امریکا: تارکینِ وطن کو درپیش مشکلات

امریکی ایوانِ صدر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ آمد نے عجیب ہنگامہ برپا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کے باعث ایک طرف تو تارکینِ وطن پریشان ہیں کہ امریکا میں رہیں یا نکل جائیں۔ تارکینِ وطن کو مختلف قوانین اور قواعد کے شکنجے میں کَس کر اُن کے لیے امریکا میں رہنا دُشوار تر ہوتا جارہا ہے اور دوسری طرف خود امریکیوں کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہری آزادیاں خطرے میں ہیں۔ امریکا ایک زمانے سے فطری علوم و فنون کا مرکز رہا ہے مگر ٹرمپ انتظامیہ علم و فن کے میدان میں امریکا کی برتری ختم کرنے کے درپے ہے۔

ایک دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تارکینِ وطن کو نکال باہر کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں براک اوباما بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ سالِ رواں کے وسط تک ڈونلڈ ٹرمپ نے جتنے تارکینِ وطن کو ملک بدر کیا، اُن سے کہیں زیادہ تارکینِ وطن کو براک اوباما نے اِسی مدت میں ملک بدر کیا تھا۔

فروری ۲۰۲۵ء سے اب تک ٹرمپ انتظامیہ نے ہر ماہ اوسطاً ۱۴؍ہزار ۷۰۰؍افراد کو امریکا سے نکالا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ اِس وقت سوشل میڈیا کسی بھی بات کو پلک جھپکتے میں کچھ کا کچھ بناکر پیش کرنے لگتا ہے۔ ویسے تو یہ تعداد اچھی خاصی ہے تاہم ماضی کے ایسے اقدامات کے تناظر میں دیکھیے تو اِس وقت شور زیادہ برپا ہے۔

کیا آپ کو یقین آئے گا کہ جب براک اوباما امریکی ایوانِ صدر میں تھے تب (۲۰۱۳ء میں) ہر ماہ اوسطاً ۳۶ ہزار تارکینِ وطن کو اُن کے وطن واپس بھیجا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایک سال میں ۱۰؍لاکھ تارکینِ وطن کو نکالا جائے گا۔

ایسا نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تارکینِ وطن کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں، وہ امریکیوں کی اکثریت کو بہت پسند ہیں۔ امریکا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو تارکینِ وطن کو بے ڈھنگے طریقے سے اور خاصی عجلت میں نکالے جانے کے سخت خلاف ہیں۔ اس وقت ۵۵ فیصد امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تارکینِ وطن کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اور اِس حوالے اپنائی جانے والی پالیسی کے خلاف ہیں۔ صرف ۴۰ فیصد امریکی ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو درست قرار دے رہے ہیں۔

کیا امریکا کو تارکینِ وطن کی آمد سے فائدہ پہنچا ہے؟ اور کیا امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ تارکینِ وطن کو امریکا آنا چاہیے؟ یہ اور ایسے ہی دوسرے بہت سے سوال بہت اہم ہیں۔ امریکا میں ایسے لوگوں کی کمی کبھی نہیں رہی جو اِس خیال کے حامل ہوں کہ تارکینِ وطن کی آمد سے ملک کو بہت فائدہ پہنچتا ہے۔ ۲۰۲۴ء میں تارکینِ وطن کو امریکا کے لیے بہتر قرار دینے والوں کا تناسب ۶۴ فیصد تھا۔ اب یہ تناسب ۷۹ فیصد ہے۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا کے لیے تارکینِ وطن بہت سُودمند ہیں اور امریکیوں کو اُن کی آمد سے کچھ خاص خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔

امریکا میں خودمختار اور غیرجانبدار ووٹرز کی اکثریت پہلے اِس خیال کی حامل تھی کہ امریکا کو اپنی سرحدیں بند رکھنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے چاہئیں تاہم اب ایسے لوگوں کی تعداد خاصی کم رہ گئی ہے۔ اب امریکی ووٹروں کی اکثریت نہیں چاہتی کہ تارکینِ وطن کے خلاف غیرانسانی انداز کے اقدامات کیے جائیں۔ سرحدیں بند رکھنے کی صورت میں بہت سے تارکینِ وطن موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام دستاویزی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والے تارکینِ وطن کو نکال باہر کرنے کے مخالفین کا تناسب اب ۴۰ فیصد سے کم ہے۔ دوسری طرف قانونی اور دستاویزی تقاضے پورے نہ کرنے والے تارکینِ وطن کو شہریت دینے اور اُنہیں قانونی باشندے قرار دینے کے حامیوں کا تناسب دُگنا ہوکر تقریباً ۸۰ فیصد ہوچکا ہے۔

امریکا اور یورپ باقی دنیا کے لیے خوابوں کی سرزمین رہے ہیں۔ دنیا بھر سے لوگ امریکا اور یورپ آنا چاہتے ہیں۔ ایک دنیا ہے کہ امریکا کو مواقع کی سرزمین سمجھتی ہے یعنی وہاں آباد ہوکر ڈھنگ سے جینے کے قابل ہونا چاہتی ہے۔ جو لوگ امریکا آکر آباد ہونا چاہتے ہیں، اُنہیں ’’ڈریمرز‘‘ کہا جاتا ہے۔ ری پبلکنز سمیت بیشتر امریکی چاہتے ہیں کہ تارکینِ وطن کے جو بچے امریکا لائے گئے تھے اور جن کی متعلقہ لازمی دستاویزات نہیں ہیں، اُنہیں امریکی سرزمین پر آباد ہونے کا حق دیا جائے۔

اب امریکیوں کی غالب اکثریت چاہتی ہے کہ جو لوگ امریکا آکر آباد ہونا چاہتے ہیں، اُن کے لیے ایک باضابطہ طریقِ کار وضع کیا جائے، جس کے تحت وہ دنیا بھر میں کہیں سے بھی درخواست دے سکیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ امریکا آنے کے خواہشمند افراد کو بسانے کے حوالے سے ایک خاص تعداد کا تعین کیا جائے تاکہ غیرقانونی طریقے اختیار کرکے امریکا آنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ علاوہ ازیں جو تارکینِ وطن ایک مدت سے امریکا میں آباد ہیں، کام کرنے کے ساتھ ساتھ تمام ٹیکس بروقت ادا کر رہے ہیں اور اپنی فیملیز کو پال رہے ہیں، اُنہیں اپنے قیام کو قانونی حیثیت دینے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے۔ بیشتر امریکیوں کا کہنا ہے کہ جو تارکینِ وطن معاشرے میں ضم ہوچکے ہیں، ٹیکس دے رہے ہیں اور اپنی مہارت و محنتِ شاقہ سے امریکا و اہلِ امریکا کی معقول خدمت انجام دے رہے ہیں، اُنہیں ملک بدر کرنا معاشی اور اخلاقی اعتبار سے نامعقول بات ہے۔

اس حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ امریکا کو عالمی سطح پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اعلیٰ درجے کی مہارتوں کے حامل تارکینِ وطن کی ضرورت ہے۔ ہر دور میں انتہائی باصلاحیت تارکینِ وطن نے امریکا کی خدمت کی ہے، اُس کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ کیا ہے۔ اِس وقت بھی امریکا کو غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل افراد بہت بڑی تعداد میں درکار ہیں۔ آج مسابقت بہت بڑھ چکی ہے۔ فطری علوم و فنون میں غیرمعمولی پیشرفت یقینی بنائے رکھنا کسی بھی ملک کے لیے کوئی آسان کام نہیں۔ امریکا کو پہلے صرف یورپ سے مسابقت کا سامنا تھا اور مزاج کی ہم آہنگی کی بدولت یہ مسابقت بھی زیادہ خطرناک نہ تھی مگر اب ایشیا میں کئی طاقتیں ابھر چکی ہیں جو امریکا کو ٹف ٹائم دے رہی ہیں۔ بھرپور جدت اور ندرت کے اِس دور میں اگر امریکا دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کو اپنے ہاں آنے سے روکے گا یا ترکِ وطن کی حوصلہ شکنی کرے گا تو ایسا کرنا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔

صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکا کے مسائل حل کرنے کے خواہشمند ہیں تاکہ یہ ملک ایک بار پھر عظمت سے ہمکنار ہو مگر اُن کی اس بات پر یقین کرنے والوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے۔ یہ تصوّر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، مضبوط ہو رہا ہے کہ صدر ٹرمپ تارکینِ وطن کے معاملے کو سیاسی فوائد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔            (مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Is Trump the biggest deporter among U.S. Presidents?” (“The Globalist”. July 20, 2025)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں