سابق امریکی صدر ولیم جیفرسن کلنٹن نے ایک ایسا جملہ کہا تھا جو اُن کی شناخت بن گیا تھا۔ جملہ تھا ’’احمق، یہ معیشت ہے!‘‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بالکل واضح عالمِ تکبر میں بھرپور سیاسی بصیرت کے حامل نہیں ہیں اور یہ بات اُن کے خلاف جاتی ہے۔
اُن کی غیرمعیاری قیادت کے عہد میں امریکا بہت جلد ایسی خطرناک اور تباہ کن نزاکت کا سامنا کرسکتا ہے جو شاید اُن کے کٹر مخالفین کے اندازوں سے بھی کہیں پہلے وارد ہوچکی ہوگی۔ ایسی خرابی کو ٹرمپ سلمپ کہا جارہا ہے۔
’’ٹرمپ سلمپ‘‘ کی وجوہ
ڈونلڈ ٹرمپ جس نوعیت کی خرابی کو جنم دے رہے ہیں، وہ اُن کے یومیہ ماورائے آئین اقدامات کا نتیجہ نہیں جو اس وقت خبروں میں رہنے والے سب سے بڑے آئٹم ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ سیاسی تبصرہ نگار اور تجزیہ کار امریکا کے لیے ٹرمپ کے ہاتھوں جن خرابیوں کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، وہ اُن کے اپنے اندازوں سے کہیں پہلے وارد ہوسکتی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ایوانِ صدر میں ایک اور مدت کے لیے قدم رکھتے ہی سب سے بڑے تجارتی پارٹنرز (میکسیکو، چین، بھارت اور کینیڈا) کے خلاف ٹیرف عائد کرنے یا بڑھانے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے ٹرمپ کے اعلان سے دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹیں ہل کر رہ گئیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اور اعلانات سے اسٹاک مارکیٹوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ یہ سب کچھ اگر یونہی رہا تو؟ یہ سوال لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔
جو کچھ ڈونلڈ ٹرمپ کر رہے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اُس سے عالمی سطح پر تو کھلبلی مچی ہی ہوئی ہے، امریکا میں بھی معاملات اچھے نہیں جارہے۔ بہت سی امریکی ریاستوں میں معاشی نمو سے متعلق اندازے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔
خود امریکی صدر بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ جس نوعیت کے اقدامات کر رہے ہیں اور پالیسیوں میں جو تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں، اُن کے نتیجے میں امریکا میں کساد بازاری واقع ہوسکتی ہے۔ صارفین کا اعتماد مجروح ہوچکا ہے۔ لوگ اپنی آمدنی کم سے کم خرچ کر رہے ہیں تاکہ کچھ نہ کچھ بچا کر رکھا جائے۔
جس طور کہیں لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے اور پتھر گرتے چلے جاتے ہیں، بالکل اُسی طور امریکا میں عام آدمی کا معیشت پر اعتماد لڑھکتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔ لوگ کم خرچ کر رہے ہیں۔ ۱۰؍مارچ کو شائع ہونے والے نیویارک فیڈرل ریزرو بینک کے ایک سروے کے مطابق امریکا بھر میں لوگوں نے فروری کی اپنی مالیاتی پوزیشن کے حوالے سے غیرمعمولی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایلون مسک کی قیادت میں کام کرنے والے محکمے DOGE نے جو اقدامات کیے ہیں، وہ خطرناک نتائج کے حامل ثابت ہو رہے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو بڑے پیمانے پر برطرف کیا جارہا ہے۔ بہت سے محکمے اور ایجنسیاں ختم کی جارہی ہیں۔ اس کے لیبر مارکیٹ پر غیرمعمولی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور بہت سے نجی ادارے سرکاری ٹھیکوں سے محروم ہونے کی صورت میں بند ہوں گے اور یوں بے روزگاری بڑھے گی۔
ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ سے وابستہ بڑے کاروباری اداروں کے بائیکاٹ کی مہم چلائی تو ملک بھر میں ڈیموکریٹک پارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ یہ سب کچھ صدر ٹرمپ کے لیے محض مالیاتی خسارے کا باعث نہ تھا بلکہ اُن کی ذاتی توہین تھی۔ کہا جارہا ہے کہ یہ صورتحال اُن کی ترجیحات پر بھی اثرانداز ہوگی اور وہ پالیسیوں میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوپائیں گے۔
اگر امریکی صدر نے ٹیرف سے متعلق اعلانات پر عمل شروع کردیا تو امریکی معیشت کی خرابیاں رواں سال کی پہلی سہ ماہی سے شروع ہوسکتی ہیں۔ اگر یہ سلسلہ سالِ رواں کی دوسری سہ ماہی کے دوران بھی جاری رہا تو ملک بھر میں شدید نوعیت کی کساد بازاری پیدا ہوسکتی ہے اور یوں معیشت کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ صارفین کے اعتماد کو بحال کرنے کا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں اور کم سے کم خرچ کرنا چاہتے ہیں۔
عام طور پر فیڈرل ریزرو ایسی کسی بھی صورتحال میں سُود کی شرح کم کرتا ہے۔ امریکا کے مرکزی بینک کے گورنر جیرمی پاول کے پاس غیرمعمولی حد تک محتاط ہونے کا جواز موجود ہے۔ اگر ٹیرف نافذ کردیے گئے تو درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھیں گی، اس کے نتیجے میں سپلائی چین بھی متاثر ہوگی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا بھر میں سپر اسٹورز کے بہت سے شیلف طلب کے مطابق رسد نہ مل پانے کے باعث خالی دکھائی دیں۔
ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ امریکا اپنے دوستوں اور اتحادیوں کو بھی اپنے مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں غیرمعمولی لاپروائی دکھائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے دوست اور اتحادی قرار پانے والے ممالک کو بھی نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا ہے۔ چین کا معاملہ مختلف ہے مگر میکسیکو اور کینیڈا کے خلاف ٹیرف؟ یہ گویا اِن دونوں ملکوں سے معاشی روابط کو ٹھکانے لگانا ہے۔ یہ سوچنا سادہ لوحی کی انتہا ہوگی کہ یہ ممالک جواب میں کچھ نہیں کریں گے۔
کینیڈا کے متوقع وزیراعظم صاف لفظوں میں کہہ چکے ہیں کہ جب تک امریکی قیادت کینیڈا کے لیے احترام کا مظاہرہ نہیں کرتی تب تک کینیڈا کی طرف سے بھی امریکا کے خلاف ٹیرف نافذ رہے گا۔ کینیڈین ریاست اونٹاریو کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ شمالی امریکا کے لیے بجلی کی سپلائی روک دی جائے اور ۲۵ فیصد سرچارج عائد کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اگر اونٹاریو کی انتظامیہ نے کہے پر عمل کیا تو امریکا میں ۱۵؍لاکھ صارفین متاثر ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے رفقا غیرمعمولی سطح پر اور غیرمعمولی رفتار سے انتشار اور طوائف الملوکی پھیلا رہے ہیں۔ حالت بہت مایوس کن ہیں۔ جو کچھ بھی ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا، اُس پر عمل کر رہے ہیں۔
معاشی معاملات لیے غیریقینیت سے بُری اور خطرناک چیز کوئی نہیں ہوتی۔ اور اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں یہی ہو رہا ہے۔ حقیقت کچھ اور ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ کچھ اور۔ کبھی کبھی معاملات اس لیے بھی خراب ہو جاتے ہیں کہ کسی نے اُن کے بارے میں کچھ ایسا ویسا کہا ہی ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں رونما ہونے والی خرابیاں بہت زیادہ ہیں اور رفتار بھی کم نہیں۔ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب اُنہیں اپنی حماقت کا اندازہ ہوگا اور وہ واپسی کا سفر بھی شروع کریں گے۔ فیڈرل ریزرو اس وقت اُن کی بات نہیں مان رہا۔ وہ گورنر کو ہٹاکر اپنی ٹیم لائیں گے جو سُود کی شرح نیچے لائے گی تاکہ ملک میں افراطِ زر بڑھے۔ اس وقت تفریطِ زر پیدا کرنے والے حالات پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں۔
مصنوعی اقدامات خرابیوں کو مزید بڑھائیں گے۔ حقائق کی پردہ پوشی تو کی جاسکتی ہے، اُنہیں ختم نہیں کیا جاسکتا۔ جو ممالک ایسا کرتے ہیں اُن کا انجام ہم نے دیکھا ہے۔ ایک طرف سرکاری ملازمین گھٹائے جارہے ہیں اور دوسری طرف مرکزی بینک کے ماہرینِ اعداد و شمار کو بھی چلتا کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ ہر جگہ ٹرمپ اپنے غنڈوں کو بٹھانا چاہتے ہیں۔ آخر میں یہ ہوگا کہ امریکی معیشت کا بھٹّہ بیٹھ جائے گا، دنیا ڈالر کو چھوڑ دے گی اور اندرونِ ملک آمریت زیادہ سے زیادہ پروان چڑھے گی۔ اس کے نتیجے میں امریکا کی بیرونی یعنی عالمی حیثیت داؤ پر لگ جائے گی۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
Say hello to “Trumpslump”. (“The Globalist”. March 13, 2025)