تخفیفِ اسلحہ۔ لاطینی امریکا خاموش رہے گا؟

ایک زمانہ تھا کہ لاطینی امریکا جوہری تخفیفِ اسلحہ کے معاملات میں قائدانہ کردار کا حامل تھا۔ اب اِس خطے کو ایک اہم فیصلے کا سامنا ہے۔ یا تو وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری یا اختیار کو دوبارہ حاصل کرے یا پھر یکسر غیرمتعلق ہوکر رہ جائے۔

لاطینی امریکا نے ۱۹۶۷ء میں تاریخ رقم کی تھی۔ کیریبین کے ساتھ، ٹلیٹیلیکو (Tlatelolco) معاہدے کے تحت، لاطینی امریکا جوہری ہتھیاروں سے پاک قرار پانے والا پہلا خطہ تھا۔ جوہری ہتھیاروں سے پوری دنیا کو تباہی کا خطرہ لاحق تھا۔ تب لاطینی امریکا نے خود کو اخلاقی اعتبار سے غیرمعمولی حد تک بلند کرنے کے لیے پوری دنیا کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت اختیار کی تھی۔

کئی عشروں تک لاطینی امریکا جوہری تخفیفِ اسلحہ سے متعلق امور میں غیرمعمولی حد تک شریک رہا۔ افسوس کہ یہ سب کچھ اب ماضی کے قصے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس وقت لاطینی امریکا دوراہے پر کھڑا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ لاطینی امریکا کیا کرنا پسند کرے گا، کس طرف جانا پسند کرے گا اور یہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے حوالے سے بالکل خاموش رہنے کا خطرہ مول لینا پسند کرے گا؟

جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ

کئی خطوں کے حالات نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ دوبارہ پیدا کردیا ہے۔ یوکرین کی جنگ، امریکا اور ایران کے تعلقات میں پیدا ہونے والی غیرمعمولی کشیدگی اور جوہری اسلحہ خانے کی جِدّت اور تنوّع نے معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث جوہری اسلحہ خانے کے تنوع میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی طرف لے جانے والی ڈاکٹرائن بڑھتی جارہی ہیں۔ آج دنیا جوہری ہتھیاروں کے ہاتھوں تباہی سے جس قدر قریب ہے، اُتنی تو سرد جنگ کے زمانے میں بھی نہیں تھی۔ ایک تلخ تر حقیقت یہ بھی ہے کہ جوہری معاملات میں لاطینی امریکا کی آواز غائب سی ہوکر رہ گئی ہے۔

لاطینی امریکا اور کیریبین کے خطے کی ۱۳؍ریاستیںدی ٹریٹی آن دی پروہی بیشن آف نیوکلیئر ویپنز (ٹی پی این ڈبلیو) پر دستخط کرچکی ہیں، تاہم خطے کی دیگر بڑی ریاستیں اِس معاہدے کے فریم ورک سے باہر ہیں۔ برازیل بڑے پیمانے پر یورینیم کو افزودہ کرنے میں مصروف ہے۔ ارجنٹائن کے پاس بھی یورینیم کے معقول ذخائر موجود ہیں جبکہ کولمبیا نے بھی جوہری ہتھیاروں سے دور رہنے کے معاہدے پر دستخط کرنے میں کم ہی دلچسپی دکھائی ہے۔ اِس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر قیادت کا فقدان پیدا ہو رہا ہے اور لاطینی امریکا جوہری تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے جو کچھ بھی بڑے فخر سے کیا کرتا تھا، وہ معاملہ اب ختم سا ہوکر رہ گیا ہے۔

لاطینی امریکا اور کیریبین کا خطہ کبھی مشترکہ حیثیت میں جوہری معاملات کے حوالے سے قائدانہ کردار کے حامل تھے۔ ٹریٹی آف ٹلیٹیلیکو نے افریقا، جنوب مشرقی ایشیا اور وسط ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطے بنانے کی راہ ہموار کی تھی۔ جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے لاطینی امریکا نے دوسرے بہت سے معاہدوں کی بھی راہ ہموار کی تھی۔ اب اِس معاملے میں خطے کی توانائی کا گراف خاصا نیچے آچکا ہے۔

