ایک زمانے سے یورپ میں بہتر دفاعی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ اب برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے مل کر معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو) کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اقدامات بھی شروع کردیے ہیں۔ ان تینوں بڑے یورپی ممالک کا دفاعی صلاحیتوں کا معیار بلند کرنے پر متوجہ ہونا دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج کے ہاتھوں پریشان ہونے کے باعث ہے کیونکہ وہ اب تک ایسے کئی اشارے دے چکے ہیں کہ وہ ہر حال میں صرف امریکا کا مفاد دیکھیں گے اور کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزریں گے۔
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ بحرِ اوقیانوس سے جڑے ہوئے ممالک کوئی ایسا اتحاد قائم کریں گے جس میں امریکا شامل نہ ہو۔ اس وقت تو ایسا تصور بھی محال ہے۔ بہت کچھ ہے جو ہے تو سہی مگر اب کسی کام کا نہیں، متعلق نہیں۔ دوسرا بہت کچھ ہے جو اگرچہ ہمیں پسند نہ ہو مگر مجموعی حقیقت کا جُز ہے، اِس لیے ہمیں اُس کا وجود ماننا ہی پڑے گا۔
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جس کے بارے میں کوئی بھی بات پورے یقین سے نہیں کہی جاسکتی۔ اِس دنیا میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے اور ہو ہی رہا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات مفادات کے حوالے سے سوچ پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ہماری نسلیں بھی اب ایسے ہی غیریقینی ماحول میں زندگی بسر کریں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے قائدین نے جھٹکوں اور صدموں کا ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ یہی اب ہماری نئی حقیقت ہے۔ یکساں مزاج رکھنے والے چند قائدین نے بڑی طاقتوں کو اپنے جال میں جکڑ لیا ہے۔
یوکرین میں جو کچھ ہوا ہے، اُس نے پورے یورپ کو پریشان کیا ہے۔ لازم ہوچکا تھا کہ ہر حال میں یوکرین کی مدد جاری رکھی جائے تاکہ روس کو مین لینڈ یورپ کی طرف بڑھنے سے روکا جاسکے۔ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد سے زیادہ یورپ کو یوکرین کے دفاع کی فکر لاحق تھی۔ امریکا کے بغیر یہ کام ممکن نہ تھا، اس لیے یورپ کے قائدین نے امریکی انتخابی سیاست کے بجائے یوکرین کو روس کے دباؤ سے نکالنے کو زیادہ توجہ کے لائق سمجھا۔ یورپ کے لیے ایک طرف یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنکسی سے رابطہ لازم تھا اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی، تاکہ روس کو ایک خاص حد تک رکھنا ممکن ہوسکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب یورپ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ یوکرین کو بچانے کے لیے اُنہیں خود کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ہر حال میں صرف امریکا کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ کل کو امریکا یوکرین کے معاملے میں بالکل پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ سیکورٹی کا بوجھ اب یورپ کو خود ہی اٹھانا ہے۔
یورپ کے ہر ایجنڈے پر اب یوکرین کی مدد پہلا نکتہ ہے۔ ایک طرف تو یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ جنگ کے مورچوں پر روس کو خاطر خواہ حد تک جواب دے سکے اور دوسری طرف یوکرین کی اقتصادی مدد بھی کرنی ہے تاکہ اُس کے عوام ڈھنگ سے جی سکیں۔ امریکا پیچھے ہٹ رہا ہے۔ یورپ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیاں اب یورپ کی مدد کرنے والی نہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی حد تک امریکا کو گلے لگائے رکھنا یورپ کی مجبوری ہے۔ ہاں، یورپ اس معاملے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتا۔ وہ امریکا پر بہت زیادہ بھروسا کرنے کے موڈ میں نہیں اور اِس کی گنجائش بھی نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ یورپ کی نازک صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک امریکا نے یورپ کی سیکورٹی کی ذمہ داری نبھائی ہے اور اِس کے عوض بہت کچھ حاصل بھی کیا ہے۔ یوکرین جنگ نے بھی یورپ کے لیے امریکا کی اہمیت بڑھائی۔ امریکی قیادت کو اندازہ تھا کہ روس کا سامنا کرنے کی خواہش، لگن اور نیت یورپ میں نہیں پائی جاتی، اس لیے اُس نے یوکرین کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور جہاں تک ہوسکا، یورپ سے اِس کی قیمت بھی وصول کی۔ اب امریکی قیادت یوکرین کی بھرپور حمایت اور مدد سے دست بردار سی ہوکر دراصل یورپ کو بلیک میل کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یوکرین جنگ میں اچھا خاصا نقصان اٹھانے کے باوجود روس اب بھی یورپ کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے اور یورپی قائدین نہیں چاہیں گے کہ یوکرین جنگ سے امریکا خود کو مکمل طور پر لاتعلق کرلے۔
