غزہ میں اسرائیل کا بفرزون

اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر غزہ میں بعد از جنگ بفرزون کے قیام کے حوالے سے اپنا منصوبہ کُھل کر بیان کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ کوئی نیا تصور نہیں۔ اسرائیل ایک زمانے سے یہ چاہتا ہے کہ اُس کے مشرقی پڑوسیوں اور غزہ کے درمیان ایک بفرزون قائم کردیا جائے تاکہ اسرائیلی سرزمین پر فلسطینیوں کے حملوں کی راہ مسدود کی جاسکے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ۲ دسمبر ۲۰۲۳ء کو سمیعہ نخول، احمد محمد حسن اور جوناتھن سول کا ایک مضمون شائع کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ غزہ میں قائم کیا جانے والا بفرزون دراصل غزہ کے حوالے سے اسرائیل کے بڑے منصوبے کا حصہ ہوگا۔

اسرائیل نے بفرزون کے قیام کے منصوبے سے مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات کو آگاہ کردیا ہے۔ سعودی عرب کے اسرائیل سے باضابطہ تعلقات نہیں ہیں، تاہم اُسے بھی خبردار کیا گیا تھا۔ امریکا اور عرب، دونوں ہی ایسے ہر منصوبے کے مخالف رہے ہیں جن کا مقصد فلسطینیوں کی زمین کو محدود کرنا ہے۔ ترکیہ کو بھی بفرزون کے منصوبے سے آگاہ کردیا گیا تھا۔ ایک سال آٹھ ماہ قبل جب اسرائیل نے بفرزون کا منصوبہ طشت از بام کیا تھا تب یہ وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ بفرزون کے قیام کے نتیجے میں غزہ کے خلاف اسرائیلی عسکری کارروائی روک دی جائے گی۔ عالمی برادری کا ردِعمل بھی ملا جلا تھا۔ تب یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ اسرائیلی حکومت مصر اور قطر کی وساطت سے غزہ میں نام نہاد جنگ کے بعد ایک ایسا بفرزون قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے جو اُس کی سلامتی یقینی بنانے میں بنیادی کردار ادا کرے۔

کسی بھی عرب ریاست نے مستقبل میں غزہ کے انتظامی امور سنبھالنے یا پولسنگ کے فرائض انجام دینے پر رضامندی ظاہر نہیں کی تھی۔ بیشتر عرب ریاستوں نے اس معاملے میں اسرائیل کی ہم نوائی سے انکار کردیا تھا۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں جو عسکری کارروائی شروع کی تھی، اُس نے تب تک پندرہ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا تھا اور اقتصادی ناکہ بندی کے باعث فلسطینیوں کی مشکلات میں خاصا اضافہ ہوچکا تھا۔

اسرائیل نے تجویز پیش کی تھی کہ غزہ اور اسرائیل کے درمیان یہ بفرزون شمال سے جنوب تک ہو، تاکہ مستقبل میں حماس یا دیگر فلسطینی تنظیموں کی طرف سے کسی بھی طرح کے خطرے یا دراندازی کا امکان ختم ہوجائے۔

مصر، سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کی حکومتوں نے فوری طور پر کوئی بھی تبصرہ کرنے یا رائے دینے سے گریز کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کا ردِعمل محتاط اور معقول تھا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی جنگ ختم ہونے پر فریقین کے درمیان طے پانے والے کسی بھی سمجھوتے کے تحت جو انتظام کیا جائے گا، اُسے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہوگی اور یہ کہ اِس کا بنیادی مقصد فلسطینی ریاست کا قیام اور استحکام ہونا چاہیے۔

جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خارجہ پالیسی کے مشیر اوفِر فاک سے بفرزون کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ بفرزون سے متعلق منصوبہ خاصا تفصیلی ہے۔ یہ دراصل اُس دور کے حوالے سے ہے جب حماس کا وجود نہیں رہے گا۔ اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ حماس کو ختم کردیا جائے، غزہ کو ہتھیاروں سے پاک بنایا جائے اور اس علاقے میں انقلابی نظریات کی بیخ کُنی کی جائے۔ اوفِر فاک کا کہنا تھا کہ بفرزون منزل نہیں بلکہ راستہ یا ذریعہ ہے۔ یہ حماس کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عمل کا ایک حصہ یا مرحلہ ہے۔ اوفِر فاک نے یہ نہیں بتایا کہ پورا منصوبہ کیا ہے اور یہ کہ عرب ریاستوں سمیت اِسے بین الاقوامی شراکت داروں کے سامنے بھی رکھا گیا ہے یا نہیں۔ عرب ریاستوں نے مجموعی طور پر حماس کو ختم کرنے کا تصور مسترد کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بفرزون کے قیام کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ غزہ کے فلسطینی اپنی نمائندہ تنظیم یا تنظیموں سے مکمل طور پر محروم ہوجائیں۔

بفرزون کا تصوّر اسرائیلی حکومت نے صرف اس لیے پیش کیا تھا کہ فلسطینیوں کو زیادہ سے زیادہ کمزور کردیا جائے تاکہ وہ اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ ایک زمانے سے اسرائیل کو فلسطینیوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ یہ مزاحمت اسرائیلی حکومت کے لیے دردِ سر رہی ہے۔ اب معاملات کو اُس مقام تک لایا جارہا ہے جہاں مزاحمت کو ہمیشہ کے لیے اور مکمل طور پر ختم کردیا جائے۔

جب اسرائیل نے ڈیڑھ سال قبل بفرزون کا تصور پیش کیا تھا تب امریکا کا ردِعمل حیرت انگیز تھا۔ بائیڈن انتظامیہ نے صاف کہا تھا کہ وہ ایسے کسی بھی منصوبے کا ساتھ دینا پسند نہیں کرے گی، جس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کے حصے کی زمین گھٹانا ہو۔

اردن، مصر اور دیگر عرب ریاستوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل کی حکومت تمام فلسطینیوں کو اُن کی آبائی سرزمین سے مکمل طور پر بے دخل کردینا چاہتی ہے۔ جب اسرائیل قائم ہوا تھا تب بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ فلسطینیوں سے اُن کی زمین چھین لی گئی تھی، آبائی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنادیا گیا تھا۔ اب پھر ایسا ہی کرنے کا ڈول ڈالا جارہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے بتایا کہ بفرزون غزہ کے اندر دو تین کلومیٹر کا بھی ہوسکتا ہے۔

غزہ کا پورا علاقہ ۴۰ کلومیٹر لمبا اور ۳ سے ۱۲؍کلومیٹر تک چوڑا ہے۔ بفرزون کے قیام کی صورت میں فلسطینیوں کو میسّر زمین مزید کم ہو جائے گی۔ اسرائیل صرف اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ حماس کو ہتھیار نہ مل سکیں اور وہ اچانک حیرت سے دوچار کرنے والے حملے کرنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ بفرزون کا قیام سکیورٹی کا معاملہ ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کو غزہ کی سرحد پر موجود رہنے سے کچھ غرض نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ کے لیے ایک مضمون میں ۲ فروری ۲۰۲۴ء کو جان گیمبریل نے لکھا کہ اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر ایک سے تین کلومیٹر تک کی طوالت پر مبنی بفرزون بنانے کی تیاری شروع کردی ہے۔ اِس سلسلے میں مجوزہ علاقے میں عمارتیں تباہ کی جارہی ہیں۔ اس حوالے سے عالمی برادری نے اعتراض اور احتجاج بھی کیا ہے مگر اسرائیلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ فلسطینیوں کو اُن کی زمین سے محروم کیا جارہا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے بفرزون کے قیام کی خواہش اور منصوبے کے اعلان کے ساتھ ساتھ وضاحت بھی کی ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد اسرائیل کو سلامت رکھنا ہے۔

’ایسوسی ایٹیڈ پریس‘ نے جب اسرائیلی فوجی سے پوچھا کہ کیا وہ کسی بفرزون کے قیام کی تیاریوں میں مصروف ہے تو اُس نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ صرف اتنا بتایا گیا کہ ہماری اوّلین ترجیح یہ ہے کہ جنوبی اسرائیل کو ہر حال میں محفوظ رکھا جائے اور حماس کی طرف سے مستقبل میں کسی بھی بڑے حملے کی راہ مکمل طور پر مسدود کردی جائے۔

اسرائیلی حکام نے بتایا کہ ایک عارضی بفرزون قائم کیا جارہا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اِس میں رکاوٹیں بھی ہوں گی یا نہیں۔ اسرائیلی فوج جتنے بڑے پیمانے پر عمارتیں تباہ کر رہی تھی، اُس سے یہ دعویٰ خاصا کمزور دکھائی دیا کہ اسرائیل کوئی عارضی بفرزون قائم کرنا چاہتا ہے۔

اگر اسرائیلی حکومت کوئی بفرزون قائم کرتی ہے تو فلسطینیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ اُن کے لیے زرعی اراضی مزید گھٹ جائے گی۔ غزہ کی آبادی کی اکثریت زرعی آمدنی پر انحصار پذیر ہے۔ اگر غزہ میں اسرائیلی فوج کا عمل دخل بڑھ گیا تو فصلیں متاثر ہوں گی۔

مواصلاتی سیاروں کی مدد سے لی گئی تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ غزہ کے اندر ۶ مربع کلومیٹر کے علاقے میں عمارتیں تباہ کی جارہی ہیں اور بفرزون کے لیے زمین کو صاف کیا جارہا ہے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل نے پناہ گزین کیمپوں سے ملحق عمارتوں کو تباہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی کوشش رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوں تاکہ مزاحمت کے لیے درکار قوت کسی طور جمع کی ہی نہ جاسکے۔ غزہ میں بہت بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی ہوچکی ہے۔ شہدا کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور تباہ کی جانے والی عمارتیں بھی اِتنی زیادہ ہیں کہ حتمی یا پائیدار سیزفائر کی صورت میں بھی لوگوں کے لیے رہائش انتہائی دشوار ثابت ہوگی۔

غزہ کی معیشت تباہ کی جاچکی ہے۔ خوراک کا بحران انتہائی شکل اختیار کرچکا ہے۔ غذا اور دیگر امدادی سامان حاصل کرنے کے لیے جمع ہونے والوں کو شہید کرنا اسرائیلی فوج نے اپنا وتیرہ بنالیا ہے۔ عالمی برادری یہ تماشا دیکھ رہی ہے اور کچھ نہیں کر رہی۔ مسلم دنیا بھی سناٹے کی زَد میں ہے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اگر چند ایک مسلم ممالک مل کر اسرائیل کے خلاف جانا بھی چاہیں تو امریکا اور یورپ اُن کی راہ میں دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ دونوں نے ایک دوسرے پر جدید ترین میزائل بھی برسائے ہیں مگر یہ معاملہ انتہائی مشکوک رہا ہے۔ بہت کچھ ہے جو پردے میں ہے۔ اسرائیل کو کتنا جانی نقصان پہنچا یہ کسی کو نہیں معلوم۔ دوسری طرف ایران کی کلیدی شخصیات اسرائیلی حملوں میں لقمۂ اجل ہوئیں۔ اہم عسکری شخصیات کی ہلاکت پر بھی ایران کا ردِ عمل وہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا۔

بفرزون کے قیام سے اسرائیل کو فائدہ پہنچے گا اور فلسطینیوں کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔ اب اِس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ فلسطینیوں کو ایک محدود علاقے میں مجموعی طور پر مقید رکھا جائے۔     (تلخیص و ترجمہ: ابو صباحت)

(بحوالہ:  “reuters”، “newsofisrael”، “aljazeera”)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں