ایک مسجد کی کہانی

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو غیر معمولی ترقی اور خوش حالی سے ہم کنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ مسلمانوں نے ملک کے طول و عرض میں اپنی حاکمیت کا سکہ بٹھانے کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ فطری علوم و فنون میں بھی ایسا کچھ کیا جاتا رہے جس سے مسلمانوں کی موجودگی اُن کے نہ ہونے کی صورت میں بھی برقرار رہے۔
مسلمانوں کو ۱۴۹۲ میں مسیحی افواج کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شکست فیصلہ کن نوعیت کی تھی۔ ہسپانیہ سے مسلمانوں کو مکمل طور پر نکالنے اور غیر موثر کرنے میں مسیحیوں کو ایک صدی کا وقت لگا۔ اِس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ مسلمان ہر شعبے میں چھائے ہوئے تھے۔ صنعت و حرفت میں بھی اور درس و تدریس میں بھی۔ ہسپانوی معیشت میں مسلمانوں کا کردار اِس قدر بنیادی اور کلیدی تھا کہ اگر تمام ہی مسلمانوں کو فوری طور پر ہسپانوی سرزمین سے بے دخل کردیا جاتا تو شدید معاشی اور معاشرتی انتشار پھیل جاتا۔ مسلمانوں نے ہسپانیہ میں (جسے اندلس کہا جاتا تھا) فنِ تعمیر کے حوالے سے بھی بہت کام کیا۔ مسلمانوں کی بنائی ہوئی مساجد، قلعے، محل اور دیگر عمارتیں آج بھی موجود ہیں اور عہدِ گزشتہ کے شِکوہ کی داستان نہایت پُروقار انداز سے سناتی ہیں۔
جنوبی اسپین میں الموناسٹر لا ریئل مسجد ایک ہزار سال پرانی ہے۔ یہ مسجد یورپ کے دیہی علاقوں کی مساجد میں بہت نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ مسجد اِس خطے کے لوگوں کو مسلم ماضی کی یاد دلاتی رہتی ہے۔
مسلمانوں نے اندلس یا اندلسیا کہلانے والے علاقے (موجودہ اسپین) پر ۷۱۱ سے ۱۴۹۲ عیسوی تک حکومت کی تھی۔ مسلم اقتدار کے عہدِ زریں میں تعمیر کی جانے والی الموناسٹر لا ریئل مسجد کم و بیش مکمل اصل حالت میں برقرار ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد عبدالرحمٰن سوم کے عہد میں تعمیر کی گئی تھی۔ وہ اندلس کے غیر معمولی اور انتہائی با اثر حکمرانوں میں سے تھا۔ آج اِس مسجد کو اسپین میں دیہی علاقوں کی ایسی واحد مسجد تصور کیا جاتا ہے جس نے ہزار سال کی مدت کے دوران کئی ادوار دیکھے ہیں اور اُنہیں جھیلا بھی ہے۔ اِس کا اصل ڈیزائن کم و بیش پورا کا پورا برقرار ہے۔
تیرہوں صدی عیسوی میں علاقے پر مسیحیوں کے قبضے سے قبل اِس مسجد نے چار صدیوں تک مسلمانوں کے لیے ایک بڑے مذہبی و معاشرتی مرکز کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس عمارت کو کبھی کبھی نقصان بھی پہنچا اور پھر اِسے چرچ میں بھی تبدیل کیا گیا۔ پھر بھی یہ مسجد اپنی اصل حیثیت بحال کرنے اور برقرار رکھنے میں بہت حد تک کامیاب رہی۔ آج یہ مسجد ایک بڑی ثقافتی علامت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اِس علاقے میں اِسے تاریخی ورثے کا ایک اہم جُز قرار دیا جاتا ہے۔
الموناسٹر لا ریئل نامی قصبے کے بالائی حصے میں واقع یہ مسجد ایک بڑے قدرتی پارک کا دل کش نظارہ پیش کرتی ہے۔ یہ قصبہ ہیوئیلا صوبے کا حصہ ہے۔ قصبے کی آبادی ایک ہزار تک ہے۔ مسجد کی سیر کے لیے آنے والوں کو یہ مسجد دل کش قدرتی نظارے پیش کرتی ہے۔ مسجد کی عمارت اِتنی دل کش ہے کہ اِس میں اسپین اور اُس کے باہر سے آنے والے مسلمانوں کے علاوہ تاریخ دان بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔
کم و بیش ۳۸ سال قبل اسلام کو ’’دریافت‘‘ کرنے والے رافیل ہرنانڈز مانچا ریٹائرڈ اسکول ٹیچر ہیں۔ وہ اِس مسجد میں کچھ وقت گزارنے کے لیے یہاں آتے رہتے ہیں۔ یہاں باجماعت نماز نہیں ہوتی تاہم لوگ انفرادی طور پر نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ ترکیہ کی انادولو ایجنسی سے گفتگو میں رافیل مانچا کہتے ہیں کہ اس مسجد کی عمارت میں عجیب کشش ہے۔ یہاں آنے والے اور کچھ وقت گزارنے والے ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے وہ وقت کے دریا میں کشتی رانی کر رہے ہیں۔ بہت سوں کا کہنا ہے کہ یہاں آکر اُنہیں لگتا ہے کہ وقت ٹھہر سا گیا ہے یا پھر اُس کی نوعیت بدل گئی ہے۔
مسجد کے مرکزی دروازے کے نزدیک ہی ستون پر عربی میں لاالٰہ الاللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے۔ یہ الفاظ صدیوں سال سے ہر طرح کے حالات کا سامنا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے ہیں یعنی برقرار رہے ہیں۔ آئبیریا میں مسلم اقتدار کے خاتمے کے بعد کیتھولک بادشاہوں نے اِس مسجد کو چرچ میں تبدیل کیا۔ چند ایک تعمیراتی تبدیلیاں بھی کی گئی تاہم بعد میں یہ تبدیلیاں ختم کردی گئیں اور مسجد اپنی اصل حالت میں بحال ہوگئی۔ اِس مسجد کی تعمیر میں رومن سلطنت کے زمانے کا بہت سا تعمیراتی سامان استعمال کیا گیا۔ علاوہ ازیں بنو امیہ کی خصوصیت سمجھی جانے والی عرب طرزِ تعمیر بھی یہاں بروئے کار لایا ہوا دکھائی دیتاہے۔ اُس عہد کے تعمیر کردہ بعض حصے بعد میں تبدیلی کے مراحل سے گزرے۔
عربوں کے دیرپا ثقافتی اثرات
رافیل ہرنانڈز کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے طویل اقتدار نے ہسپانیہ پر غیر معمولی نوعیت کے ثقافتی اثرات مرتب کیے۔ آج بھی ہسپانوی زبان کی لغت میں کم و بیش ۱۰؍فیصد الفاظ کی اصل عربی ہے۔
سیوِل، کارڈوبا، گرینیڈا اور دوسرے بہت سے شہروں کے نام دراصل عربی تھے مگر بعد میں بگڑتے بگڑتے موجودہ منزل تک پہنچے۔ مثلاً کارڈوبا دراصل قرطبہ تھا۔ گرینیڈا دراصل غرناطہ تھا۔ آج بھی ہسپانوی باشندوں کے خاندانی نام عربی زبان اور عربوں کی ثقافت کے اثرات لیے ہوئے ہیں۔ مثلاً ہسپانیہ سے تعلق رکھنے والے ٹینس کے نمبر ون کھلاڑی کارلوز الکارز کے نام میں دوسرے لفظ کا عربی میں مطلب ہے چیری۔
ہرنانڈز کا کہنا ہے کہ ہسپانوی باشندے عمومی سطح پر اپنے ملک کے مسلم ماضی کے حوالے سے دوستانہ جذبات رکھتے ہیں۔ عربی اصل والے نام آج کل اسپین میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ محض فیشن کے طور پر بھی یہ نام رکھ رہے ہیں، خصوصاً نوجوان۔
قصبے کا ثقافتی مرکز
الموناسٹر لا ریئل کے باشندوں کے لیے یہ مسجد مل بیٹھنے کی معقول جگہ ہے۔ اِسے قصبے کے ثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ ٹائون کونسل ممبر ماریا ہوزے مارٹن انارٹے کا کہنا ہے کہ یہ مسجد ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ یہ ہمارے لیے اُتنی ہی اہم ہے جتنا ہمارا اپنا گھر۔ ماریا ہوزے سیاحت اور ثقافت سے متعلق امور کی نگراں ہیں۔ ہر سال کم و بیش ایک لاکھ افراد اِس مسجد کو دیکھنے آتے ہیں۔ مسلم سیاح یہاں نماز بھی پڑھتے ہیں۔ نماز پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ نماز باجماعت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ مسجد ہمیشہ کُھلی رہتی ہے اور اِسے قصبے کے کسی بھی باشندے نے کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ ماریا کہنا ہے کہ قصبے کے لوگ اِسے ماضی کا ایک حسین تحفہ قرار دیتے ہیں اور وہ اِسے سلامت رکھنے کو اپنی اہم ذمہ داری گردانتے ہیں۔گزشتہ پچیس برس سے اِس مسجد میں ہر سال اسلامک کلچر کانفرنس بھی منعقد ہوتی ہے۔ اکتوبر میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں گرنینڈا، سیوِل، میڈرڈ اور دیگر ہسپانوی شہروں سے مسلم اسکالرز آکر یہاں لیکچرز دیتے ہیں اور سیمنار منعقد کرتے ہیں۔ کئی ثقافتی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔ نویں صدی عیسوی کی ایک خوبصورت عمارت کو سلامت رکھنے میں اپنا کردار ادا کرنے پر قصبے کے لوگ غیرمعمولی فخر محسوس کرتے ہیں۔ ماریا کہتی ہے کہ یہ عمارت اِتنی حسین ہے کہ باہر سے اِس کی مجموعی خوبصورتی کا کچھ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ اور ہم جیسے ہی اِس میں داخل ہوتے ہیں یہ ہمیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Spain’s 1,000-year-old mosque reflects Andalusia’s Islamic heritage”. (“dailysabah.com”. March 6, 2026)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں

ریاست ہائے متحدہ امریکا اپنے ۲۵۰ویں سال میں ہے۔ جو امریکا کبھی تارکینِ وطن کی سرزمین ہوا کرتا تھا وہ اب ملک چھوڑنے والوں کی سرزمین میں تبدیل ہوتا جارہا ہے۔گزشتہ برس امریکا نے وہ