لبرل اِزم کی بقا کا سوال

امریکا اور یورپ کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ایشیا سے درپیش ہے۔ تین دہائیوں سے یہ بات ہو رہی ہے کہ اکیسویں صدی ایشیا کی ہوگی یعنی ایشیا عالمی سیاست و معیشت اور تزویراتی امور کا مرکز بن کر ابھرے گا۔ امریکا اور یورپ کو اپنی برتری کے ساتھ ساتھ طرزِ فکر و عمل کی بھی فکر لاحق ہے۔ ان دونوں خطوں نے مل کر ڈھائی تین صدیوں کے دوران لبرل اِزم کو فروغ دیا ہے۔ لبرل اِزم یعنی ہر سطح پر آزادی کے تصور کی تعمیل۔ ویسے عمومی سطح پر لبرل اِزم سے مراد ہے کائنات کے بے خالق ہونے کا تصور۔ مغرب کا انسان اِس تصور سے آزادی چاہتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہوسکتا ہے۔ اور اِس سے بھی بڑی بات یہ کہ انسان کو اپنے لیے معقول ترین طرزِ زندگی کے تعین کے لیے کسی بھی مافوق الفطرت ہستی سے ہدایات کی کوئی ضرورت نہیں۔

امریکا اور یورپ اپنے لبرل اِزم سے متصادم ہر حکومت اور طرزِ حکومت کو اِل لبرل کہتے ہیں۔ دونوں خِطّوں کو دنیا بھر میں اور بالخصوص ایشیا میں غیرلبرل حکومتوں کا سامنا ہے اور اِس سے بھی بڑھ کر یہ کہ امریکا اور یورپ کو اپنے گھر میں بھی لبرل اِزم سے بیزار افراد کا سامنا ہے۔

سرد جنگ کے زمانے میں معاملات خاصے سادہ تھے کیونکہ مغرب اور اشتراکی حکومتوں کے درمیان معاشی تعلقات بہت محدود پیمانے کے تھے۔ تب غیراشتراکی حکومتیں اشتراکیت کے خلاف اپنی لڑائی میں مغرب سے جُڑی ہوئی تھیں۔

دُگنی توجہ درکار ہے!

آج ہم لبرل اور غیرلبرل حکومتوں والی دنیا میں جی رہے ہیں اور اِن دونوں کے درمیان بھی کئی رنگ پائے جاتے ہیں۔ امریکا کے علاوہ ہنگری جیسے یورپی ممالک میں لبرل اِزم کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اور رجحانات انتہائی خطرناک ہیں۔ دنیا بھر کی غیرلبرل حکومتیں لبرل معاشروں میں کسی نہ کسی طور سرایت کرکے معاملات کو بگاڑ رہی ہیں۔

ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ لبرل اور غیرلبرل حکومتوں کے درمیان اچھے خاصے معاشی تعلقات بھی ہیں۔ علاوہ ازیں، لبرل اور غیرلبرل حکومتیں ماحول کے تحفظ، وباؤں کی روک تھام اور سائبر سیکورٹی سمیت بہت سے اہم عالمگیر معاملات پر اشتراکِ عمل بھی کر رہی ہیں۔

غیرلبرل حکومتیں عالمگیر سطح پر تسلیم شدہ اصولوں اور قوانین کی بنیاد پر قائم اور فعال عالمی نظام کو بگاڑنے پر بھی تُلی ہوئی ہیں اور سیاست و معیشت و مالیات کے معاملات کو غیرلبرل سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔

غیرلبرل ازِم کے لیے ردعمل

امریکا اور یورپ کو مل کر غیرلبرل ازِم کو جواب دیتے وقت بہت سے معاملات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ آئیے، اِن معاملات کا جائزہ لیں۔

٭ مغربی ممالک کو ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے کہ غیرلبرل حکومتیں اُن کی کسی کمزوری سے فائدہ نہ اٹھاسکیں۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ مغرب نے مل کر جواب دیا ہے۔ خیر، یہ اشتراکِ عمل نازک ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی نے پریشان کن حد تک نازک بنا ڈالا ہے۔

٭ یہ خیال رکھنا ہے کہ غیرلبرل حکومتوں سے معاشی اور دوسرا کوئی اشتراکِ عمل اُنہیں مستحکم نہ کرے۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایسی کوئی اور مثال نہیں ہونی چاہیے۔

مغربی دنیا کے لیے اقتصادی پابندیاں اہم ٹُول کا درجہ رکھتی ہیں۔ معاشی فوائد قومی سلامتی کی قیمت پر یقینی نہ بنائے جائیں۔ اس معاملے میں جرمنی ایک اچھی مثال ہے۔

٭ کسی بھی غیرلبرل ملک کے غلط اور خطرناک اسٹریٹجک اقدامات کو کسی بھی حال میں قبول اور برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ ڈھیل برتنے ہی پر روس کو یوکرین پر لشکرکشی کا حوصلہ ملا۔

امریکا نے چین کو بعض معاملات میں بہت کچھ کرنے دیا۔ بحیرۂ جنوبی چین میں چینی سرگرمیوں کی روک تھام کی گئی ہوتی تو چین کو آگے بڑھنے کا راستہ نہ ملتا۔ یوکرین کی جنگ کے دوران بھی یورپ اور امریکا کا ریسپانس خاصا سُست رفتار رہا ہے۔ دونوں کو یہ خوف تھا کہ یوکرین کو ہتھیار دینے میں تیزی دکھائی تو روس زیادہ جارحیت کی طرف جائے گا۔

٭ غیرلبرل ریاستوں کی طرف سے سائبر حملوں، ذہنی اثاثوں کی چوری، جاسوسی اور دیگر ڈھکی چھپی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کارپوریٹ سیکٹرز اور اشتراکِ عمل سمیت بہت سی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

٭ غیرلبرل ریاستوں میں متبادل سیاسی نظام کی بنیاد ڈالنے اور اُسے پروان چڑھانے پر بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ جنوبی کوریا، تائیوان، پولینڈ، چیک جمہوریہ اور دیگر ممالک میں مزدور انجمنوں، کلیسا کی تنظیموں اور طلبہ کے گروپوں کے ذریعے معاملات درست کرنے کی کوشش کی گئی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ چین اور روس میں غیرلبرل حکومتوں نے ہر سیاسی متبادل کی راہ مسدود کردی ہے۔

اپنے جابرانہ نظام کو جاری رکھنے کے لیے غیرلبرل حکومتیں مغرب پر حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے سازشوں کا الزام عائد کرتی رہتی ہیں۔ ایسے میں کسی سیاسی متبادل کو پروان چڑھانے کی کوششوں سے مجتنب رہنے کی گنجائش برائے نام ہے۔

٭ لازم ہے کہ اصولوں کی بنیاد پر کام کرنے والے عالمی نظام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے پر خاطر خواہ توجہ دی جائے۔ اِس نظام کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کے خلاف بھرپور مزاحمت بھی لازم ہے۔ روس نے یوکرین کی سلامتی اور سالمیت داؤ پر لگائی۔ چین نے علاقائی ممالک کے لیے مشکلات کھڑی کی ہیں۔ لبرل دنیا کو یہ سب برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

خیر، ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت میں امریکا نے عالمی تجارتی تنظیم اور دیگر عالمی تنظیموں کی کارکردگی کو نقصان پہنچایا اور اُن پر اپنی مرضی تھوپی۔ یورپی ممالک کو بھی اپنے دفاع کے معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اِس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ اشتراکِ عمل یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یورپی یونین کے ارکان کا دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافہ خوش آئند ہے تاہم یہ ضرورت سے بہت کم ہے۔

٭ روسی صدر ولادیمیر پوٹن جیسے غیرلبرل لیڈرز کو مغربی دنیا کی خارجہ پالیسی (مثلاً نیٹو اور یورپی یونین) کے خلاف ویٹو کا اختیار نہیں ملنا چاہیے۔ اگر ۲۰۰۸ء میں یوکرین اور جارجیا کو معاہدہ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کی غیرمشروط رکنیت پیش کی گئی ہوتی تو معاملات بہتر ہوتے۔ اِس کے بجائے پوٹن کو خوش کرنے کی خاطر ایک مبہم فارمولا پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ ہمیں چین کی اُن کوششوں کا توڑ تلاش کرنا چاہیے جو تائیوان کو عالمی ادارہ صحت کی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے سے متعلق ہیں۔

حاصل کلام

لبرل ممالک کی حدود میں غیرلبرل عناصر کی سرگرمیوں کا کنٹرول بہت اہم ہے مگر یہ آسان نہیں۔ سیاست اور میڈیا دونوں ہی شدید نوعیت کی تقسیم اور محاذ آرائی کا شکار ہیں۔ بہت سے ممالک میں اشرافیہ کو اعتبار کے فقدان کی کمی کا سامنا ہے۔ اگر لبرل معاشروں میں مساوات کو بڑھاوا دیا جائے اور مل کر کام کرنے کی کوشش کی جائے تو سماجی انصاف کی صورت میں غیرلبرل عناصر کی بیخ کنی میں خاصی مدد ملے گی۔

مضبوط قیادت بھی ناگزیر ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کو بہت اچھے قائدین ملتے رہے ہیں۔ اب معاملہ بہت مختلف ہے۔ قابلِ رشک صفات کے حامل قائدین لازم ہیں۔ امریکا اور یورپ کی حکومتیں غیرلبرل حکومتوں کے ساتھ جینے کے چیلنج کا ڈھنگ سے سامنا کرنے سے متعلق اقدامات کر رہی ہیں۔ یہ طے کرنا اس وقت بہت دشوار ہے کہ یہ اقدامات کافی ہیں یا نہیں۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Living with Illiberalism?” (“The Globalist”. January 27, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں