ٹرمپ کی ڈھٹائی اور بدحواسی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں ایک خطاب ہوتا ہے جسے اسٹیٹ آف دی یونین ایڈریس کہا جاتا ہے یعنی صدرِ مملکت کو ملک کی مجموعی حالت کے بارے میں تمام اہم حقائق سامنے لانا پڑتے ہیں۔ اِس بار اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ وہ ٹیلی پرامپٹر پر اپنی تقریر پڑھنے میں بھی الجھن کا سامنا کرتے رہے اور اِس دوران شدید بدحواسی اور قدرے مایوسی کے عالم میں انہوں نے پوڈیم کو سختی سے پکڑ رکھا تھا۔ یہ سب کچھ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُن کے ذہن پر غیر معمولی دباؤ ہے۔ وہ بہت حد تک مایوسی کا بھی شکار ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک غیر معمولی ٹیلنٹ یہ بھی ہے کہ ایک زمانے سے چلی آرہی مضبوط روایات کو بھی اِس طور برتتے ہیں کہ وہ قطعی غیر متعلق محسوس ہونے لگتی ہیں۔ وہ تقریر خاصے پُرجوش اور چنگھاڑتے ہوئے انداز سے کرتے ہیں۔ وہ جب پارٹی کے متوقع امیدواروں کو جمع کرنے کی غرض سے منعقد کی جانے والی تقریب میں بھی اِس طور رطب اللسان ہوتے ہیں کہ اُن امیدواروں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی مشق لاحاصل سی دکھائی دینے لگتی ہے۔ جب وہ صدر کی حیثیت سے بنیادی حقائق کو پالیسی سازی سے الگ کرتے ہیں اور اِس کے بجائے سُنی سُنائی باتوں، مفروضوں اور الل ٹپ باتوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتے ہیں تب وہ قطعی ناکارہ اور غیر بارآور ’’مہارت‘‘ کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب وہ عوام میں جھوٹ بولتے ہیں اور اِس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ اُن کے بے بنیاد تصورات، خیالی باتیں اور مسخ حقائق ہی حکومت کے اقدامات کی سمت کا تعین کریں گے تب وہ نیوز میڈیا کی دنیا سے وابستہ ہم جیسے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سچ کو جمع کرکے شایع کرنے کا کوئی فائدہ ہے بھی یا نہیں۔
میرا خیال ہے امریکی عوام بھی یہ سوچ سوچ کر پریشان ہیں کہ جنھیں انہوں نے قیادت کے لیے منتخب کیا ہے وہ آخر کر کیا رہے ہیں۔ حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سن پر عوام نے ضرور سوچا ہوگا کہ اب اِس خطاب کی کیا اہمیت اور وقعت رہ گئی ہے۔ آئین نے صدر کو پابند کیا ہے کہ وہ ہر ملک کی مجموعی حالت کے بارے میں کانگریس کو وقتاً فوقتاً حقائق سے آگاہ کرتا رہے۔
تاہم ذاتی نوعیت کے ٹیلی وائزڈ خطاب کی گنجائش کہاں ہے اور وہ بھی ابلاغِ عامہ کے اِس دور میں کہ جب کسی بھی بات کو عوام تک پہنچانے کے لاتعداد ذرائع موجود ہیں اور انہیں بروئے کار بھی لایا جارہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دو گھنٹے تقریر کی۔ اِس میں جھوٹ بے حساب تھا اور پالیسی سے متعلق کچھ بھی ایسا نہ تھا جو عوام کے کام کا ہو۔ لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس قدر طویل خطاب کیوں ضروری سمجھا گیا اور اُس میں ملک کی مجموعی حالت کے بیان سے متعلق کیا تھا۔
پورے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ واضح طور پر تھکے ہوئے دکھائی دیے۔ وہ ٹیلی پرامپٹر سے پڑھنے میں واضح دشواری محسوس کر رہے تھے۔ پوڈیم کو انہوں نے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا گویا گرنے کا خوف تھا۔ اُن کی پوری طرزِ خطاب بدحواسی کی حدوں کو چُھو رہی تھی۔ خطاب کے آخری حصے میں تو اُن کی آواز ایسی گڑبڑا گئی کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں یا کیا کہنا چاہتے ہیں۔ تب اُن کی عمر صاف جھلک رہی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے اُن کی تقریریں لکھنے والے بھی اب تھک چکے ہیں۔
کانگریس کے ذریعے پوری قوم سے خطاب میں کچھ بھی نیا نہ تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پسندیدہ موضوعات ہی کو چُھوا۔ تارکینِ وطن کی مجرمامہ ذہنیت اور اُن کے کمتر ہونے کا رونا روئے بغیر بات کیسے بن سکتی تھی؟ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی لتاڑنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ علاوہ ازیں یہ بھی لازم سا تھا کہ وہ اپنی شخصی خوبیوں کے گُن گائیں۔ خطاب میں پالیسی سے متعلق نکات برائے نام تھے۔ کئی اہم معاملات پر انہوں نے واضح تضاد بیانی کا مظاہرہ کیا۔ جو کچھ خود کہا تھا اُس کے خلاف بھی کہہ گئے۔ بہت سے حقائق انہوں نے خاصے غلط انداز سے پیش کیے۔ رائے عامہ کے جائزوں میں عوام جن معاملات کو بہت اہم قرار دیتے ہیں اُن کے بارے میں کچھ کہنے کی امریکی صدر کو سُوجھی ہی نہیں۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ کئی مرتبہ رُکے اور اِس کا مقصد سابق فوجیوں کو اُن کی خدمات پر سراہنا اور انہیں تمغے دینا تھا۔ لوگوں نے اِسے میڈیا اسٹنٹ کے طور پر لیا۔ انہوں نے موسمِ سرما کے اولمپکس میں امریکی ٹیم کی آئس ہاکی میں کامیابی یعنی گولڈ میڈل جیتنے کو بھی بہت بڑھا چڑھاکر پیش کیا اور ایوانِ صدر کے مختلف حصوں میں آئس ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں سے تمغوں کے ساتھ پریڈ بھی کرائی۔ ایک عشرے قبل صدر ٹرمپ نے امریکی سیاست میں سیاست اور تفریحِ طبع کا مرکب پیش کرکے ایک نیا اور خاصا مقبول ٹرینڈ متعارف کرایا تھا مگر اِس بار اسٹیٹ آف دی یونین نے ثابت کردیا کہ ٹرمپ اب لوگوں کے لیے تفریحِ طبع کا سامان کرنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔
ہاں، دلوں کو تکلیف پہنچانے کا فن وہ اب تک نہیں بھولے ہیں۔ انہوں نے سوچے سمجھے بغیر کہا کہ وہ صحتِ عامہ کے خرچ کو معقولیت کی حدود میں لے آئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں لوگوں کے لیے بنیادی نوعیت کا علاج بھی ڈھنگ سے کرانا بہت مہنگا ہوچکا ہے۔ انہوں نے افورڈیبل کیئر ایکٹ کے تحت دیے جانے والے زرِاعانت میں غیر معمولی کٹوتیوں کے ذریعے عوام کے لیے مزید پریشانی کا سامان کیا ہے۔ اور یہ محض دو ڈھائی ماہ پہلے ہی کی بات ہے۔ امریکی صدر نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ وینیزوئیلا کے صدر مدورو کی گرفتاری اور تیل سمیت تمام قدری وسائل کے حوالے سے صریح بلیک میلنگ سے دراصل اُس ملک کے لوگوں کے لیے نئے اور پُرکشش معاشی مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں سے متعلق ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے فنڈ ڈیموکریٹ ارکان کی طرف سے روکے جانے کے نتیجے میں ملک کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معقول حد تک فنڈز جاری نہ کروا پانے کے باعث ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی ملک کے مشرقی ساحل سے سَٹے ہوئے علاقوں سے برف بھی بروقت نہ ہٹاسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام اِس ادارے کا ہے ہی نہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ دعوٰی بھی کیا کہ ہم ایک ایسی قوم کی تعمیر کر رہے ہیں جس کا ہر بچہ بھرپور ترقی کرے گا اور بہت آگے جائے گا۔ اُن کے اِس دعوے سے وہ عقوبت خانے ذہن کے پردے پر نمایاں ہوگئے جہاں لیام کونیجو ریموز اور دوسرے بہت سے بچوں کو محض نسلی تعصب کی بنیاد پر قید رکھا گیا ہے اور اُن کی تعلیم، آزادی اور مزید بہت کچھ داؤ پر لگ چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں، حسبِِ معمول، تارکین وطن کو بھی خوب لتاڑا۔ یہ اُن کا فیورٹ موضوع ہے اور ہمدردیاں بٹورنے کا آسان ذریعہ بھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزیوں کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ تارکینِ وطن انگریزی میں لکھے ہوئے روڈ سائن پڑھ نہیں پاتے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جن تارکین کا کوئی دستاویزی ثبوت میسر نہیں اُن میں سے بیشتر جرائم پسند ذہنیت کے حامل ہیں اور اُن کے ہاتھوں ملک میں تشدد کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت سے امریکی زخمی ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ تارکینِ وطن کے ہاتھوں بہت سی اموات بھی واقع ہوئے ہیں۔
حد یہ ہے کہ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے قانونی حیثیت کے حامل سیاہ فام باشندوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے امریکا میں رشوت کا کلچر متعارف کرایا ہے۔ یہ لوگ امریکی ریاست منیسوٹا میں سکونت پذیر ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کرپشن، بھتہ اور رشوت عام ہے اور اب یہ سب کچھ امریکا میں بھی پھیلایا جارہا ہے۔ اِس حوالے سے انہوں نے نسل پرستانہ ریمارکس دے کر عام امریکیوں کو اُکسانے کی کوشش کی۔ اپنے نائب جے ڈی وینس کی طرح صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ تارکینِ وطن اپنے اپنے ملک میں پایا جانے والا کرپشن کا کلچر امریکا میں منتقل کر رہے ہیں، پھیلارہے ہیں۔
یہ بات عوام کے لیے بہت حیرت انگیز ہے کیونکہ صومالیہ سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن کے بارے میں تو ایسا کچھ زیادہ سُننے کو نہیں ملا مگر ہاں پورا ملک جانتا ہے کہ ٹرمپ کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں نے سیاسی معاملات میں کاروباری دنیا کو خوب آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کئی بڑے کاروباری اداروں سے خطیر رقوم بھی پارٹی فنڈ کے نام پر یا ایسی ہی دیگر مدوں میں وصول کی ہیں۔ اگر ٹرمپ کو امریکا میں کرپشن کلچر کا منبع تلاش کرنے کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ آئینہ دیکھ سکتے ہیں۔
انتظامیہ کی بدنصیبی یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایسا جھوٹا اور مفروضوں پر مبنی مواد ہی اپنے خطاب میں پیش کرسکتے تھے اور وہ بھی اِتنے غیر موثر انداز سے۔ امریکا بھر میں صدر ٹرمپ کے لیے قبولیت گھٹ رہی ہے۔ سی این این نے رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے میں بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اِس وقت صرف ۳۸ فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے۔ اور ایسا اِس لیے ہے کہ ملک بھر میں معاشی مواقع گھٹتے جارہے ہیں۔ ٹرمپ نے افراطِ زر پر قابو پانے کا بھی اعلان کیا تھا مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ امریکی معیشت ڈانواڈول ہے۔ انہوں نے کئی ملکوں پر ٹیرف بڑھایا ہے۔ اِس کے نتیجے میں درآمدات مہنگی ہوگئی ہیں اور یوں عام امریکی کو سب کچھ مہنگا مل رہا ہے۔ ٹیرف کے معاملے میں امریکی سپریم کورٹ بھی حال ہی میں ٹرمپ کے اقدامات کے خلاف رولنگ دے چکی ہے مگر اِس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ وہ ٹیرف سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیں گے۔ اِس پورے معاملے میں جو کچھ بھی غلط ہو رہا ہے اُس کی قیمت عام امریکی صارفین کو ادا کرنا پڑے گی۔
صدر ٹرمپ اور اُن کے ساتھی یہ دعوٰی کرتے نہیں تھکتے کہ امریکا میں اسٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ہاتھوں پوری معیشت داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ ہزاروں امریکیوں کی نوکریاں کسی بھی وقت جاسکتی ہیں۔ بڑے کاروباری ادارے بڑے پیمانے پر چھانٹی کی راہ پر گامزن ہیں۔ ٹیکنالوجیز کی ناکامی کی صورت میں اچھی خاصی سرمایہ کاری بھی بے موت مر جائے گی اور اگر ٹیکنالوجیز کامیاب ہوگئیں تو عام امریکیوں کی قوتِ خرید میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی۔ دونوں ہی صورتوں میں امریکی محنت کشوں کے لیے مسائل بڑھیں گے۔ خطاب کے دوران صدر ٹرمپ بار بار کہتے رہے کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ڈیموکریٹس کو لتاڑنے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی وجہ سے ملک تباہی کی راہ پر گامزن ہے۔
اِن تمام باتوں پر ری پبلکن ارکان نے کھڑے ہوکر خوب تالیاں بجائیں جبکہ ڈیموکریٹ ارکان بیٹھے رہے اور خاصے تحمل سے یہ سب کچھ برداشت کیا۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے وہاں بیٹھ کر یہ سب کچھ کیوں برداشت کیا۔ وہ ایوان میں موجود ہی کیوں تھے؟ ڈیموکریٹ ارکان نے پورے تحمل سے خطاب سُنا اور کسی بھی مرحلے پر احتجاج نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے اِس بات سے بھی یہ ثابت کردیا کہ اب رسمی نوعیت کی تہذیب بھی باقی نہیں بچی ہے۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Trump has lost the ability to entertain.
Sadly, he hasn’t lost the ability to offend”.
(“The Guardian”. February 25, 2026)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے ۲۵۰ویں سال میں ہے۔ جو امریکا کبھی تارکینِ وطن کی سرزمین ہوا کرتا تھا وہ اب ملک چھوڑنے والوں کی سرزمین میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ برس امریکا نے وہ