لاطینی امریکا نے جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے جو کچھ بھی کیا تھا، اُسے سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ فوج اور صنعتی اداروں کے اشتراکِ عمل (بالخصوص بیرونی اداروں یعنی نجی اداروں) کے نتیجے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے لاطینی امریکا کی کمٹمنٹ اب کمزور پڑتی جارہی ہے۔

خاموش رضامندی و تابعداری

لاطینی امریکا کی بیشتر ریاستوں کے قائدین کو اندازہ ہوچکا ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے وہ جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں، اُس کے نتیجے میں بڑی طاقتوں سے اُن کی دوری بڑھی ہے۔ علاقائی ممالک کو نیٹو اتحادیوں کی ناراضی، سیاسی و جغرافیائی سطح پر غیریقینی صورتحال کے اُبھرنے اور سرکاری سطح پر بحث و تمحیص کے فقدان سے ڈر لگتا ہے اور اِس ڈر ہی کے نتیجے میں جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششیں بہت حد تک دم توڑ چکی ہیں۔

برازیل کا استدلال ہے کہ ٹی پی این ڈبلیو دراصل اُس کے سویلین جوہری پروگرام سے متصادم ہے۔ یہ دعویٰ یا استدلال بہت حد تک غیرمتعلق ہے کیونکہ جوہری ٹیکنالوجی جوہری ہتھیاروںکی ٹیکنالوجی سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتی۔

کولمبیا اِس وقت زیادہ توجہ اندرونی سلامتی کے فروغ اور جرائم کے خاتمے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اِس کے نتیجے میں عالمگیر سطح پر جوہری ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے سے متعلق مباحث دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب کچھ کولمبیا کی عدم دلچسپی ظاہر کرتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خطے کے موجودہ سیاسی ایجنڈے پر جوہری عدم پھیلاؤ کو رکھنا بہت بڑا چیلنج ہے۔

جوہری ریاستوں کا دباؤ

لاطینی امریکا کی طرف سے جوہری عدم پھیلاؤ کی جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہیں، اُنہیں ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں سے لیس قوتیں اسلحے کی فروخت کے معاہدوں، دفاعی معاہدوں اور بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کے معاملات میں بھرپور دباؤ بروئے کار لارہی ہیں۔ مثلاً امریکا اور چین کے درمیان اہم بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے غیرمعمولی مسابقت چل رہی ہے۔ اِس میں بندرگاہیں اور سیٹیلائٹ مانیٹرنگ اسٹیشنز بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں ٹیکنالوجی کا دُہرا استعمال بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتیں زیادہ سے زیادہ ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے اپنی طاقت میں ایسا اضافہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں جو طویل المیعاد بنیاد پر اُن کی مشکلات دور کردے۔ بنیادی ڈھانچے کی تجدید یا تعمیرِنو سے متعلق بین الریاستی رفاقتیں کُھل کر تو عسکری نوعیت کی نہیں ہوتیں تاہم یہ ڈھکے چھپے انداز سے ایسا حقیقی دباؤ مرتب کرتی ہیں جو اسٹریٹجک سطح پر خاصا ابہام پیدا کرتا ہے۔ یوں جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیفِ اسلحہ کی کوششیں سبوتاژ ہوتی ہیں۔

تحرک کا اہم ذریعہ

ٹی پی این ڈبلیو محض علامتی نوعیت کا معاہدہ نہیں۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت جوہری ہتھیاروں کے ناجائز ہونے کے کیس کو مضبوط بناتا ہے، جوہری ہتھیاروں کی زد میں آنے والوں کے حقوق اور اُن کی معاونت کو یقینی بناتا ہے اور تخفیفِ اسلحہ سے متعلق عقلی جواز کو تقویت بہم پہنچاتا ہے۔

یہ نکتہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ یہ پہلا معاہدہ ہے جس نے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے اقدامات کو باضابطہ شکل دی۔ یہ حقیقت اِس لیے بھی اہم ہے کہ لاطینی امریکا میں حیاتیاتی تنوع غیرمعمولی ہے جس کے تحفظ کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

جوہری تجربوں کے نتیجے میں بہت سے خطوں کی مقامی آبادیوں کو غیرمعمولی نوعیت کے خطرات کا سامنا رہا ہے۔ تابکاری کے نتیجے میں حیاتیاتی تنوع بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ لاطینی امریکا کی بیشتر ریاستیں جوہری تجربوں سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتیں مگر اِنہوں نے جوہری عدم پھیلاؤ کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو اس بات کا شعور بخشا ہے کہ محفوظ ماحول اور محفوظ زندگی کے حق کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آواز بلند کریں۔

ترقی کے عمل میں معاونت

ٹی پی این ڈبلیو پر دستخط کرنے والے ممالک میں تعلیم و صحتِ عامہ، بنیادی ڈھانچے اور ماحول کے حوالے سے غیرمعمولی اشتراکِ عمل کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ یہ تمام معاملات کسی بھی قوم کی بھرپور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ سی لگی ہے۔ دفاعی بجٹ بڑھتا جارہا ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے مسائل حل نہیں ہوپاتے اور وہ بے چارے اپنے مسائل کا رونا روتے ہی رہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ تیز تر ہوتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں سماجی بہبود کے منصوبے کھٹائی میں پڑگئے ہیں۔

دی انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالش نیوکلیئر ویپنز (آئی سی اے این) کی ۲۰۲۳ء کی رپورٹ میں درج ہے کہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستوں نے صرف ایک سال میں ان ہتھیاروں پر ۹۱؍ارب ڈالر خرچ کیے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ایک عشرے کے دوران دفاعی یا فوجی بجٹ میں تواتر سے اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور اِس کا نتیجہ؟ سماجی بہبود کے منصوبے بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں۔ اسکولوں کے لیے فنڈ ہیں نہ سڑکوں کے لیے۔ وبائیں پھیلتی رہتی ہیں مگر ویکسینز کے لیے حکومتوں کے پاس کچھ بھی نہیں۔

لاطینی امریکا تاریخی طور پر معاشی ناہمواری کا شکار رہا ہے۔ اس ناہمواری کے خلاف اُس کی جدوجہد صدیوں پر محیط ہے۔ اندرونی لڑائیاں بھی بہت رہی ہیں۔ لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک کو خانہ جنگیوں کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا رہا ہے۔ ایسے میں خطے کو اسلحے سے پاک رکھنا تمام ممالک کے لیے بہترین ترقیاتی حکمتِ عملی ہے۔

سول سوسائٹی کا کردار

لاطینی امریکا میں سول سوسائٹی بہت بڑی قوت ہے تاہم خطے کو اسلحے سے پاک رکھنے کی تحریک کے حوالے سے اِس سے کم ہی استفادہ کیا گیا ہے۔ صنفی مساوات، نئی نسل کی بہبود، مقامی آبادیوں کے حقوق کی پاسداری اور مذہبی روایات کی عَلم بردار تنظیموں پر مشتمل سول سوسائٹی بہت مضبوط رہی ہے۔ اس حوالے سے قائم تھنک ٹینکس بھی غیرمعمولی بلکہ، قابلِ رشک حد تک اعتبار کے حامل ہیں۔ یہ تھنک ٹینک معاملات کو اشرافیہ کے ڈرائنگ رومز سے گراس روٹ لیول تک لے جانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

سماجی انصاف یقینی بنانے کی ایک اہم کلید کے طور پر جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیفِ اسلحہ کی تحریک کو نئے سِرے سے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ جوہری ہتھیاروں کا مطلب ہے چند ہاتھوں میں انتہائی تباہ کن قوت کا جمع ہو جانا اور اِس کی بہت بھاری قیمت چُکانا پڑتی ہے، کرۂ ارض کے جنوبی نصف کو۔ جوہری ہتھیار جن کے ہاتھ میں ہیں، وہ اپنی ترجیحات کے مطابق ایسی حکمت ہائے عملی ترتیب دیتے ہیں جن کے نتیجے میں ماحول کی تباہی کی راہ ہموار ہوتی ہے، معیشت سے زیادہ سے زیادہ کشید کرنے کی ذہنیت پنپتی ہے۔ یہ لوگ عالمگیر حفظِ مراتب کو پروان چڑھاتے ہیں۔ لاطینی امریکا کے عوام کی اکثریت اِس پورے استحصالی نظام کو بہت اچھی طرح جانتی ہے اور اِسے ختم کرنے کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔

دی انٹرنیشنل کیمپین ٹو ابالش نیوکلیئر ویپنز جیسی تنظیمیں علاقائی سطح پر عوام میں اپنے حقوق کے لیے شعور پیدا کرکے حکومتوں پر دباؤ ڈالنے کی تحریک کا آغاز کرچکی ہیں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ایک وسیع تر اتحاد تشکیل دیا جائے۔ فنکار، صحافی اور معلمین لازمی طور پر خود کو سماجی معاملات کا چیمپیئن  ثابت کریں اور اِس تصور کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کہ جوہری ہتھیاروں ہی سے سلامتی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔

خطرات اور مواقع

قدرت کے نظام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر بحران کی کوکھ سے کچھ مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اِس وقت عالم گیر سطح پر سلامتی کے حوالے سے مسائل پائے جاتے ہیں اور اِن مسائل کے بطن سے بہت سے مواقع بھی ہویدا ہوتے ہیں۔ عالمی اداروں پر لوگوں کا اعتماد گھٹتا جارہا ہے اور سلامتی سے متعلق روایتی نظریات کی ناکامی نے متبادل آوازوں کے ابھرنے کی گنجائش پیدا کردی ہے۔ لاطینی امریکا پوری دنیا کے لیے مثال بن سکتا ہے۔ وہ صرف امن کی بات کر رہا ہے۔ معاشی و معاشرتی استحکام اور اشتراکِ عمل کے ذریعے ممکن بنائی جانے والی سلامتی اُس کی نمایاں ترین ترجیحات ہیں۔ دی ٹریٹی آف ٹلیٹیلیکو اس حوالے سے منفرد نوعیت کی قانونی اور اخلاقی قیادت کے قیام اور اُس کے فروغ کا بھرپور موقع فراہم کرتی ہے۔ اِس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ علاقائی سطح پر پائے جانے والے عزائم اور ولولے عالمگیر سطح کے معاملات کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ دی ٹریٹی آف ٹلیٹیلیکو کوئی ایسی دستاویز نہیں جسے تاریخ کا ایک سنہرا کردار قرار دے کر ایک طرف ہٹا دیا جائے۔ اِسے ایک ایسی زندہ دستاویز کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس سے وابستہ ہوکر دنیا بھر کی اقوام اپنے لیے تابناک مستقبل کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

اخلاقی بیداری کی طرف

لاطینی امریکا محض جغرافیائی حقیقت نہیں بلکہ یہ اخلاقیات کی سطح پر بھی قابلِ رشک مقام رکھتا ہے۔ ایک ایسے وقت کہ جب جوہری ہتھیاروں کے استعمال اور جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم کا خطرہ توانا تر ہوتا جارہا ہے، یہ خطہ دوبارہ ابھرنے اور ہر طرح کے اسلحے کے خلاف بھرپور تحریک چلانے کی اہلیت رکھتاہے۔ آج کی خاموشی کل کا بہت بڑا پچھتاوا بن سکتا ہے۔ آج اگر کوئی بڑا قدم اٹھایا جائے تو کل کے لیے ایک بڑی امید کا سامان ہوسکتا ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Latin America at the Crossroads: Reviving Nuclear Leadership for a Safer World”.

(“The Globalist”. July 9, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں