بھارت میں مسلمانوں کو پریشان کرنے کا کوئی بھی موقع اب ضائع نہیں کیا جارہا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ بھارت کے ہر مسلمان کو متنازع بنادیا جائے اور ملک میں شدید مسلم مخالف فضا کو پروان چڑھانے والا ماحول مستقل بنیاد پر تیار کیا جائے۔ کبھی آسام کے مسلمانوں کو بنگلادیشی قرار دے کر ووٹ اور شہریت کے حق سے محروم کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی کسی وسطی ریاست کے مسلمانوں کو پابند کیا جاتا ہے کہ اپنی شناخت ثابت کریں اور دستاویزی ثبوت پیش کریں کہ اُن کے والدین اور اجداد بھی بھارت ہی کی سرزمین سے تعلق رکھتے تھے۔ اب بہار میں ایک ایسا ہی فتنہ اٹھایا جارہا ہے۔
بھارت کے مرکزی الیکشن کمیشن نے بہار میں کم و بیش آٹھ کروڑ افراد سے کہا ہے کہ وہ اپنی شناخت ثابت کریں یعنی خود کو بھارتی باشندہ ثابت کریں تاکہ اُنہیں ووٹ دینے کا حق دیا جاسکے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد بہار میں در آنے والے غیرملکیوں کو شناخت کرکے ملک سے نکالنا ہے۔ الیکشن کمیشن کے اِس اقدام سے بہار میں شدید بددلی اور بدگمانی کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔ مسلمانوں میں خوف بھی ہے اور غصہ بھی۔ اگر الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق اِن آٹھ کروڑ افراد کے کوائف کی جانچ پڑتال کی گئی اور کچھ ایسا ویسا معلوم ہوا تو بہت بڑے پیمانے پر ملک بدری کا عمل بھی شروع ہوسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ۲۴ جون ۲۰۲۵ء کو اعلان کیا کہ بہار میں تقریباً آٹھ کروڑ ووٹروں کو دوبارہ رجسٹریشن کرانا پڑے گی۔ حتمی تاریخ ۲۶ جولائی کی مقرر کی گئی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ڈائریکٹیو کے مطابق جو شخص اپنا ووٹ دوبارہ رجسٹر کرانے میں ناکام رہے گا، اُسے حقِ رائے دہی سے محروم کرتے ہوئے غیرملکی قرار دے کر ملک بدر کردیا جائے گا۔ بہار کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات اکتوبر یا نومبر میں ہوں گے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بہار کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کا تازہ اقدام متنازع فیہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کو چور دروازے سے دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش ہے۔ یاد رہے کہ مودی سرکار نے چند برس قبل بھی نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز کے ذریعے غیرملکیوں کو شناخت کرکے ملک بدر کرنے کا عمل شروع کیا تھا۔ یہ معاملہ ابتدا ہی سے متنازع ٹھہرا تھا کیونکہ اِس کا مقصد بظاہر صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی بہانے ملک سے نکالا جائے۔ بنگلادیش سے ملحق بھارتی ریاستوں میں مسلمان صدیوں سے آباد ہیں اور اجداد کا ریکارڈ بھی موجود ہے مگر اب اِن مسلمانوں کی شناخت پر سوالیہ نشان لگایا جارہا ہے۔
بھارتی الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹروں کے دوبارہ اندراج کا عمل ایسے وقت شروع کیا ہے جب بنگالی بولنے والے بھارتی مسلمانوں کو تحقیقات کے نام پر بنگلادیشی قرار دے کر ملک سے نکالا جارہا ہے۔ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں بنگالیوں سے تفتیش کی گئی ہے اور بہت سوں کو تو بنگلادیش بھیج بھی دیا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو چند سوال بھیجے گئے تاکہ اُس کا مؤقف معلوم ہوسکے مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
یہ تنازع ہے کیا؟
فی کس آمدن کے اعتبار سے بہار کو بھارت کی غریب ترین ریاست کا درجہ حاصل ہے۔ حکومت نے افلاس کا جو معیار مقرر کیا ہے، بہار کی ایک تہائی سے زائد آبادی اُس کے تحت آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بہار ملک کی تین سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں بھی شامل ہے۔ بہار کا سیاسی وزن غیرمعمولی ہے۔ ۲۰۰۵ء سے اب تک بہار میں بیشتر وقت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جنتا دل یونائٹیڈ کے ساتھ مل کر حکومت کی ہے۔ اس دوران کچھ مدت کے لیے اپوزیشن کی جماعتوں نے بھی مل کر حکمرانی سنبھالی۔
بہار اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں بھارتی الیکشن کمیشن کے اقدام نے بدحواسی اور بے دماغی کو ہوا دی ہے اور بہار کے دیہی علاقوں کی چند غریب ترین برادریوں کے لیے انتہائی نوعیت کی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ یہ سب کچھ ماحول کو سیاسی اعتبار سے غیرمعمولی شکل دینے کے لیے کافی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سب کچھ بہت عجلت میں ہو رہا ہے اور طریقِ کار بھی ایسا ہے کہ جسے اپنی شناخت ثابت کرنی ہے، اُس کے لیے ایسا کرنے کی بھرپور گنجائش نہیں۔ معمولی سی کوتاہی بھی اُسے ووٹ دینے کے حق سے محروم کرسکتی ہے۔
بہار میں آٹھ کروڑ افراد کو اپنی شناخت ثابت کرنے اور دوبارہ اندراج کرانے کا پابند بنانے کے اقدام کے خلاف بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت انڈین نیشنل کانگریس اور بہار میں اُس کی شراکت دار راشٹریہ جنتا دَل نے احتجاج کیا ہے اور ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی ہے۔
بھارت میں بنیادی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی گروپس اور سیاسی مخالفین نے بھارتی الیکشن کمیشن کے اقدام کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے یہ کہتے ہوئے الیکشن کمیشن کے اقدام کو درست قرار دے کر اُس کی حمایت کا اعلان کیا ہے کہ بنگلادیش اور میانمار سے بہت سے مسلمان نقل مکانی کرکے بھارت آتے ہیں اور یہاں کی معیشت پر بوجھ بنتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ طریقِ کار پورے ملک میں اختیار کیا جائے یعنی غیرملکیوں کو شناخت کرکے ملک بدر کیا جائے۔
سیاسی مبصرین اور انتخابی شفافیت سے متعلق امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹروں کے دوبارہ اندراج اور غیرملکی ہونے کے شبہ میں کسی بھی شخص کو ملک بدر کرنے کا عمل بھارت میں جمہوریت اور حق رائے دہی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے پاس جواز کیا ہے؟
الیکشن کمیشن نے اپنے ۲۴ جون کے حکم نامے میں کہا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص ووٹر لسٹ میں نہ رہے جو ووٹ ڈالنے کا اہل نہ ہو۔ اس سلسلے میں دیہی علاقوں سے تیزی کے ساتھ شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی، بار بار رونما ہونے والے ترکِ وطن، نئے ووٹروں، مُردہ ووٹروں اور غیرقانونی تارکینِ وطن کو جواز کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ووٹروں کی فہرستوں پر اِس نوعیت کی ہمہ گیر نظرثانی ۲۰۰۳ء میں کی گئی تھی۔ تب سے اب تک ووٹرز کی فہرستیں باقاعدگی سے اَپ ڈیٹ کی جاتی رہی ہیں۔ گزشتہ برس بھی بھارت میں عام انتخابات کے موقع ووٹروں کی فہرستوں پر نظرثانی کی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ۲۰۰۳ء میں جو ووٹر رجسٹرڈ تھے، اُنہیں صرف اپنا رجسٹریشن فارم پیش کرنا ہوگا۔ جنہیں بعد میں درج کیا گیا تھا، اُنہیں اپنی پیدائش اور مقامِ پیدائش کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ والد یا والدہ کی بھارت میں پیدائش کا ثبوت بھی فراہم کرنا ہوگا۔
بہار میں ۷ کروڑ ۹۴ لاکھ ووٹروں کی رجسٹریشن کی گئی تھی۔ بھارتی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اِن میں سے ۲ کروڑ ۹۰ لاکھ ووٹروں کو اپنے کوائف کی تصدیق کروانا پڑے گی۔ غیرجانبدار ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ۴ کروڑ ۷۰ لاکھ تک ہوسکتے ہیں۔
ایک بڑی مشق ہے۔ الیکشن کمیشن کا عملہ گھر گھر جائے گا اور متعلقہ فارم فراہم کرے گا۔ ووٹرز اِس فارم کو پُر کرکے متعلقہ دستاویزات کے ساتھ جمع کروائیں گے۔ جب تمام فارم جمع ہوچکے ہوں گے تب الیکشن کمیشن کی طرف سے نظرثانی شدہ فہرست جاری ہوگی اور کسی بھی معاملے میں اعتراض کے اندراج کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا۔
انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والی تنظیم ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک ریفارمز کے جگدیپ چھوکر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ۲۰۰۳ء اور اُس کے بعد بہار میں ہونے والے تمام انتخابات کی درستی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ اگر ووٹروں کو اپنی شناخت دوبارہ ثابت کرنی ہی ہے تو پھر اُنہوں نے تین، چار یا پانچ مرتبہ جو ووٹ ڈالے ہیں، اُن کی حیثیت مشکوک ہوجائے گی۔ کیا الیکشن کمیشن یہ کہنا چاہتا ہے کہ ۲۰۰۳ء کے بعد سے بہار کی ووٹر لسٹوں میں بہت بڑے پیمانے پر گھپلے کیے گئے ہیں؟ کیا یہ سمجھا جائے کہ تب سے اب تک بہار میں لوک سبھا یا بہار کی مجلسِ قانون ساز کے انتخابات کے تحت جو لوگ بھی منتخب ہوتے رہے ہیں، اُن کی قانونی حیثیت مشکوک ٹھہرتی ہے؟
اس عمل پر تنقید کیوں؟
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ بہار میں آٹھ کروڑ افراد تک ایک ماہ میں پہنچنا الیکشن کمیشن کے عملے لیے ممکن بھی ہے یا نہیں۔ الیکشن کمیشن نے ایک لاکھ افسران اور چار لاکھ رضاکاروں کو یہ کام سونپا ہے۔ یہ بات بھی بہت معنی خیز ہے کہ الیکشن کمیشن نے اِتنے بڑے تصدیقی عمل کے اعلان سے قبل سرکاری سطح پر کسی بھی قسم کی مشاورت کا اہتمام نہیں کیا۔ مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا اس پورے عمل کو مزید مشکوک بناتا ہے۔ ایک بڑا فیصلہ خاموشی کے ساتھ، رازدارانہ انداز سے کیا گیا اور پھر اُس پر عمل کا اعلان بھی کردیا گیا۔ بہار کے ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے سابق پروفیسر پُشپیندرا کا کہنا ہے کہ اب خود الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری داؤ پر لگ گئی ہے۔ ناقدین اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تصدیق و توثیق کے اِس عمل کے نتیجے میں درست اندراج والے لاکھوں ووٹر متعلقہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکامی کی صورت میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہوسکتے ہیں۔
الیکشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آدھار کارڈ قبول نہیں کرے گی، جو بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک منفرد شناختی دستاویز ہے۔ نہ ہی وہ اپنا جاری کردہ ووٹر آئی ڈی کارڈ قبول کرے گی۔ ووٹر آئی کارڈ وہ دستاویز ہے جس کی بنیاد پر لوگ ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔ اِن دونوں بنیادی دستاویزات کے بجائے الیکشن کمیشن نے ووٹروں سے کہا ہے کہ وہ پیدائش کے صداقت نامے سے پاسپورٹس تک گیارہ دستاویزات جمع کروائیں۔ اِن میں ریاستی حکومتوں کی طرف سے جاری کردہ تعلیمی اسناد بھی شامل ہیں۔
بھارت بھر میں سب سے کم شرحِ خواندگی بہار میں ہے۔ بھارت میں اوسط شرحِ خواندگی ۷۳ فیصد ہے جبکہ بہار میں یہ شرح ۶۲ فیصد ہے۔ بہار حکومت کے ۲۰۰۳ء کے ایک سروے کے مطابق پوری ریاست میں محض ۷۱ء۱۴ فیصد افراد نے دسویں جماعت تک تعلیم پائی ہے۔
سروے سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ بھارت بھر میں پیدائش کی رجسٹریشن کرانے میں بہار سب سے پیچھے ہے۔ پورے بھارت میں کم و بیش ۲۵ فیصد ولادتیں ریکارڈ نہیں کرائی جاتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے بہار میں ایک چوتھائی سے زائد آبادی ایسی ہے جس کی دسترس میں برتھ سرٹیفکیٹ نہیں۔
پُشپیندرا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنی معقول دستاویز کاری کی راہ پر گامزن کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کو تمام بنیادی دستاویزات کی فراہمی میں ریاست کی ناکامی کی سزا شہریوں کو نہیں دی جاسکتی۔
الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی تصدیق کے لیے جو وقت چُنا ہے، وہ انتہائی نامناسب ہے۔ ہر سال جون اور اکتوبر میں بہار کو بارشوں اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس بار بھی بہت بارشیں ہوئی ہیں۔ ریاست کے متعدد حصوں میں سیلاب نے تباہ کاری مچا رکھی ہے۔ ریاستی اعداد و شمار اور حقائق بتاتے ہیں کہ بہار کے دو تہائی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔ سالانہ بارشوں اور سیلاب سے بھارت کو جو نقصان پہنچتا ہے، اُس کا ۳۰ تا ۴۰ فیصد بہار میں ہوتا ہے۔ گزشتہ برس بارشوں اور سیلاب سے بہار بھر میں کم و بیش ۴۵ لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔ یہ کئی عشروں میں بہار کا سنگین ترین سیلاب تھا۔
بہار کے جن علاقوں میں کم و بیش ہر سال ہی سیلاب آتا ہے، وہ دستاویز کاری میں بہت پسماندہ ہیں۔ ایسے میں وہ اپنی دستاویزات کہاں سنبھالتے پھریں گے؟ بہار کے طول و عرض میں ایسے لوگ کم ہی ملیں گے جنہوں نے اپنی اور اپنے متعلقین کی تمام قانونی، سرکاری دستاویزات کا اہتمام کیا ہو یا اپنی حد تک دستاویز کاری پر پورا یقین رکھا ہو۔
بھارتی الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اس بات کا مظہر بھی ہے کہ بھارت میں ووٹروں کو رجسٹر کرنے کے طریقِ کار میں تبدیلی کی جارہی ہے۔ بھارت میں ۷۰ سال کے دوران کسی بھی مرحلے پر ووٹر کی اہلیت کا معیار کبھی تبدیل نہیں کیا گیا۔ اب تک ووٹرز سے صرف یہ پوچھا جاتا تھا کہ وہ کب پیدا ہوئے ہیں۔ اب یہ بھی پوچھا جائے گا کہ وہ کہاں پیدا ہوئے تھے۔
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اِس مرحلے ہی پر کیوں کیا جارہا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے اس اقدام کے سیاسی مضمرات کیا ہیں یا کیا ہوسکتے ہیں؟ مبصرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن تو خالص غیرجانبدار ادارہ ہے تاہم اُس کے اقدامات سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اُن بڑھکوں کی تکمیل ہوتی ہے جو وہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے حوالے سے کرتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ بی جے پی یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ بنگلادیش اور میانمار (برما) کے مسلمان بھارت میں داخل ہوکر یہاں آبادی کا توازن خراب کر رہے ہیں۔ بھارت کی اپنی آبادی اِتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی ملک کسی بھی صورت یہاں کی آبادی کا توازن خراب نہیں کرسکتا۔ اور جن چند ہزار روہنگیا یا بنگالی مسلمانوں پر بھارت میں آبادی کا توازن بگاڑنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، وہ بھی بے چارے ایسا نہیں کر پارہے۔ اس حوالے سے بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کو سخت تر اقدامات کا حکم دیا گیا ہے۔ بی ایس ایف کے سخت تر اقدامات سے بھارت اور بنگلادیش کے تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔
یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ بھارت میں جب بھی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ہوتے ہیں، تب بی جے پی غیرقانونی مسلم تارکینِ وطن کے نام کا رونا رونے لگتی ہے۔ انتخابات یوپی میں ہوں یا گجرات میں یا پھر مہاراشٹر میں، بی جے پی کا راگ رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔ وہ صرف اس بات کا رونا روکر ہندو ووٹروں کو اپنی طرف گھسیٹتی ہے کہ بنگلادیش اور میانمار کے مسلمان بھارت میں غیرقانونی طور پر داخل ہوکر آبادی کا توازن بگاڑنے کے درپے ہیں۔ عام ووٹر بھی نہیں سوچتے کہ چند ہزار افراد کس طور پورے ملک کی آبادی کا توازن بگاڑ سکتے ہیں۔
گزشتہ دسمبر میں بی جے پی کے رہنماؤں نے بھارتی الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کرکے اُن کے سامنے اِس بات کے نام نہاد ثبوت رکھے تھے کہ بنگلادیش اور روہنگیا کے مسلمان غیرقانونی طور پر بھارت میں داخل ہوکر خود کو ووٹر کی حیثیت سے رجسٹر کراچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اب تک کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی بھی ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ اِس سے ذہنوں میں شکوک پنپ رہے ہیں۔ اگر بی جے پی نے شواہد دیے ہیں تو سامنے لائے جائیں۔
الیکشن کمیشن نے اب تک یہ نہیں بتایا ہے کہ اُس نے بہار میں ووٹروں کی فہرستوں پر نظرثانی کا حکم کیوں دیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اور سیاسی امور کے مبصر اپوروانند کہتے ہیں کہ بی جے پی کے پاس اپنے دعوئوں کو درست ثابت کرنے کے لیے مطلوب ڈیٹا نہیں۔ اپوروانند کا تعلق بہار سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی شفافیت داؤ پر لگ چکی ہے۔ اُس کا یوں سیاسی سطح پر سامنے آنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ بی جے پی نے ملک بھر میں ووٹروں کی فہرستوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بنگلادیش اور میانمار کے باشندوں کا سراغ لگایا جاسکے۔ بہت سوں کو اِس پر حیرت ہے۔ بنگالی اور روہنگیا مسلمانوں کی تعداد اِتنی زیادہ کب سے ہوگئی کہ وہ بھارتی معاشرے میں کوئی بڑی اکھاڑ پچھاڑ کرسکیں۔
بھارت میں بنیادی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہار اور دیگر بڑی ریاستوں کے طول و عرض میں کروڑوں افراد ایسی زندگی بسر کرتے ہیں جس میں دستاویزات کا کچھ کام نہیں۔ ایسے لوگوں کے مستقل ٹھکانے بھی نہیں ہوتے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو بہار کے دور اُفتادہ علاقوں کے ووٹروں کی تصدیق کے معاملے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Why is India forcing 80 million people to justify their right to vote?”
(“AlJazeera”. July 10, 2025 )