امریکی امریکا چھوڑ رہے ہیں!


ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے ۲۵۰ویں سال میں ہے۔ جو امریکا کبھی تارکینِ وطن کی سرزمین ہوا کرتا تھا وہ اب ملک چھوڑنے والوں کی سرزمین میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔
گزشتہ برس امریکا نے وہ دیکھا جو اُس نے ۱۹۳۰ء کی دہائی کے دی گریٹ ڈپریشن (عظیم کساد بازاری) کے بعد سے نہیں دیکھا تھا۔ امریکا آنے والوں سے زیادہ تعداد امریکا سے نکلنے والوں کی رہی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا سے نکلنے کے اِس رجحان کو سراہا ہے جو غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکال باہر کرنے سے متعلق اُس کے انتخابی وعدے کی تکمیل کی ایک شکل ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران کُھل کر کہا تھا کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے اِس حوالے سے نئے اور سخت تر قوانین نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈائون بھی کیا گیا ہے۔ جو کچھ اُنہوں نے کہا تھا اُس کے برعکس ہو رہا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کو امریکا آنے سے روک دیا جائے گا مگر اِس کے بجائے یہ ہورہا ہے کہ امریکی شہری اپنی فیملی کے ساتھ ایسے ملکوں کا رُخ کر رہے ہیں جہاں وہ ڈھنگ سے رہ سکیں، معیاری زندگی بسر کرنے کے متحمل ہوسکیں۔
آئزن ہاور انتظامیہ کے بعد سے اب تک امریکا نے وطن چھوڑنے والے امریکیوں سے متعلق جامع اعداد و شمار جمع کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی ہے۔ رہائش کے اجازت ناموں، بیرونِ ملک مکانوں کی خریداری، طلبہ کی انرولمنٹ اور دیگر معاملات کے اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکی شہری پچاس سے زائد ملکوں میں قدم جمانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اپنی آمدنی کی حدود میں پٗرسکون زندگی بسر کرسکیں۔ اِس وقت کم و بیش دس لاکھ امریکی بیرونِ ملک پڑھ رہے ہیں، ٹیلی کمیوٹنگ کر رہے ہیں اور ریٹائرمنٹ کی مدت بھی باہر ہی گزار رہے ہیں۔ امریکا کے بہت سے شہریوں کے لیے اب امریکی خواب یہ ہے کہ امریکا میں نہ رہا جائے۔ ایک زمانے سے امریکا کے لیے کشش اور وہاں آباد ہوکر روشن مستقبل تلاش کرنے کو امریکی خواب کہا جاتا رہا ہے۔
پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے گرینڈ کینال ڈاک نامی علاقے میں امریکیوں کی تعداد اِتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ وہاں اب پرتگالی کے بجائے انگریزی سنائی دینے لگی ہے۔ اِس علاقے کے ہر پندرہ میں سے ایک شخص امریکا میں پیدا ہوا ہے۔ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی میں آئرلینڈ میں سکونت پذیر امریکیوں کی تعداد سے یہ تناسب زیادہ ہے۔ تب پوٹیٹو فیمِن نامی قحط سے گھبراکر امریکیوں نے نقلِ مکانی کی تھی۔ بالی، کولمبیا اور تھائی لینڈ میں امریکا کے ریموٹ ورکرز کی رہائش اور اُنہیں ڈالر میں ادائیگی اِس قدر بڑھ گئی ہے کہ مقامی باشندے احتجاج پر مجبور ہیں۔
امریکا کے ایک لاکھ سے زائد نوجوان کم خرچ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرونِ ملک جامعات میں رجسٹرڈ ہیں۔ امریکا اور میکسیکو کی سرحد کے نزدیک واقع میکسیکن نرسنگ ہومز میں امریکا کے معمر افراد کی تعداد بڑھ جارہی ہے جو کم خرچ میں بہتر ہیلتھ کیئر پانا چاہتے ہیں۔ امریکا میں علاج بھی مہنگا ہے اور علاج کے بعد کی دیکھ بھال بھی۔
میکسیکو میں قائم Expatsi نامی ادارہ امریکیوں کو بیرونِ ملک سکونت پذیر ہونے میں معاونت اور راہ نمائی فراہم کرتا ہے۔ اُس نے بتایا ہے کہ ۴۰۰ سے زائد امریکیوں نے البانیا میں آباد ہونے کے حوالے سے راہ نمائی اور معاونت کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔ مشرقی یورپ کے اِس ملک نے امریکی شہریوں کو خصوصی ویزا پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی ہے اور ایک سال تک آمدنی پر کوئی ٹیکس وصول نہ کرنے کی سہولت بھی دی جائے۔ مزید یہ کہ مستقل آباد ہونے والے امریکیوں سے کچھ پوچھا بھی نہ جائے گا۔
امریکیوں کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد دینے والے اِس ادارے کی سربراہ ۵۴ سالہ جین بارنیٹ البانیا میں پیدا ہوئی تھیں اور انہوں نے ۲۰۲۴ء میں ترکِ وطن کرکے میکسیکو کے شہر یوکاٹن میں رہائش اختیار کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ امریکا کے کھاتے پیتے گھرانوں کے افراد مہم جوئی اور کچھ نیا دیکھنے کی خاطر دنیا بھر میں گھومتے پھرتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اب عام امریکی اپنے معاشی اور معاشرتی حالات سے تنگ آکر امریکا چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ایکسپیٹزی نے ۲۰۲۴ء میں امریکیوں کے تین گروہوں کے بیرونِ ملک دوروں کا اہتمام کیا تھا۔ رواں سال اِن گروہوں یا جتھوں کی تعداد ۵۷ ہوگی۔ جین بارنیٹ کہتی ہیں کہ ہمارا ہدف دس لاکھ امریکیوں کو بیرونِ ملک آباد کرنا ہے۔
چند سیاسی تجزیہ کاروں نے امریکی باشندوں کے اِس ترکِ وطن کو ڈونلڈ ڈیش کا نام دیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکیوں نے اپنے وطن سے نکلنا اچانک شروع کردیا ہے۔ یہ رجحان کئی سال سے پنپ رہا تھا اور لوگ تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ سب سے پہلے تو ریموٹ ورک یعنی گھر بیٹھے بیرونِ ملک کام کرنے کا رجحان توانا ہوا۔ امریکا میں رہائش کا مہنگا ہوتے جانا بھی ایک اہم عامل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی اپنی طرزِ رہائش میں تبدیلی کے بھی خواہش مند ہیں۔ وہ یورپ کے بہت سے ممالک کی طرزِ رہائش سے متاثر ہیں اور قدرے اطمینان بخش معاشرتی حالات چاہتے ہیں۔
امریکی ایوانِ صدر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کم و بیش تمام ہی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں امریکی معیشت بہتر کام کر رہی ہے، ٹرمپ انتظامیہ لاکھوں غیر قانونی تارکینِ وطن کو ڈی پورٹ کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف بہت سے غیر ملکی باشندے امریکا میں مستقل رہائش اور کام کرنے کی سہولت پانے کے لیے دس لاکھ ڈالر دے کر گولڈ کارڈ حاصل کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
گزشتہ برس امریکا سے ترکِ وطن کرنے والوں کی تعداد کم و بیش ڈیڑھ لاکھ تھی۔ رواں سال اِس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ یہ بات پبلک پالیسی تھنک ٹینک بروکنگز انسٹیٹیوشن نے بتائی ہے۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار تھوڑے کم یا زیادہ بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ امریکی اداروں کو اس قسم کے اعداد و شمار کی درستی کی زیادہ فکر لاحق نہیں ہوتی۔ ۲۰۲۳ء میں امریکا آنے والوں کی تعداد ۶۰ لاکھ تھی جو ۲۰۲۵ء میں ۲۶ تا ۲۷ لاکھ رہ گئی۔ اِس دوران امریکا سے کم و بیش ۶ لاکھ ۷۵ ہزار افراد کو نکالا گیا جبکہ ۲۲ لاکھ غیر ملکی نے رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنا بہتر جانا۔ یہ اعداد و شمار ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے فراہم کردہ ہیں۔
معروف امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے ۱۵؍ملکوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ جزوی اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ ۸۰ ہزار امریکیوں نے وہاں کا رُخ کیا ہے۔
اِس وقت کم و بیش ۴۰ لاکھ تا ۹۰ لاکھ امریکی بیرونِ ملک آباد ہیں۔ اِس حوالے سے جامع ترین اور درست ترین اعداد و شمار کا حصول کم و بیش ناممکن ہے۔ محکمہ خارجہ نے بتایا ہے کہ ۲۰۲۲ء میں میکسیکو میں سکونت پذیر امریکیوں کی تعداد ۱۶؍لاکھ تھی۔ کووِڈ کی وبا کے بعد سے یہ تعداد مستقل بڑھتی رہی ہے۔ میکسیکو میں جرائم پیشہ گروہوں کی آپس کی خوں ریز لڑائی نے امریکیوں کے وہاں آباد ہونے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ کینیڈا میں اِس وقت ڈھائی لاکھ سے زائد امریکی آباد ہیں۔ اِن میں دہری شہریت والے بھی بڑی تعداد میں ہیں جو کام کے سلسلے میں روزانہ کینیڈا جاتے اور واپس آتے ہیں۔ پیرس میں قائم ادارے دی ایسوسی ایشن آف امریکن ریزیڈنٹس اوورسیز نے بتایا ہے کہ یورپ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد امریکی آباد میں جن میں سے کم و بیش سوا تین لاکھ برطانیہ میں ہیں۔
یہ اعداد و شمار جامع نہیں کیونکہ اِن میں امریکیوں کے ہاں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے بچوں کو شمار نہیں کیا گیا۔ طویل مدتی ویزا پر قیام کرنے والے طلبہ بھی شامل نہیں۔ بہت سے لوگ ۹۰ دن کے ویزا پر آتے ہیں اور پھر مزید تین ماہ کا ویزا لنے کے لیے واپس جاتے ہیں۔ بہر کیف، یورپ میں آباد ہونے والے امریکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو بہت حیرت انگیز رجحان ہے۔ یورپی یونین کے تمام یعنی ۲۷؍ارکان میں رہنے اور کام کرنے کے لیے آنے والے امریکیوں کی تعداد اِس وقت ریکارڈ سطح پر ہے اور اِس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ کووِڈ کی وبا سے اب تک پرتگال میں آباد ہونے والے امریکیوں کی تعداد میں ۵۰۰ فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس کا اضافہ ۳۶ فیصد رہا ہے۔ دس سال کے دوران اسپین اور ہالینڈ میں سکونت اختیار کرنے والے امریکیوں کی تعداد میں ۱۰۰؍فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہی معاملہ چیک جمہوریہ کا بھی ہے۔
گزشتہ برس امریکا آنے والے جرم باشندوں کے مقابلے میں جرمنی کا رخ کرنے والے امریکیوں کی تعداد زیادہ رہی۔ یہی معاملہ آئرلینڈ کا بھی رہا جس نے دس ہزار امریکی باشندوں کا خیرمقدم کیا۔ یہ تعداد ۲۰۲۴ء میں آئرلینڈ پہنچنے والے امریکیوں کی تعداد سے دُگنی تھی۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ کووِڈ کی وبا کے دوران ورک فراہم ہوم یا بیرونِ ملک آن لائن کام کرنے کے رجحان کا عکس ہے تو ایسا نہیں ہے۔ اعداد و شمار کچھ اور بتاتے ہیں۔ امریکی حکومت کو اپنے بہت سے باشندوں کی طرف سے شہریت ترک کرنے کی درخواستوں کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے بیک لاگ بہت زیادہ ہے یعنی درخواستیں پروسیسنگ میں پھنسی ہوئی ہیں۔ بہت سے امریکی بیرونِ ملک ہونے والی اپنی آمدنی پر ٹیکس دینے سے بچنے کے لیے کسی اور ملک کا پاسپورٹ حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امیگریشن فرمز نے بتایا ہے کہ ۲۰۲۴ء میں ایسی درخواستوں کی تعداد میں ۴۸ فیصد تک اضافہ ہوا۔
۲۰۲۴ء کے بعد سے اب تک برطانوی شہریت کے حصول کے لیے درخواست دینے والے امریکیوں کی تعداد اِس وقت ریکارڈ سطح پر ہے۔ مارچ ۲۰۲۵ء تک ایسے امریکیوں کی تعداد ۶ ہزار تھی۔ ۲۰۲۴ء میں ۸۲۵,۳۱؍امریکیوں نے آئرلینڈ کا پاسپورٹ حاصل کیا جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد ۴۰ ہزار رہی۔
دی یو ایس سیسنس بیورو نے میکسیکن حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کی روشنی میں بتایا ہے کہ گزشتہ برس امریکا میں پیدا ہونے والے کم و بیش ۵۰ ہزار میکسیکن امریکیوں نے گزشتہ برس کام کاج کے سلسلے میں سرحد پار کی۔
امریکیوں کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ فرم فرمائوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کھاتے پیتے گھرانوں کے لیے LuxNomads نامی ادارہ کام کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ناقدین کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد فراہم کرنے کے لیے GTFO Tours میدان میں ہے۔ سیاہ فام امریکیوں کی مدد کے لیے Blaxit Gloabl کی خدمات حاضر ہیں اور امریکی خواتین کی خصوصی طور پر مدد کرنے کے لیے SheHitRefresh نامی ادارہ میدان میں اترا ہوا ہے۔ گزشتہ برس کے ایک گیلپ سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ۱۵ سے ۴۴ سال تک کی ۴۰ فیصد امریکی خواتین مستقل طور پر بیرونِ ملک سکونت پذیر ہونے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ اِس کے مقابلے میں ۲۰۲۳ء میں افریقا کے صحرائے صحارا کے زیریں ممالک سے امریکا منتقل ہونے کے خواہش مند افراد کا تناسب ۳۷ فیصد رہا۔
امریکیوں کو بیرونِ ملک آباد ہونے میں مدد دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ مہم جوئی کے شوق میں یا پھر اپنے ریٹائر ہونے والے والدین کے ساتھ بیرونِ ملک مستقل قیام کے خواہش مند افراد کے ساتھ ساتھ اب اچھے خاصے سیٹلڈ امریکی بھی ملک چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان میں ماہرینِ تعمیرات، مالیاتی مشیر، انجینیر سبھی شامل ہیں۔ امریکا میں معیاری زندگی بسر کرنے کی لاگت بہت بڑھ گئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیا بہت مہنگی ہیں، رہائش کے لیے بہت خرچ کرنا پڑتا ہے اور پھر صحتِ عامہ کا معاملہ بھی تشویش ناک ہوچلا ہے۔ امریکی ریاستوں میں اِس حوالے سے قوانین کا بہت فرق پایا جاتا ہے۔ بہت سے امریکی کم لاگت میں معیاری زندگی بسر کرنے کے لیے اندرونِ ملک بھی شفٹنگ کے عذاب سے دوچار ہیں۔ شادی کی ناکامی سے دوچار ادھیڑ عمر افراد نئی زندگی شروع کرنے میں اور معذوری کے باعث سماجی بہبود کے نام پر ملنے والے وظیفے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ری لوکیٹنگ کمپنیوں نے بتایا کہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تعداد میں امریکی باشندے بیرونِ ملک منتقلی کے وقت بیوی اور اولاد کو بھی ساتھ رکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ وہاں بچوں کے لیے بہتر تعلیم ممکن بناسکیں۔
ڈیلاس (امریکا) کی ایک انویسٹمنٹ فرم کے لیے کام کرنے والے اور برلن (جرمنی) میں بچوں کے لیے بیس بال لیگ چلانے والے ۴۱ سالہ کرس فورڈ کا کہنا ہے کہ بیشتر امریکی والدین کو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ اُن کے بچے کہیں اسکولز میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں یا پھر اُن میں بھی تشدد پسندی نہ در آئے۔ کرس فورڈ کہتے ہیں کہ امریکا میں تنخواہ تو زیادہ ہے مگر معیارِ زندگی بہت پست ہے۔ یورپ میں معاملہ اِس کے برعکس ہے۔
ایک طویل مدت تک دنیا بھر کے لوگوں کے لیے خود کو منزل قرار دینے والے ملک کو اِتنی بڑی تعداد میں اپنے باشندوں کے ترکِ وطن کے نتیجے میں بہت سے بنیادی سوالوں کا سامنا ہے۔ کیا اِسے امریکی معیشت کی کامیابی کی علامت قرار دیا جائے؟ آخرِکار امریکا کی بلند اجرتیں ہی تو طلبہ کو بیرونِ ملک پڑھنے اور بوڑھوں کو بیرونِ ملک نئی زندگی شروع کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ سلیکون ویلی ہائی ٹیک کی بدولت عالمی معیشت پر چھائی ہوئی ہے اور اِس کا فائدہ تمام ہی امریکیوں کو پہنچ رہا ہے۔
کیا یہ سمجھا جائے کہ امریکا کے اپنے باشندوں کو اب اپنے ملک کے مستقل اور طرزِ زندگی پر یقین اور بھروسا نہیں رہا؟ امریکا سے ترکِ وطن کرنے والے امریکی باشندوں کا کہنا ہے کہ معاشی معاملات الجھے ہوئے ہیں، طرزِ زندگی کی گراوٹ بھی مسائل پیدا کر رہی ہے اور امریکی حکومت جو کچھ کر رہی ہے اُس کے نتیجے میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ جرائم کا گراف بلند ہو رہا ہے۔ ڈپریشن کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ہر معاملے میں مہنگائی کے بڑھنے کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بار پھر اقتدار میں آنا بھی امریکیوں کو اپنے ہی ملک سے بددل کرنے کا ایک بڑا سبب ہے۔ معاملہ بہت سنگین ہے۔ ۲۰۰۸ء کی کساد بازاری کے دوران گیلپ سروے میں پتا چلا تھا کہ صرف ۱۰؍فیصد امریکی وطن چھوڑنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اب یہ تعداد ۵۰ فیصد ہے۔ امریکی حکومت دعوٰی کرتی رہی ہے کہ وہ سب سے الگ، بلند اور بہتر ہے مگر اب اِس بھرم کے غبارے سے بھی ہوا نکل چکی ہے۔ امریکیوں میں اپنے وطن کے لیے پائی جانے والی بددلی اور دیگر معاشرتی رجحانات پر نظر رکھنے والے ٹیمپل یونیورسٹی کے دو محققین میں سے ایک کیٹن جوئس کہتی ہیں کہ اب امریکیوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ بیرونِ ملک منتقل ہوکر اپنے وطن کے ماحول سے کہیں اچھے ماحول میں خود کو سموسکتے ہیں اور معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی لاگت بھی معقول ہے۔ اُنہیں یورپ کی سوشل ڈیموکریٹک پالیسیوں میں بہت زیادہ کشش محسوس ہو رہی ہے۔
مردم شماری کے محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ رجحان سے قبل امریکا سے جانے والوں کے مقابلے میں یہاں آنے والوں کی تعداد کے کم ہونے کا واقعہ ۱۹۳۵ء میں رونما ہوا تھا۔ تب امریکی سوویت یونین میں آباد ہونے کو ترجیح دے رہے تھے۔ تب ایک لاکھ سے زائد امریکیوں نے اشتراکی ریاست میں ٹریکٹر پلانٹس، اسٹیل ملز اور دیگر فیکٹریوں میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ سوویت یونین نے امریکیوں کا استقبال کیا۔ اِن میں سے بہت سے ماسکو کے گورکی پارک میں بیس بال کھیلتے رہے اور دوسرے بہت سے امریکیون کو عقوبتی مراکز میں بھی رکھا گیا۔ ۱۹۳۸ء تک اِتنی بڑی تعداد میں غیر ہنرمند امریکی سوویت یونین کا رخ کرنے لگے کہ وہاں کی حکومت نے امریکا سے آنے والوں سے واپسی کے سفر کا ثبوت مانگنا شروع کردیا۔
کسی زمانے میں جو کچھ سوویت یونین نے کیا تھا وہی اب یورپ کی سوشل ڈیموکریسیز کر رہی ہیں۔ امریکیوں کو مختلف طریقوں سے لبھایا جارہا ہے۔ یورپی ریاستیں اُن کے لیے ویزا کے قواعد نرم کر رہی ہیں، ٹیکس میں رعایت کا اعلان کر رہی ہیں۔ اپنے ملک میں غیر معمولی ٹیکسوں کا سامنا کرنے والے امریکیوں کو یہ سب بہت پُرکشش محسوس ہو رہی ہے اور یوں اُن کا ترکِ وطن پر مائل ہونا فطری امر ہے۔
تحقیقی ادارے لگزمبرگ انکم اسٹڈی نے بتایا کہ یورپ کو امریکیوں کی ضرورت ہے۔ امریکیوں کی اجرت بہت زیادہ ہے۔ اُن میں صلاحیت کی بھی کمی نہیں اور لاکھوں امریکی بہتر زندگی بسر کرنے کے لیے تڑپ بھی رہے ہیں۔ دوسری طرف یورپ کے بیشتر ممالک کو کام کرنے والوں کی ضرورت ہے اور اُن کی آمدنی کی بھی۔ یورپ کا پنشن سسٹم شدید مشکلات کا شکار ہے۔ سبکدوش ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ فرانس کا یہ حال ہے کہ عام معمر باشندہ محنت کش نوجوانوں سے کہیں زیادہ پنشن کی مد میں وصول کرتا ہے۔ بلند شرح والے ٹیکس اور کمتر شرحِ نمو کے باعث یورپ میں عمومی طور پر اجرتیں بہت کم ہیں۔ یورپ کے ریٹیلرز، ریسٹورنٹس اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کو غیر ملکی کرم فرمائوں کی اشد ضرورت ہے۔
یورپی ریاستیں صحتِ عامہ کے شعبے میں کمتر لاگت کی سہولتیں پیش کر رہی ہیں۔ امریکیوں کے لیے رہنا آسان بنایا جارہا ہے۔ زبان کا مسئلہ بھی نہیں رہا۔ امریکی وہاں قیام کے دوران اپنی زبان میں بات کرسکتے ہیں کیونکہ یورپی باشندے بھی اب اپنی زبان میں بات کرنے پر بضد نہیں ہیں۔ یورپی شہروں میں رہائش کم قیمت ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھپانے کی گنجائش بھی ہے۔ تعلیمی فیس بہت کم ہے۔ یورپ کی جامعات کا معیار امریکی جامعات سے بلند ہے۔
یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ امریکی باشندے یورپ کا رخ کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ امریکی صدر کی پالیسیوں نے یورپ کو بہت حد تک ناراض کیا ہے۔ بیشتر معاملات میں یورپ اپنی راہ پر گامزن ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ امریکی صدر کے انتہائی مالدار حامی امریکا اور یورپ کے تعلقات میں دراریں پیدا کر رہے ہیں۔ امریکا میں بہت سے رجعت پسند یہ کہتے ہیں کہ یورپ کی معیشت ساکت و جامد ہے کیونکہ ٹیکسوں کا بوجھ بہت زیادہ ہے اس لیے اُس کے مالدار ترین افراد خطے کو چھوڑ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس یورپ کے ایک کروڑ ۸۰ لاکھ ملینیئرز نے نقلِ مکانی کی ہے۔ اِن میں سے ۷۵۰۰ کو امریکا اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار ری لوکیٹنگ فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز نے فراہم کیے ہیں۔ امریکا کے ہائی ٹیک اور مالیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ جنوبی یورپ میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
امریکی ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک فِن ٹیک اسپیشلسٹ نے اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں سکونت اختیار کرلی ہے۔ اُس نے اپنی امریکی پبلک ہیلتھ پالیسی منسوخ کرکے ایک یورپی کمپنی کا ہیلتھ انشورنس لے لیا ہے۔ اِس کے نتیجے میں اُسے مالیاتی طور پر اِتنی راحت ملی ہے کہ اب اُس کا بیٹا میڈرڈ کے ایک بڑے اسکول میں پڑھ رہا ہے۔ اِس کی رہائش ایک ایسے علاقے میں ہے جسے مقامی باشندے امریکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر پلازا یو ایس اے کہنے لگے ہیں۔
ہسپانوی حکومت کی ترجمان ایلما سیز ڈیلگاڈو کہتی ہیں کہ بہت سے امریکی یہاں آتے ہیں اور اُن کی پریم کہانیاں مشہور ہو رہی ہیں۔ ایلما سیز ڈیلگاڈو کا آبائی قصبہ پیمپلونا ہے جو بل فائٹنگ کے لیے مشہور ہے۔ امریکی بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں۔ بل رننگ فیسٹیول کو معروف مصنف ارنسٹ ہیمنگوے نے بھی قلم بند کیا ہے۔
امریکی صدر نے اپنی ریلیوں میں ناروے کے باشندوں کو امریکا آنے کی تحریک دینے کی بات کئی بار کہی ہے مگر ایک عشرے کے دوران امریکا آنے والے نارویجین باشندوں کی تعداد میں مستقل کمی واقع ہوتی رہی ہے۔ ۲۰۲۴ء میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا گیا۔ اب امریکا کی پیدائش والے افراد کی ناروے میں تعداد ناروے کی پیدائش والے افراد کی امریکا میں تعداد کے مقابلے میں کم ہے۔
اور ایسا نہیں ہے کہ صرف وہی امریکی ترکِ وطن کر رہے ہیں جو معیارِ زندگی برقرار رکھنے کی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہیں۔ ایک اور مسئلہ بھی ہے کہ گزشتہ برس یورو کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں ۱۲؍فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ اِس کے نتیجے میں یورو زون کے متعدد ممالک کا رخ کرنے والے امریکیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ فرانس، اٹلی، اسپین اور جرمنی کے ساتھ ساتھ سلووینیا اور پرتگال جیسے چھوٹے ممالک میں آباد ہونے کی خواہش رکھنے والے امریکیوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔
ایڈوب اور پیرامائونٹ جیسے بڑے اداروں کے لیے کام کرنے والا ۵۶ سالہ امریکی کریئٹیو پروڈیوسر مائیکل لی بلانک اب پرتگال کے دارالحکومت لزبن سے فری لانسنگ کر رہا ہے۔ اُس کا کہنا ہے کہ پرتگال میں رہنے کے حوالے سے اُسے صرف زبان کی الجھن کا سامنا ہے۔ وہ زبان سیکھ تو رہا ہے تاہم یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔
مائیکل لی بلانک نے لاس اینجلس کے ایک اسکول میں، جہاں اُس کا بیٹا پڑھتا تھا، اندھا دھند فائرنگ کے دوسرے سانحے کے بعد اپنے دونوں بچوں کے ساتھ پرتگال منتقل ہونے کو ترجیح دی۔ اُس کی بیوی ۴۲ سالہ اسٹیفنی امریکا میں اکیڈمک ایڈوائزر ہوا کرتی تھی۔ اُس نے پرتگال منتقل ہونے والے امریکیوں کو رہائشی سہولتیں فراہم کرنے اور املاک فروخت کرنے والے ایجنٹ کی حیثیت سے کام تلاش کرلیا ہے۔ پرتگال میں مکانات اور دیگر املاک خریدنے والے غیر ملکیوں میں ۵۸ فیصد امریکی ہیں۔ پرتگال کے دارالحکومت اور دیگر شہروں میں بہت سے علاقوں کے مکانات کی قیمتیں پانچ سال میں دُگنی ہوگئی ہیں۔
پرتگال اور اسپین کے پرائم ٹائم شوز میں سیاست دان اب اِس نکتے پر بحث میں مصروف ہیں کہ غیر ملکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر مقامی باشندوں کی حق تلفی روکنے کے حوالے سے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ہسپانوی شہر بارسلونا میں مقامی باشندے غیر ملکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پریشان ہیں۔ وہ ریموٹ ورکرز کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دیوار پر ڈیجیٹل نومیڈز واپس جائو جیسے نعرے لکھنے کی ابتدا ہوچکی ہے۔
بارسلونا کی ایک بلند و بالا عمارت میں لیا ماشاکے امریکیوں کو اِس شہر میں منتقل ہونے میں معاونت کرنے والی فرم چلارہی ہے۔ وہ ویزا کے حصول سے ڈاکٹرز کی سہولتیں فراہم کرنے تک سارے ہی کام کر رہی ہے۔ لیا ماشاکے کہتی ہے کہ بیشتر امریکی یہ کہتے ہیں آتے ہیں کہ اُن کا قیام صرف ایک سال کے لیے مگر اس نے اب تک کسی بھی کلائنٹ کو واپس جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔
لیا ماشاکے کے شوہر ایکیڈا نے ۲۰۲۴ء میں بارسلونا ہائی اسکول کھولا (جو امریکی اسکول ہے) اور یہ سوچا کہ اِس کے ذریعے وہ اپنے بیٹے کو امریکا منتقل کرنے میں کامیاب رہے گا۔ اُس کے بیٹے نے میڈرڈ کی آئی ای یونیورسٹی میں داخلہ لینا زیادہ مناسب سمجھا جس میں اب اُتنے امریکی طلبہ ہیں جتنے ہسپانوی ہیں۔ اِسی اسکول میں امریکی طلبہ کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور وہ وہیں ہاسٹل میں سکونت بھی اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس وہاں سکونت پذیر امریکی طلبہ ۳۰۰ تھے، اب ۶۰۰ ہوچکے ہیں۔ اسکول کی ڈائریکٹر ایمینڈا سلیفو کا کہنا ہے کہ نیو یارک اسٹیٹ اور کیلی فورنیا سے بہت سی امریکی خاندان منتقل ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ الاسکا، اوٹاہ، ٹیکساس، کولوراڈو اور کینٹکی سے بھی خاندان آرہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جو کچھ نمودار ہو رہا ہے اُس نے بھی امریکیوں کو ترکِ وطن کی تحریک دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے انفلوئنسرز بھی اِس حوالے سے مصروفِ کار ہیں۔ سابق پروفیشنل ڈانسر کیسی روز نے اٹلی میں نئی زندگی شروع کی ہے۔ اُس نے اپنے تجربے، مشاہدے اور یادوں پر مشتمل کتاب ’’یو ڈیزرو گڈ جیلیٹو‘‘ انسٹا گرام پر شیئر کی ہے۔ اُس کے فالوئرز کی تعداد ۳۰ لاکھ سے زائد ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ امریکا کے سیاہ فام باشندوں کے لیے کینیا اور دوسرے بہت سے ملکوں میں انتہائی پُرکشش مواقع موجود ہیں۔
