اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان نے فطری علوم و فنون میں عقل کو دنگ کر دینے والی پیش رفت تو ممکن بنا دی ہے مگر آج بھی دنیا بھر میں کروڑوں انسان انتہائی تنگدستی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ترقی اپنے ساتھ چند ایک خامیاں اور کمزوریاں بھی لاتی ہے۔ کسی کی جیت کسی کی ہار بھی تو ہوتی ہے۔ کسی بھی مقابلے میں جب کوئی جیتتا ہے تو لوگ واہ واہ کرتے ہیں اور اُسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں مگر دوسری طرف ہارنے والے کی طرف کوئی شفقت سے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ یہی حال آج کی دنیا کا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا کے ہاتھوں دنیا بھر میں پس ماندہ ملکوں کو بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے۔
پسماندہ ممالک میں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی کا اہتمام کرنے کے لیے بھی گھر کے تمام افراد کو کام کرنا پڑتا ہے۔ بچوں سے بھی مشقت کرائی جاتی ہے۔ اسکول جانے کی عمر ہی سے بچے جب معاشی سرگرمیوں میں الجھا دیے جاتے ہیں تو اُن کا بچپن برباد ہو جاتا ہے اور وہ زندگی بھر اپنے اُجڑے ہوئے بچپن کو یاد کرکے روتے رہتے ہیں۔
چند عشروں کے دوران بنیادی حقوق کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور کیا جاتا رہا ہے۔ بنیادی حقوق کی علم بردار تنظیمیں اِس امر کے لیے کوشاں رہی ہیں کہ خواتین اور بچوں کی حق تلفی کا سلسلہ روکا جائے۔ اپنی اِس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اب بھی بہت کچھ کیا جانا ہے۔ خواتین اور بچوں کا معاشی اور معاشرتی استحصال گھر یا گھرانے کا توازن بگاڑ دیتا ہے۔
ایمنیسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی دیگر تنظیموں کی کوششوں کے نتیجے میں اب دنیا بھر میں بچوں سے مشقت لینے کا رجحان کمزور پڑا ہے۔ یہ سب کچھ بہت خوش آئند ہے مگر مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں بچوں سے کام کرانے کا رجحان اب بھی خاصا توانا ہے اور غریب گھرانے اپنی آمدنی میں اضافے کے لیے بچوں سے کام کرواتے ہیں۔ یہ محض معاشی یا معاشرتی خرابی نہیں بلکہ ثقافتی و روحانی خرابی بھی ہے۔ بچپن کی حسین یادیں مرتے دم تک ساتھ دیتی ہیں، حافظے کا حصہ رہتی ہیں۔ اگر بچپن محض مشقت کرتے اور نامساعد حالات کا سامنا کرتے گزرا ہو تو انسان کو زندگی بھر اِس بات کا قلق رہتا ہے کہ بچپن سے پوری طرح محظوظ نہ ہوسکا۔
۲۰۰۰ء میں دنیا بھر میں کم و بیش ۲۵ کروڑ بچوں سے مشقت لی جارہی تھی۔ ۲۰۲۴ء میں یہ تعداد ۱۳؍کروڑ ۷۶ لاکھ رہ گئی تھی۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ بچوں سے لی جانے والی مشقت میں کم و بیش ۱۰؍کروڑ کی حد تک کمی آئی ہے مگر اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔
بچوں سے لی جانے والی مشقت کا گراف نیچے آنے سے دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ اب وہ زیادہ جوش اور اُمید کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف بڑھ سکیں گے۔
دنیا بھر میں جتنے بھی بچوں سے مشقت کرائی جاتی ہے، اُن میں بیالیس فیصد کا تعلق چھبیس غریب ترین ممالک سے ہے۔ اِن غریب ترین ممالک کی آبادی عالمی آبادی کا آٹھ فیصد بنتی ہے۔
جن بچوں سے مشقت لی جاتی ہے، اُن میں سے ۶۱ فیصد زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ اِن میں سے بیشتر کو اپنے چھوٹے فیملی فارم پر کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ اِن بچوں کو بالعموم انتہائی نامساعد حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ محنت بھی کرتے ہیں اور بدسلوکی بھی جھیلتے ہیں۔ محنت کی صورت میں انسان کو زیادہ خوراک درکار ہوتی ہے مگر ایسے بچوں کو کھانے کے لیے بھی کم ملتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں اِن کی صحت بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں مشقت سے جُڑے ۱۳؍فیصد بچے صنعتی یونٹس سے وابستہ ہیں۔ صحتِ عامہ کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیے جانے والے شعبوں میں بچوں کا کام کرنا انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ اُن کے زخمی یا بیمار ہونے کا احتمال رہتا ہے۔
گھر چلانے کے لیے مشقت کرنے والے بچوں میں سے جنہیں آزادی دلائی جاچکی ہے، اُن میں سے بیشتر کا تعلق ایشیا و بحرالکاہل کے خطے سے ہے۔ اس خطے میں ۲۰۰۰ء میں کام کرنے والے بچوں کی تعداد ۱۲؍کروڑ ۷۰ لاکھ تھی، اب ۲۰۲۴ء میں ۲ کروڑ ۷۰ لاکھ رہ گئی۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اِس خطے میں بچوں سے مشقت لینے کے رجحان کی بیخ کنی میں زیادہ کامیابی ملی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں بچوں سے مشقت لینے کا رجحان برائے نام بھی نہیں۔ جن معاملات کو اصطلاحاً بچوں سے لی جانے والی مشقت قرار دیا گیا ہے، وہ ترقی یافتہ ممالک میں خال خال پائے جاتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ معاملہ صفر اعشاریہ سات تک ہے۔ ترقی یافتہ دنیا میں کم و بیش ۱۶؍لاکھ بچوں سے مشقت لی جارہی ہے۔
دنیا بھر میں شہروں کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ ایشیا اور لاطینی امریکا میں دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی زیادہ پائی جاتی ہے۔ شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی بچوں سے لی جانے والی مشقت کا گراف نیچے لارہی ہے۔ شہری علاقوں میں بچوں سے مشقت لینا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ایسا کرنے والا شخص یا ادارہ نظر میں آجاتا ہے۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ بچوں سے لی جانے والی مشقت کے خاتمے کی امریکی کوششیں زیادہ بارآور ثابت نہیں ہوئیں۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سے اس حوالے سے فنڈنگ میں کٹوتی بھی کردی ہے اور پالیسی بھی تبدیل کردی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اب امریکا بین الاقوامی ترقی سے کہیں زیادہ اپنی اندرونی ترقی اور استحکام پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں بچوں سے لی جانے والی مشقت کے خاتمے کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دیہی علاقوں میں لاکھوں بچے کھیتوں میں مشقت کرتے ہیں۔ سوال گھر کے لیے کچھ کمانے سے زیادہ زندگی کے زیاں کا ہے۔ بچوں کو چھوٹی عمر سے کام پر لگادیا جائے تو اُن کی تعلیم یا تو ادھوری رہ جاتی ہے یا پھر ہو ہی نہیں پاتی۔ ایسے بچے کمانا تو سیکھ لیتے ہیں مگر ڈھنگ سے جینے کے معاملے میں بُودے پن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے بچے زندگی بھر بعض اہم معاملات میں احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں۔
معیاری تعلیم، تفریح اور پُرمسرت بچپن بچوں کا حق ہے۔ بچوں سے اُن کا حق نہ چھینا جائے۔ اِس حوالے سے حکومتوں کو زیادہ متوجہ ہوکر اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“In focus: Global child labor”.
(“The Globalist”. July 23, 2025)