پانچ سال قبل جب کووِڈ کی وبا نے سَر اٹھایا تھا تب دنیا بھر میں ایک زبردست تبدیلی رونما ہوئی تھی۔ ایک زمانے سے سوچا جارہا تھا کہ ٹیلی کمیوٹنگ کو فروغ دیا جائے یعنی لوگوں کو گھر پر بیٹھ کر کام کرنے کی سہولت فراہم کی جائے۔ دفاتر کے جو کام گھر میں کیے جاسکتے ہیں، اُن کے لیے یومیہ بنیاد پر طویل فاصلہ طے کرکے دفتر حاضر ہونے کی بھلا کیا ضرورت ہے؟
ورک فراہم ہوم کا تصور متعارف ہوا تو دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے آسانی پیدا ہوئی۔ آجروں نے اُنہیں گھر بیٹھے کام کرنے کی سہولت فراہم کی۔ اِس صورت میں اجیروں کو یومیہ سفر کے نتیجے میں ہونے والی تھکن کے ساتھ ساتھ وقت اور پیسے کے ضیاع سے بھی نجات ملی۔ دنیا بھر میں مزید کروڑوں افراد منتظر ہیں کہ اُنہیں بھی یہ سہولت فراہم کی جائے مگر اب یہ کہا جارہا ہے کہ گھر بیٹھے کام کرنے سے نتائج زیادہ حوصلہ افزا برآمد نہیں ہوتے۔
امیزون، اے ٹی اینڈ ٹی، یو پی ایس اور دیگر بڑے امریکی کاروباری اداروں نے اس بات کو لازم سا کردیا ہے کہ اُن کے ملازمین ہفتے میں پانچ دن دفتر میں حاضری یقینی بنائیں۔ امریکا میں وفاقی حکومت کے ادارے اور ریاستی محکمے بھی چاہتے ہیں کہ ورک فرام ہوم کی روایت کو زیادہ پروان نہ چڑھایا جائے۔
اِن اداروں کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے جب ملازمین کو گھر بیٹھے کام کرنے کی سہولت دی تو اِس کے نتیجے میں نتائج زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہے۔ پیداواری صلاحیت میں کمی واقع ہوئی۔ خیر، اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ورک فرام ہوم کا تجربہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ امریکا کے نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ریموٹ ٹیمیں کامیاب رہی ہیں یعنی گھر بیٹھ کر دفتر نہ آکر کام کرنے والوں نے حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُن سے کام لینے والوں کی قابلیت کیا ہے، رجحان کیا ہے اور وہ درست راہنمائی کے حوالے سے کس حد تک جاسکتے ہیں۔ ریموٹ ورک یا ورک فرام ہوم میں مگن رہنے والے لوگوں اور ٹیموں کو تحریک و تحرک کی ضرورت پڑتی ہے۔ ورک فرام ہوم چونکہ نیا معاملہ ہے، اِس لیے دنیا اِس سے ابھی پوری طرح واقف بھی نہیں ہوئی اور عادی بھی نہیں ہوسکی ہے۔ بہت سے ملکوں میں ورک فرام ہوم محدود پیمانے پر تھا۔ لیکن کووِڈ کی وبا نے اِس رجحان کو مضبوط کردیا۔
ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بیشتر منیجرز اس بات کے عادی ہیں کہ اُن کے ماتحت کام کرنے والے اُن کے سامنے رہا کریں، اُنہیں شکل دکھائیں۔ وہ کام کو کم اور شکل دکھانے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہر اجیر سے اُس کی صلاحیت و سکت اور مہارت کے مطابق کام لیا جائے مگر اِس کے بجائے آجروں یا اُن کی نمائندگی کرنے والے منیجرز، ڈائریکٹرز وغیرہ کو اِس بات کی فکر زیادہ لاحق رہتی ہے کہ اجیر بس دکھائی دیا کریں، موجود رہیں۔ کام کا کیا ہے، وہ تو ہوتا ہی رہے گا۔ ایسے آجر کسی بھی اجیر کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے بجائے اِس بات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ کہیں وہ گپ شپ تو نہیں لگارہے، سوشل میڈیا میں تو گم نہیں ہوگئے۔ سوال گپ شپ لگانے یا سوشل میڈیا میں گم رہنے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اجیر کو نظر کے سامنے رہنا چاہیے۔ بہت سے آجروں کو یہ اچھا نہیں لگتا کہ اُن کے ملازمین انٹرنیٹ پر زیادہ وقت گزاریں۔ وہ دیکھتے رہتے ہیں کہ کون سی ویب سائٹس پر ملازمین زیادہ وقت کھپا رہے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ متواتر نگرانی سے ملازمین چِڑ جاتے ہیں، اُن میں کام سے رغبت گھٹ جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف سان ڈیاگو کی الزابیتھ لیونز اور میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی نمرتا کلا نے ایک مشترکہ تجربے میں ایسے ۴۳۴؍افراد کی کارکردگی کا جائزہ لیا جو ورک فرام ہوم کر رہے ہیں۔ اِن تمام افراد کی مستقل نگرانی کی گئی تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ یہ دن بھر کیا کرتے ہیں، کس طور کام کرتے ہیں، اپنا اور دوسروں کا کتنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ دونوں خواتین اپنے اس تجربے کے ذریعے یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ جدید ترین آئی ٹی ٹولز کے ذریعے وہ کیا جان پاتی ہیں کہ ورک فرام ہوم کس قدر پیداواری ہے۔ اِس تجربے کے نتائج خاصے چشم کشا ثابت ہوئے۔
تجربے سے معلوم ہوا ہے کہ کسی بھی شخص کی کارکردگی اِس بات سے نہیں بڑھتی کہ اُس کی مستقل نگرانی کی جارہی ہو، منیجر یا انچارج اُس کی تمام حرکات و سکنات کا بھرپور جائزہ لے رہا ہو۔ اِس نوعیت کی نگرانی شدید منفی اثرات کی حامل ہوسکتی ہے اور ہوتی رہی ہے۔ ملازمین چاہتے ہیں کہ معاملات اُن پر واضح کیے جائیں، بات کُھل کر بیان کی جائے اور اُن پر بھروسا کیا جائے۔ اگر آجر بھروسا کریں تو اجیر اچھے نتائج دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں وہ زیادہ دلجمعی سے کام کرتے ہیں۔
الزابیتھ لیونز اور نمرتا کلا نے جن لوگوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا، اُنہیں کئی گروپوں میں تقسیم کیا۔ مقصود یہ تھا کہ مختلف حالات میں کارکردگی میں رونما ہونے والے فرق کا درست اندازہ لگایا جائے۔ کچھ لوگوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تو نگرانی والے آلات بند کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے ایسا ہی کیا مگر اُن کی کارکردگی اچھی رہی۔ تجربے سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کی زیادہ نگرانی نہیں کی جاتی، اُن میں کام کرنے کی لگن توانا رہتی ہے اور وہ متواتر نگرانی کے عمل سے گزرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ اور بہتر کام کرتے ہیں۔ ملازمین کے لیے اِس بات کی بھی بہت اہمیت ہے کہ اُنہیں کام کے حوالے سے تفصیلات پوری طرح بتائی جائیں۔ جب نگرانی والے آلات بند کردیے گئے، تب اُن کی کارکردگی ایسی حالت میں زیادہ خراب رہی کہ اُنہیں بتایا ہی نہ گیا ہو، اعتماد میں نہ لیا گیا ہو۔
کسی بھی بڑے اور درمیانے حجم کے ادارے میں جب انتظامیہ پالیسی بدلتی ہے تب ملازمین خوفزدہ سے ہوتے ہیں۔ الزابیتھ لیونز کہتی ہیں کہ دنیا بھر میں کاروباری ادارے ملازمین کی نگرانی پر بہت زیادہ توجہ دیتے ہیں اور اِس مد میں خرچ بھی بہت کرتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو ملازمت دینے کا مطلب ہے اُس سے کام لینا۔ اگر وہ دیا ہوا کام پوری ایمانداری اور مہارت سے وقت پر کرتا ہے تو اِس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے۔ نگرانی کا پیچیدہ نظام ملازمین کو اپنی آزادی اور پرائیویسی پر اثرانداز ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو وہ بددل ہو جاتے ہیں، دلجمعی سے کام نہیں کرتے اور اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طور دفتر کے اوقات پورے ہوں اور وہ گھر کی راہ لیں۔ الزابیتھ لیونز کا کہنا ہے کہ آجروں کو اِس بات سے زیادہ غرض رکھنی چاہیے کہ اُن کے اجیر مطلوبہ کام کر رہے ہیں یا نہیں۔ اور یہ کہ کس طور کر رہے ہیں۔
الزابیتھ لیونز اور نمرتا کلا کی تحقیق بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں ریموٹ ورک یا ورک فرام ہوم زیادہ کارگر کیوں ثابت نہیں ہو پارہا۔ بات سیدھی سی ہے، کسی بھی شخص سے کام لینا ہو تو اُسے ہدف دے دیا جائے اور ہدف کے مطابق کارکردگی کا مطالبہ کیا جائے۔ اگر ہدف حاصل کرنے میں کامیابی ہو تو ٹھیک ورنہ متعلقہ فرد کو چلتا کیا جائے۔ اگر کوئی شخص دفتر میں زیادہ کام نہیں کرتا یا نہیں کر پاتا اور گھر بیٹھ کر زیادہ کام کرلیتا ہے تو پھر بہتر یہ ہے کہ اُسے گھر بٹھایا جائے۔ دفتر میں کسی کو کام پر لگاکر اُس کی متواتر نگرانی سے کہیں بہتر ہے کام یعنی نتائج پر متوجہ رہنا۔ اگر کوئی گانے سُنتے ہوئے کام کرتا ہے تو اُس کی مرضی۔ اگر کوئی گپ شپ لگاتے ہوئے کام کرنا پسند کرتا ہے تو اُس کا ایسا کرنا سر آنکھوں پر۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ وہ مطلوب نتائج دینے میں کامیاب رہتا ہے یا نہیں۔
اِس حقیقت کو کارپوریٹ دنیا پوری طرح تسلیم نہیں کر رہی کہ اُس نے منیجرز اور انچارجز کو ورک فرام ہوم والے لوگوں سے معاملت نہیں سکھائے۔ بیشتر منیجرز آج بھی پچاس ساٹھ سال پہلے والی ذہنیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ملازمین نہ صرف یہ کہ آنکھوں کے سامنے رہیں بلکہ اُنہیں سلام بھی کرتے رہیں، اُن کے آگے جھکتے رہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں اِس نوعیت کی سوچ انتہائی حماقت آمیز ہے۔ جو منیجرز ملازمین یا ماتحت افراد کو ہر وقت آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ بہت پیچھے رہ جاتے ہیں اور ورک فرام ہوم کی صورت میں بہتر نتائج ممکن نہیں بنا پاتے۔
گھر بیٹھے کام کرنے والے افراد یا ٹیموں سے اچھی طرح کام لینے کے لیے نئی سوچ اپنانا لازم ہے۔ ریئل ٹائم میں کی جانے والی نگرانی زیادہ موثر ثابت نہیں ہوتی۔ بیشتر ملازمین کے معاملات نے ایسی نگرانی کی صورت میں بیک فائر کیا ہے۔ اگر انتظامیہ ملازمین کے جذبات سمجھنے میں ناکام رہے، اُن کی سہولت کا خیال نہ رکھے تو ورک فرام ہوم کے ٹرینڈ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو پاتی۔ ملازمین کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اُن کی نگرانی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ اُنہیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ انتظامیہ نے اُن کی نگرانی کے ذریعے جو ڈیٹا جمع کیا اُس سے آخر کیا فائدہ اٹھایا۔
گیلپ کے ایک حالیہ سروے سے بہت ہی پریشان کن سچائی کا انکشاف ہوا ہے۔ اب تک کارپوریٹ دنیا کے صرف ۱۰؍فیصد منیجرز نے ہائبرڈ ٹیموں سے کام لینا سیکھا ہے یعنی اُنہیں اِس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ دفتر کے اندر اور گھر بیٹھ کر کام کرنے والوں سے بہتر طور پر کام لے سکیں۔ ایک دل خراش حقیقت یہ بھی ہے کہ ۱۸؍فیصد منیجرز کو ورک فرام ہوم سے جُڑے ہوئے لوگوں سے بہتر طور پر ڈیل کرنے، اُن کے افکار و اعمال کو سمجھنے اور اُن سے بہتر طور پر کام لینے کے حوالے سے مطلوب تمام وسائل میسر ہیں مگر اُن وسائل سے استفادہ نہیں کرتے یعنی اُنہیں بروئے کار لانے کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ایسے منیجرز کو قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈیڈ لائن کے مطابق کام لینے کے معاملے میں وہ بُودے ثابت ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اُن کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ جن منیجرز کو دفتر میں اور گھر بیٹھے کام کرنے والوں سے کام لینے کے بارے میں معقول تربیت نہیں دی جاتی یا جو ایسی تربیت سے جان چُھڑاتے ہیں اُن کی کارکردگی کا گراف گرتا چلا جاتا ہے۔ ایسے منیجرز جب اپنے طور پر بہت کچھ سیکھنے یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بالعموم ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ نئے دور کے مسائل کو سمجھنا لازم ہے۔ اِس کے لیے ماہرین موجود ہیں جو ڈھنگ سے راہنمائی کرسکتے ہیں۔ آج کے منیجرز کو بگڑتے ہوئے مزاج کے حامل ملازمین کا سامنا ہے۔ ایسے لوگوں سے ڈیلنگ آسان نہیں ہوا کرتی۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ لازم ہے کہ نئے زمانے کے لوگوں سے کام لینے کے لیے نئے زمانے کے طور طریقے اپنائے جائیں۔ دنیا بھر میں آجر اور اجیر کے تعلق کے حوالے سے تحقیق کی جارہی ہے۔ ماہرین راہنمائی کے لیے موجود ہیں کہ فی زمانہ کسی سے کس طور کام لیا جائے کہ اہداف بھی حاصل ہوں اور اجیر بھی محسوس کرے کہ اُس نے بھی کچھ کیا ہے۔ فی زمانہ معاشی سرگرمی کا ایک بنیادی اصول یہ بھی ہے کہ کام کرنے والوں کو بھی کام میں لطف محسوس ہونا چاہیے۔ اُنہیں تحریک و تحرک کی ضرورت رہتی ہے۔ محض اچھا معاوضہ دینا کافی نہیں ہوتا، ماحول بھی سُکون بخش ہونا چاہیے۔ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں کہ دل ٹھکانے پر ہے نہ دماغ۔ ہر انسان مختلف معاملات میں الجھا ہوا ہے اور اُسے خود بھی نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہے۔ ایسے میں آجر اور اجیر کا تعلق اور بھی الجھ کر رہ گیا ہے۔ افراد اور ٹیمیں مکمل ذہنی توازن اور مکمل ذہنی استحکام کی حامل نہیں۔ بدحواسی انسان کو گھیرے رہتی ہے۔ ایسے میں معاشی سرگرمیوں کا متاثر ہونا ناگزیر ہے اور اِس کے نتیجے میں مطلوب نتائج آسانی سے نہیں مل پاتے۔
بدلتی ہوئی صورتحال کا ماحول سے مطابقت پیدا کرنے میں ناکام رہنے والے یا اِس حوالے سے تربیت سے خود کو دور رکھنے والے منیجرز ماتحت افراد کی کارکردگی بڑھانے اور ادارے کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وہ ملازمین کو زیادہ تحریک دینے میں بھی کامیاب نہیں ہو پاتے۔ آج کے اجیر چاہتے ہیں کہ اُنہیں کُھل کر بتایا جائے کہ اُن سے کیا کام لیا جانا ہے۔
تربیت پانے کے بعد منیجرز اپنی ریموٹ ٹیموں سے بھی اچھی طرح کام لینے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ ورک فرام ہوم کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ کسی کو دفتر آنے کی زحمت سے بچاکر گھر بٹھادیا جائے۔ یہ الگ کلچر ہے جسے سمجھنا اور سمجھانا پڑتا ہے۔ اگر کوئی منیجرز چار پانچ دہائی پہلے کی نفسی ساخت کے ساتھ کام کرے گا تو مار ہی کھائے گا۔ آج کے بیشتر منیجرز میں وہ بصیرت پائی ہی نہیں جاتی جو کام لینے کے اِس منفرد طریقے کو بارآور بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ منیجرز کی کارکردگی کا گراف بلند کرنے کے لیے دنیا بھر میں ادارے اِس بات کا اہتمام کر رہے ہیں کہ ورک فرام ہوم کرنے والی ٹیموں یا افراد سے کام لینے کا ہنر سکھایا جائے۔
آج کے اجیروں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بڑے شہروں میں وسائل کا بڑا حصہ یومیہ سفر کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہر بڑے شہر میں لاکھوں افراد یومیہ بنیاد پر واقع ہونے والے وقت، توانائی اور زر کے زیاں کو روکنے میں ناکامی سے دوچار ہیں۔ بیشتر اجیر اِس بات سے سخت نالاں رہتے ہیں کہ جب وہ گھر بیٹھے کوئی کام کرسکتے ہیں اور بہتر طور پر کرسکتے ہیں تو اُنہیں دفتر آنے کی زحمت کیوں دی جارہی ہے۔ آجر کو بھی اجیروں کی پریشانی کا سبب معلوم ہونا چاہیے۔ بڑے شہروں میں لوگ گھر میں بیٹھ کر سکون سے کیے جانے والے کام کے لیے جب یومیہ بنیاد پر بدن توڑ سفر کرتے ہیں اور مالی وسائل کے ساتھ ساتھ وقت کا زیاں بھی جھیلتے ہیں تو اُن کی بدحواسی اور بیزاری مزید بڑھ جاتی ہے جو اُن کی کارکردگی پر بہت بُری طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ آج کے ماحول میں روایتی قسم کا دفتر چلانا انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ملازمین کی کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے اور لگن بھی۔
ترقی پذیر اور پسماندہ دنیا میں آجروں کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ اگر وہ لوگوں کو گھر میں بیٹھ کر کام کرنے دیں گے تو اُن کے اخراجات بچیں گے اور لوگوں کو زیادہ سکون سے کام کرنے کا موقع ملے گا۔ بیشتر پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے بڑے اور درمیانے حجم کے شہروں میں روزانہ کروڑوں افراد کام پر جانے اور شام کو گھر واپس آنے کی مشقت جھیلتے جھیلتے ہی وقت سے بہت پہلے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ گھر سے کام کرنے والے بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ اُسی وقت کر پاتے ہیں جب اُن کے سامنے واضح اہداف ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ باقاعدگی سے فیڈ بیک کے بھی منتظر رہتے ہیں۔ گھر سے کام کرنے والے یہ بھی چاہتے ہیں کہ منیجر اُن کی کارکردگی کا جائزہ لیتا رہے۔ جب اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ اُن کے کام پر توجہ دی جارہی ہے تو وہ زیادہ دلجمعی سے کام کرتے ہیں اور معاوضے سے بڑھ کر نتائج دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ الزابیتھ لیونز اور نمرتا کلا کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر منیجرز متوجہ ہوں تو گھر سے کام کرنے والوں کی کارکردگی کا گراف بلند ہوکر رہتا ہے۔ اِس حوالے سے کی جانے والی تحقیق سے بھی منیجرز کو باخبر ہونا چاہیے تاکہ معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے بدلتے ہوئے رجحانات کے مطابق خود کو تبدیل کیا جاسکے اور بہتر کارکردگی یقینی بنائی جاسکے۔
بہت سے لوگوں اور اداروں نے تحقیق کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ گھر سے کام کرنے والے اگر ناکام ہوتے ہیں تو اِس کا لازمی طور پر یہ سبب نہیں ہوتا کہ اُن میں صلاحیت یا لگن نہیں ہوتی بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اُن سے کام لینے والے اُنہیں سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔ گھر سے کام کرنے والوں سے عمدگی سے کام لینا بھی اب بجائے خود ایک فن ہے جو سیکھنا اور پروان چڑھانا پڑتا ہے۔
یونیورسٹی آف سان ڈیاگو اور میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق ہمیں اِس بات کا موقع دیتی ہے کہ ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو سب کچھ نہ سمجھیں اور ملازمین کو کام کرنے کی پوری آزادی دیں۔ کام کا ماحول جس قدر آزاد، لچکدار اور پُرسکون ہوگا، نتائج اُتنے ہی اچھے، بلکہ قابلِ رشک ہوں گے۔
کسی بھی دفتر یا کسی اور ورک پلیس میں موجود افراد کی کارکردگی کا مدار بہت حد تک اِس بات پر ہے کہ منیجر کی سوچ کیا ہے اور وہ کام کرنے والوں کو کس نوعیت کا ماحول فراہم کر رہا ہے۔ ملازمین کو ہر وقت آنکھوں کے سامنے رکھنے والی اپروچ اب بہت فرسودہ ہوچکی ہے۔ گھر سے کام کرنے والوں کو بس گھر بٹھا دینا بھی کافی نہیں۔ لازم ہے کہ اُن میں کام کرنے کا جذبہ پروان چڑھایا جاتا رہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تب بھی کم از کم برقرار تو رکھا ہی جانا چاہیے۔
اگر منیجرز معقول ماحول پیدا کرنے میں ناکام رہیں تو کارکردگی کا گراف ۲۰ فیصد تک گر جاتا ہے۔ جو لوگ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اچانک، وضاحت کے بغیر ختم کردی جانے والی نگرانی کسی صلے جیسی دکھائی نہیں دیتی۔ جو لوگ کمتر درجے کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، اُنہیں جبری نگرانی اِس بات کا مظہر دکھائی دیتی ہے کہ اُن پر بھروسا نہیں کیا جارہا۔ دونوں ہی معاملات میں کارکردگی کا گراف گرتا ہے اور ملازمین محسوس کرتے ہیں کہ اُنہیں زبردستی کام کرنا پڑ رہا ہے۔
گھر سے کام کرنے والے تمام ملازمین کو دوبارہ دفتر میں حاضر ہونے کا پابند بنانا ایک بڑے مسئلے کا محض وقتی حل ہے اور وہ بھی ناقص۔ اِس حوالے سے اوریئینٹیشن اور کنڈیشننگ کی ضرورت ہے۔ اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں ملازمین سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کروانے کے لیے جو کچھ بھی کرنا لازم ہے وہ کیا ہی جانا چاہیے۔ دفتر میں حاضری یقینی بنانا قائدانہ سطح پر بہت بڑی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ ملازمین کی کارکردگی کا گراف بلند کرنے کے لیے منیجرز کو جدید رجحانات کے حوالے سے تربیت دینا لازم ہے۔
شفاف ابلاغ اور بھرپور سپورٹ سسٹم سے اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے اور جوابدہی کا احساس بھی۔ ملازمین کی کارکردگی اُسی وقت شاندار ہوسکتی ہے جب اُنہیں اعتماد میں لیا جائے اور اُن پر اعتماد کیا جائے۔ سوال یہ نہیں ہے کہ کون کہاں بیٹھ کر کام کر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اُس سے کام کس طور لیا جارہا ہے۔ آج کی دنیا میں کاروباری معاملات دن رات تبدیل ہو رہے ہیں۔ آجر اور اجیر دونوں ہی اپنی اپنی جگہ الجھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں گزرے ہوئے زمانوں کے اطوار کسی بھی صورت موزوں نہیں۔ سوچ بھی نئی چاہیے اور کام کرنے کے طریقے بھی نئے ہونے چاہئیں۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Management failure, not work-from-home, kills productivity”.
(“thehill.com”. June 24, 2025)