امریکا میں مقیم صاحبانِ علم میں جو لوگ بیرونِ ملک ملازمت تلاش کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اُن کی تعداد میں ایک سال کے دوران کم و بیش ۲۰ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات عالمگیر سطح کا تعلیمی ڈیٹا فراہم کرنے والے برطانوی ادارے ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے بتائی ہے۔ امریکا کے جو اکیڈمکس بیرونِ ملک کریئر اور پرسکون زندگی تلاش کر رہے ہیں اُن کی غالب اکثریت یورپ کا رخ کر رہی ہے۔ یورپی یونین نے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے پروفیشنلز کو اپنے ہاں آنے کی تحریک دینے کے لیے ۵۰۰ یوروز کی فنڈنگ رکھی ہے۔ بیرونِ ملک پڑھانے والے امریکی پروفیسرز اور محققین نے امریکا میں دائیں بازو کے عناصر کو اِس صورتِ حال کا ذمہ دار قرار دیا ہے کیونکہ تعلیمی تحقیق کے لیے فنڈنگ میں کٹوتی کردی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بائیں بازو کے لوگوں کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ہے کہ وہ جامعات میں طلبہ پر کچھ زیادہ ہی نظر رکھ رہے ہیں۔
امریکا آنے والے غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں گزشتہ برس ۱۷؍فیصد کمی واقع ہوئی اور آنے والے برسوں میں مزید کمی کا امکان ہے۔ یورپی جامعات سے ڈگری پانے کی خواہش رکھنے والے امریکیوں کی تعداد میں ۲۰۱۱ء سے اب تک ۱۰۰؍فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ گزشتہ برس یہ اضافہ ۱۴؍فیصد رہا۔ یہ بات برطانوی جامعات میں داخلوں سے متعلق ادارے یو سی اے ایس نے بتائی ہے۔ برطانوی شہزادے ولیم کی مادرِعلمی اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف سینٹ اینڈریوز میں امریکی طلبہ کی تعداد اِتنی بڑھ چکی ہے کہ اب اُسے منی نینٹکیٹ کی عرفیت دی گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اسپین، اسکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں پڑھنے والے ۱۲؍امریکی طلبہ سے بات کی تو اُن میں سے صرف ایک نے امریکا واپس جانے کی خواہش ظاہر کی۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سانتا مونیکا سے تعلق رکھنے والے سینڈٹ اینڈریو یونیورسٹی کے طالب علم بروڈی ولکز کا کہنا ہے کہ اگر لندن کے کسی ریسٹورنٹ میں بھی کام کرنا پڑے تو کچھ ہرج نہیں کیونکہ ویک اینڈ پر اوسلو، برلن یا کوپن ہیگن جانے کا آپشن تو ہوگا۔ میں امریکا میں کسی کارپوریٹ جاب پر ایسی جاب کو ترجیح دوں گا کیونکہ مہنگی رہائش کا دردِ سر نہ ہوگا اور دوسرے بہت سے جھنجھٹ بھی نہ ہوں گے۔
امریکی ریاست نیو یارک کے قصبے بفیلو سے تعلق رکھنے والی کیلی میکوئے سالانہ ۸۰ ہزار ڈالر کی تنخواہ سے گزارا کرنے کی جدوجہد کر رہی تھی۔ وہ انشورنس اینالسٹ تھی۔ ۲۰۲۴ء میں وہ البانیا منتقل ہوئی۔ اب وہ رومانیہ میں ہے۔ البانیا میں قیام کے دوران ایک بار اُس کا ہاتھ ٹوٹا تو وہ اسپتال پہنچی۔ وہاں صحتِ عامہ کی سہولتیں مفت ہیں۔ معیار بھی بہت بلند ہے۔ یہ سب کچھ کیلی میکوئے کے لیے بہت حیرت انگیز تھا۔
۴۵ سالہ کیلی اب رومانیہ میں وارد ہونے والے امریکیوں کے لیے مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ بہت سے امریکی رومانیہ پہنچ کر سوشل سکیورٹی کے تحت دی جانے والی رقوم کی مدد سے جی رہے ہیں۔ امریکا میں اُن کے لیے ایسا ممکن نہ تھا۔ کیلی کہتی ہے کہ البانیا میں محض ایک ہزار ڈالر ماہانہ پر بھی ڈھنگ سے گزارا ممکن ہے۔
(ترجمہ: ابو صباحت)
“Americans are leaving the U.S. in record numbers.” (“wsj.com”. Feb25, 2026)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں