بشارالاسد کے بعد کا شام بہت بدلا ہوا ہے۔ اسرائیل کو اپنے مفادات کی فکر لاحق ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طور شام کو اب بھی غیرمستحکم رکھا جائے تاکہ وہاں قائم
امریکی ایوانِ صدر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد نے عجیب ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے باعث ایک طرف تو تارکینِ وطن پریشان ہیں کہ امریکا
اسرائیل نشانہ بنائے جانے والے غزہ کے بعض علاقوں میں دوبارہ حملے کرنے سے پہلے مختصر وقفہ لے رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی میں ۱۰؍گھنٹے
ایک زمانہ تھا کہ لاطینی امریکا جوہری تخفیفِ اسلحہ کے معاملات میں قائدانہ کردار کا حامل تھا۔ اب اِس خطے کو ایک اہم فیصلے کا سامنا ہے۔ یا تو وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری یا
بھارت میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کا کوئی بھی موقع اب ضائع نہیں کیا جارہا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ بھارت کے ہر مسلمان کو متنازع بنادیا جائے اور ملک میں شدید
ویسے تو خواتین کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی عمر چھپاتی ہیں، مگر ۲۰۱۴ء کے بعد سے جب سے ہندوستان میں وزیراعظم نریندر مودی برسراقتدار آئے ہیں، اکثر وزیروں اور حکمران بھارتیہ جنتا
اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر غزہ میں بعد از جنگ بفرزون کے قیام کے حوالے سے اپنا منصوبہ کُھل کر بیان کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ کوئی نیا تصور نہیں۔ اسرائیل ایک زمانے سے
پانچ سال قبل جب کووِڈ کی وبا نے سَر اٹھایا تھا تب دنیا بھر میں ایک زبردست تبدیلی رونما ہوئی تھی۔ ایک زمانے سے سوچا جارہا تھا کہ ٹیلی کمیوٹنگ کو فروغ دیا جائے یعنی
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان نے فطری علوم و فنون میں عقل کو دنگ کر دینے والی پیش رفت تو ممکن بنا دی ہے مگر آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں انسان