امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں

ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے ۲۵۰ویں سال میں ہے۔ جو امریکا کبھی تارکینِ وطن کی سرزمین ہوا کرتا تھا وہ اب ملک چھوڑنے والوں کی سرزمین میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ برس امریکا نے وہ

سوال صرف یہ نہیں ہے کہ یوکرین پر لشکر کشی کرکے روس نے یورپ کے لیے مسائل کھڑے کیے۔ یورپ ایک طویل مدت سے ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ عالمی سیاست میں جو بڑی تبدیلیاں رونما

یکم، ۱۶ مارچ ۲۰۲۶

۵،۶

:شمارہ نمبر

|

۱۹

:جلد نمبر