امریکا کا معاملہ یہ ہے کہ یورپ کے لیے اُس کی طاقت ایک ناگزیر ضرورت ہے مگر اُس پر بھروسا بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یوکرین کے ہاتھ مضبوط کرکے اُسے روس کا راستہ روکنے کے قابل بھی بنانا ہے مگر اس کام سے اب امریکا کو دور رکھنا ہے کیونکہ وہ غیر اعلانیہ بلیک میلنگ پر اُترا ہوا ہے۔
یورپ کو بہت دیر سے ہی سہی مگر اب احساس ہوا ہے کہ ہر معاملے میں صرف امریکا پر مکمل بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا نے اپنی عسکری مہمات میں یورپ کو بہت بُری طرح استعمال کیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اِس امر کی گواہ ہے۔ افغانستان اور عراق میں بھی یورپ کو استعمال کیا گیا۔ یورپ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ اپنے مؤثر دفاع کے لیے اُسے یا تو نیٹو کو بہت مضبوط کرکے اپنے حق میں استعمال کرنا پڑے گا یا پھر کوئی نیا سیاسی اور اسٹریٹجک اتحاد اِس طور تشکیل دینا پڑے گا کہ امریکا یا تو اُس میں شامل نہ ہو یا پھر اُس کی حیثیت نمائشی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیا مغربی سیاسی اتحاد نیٹو کے بغیر ہو اور اِس میں امریکا نہ ہو بلکہ کینیڈا کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ امریکا نے یورپ کے ساتھ اب تک جو کچھ کیا ہے، اُس کی روشنی میں یورپی قائدین نہیں چاہتے کہ کسی بھی معاملے میں اب اُس پر آنکھیں بند کرکے بھروسا کیا جائے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کسی نئے مغربی سیاسی اتحاد سے امریکا کو دور بھی رکھیں تو کوئی بات نہیں، نیٹو کا پلیٹ فارم تو موجود ہے۔
یورپی ریاستوں کی اندرونی سیاست بھی معاملات پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ جرمنی میں رجعت پسندی بڑھ رہی ہے۔ فرانس میں مرکز کی بالادستی چاہنے والی سیاسی قوتوں کا بول بالا ہے۔ برطانیہ میں اس وقت ایک ایسی فوج ہے جو نپولین کے بعد سے اب تک کے تمام زمانوں کی سب سے چھوٹی برطانوی دفاعی قوت ہے۔ بہرکیف، یورپ اس وقت فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے ہاتھوں میں ہے اور یہ سب مل کر کوئی نہ کوئی معقول راہ نکال ہی سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے ۹۰ منٹ کی ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو کے حوالے سے بہت سی توقعات وابستہ کی گئی تھیں مگر ایسا کچھ بھی برآمد نہ ہوسکا جس سے کسی نہ کسی صورت حوصلہ افزائی ہو۔ یہ توقع تو خیر کوئی کر ہی نہیں سکتا کہ روسی صدر سے ٹرمپ کی گفتگو ہو اور یوکرین کے حق میں جانے والی کوئی بات کی جائے۔ یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ اپنے روسی ہم منصب سے کہیں کہ یوکرین میں جنگ روک دے۔ اِس جنگ ہی نے تو امریکا کی قیمت بڑھائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک یوکرین جنگ کے حوالے سے اور روس سے تعلقات کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اُس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ یوکرین کو روس کا حصہ گردانتے ہیں۔ روسی صدر نے اب تک ٹرمپ سے ہونے والی گفتگو میں جو کچھ کہا ہے، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اپنے امریکی ہم منصب سے یہی کہتے ہیں کہ وہ ایک طرف ہٹ جائیں، یہ روس اور یوکرین کا معاملہ ہے۔ روسی قیادت چاہتی ہے کہ امریکا ایک طرف ہو جائے تاکہ یوکرین کے خلاف جنگ جیتنا اور اُسے روس کا حصہ بنانا آسان ہو جائے۔ یہی سبب ہے کہ روس نے ایک بار پھر یوکرین پر حملے تیز کردیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ لاکھ دعویٰ کرتے پھریں کہ وہ یوکرین جنگ ختم کروانا چاہتے ہیں اور امن کے داعی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کے ہاتھوں خرابیاں بڑھ رہی ہیں۔ وہ امن قائم کرنے کے دعوے کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کو ہٹانے اور یوکرین کی مالی امداد بھی کم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ دنیا کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ امریکا اب یوکرین جنگ کو ختم کروانا چاہتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ روسی قیادت اس تبدیلی کا فائدہ اٹھاکر یوکرین پر دباؤ بڑھارہی ہے اور یوں یورپ کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ جب یورپ کے لیے خطرات بڑھیں گے تو اُسے امریکا کی زیادہ ضرورت پڑے گی اور یوں امریکی قیادت اپنی قیمت بڑھوانے میں کامیاب رہے گی۔ امن قائم کرنے کے نام پر امریکی صدر جو کچھ کر رہے ہیں، اُس کی توقع صرف اُن کے ذہن ہی سے کی جاسکتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یورپ کی سیکورٹی کی ذمہ داری سے سبکدوش کرکے امریکی فوج کو اندرونی معاملات کی طرف زیادہ متوجہ رکھنا چاہتے ہیں۔ علاقائی صورتحال کا تقاضا بھی یہ ہے کہ امریکی فوج یورپ جیسے دور افتادہ خطے کے بجائے امریکا کے پڑوسیوں پر زیادہ متوجہ رہے۔
جو کچھ امریکا کر رہا ہے، اُس کے نتیجے میں یورپ میں اندرونی سطح پر بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کی سیاست میں ایسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جن کے نتیجے میں ایک طرف تو سیاسی اکھاڑ پچھاڑ ہوگی اور دوسری طرف امریکا کی طرف دیکھنے والوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ اسلحہ سازی میں غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر وہ یورپ کے دفاع کے بارے میں سنجیدہ ہوئے تو ایک طرف یوکرین کو مضبوط بنائیں گے اور دوسری طرف امریکا سے فاصلہ بڑھائیں گے۔ یورپ بھر میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو زیادہ سے زیادہ فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اسلحہ سازی اور دفاعی ساز و سامان کی پیداوار کا گراف بھی بلند کرنا ہے۔ اگر یورپ اپنے دفاع کی ذمہ داری خود اٹھانا چاہتا ہے تو پھر اُسے اپنے اسلحہ ساز اداروں کو کام پر لگانا ہوگا۔ اِن اداروں کے ملازمین کو زیادہ سے زیادہ یعنی دن رات کام کرنا ہوگا۔ نئے لڑاکا طیاروں، میزائلوں، گولا بارود، بھاری مشین گنوں، اسنائپرز اور دیگر جنگی ساز و سامان کی تیاری بہت بڑے پیمانے پر یقینی بنانا ہوگی۔ جرمنی اسلحہ سازی میں تھوڑا پیچھے ہے۔ اُسے اس حوالے سے بھرپور طور پر متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے فنڈنگ بھی چاہیے اور عزم بھی۔ سیاسی عزم کے بغیر بھرپور دفاعی تیاری بہت مشکل ہوا کرتی ہے۔ جرمن سیاست دانوں کو اس حوالے سے اپنے آپس کے اختلافات ختم کرکے ایک پیج پر آنا ہوگا۔ جرمنی قرضے لینے سے گریز کرتا رہا ہے۔ اب یہ رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ ایک طرف معیشت کی نمو رک گئی ہے اور دوسری طرف روس کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ ایسے میں جرمنی کے پاس مکمل طور پر متحرک ہونے کے سوا چارہ نہیں۔
ایک زمانے سے جرمنی میں سیاسی تفریق بہت زیادہ رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے دفاعی معاملات میں فیصلہ سازی تاخیر کا شکار ہوتی رہی ہے۔ دائیں اور بائیں بازو والوں کے درمیان ملک کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے اختلافات رہے ہیں۔ معیشتی خرابیوں کے باعث دفاع کو مضبوط بنانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنے والے کم رہے ہیں۔ بہت حد تک یہ کیفیت ابھی کچھ مدت پہلے تک تھی۔ اب چونکہ یوکرین کا معاملہ بہت نازک ہوچکا ہے اور روس کو مین لینڈ یورپ کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوششیں لازم ہیں، اس لیے امریکا کی طرف سے مایوس ہونے پر دیگر یورپی قوتوں کی طرف جرمنی میں بھی سیاسی قائدین اپنی سوچ بدلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے فیصلوں کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔ اگر روس کو روکنے سے متعلق کوششوں کے بارے میں فیصلے تاخیر سے کیے گئے تو بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جرمنی کو اس وقت بھی بہت سے معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ افراطِ زر کی شرح بلند ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے مگر مجموعی طور پر پورے یورپ کو لاحق خطرات کے تناظر میں یہ سب کچھ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے معاملات کو بھانپنے کی دیر کی یا غلطی کر بیٹھے تو روس کو روکنا بہت مشکل ہوگا۔ سوال روس کو فتح کرنے کا نہیں بلکہ اُس کے ہاتھوں رونما ہونے والی تباہی کو روکنے کا ہے۔
یورپ بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ ۱۹۱۸ء میں آسٹرو ہنگیرین سلطنت کے خاتمے کے بعد سے یورپ کی غیرمعمولی سیاسی اور اسٹریٹجک حیثیت رہی ہے۔ عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جرمن سیاست دان نظریاتی طور پر روس کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اب اِس کی کچھ خاص گنجائش نہیں رہی کیونکہ روس نے یورپ کے لیے ایک بڑے خطرے کی شکل اختیار کرلی ہے اور یورپ میں تو خود جرمنی بھی آتا ہے! گیرہارڈ شروڈر اور اینجلا مرکل کے ادوارِ اقتدار میں جرمنی کا مجموعی طور پر روس کی طرف جھکاؤ رہا۔ اب اس کی گنجائش بالکل نہیں رہی۔ ولادیمیر پوٹن نے جو کچھ بھی یوکرین کے ساتھ کیا ہے اور یورپ کے ساتھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے جرمنی میں روس کو ہمدردی کی نظر سے دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ پہلے اولاف شوئلز کے دور میں اور اب مرز کے دور میں روس سے دوستی اور اشتراکِ عمل کے بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔
جرمنی کسی بھی یورپی اتحاد کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ جرمنی کو نظر انداز کرکے کوئی بھی بڑا سیاسی اور اسٹریٹجک اتحاد نہ تو قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جرمنی یورپ کے قلب میں واقع ہونے کی بدولت کئی ریاستوں پر غیرمعمولی اثرات کا حامل ہے اور اپنی تکنیکی برتری کی بدولت وہ پورے یورپ کی سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی کے لیے غیرمعمولی مقام کا حامل ہے۔ دو عالمی جنگوں میں جرمنی کو بہت کچھ سہنا پڑا تھا۔ وہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ کوئی اور عالمی جنگ ہوئی تو اُسے پھر تباہی سے دوچار ہونا پڑے گا مگر اب شاید اُسے زیادہ نہ سہنا پڑے کیونکہ وہ اس بار یورپ کے خلاف نہیں ہوگا۔
یورپ بہت نازک موڑ پر ہے۔ اُسے اپنے بارے میں، اپنی بقا کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا ہے اور جلد کرنا ہے۔ بڑی یورپی طاقتوں کو ایک نیا سیاسی اور عسکری اتحاد تشکیل دینا ہی پڑے گا کیونکہ امریکا پر بہت زیادہ بھروسا کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پورا وزن پوٹن کے پلڑے میں ڈال دیا تو یورپ کی سلامتی ہی نہیں بقا بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔
یورپ کے لیے ایک بار پھر وہی کیفیت پیدا ہوچکی ہے جو دو عالمی جنگوں کی ابتدا کے وقت تھی۔ سیاسی تبدیلیوں سے گریز نے یورپ کو ہمیشہ الجھنوں سے دوچار رکھا ہے۔ امریکا کو یورپ کی ضرورت تھی، اس لیے اُس نے یورپ کو خوب استعمال کیا۔ اب اس کی گنجائش بھی ختم ہوچکی ہے۔ بہت کچھ بدل چکا ہے۔ باقی دنیا بہت مضبوط ہوچکی ہے۔ امریکا تنِ تنہا پوری دنیا پر حکمرانی نہیں کرسکتا۔ یورپ کو ساتھ لیے بغیر چلنا اُس کے لیے ممکن نہیں مگر یورپ اپنی الگ راہ نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایسے میں ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یورپی اقوام کی قیادت کیا چاہتی ہیں اور کیا کر گزریں گی۔ امریکا خود کو الگ تھلگ بھی رکھنا چاہتا ہے اور یورپ پر اپنا حکم بھی تھوپنا چاہتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ ایسے میں کوئی ایک غلط فیصلہ بہت بڑی جنگ شروع کرسکتا ہے۔ یہ وقت ہر معاملے میں غیرمعمولی احتیاط برتنے کا ہے اور ساتھ ہی ساتھ بڑے پیمانے کی جنگی تیاریاں کر رکھنے کا بھی یہی وقت ہے۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Europe doesn’t need Trump to form a western alliance – and one is already taking shape”. (“The Guardian”. March 20, 2025)