اور استحکام چین کے لیے بلاواسطہ اثرات کا حامل ہے۔

اس کہانی کا سبق بہت نمایاں ہے۔۔ یہ کہ امریکا اور اُس کے ایشیائی شراکت داروں کے پاس اتحاد قائم کرنے اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے ٹھوس اسباب اور جواز ہیں۔ امریکی ایوانِ صدر میں چاہے کوئی بھی ہو، پالیسی تبدیل نہیں ہوتی۔ ایک امید افزا بات یہ ہے کہ طاقت کا توازن اُسی طور کام کرے گا جس طور بیان کیا گیا ہے اور خطے میں فیصلہ کن بالادستی کا چینی خواب مشکل ہی سے حقیقت کا روپ دھار سکے گا۔

کوئی غلطی مت کیجیے۔ مجھے اپنی سادہ سی کہانی پسند ہے اور میرا خیال ہے کہ اِس میں ایک خاص حد تک سچائی ضرور ہے۔ ہاں، چند ایک معاملات ایسے ہیں جو اس کہانی کو چیلنج کرسکتے ہیں، سوال کھڑے کرسکتے ہیں۔ معاملات کی نوعیت کچھ ایسی ہوگئی ہے کہ یہ کہانی پوری کی پوری قبول اور ہضم نہیں کی جاسکتی۔

یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ چین بالکل پُرسکون ہوکر نہیں بیٹھا ہوا۔ جس طور اُس نے اپنی پسماندگی کو پچھاڑا تھا، بالکل اُسی طور اب وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کررہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض معاملات میں چین نے جو ایڈجسٹمنٹ کی ہے، وہ خاصی کامیاب رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ چین بھی اِس شعبے میں اپنے آپ کو منوانے کی طرف رواں ہے۔ امریکا کے مصنوعی ذہانت کے اداروں کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے چین میدان میں آچکا ہے۔ ڈیپ سیک کے ذریعے اُس نے بھرپور انٹری دی ہے اور خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے چینی ورژن ڈیپ سیک کے سامنے آنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا کی طرف سے ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر اور پیشرفت کی راہ میں پابندیوں کی دیوار کھڑی کیے جانے کے باوجود چین کسی حد تک خود کو زمانے سے ہم آہنگ رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ چین اپنے ہاں کمپیوٹر چپس کی تیاری اور کوانٹم کمپیوٹنگ پر بہت زیادہ فنڈنگ کررہا ہے۔ وہ بہت سی ماحول دوست ٹیکنالوجی کے حوالے سے اب بھی بالادستی کا حامل ہے۔ الیکٹرک گاڑیاں اِس کی روشن ترین مثال ہیں۔ چینی جامعات اور تحقیقی ادارے تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے وقت ہو رہا ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ چین کی پیشرفت روکنے کے لیے امریکی جامعات اور ماہرین کو چین سے اشتراکِ عمل سے روک رہا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکا میں تحقیق کے اداروں کی فنڈنگ بھی گھٹائی جارہی ہے۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ امریکا ہمیشہ ہائی ٹیک کے شعبے میں قائدانہ حیثیت کا حامل رہے گا تو اپنی سوچ بدل لیجیے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایشیا میں امریکا کا (شاید) سب سے بڑا اتحادی جنوبی کوریا شدید سیاسی بحران کا شکار ہے۔ مواخذے کے بعد صدر یون سُک یؤل نے مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کی۔ اگر جنوبی کوریا اپنے موجودہ سیاسی بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائے تب بھی معاشی طور پر شدید نوعیت کی تقسیم سے دوچار رہے گا۔ ایک دور افتادہ امکان یہ بھی ہے کہ جنوبی کوریا میں اپوزیشن لیڈر لی جائے میونگ صدر بن جائیں۔ لی کو امریکا سے تعلقات پر بہت سے تحفظات ہیں۔ وہ ماضی میں چین اور شمالی کوریا کے لیے قبولیت کا اشارہ دے چکے ہیں۔

تیسرے یہ کہ چین کو آبادی کی نوعیت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے اور ایسی ہی مشکلات کا جاپان اور جنوبی کوریا کو بھی سامنا ہے۔ چین میں اوسط عمر ۴۴ ہے، جنوبی کوریا میں ۴۵ اور جاپان میں تقریباً ۵۰ ہے۔ امریکا میں اوسط عمر ۳۸ جبکہ چین میں ۴۰ سے کچھ زیادہ ہے۔ بھارت، انڈونیشیا اور فلپائن میں مجموعی طور پر جواں سال افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ ان ملکوں میں اوسط یا درمیانی عمر ۳۰ سال سے کم ہے۔ امریکا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں آبادی میں اضافے کی رفتار گھٹ رہی ہے اور معمر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں دفاعی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا انتہائی دشوار ہوتا جارہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو ورک فورس سے نکال کر فوج کا حصہ بنایا جاتا رہے تو اِس کے نتیجے میں معیشت کمزور پڑتی چلی جاتی ہے۔ باصلاحیت اور پُرجوش نوجوانوں کو فوج میں ڈالنا گویا اُن کی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کی راہ مسدود کرنا ہے۔

سوال مل جل کر کسی بڑے اقدام کی تیاری کا بھی ہے۔ اگر کئی ریاستوں کو یکساں نوعیت کے مسائل یا خطرات کا سامنا ہو اور لازم ہو کہ مل جل کر کچھ کیا جائے تب بھی اُن میں سے ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ اُس کے حصے کا بوجھ کم سے کم ہو اور دوسروں کو زیادہ سے زیادہ برداشت کرنا پڑے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ تاریخ میں اس نوعیت کی بہت سی مثالوں کا تذکرہ موجود ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ یہ سب کچھ ختم ہونے کا نام نہیں لے گا۔ ہاں، اِتنا ضرور ہوسکتا ہے کہ مضبوط بنیادوں پر اتحاد قائم کرکے ایسا اشتراکِ عمل یقینی بنایا جائے جس میں ہر فریق کو اپنے حصے کا کام پوری طرح انجام دینا پڑے۔ پائیدار سفارتکاری اور اتحاد کی مضبوط قیادت کے ذریعے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ ہر ملک بہت سے معاملات میں شدید عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہے۔

حالات کا تقاضا ہے کہ چین سے نپٹنے کے معاملے میں جذباتیت سے گریز کیا جائے، بُردباری کا مظاہرہ کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو، چین سے براہِ راست تصادم سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ میں ایسے کئی چہرے ہیں جو چین کے معاملے میں انتہا پسندانہ نوعیت کی ذہنیت کے حامل ہیں۔ چین کو ٹرمپ نے بھی امریکا کا سب سے بڑا حلیف قرار دیا ہے۔ چین سے نپٹنے کے حوالے امریکا میں سیاسی بنیاد پر کوئی خاص اختلاف نہیں، سوال طریقِ کار کا ہے۔

امریکا میں بڑے کاروباری ادارے اور شخصیات کو یہ پسند نہیں کہ چین سے تجارتی جنگ کی راہ ہموار کی جائے کیونکہ ایسا کرنے سے اُن کے تجارتی مفادات کو غیرمعمولی نقصان پہنچے گا۔ ایلون مسک سے بھی یہ بات برداشت نہیں ہوسکتی کہ چین سے تجارتی جنگ ہونے دی جائے۔ ماضی میں ٹرمپ نے تائیوان کے دفاع کے حوالے سے شکوک کا اظہار کیا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک کا تعلق تائیوان کے چپ میکنگ ادارے ٹی ایس ایم سی کو اس بات پر مجبور کرنا تھا کہ وہ امریکا میں ۱۰۰؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے۔ صدر ٹرمپ خود کو بہت بڑا ڈیل میکر سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے اُن کا ریکارڈ بہت غیرمتاثر کُن رہا ہے۔ وہ چاہیں گے کہ اس حوالے سے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے کوئی ڈیل کریں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ چینی ہم منصب سے اُن کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ چین سے تائیوان کے معاملے میں ڈیلنگ کے دوران کیا دے بیٹھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی کو بھی اندازہ نہیں کہ چین کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کی حقیقی سوچ یا اپروچ کیا ہے اور صدر ٹرمپ اس حوالے سے کیا کرسکتے ہیں یا کیا کرنا اُنہیں پسند ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ مجموعی طور پر پورے ایشیا کے حوالے سے کیا سوچ رکھتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں کہاں تک جاسکتے ہیں۔

مزید یہ کہ چین کو نیچا دکھانے کے اسٹریٹجک مقصد یا ہدف اور اتحادیوں اور غیراتحادیوں کے حوالے سے امریکی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی ٹرمپ کی سوچ میں بہت واضح تضاد موجود ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے عہدِ صدارت میں پورے بحرالکاہل کے خطے میں جو شراکت داری لانچ کی تھی، تب سے اب تک ایشیا کے حوالے سے امریکا کی واضح اور سنجیدہ معاشی حکمتِ عملی نہیں رہی۔ بائیڈن انتظامیہ نے بھی اس حوالے سے زیادہ کام نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے گاڑیوں اور اُن کے پُرزوں پر ٹیرف لگانے کے حوالے سے جو حکمتِ عملی اختیار کی ہے، وہ جنوبی کوریا اور جاپان کے مفادات کو کاری ضرب لگائے گی اور یہ اِن دونوں ممالک سے معاملات طے کرنے کا مثالی طریقہ ہرگز نہیں۔ چین نے معاملات کو اچھی طرح بھانپ لیا ہے۔ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے حال ہی میں جاپانی اور جنوبی کوریائی حکام سے ملاقاتوں میں اُنہیں یقین دلایا کہ تجارت اور استحکام کے حوالے سے مل جل کر کام کرنے کی اچھی خاصی گنجائش ہے اور اِس سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ چینی وزیرِ خارجہ نے یہ بات بھی خصوصی نکتے کے طور پر بیان کی کہ قریبی پڑوسی دور رہنے والے رشتہ داروں سے بہتر ہوتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم سرکاری اداروں اور محکموں میں بھی اکھاڑ پچھاڑ کی ٹھان رکھی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ایلون مسک سے بہت کام لیا ہے۔ تجربہ کار افسران کی جگہ ٹرمپ اپنے وفاداروں کو لائے ہیں۔ قومی سلامتی کونسل کے معاملات ناتجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں دے دیے گئے ہیں۔ محکمۂ دفاع میں بھی اچھی خاصی اکھاڑ پچھاڑ کی گئی ہے۔ اگر میں ایشیا میں امریکا کا حلیف ہوتا تو ایوانِ صدر اور دیگر اہم ترین حکومتی مقامات اور عمارات میں رونما ہونے والی تبدیلیاں مجھے انتہائی پریشان کرتیں۔

اور آخر میں ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ کیا امریکی حکومتی مشینری کا بنیادی ڈھانچا اس قدر تبدیل کیا جارہا ہے کہ امریکا کے حلیفوں کو ساتھ رکھنا بہت حد تک ناممکن ہو جائے گا۔ یہ تمام معاملات بہت حد تک مشترکہ اقدار یا اداروں کے مرہونِ منت تھے۔ جنوبی کوریا، تائیوان اور فلپائن میں آمریت رہی ہے مگر پھر بھی امریکا نے ایشیا میں اپنی شراکت داریاں اس یقین کی بنیاد پر مضبوط کی ہیں کہ بہت جلد جمہوری ادارے پروان چڑھیں گے۔ یہ امید بھی رہی ہے کہ ایشیا میں جمہوری حکومتیں پروان چڑھیں گی اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے۔ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اب امریکا خود بھی جمہوری اقدار کو ایک طرف ہٹاکر آٹو کریسی یعنی سخت گیر نوعیت کی آمریت نما حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کل تک امریکا چینی قیادت کا تمسخر اڑاتا تھا مگر اب معاملہ کچھ کا کچھ ہوچکا ہے۔ چین اور امریکا کی طرزِ حکومت میں فرق بہت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ امریکی قیادت چینی قیادت پر خودسری اور آمریت کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔ اب امریکی قیادت بھی اِسی راہ پر گامزن ہے۔

میں ایک اچھا حقیقت پسند ہوں اور میں اب بھی یہی سوچتا ہوں کہ میری سادہ سی کہانی میں دَم ہے۔ جن ریاستوں میں انتشار پھیل چکا ہو، وہ اندرونی اور بیرونی طور پر ابھرنے والے خطرات کے حوالے سے بہت حساس ہوتی ہیں۔ امریکا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج چین کے اثرات کو کم سے کم سطح پر رکھنا ہے۔ اس مقصد کا حصول یقینی بنانے کے لیے وہ متعدد ایشیائی ریاستوں سے مل کر کام کرنے کو ترجیح دے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایشیا میں امریکا کے اتحادیوں کی تعداد فی الحال کم نہیں ہونے والی۔ امریکا کسی بھی حال میں چین کو ایشیا کی سطح پر مکمل بالادستی کا حامل دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کے لیے اُسے ایشیا میں پارٹنرز کی ضرورت تو لازمی طور پر پڑے گی۔ جو ممالک چین کے زیرِاثر رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ امریکا سے ہاتھ ملانے اور اُس کے ساتھ کام کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

اسٹیفن والٹ ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے رابرٹ اینڈ رینی بیلفر پروفیسر اور امریکی جریدے فارن پالیسی کے کالم نگار ہیں۔           

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Asia is getting dangerously unbalanced”. (“Foreign Policy”. April 1st, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں