امن کے نوبیل انعام کے حوالے سے تنازعات اکثر سَر اٹھاتے رہتے ہیں۔ طبعیات، کیمیا اور حیاتیات کے شعبوں میں دیے جانے والے نوبیل انعام کے بارے میں اُلٹی سیدھی باتیں کم ہی کی جاتی
فلسطین کے محصور خِطّے غزہ پر اسرائیل کی مسلّط کردہ جنگ نے دو سال مکمل کرلیے ہیں۔ ۷۳۰ دِنوں میں دو لاکھ ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد اس خِطّہ پر برسایا گیا، جس سے
قاہرہ سے فلسطین کی غزہ سرحد یعنی رفح کراسنگ تک کا فاصلہ چار سو کلومیٹر ہے۔ پانچ سے چھ گھنٹے کی مسافت، لیکن یوں لگتا ہے جیسے دو مختلف دنیاؤں کا سفر ہو۔ قاہرہ دریائے
دنیا بھر میں سائبر سکیورٹی کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ کیا ترقی یافتہ اور کیا پسماندہ۔۔۔ تمام ہی ممالک کا معاملہ یہ ہے کہ سائبر حملے بڑھ رہے ہیں اور سسٹمز کو
ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں کسی شخص کا وجود اس کے جسمانی وجود تک محدود نہیں ہے۔ آپ کا نام، چہرہ، انگلیوں کے نشان، آنکھ کی پتلی، بینک اکاؤنٹ، ووٹر آئی ڈی،
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو دو ایسے حصّوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا ایک مقصد مستقبل میں کسی بھی اعتبار سے فلسطینی ریاست کے تصوّر ہی کو ناکام بنانا
دنیا بھر میں ایک بار پھر اسلحے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ یہ دوڑ حالات نے شروع کی ہے۔ معاملات ہی کچھ ایسے ہیں کہ ہر ملک ڈرا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنی
مَعاشی مُعاملات میں بہت سی اُلجھنوں کا سامنا کرنے اور اچھّا خسارہ برداشت کرنے کے بعد بھارت کی ریاست پنجاب کے علاقے گرداس پور کے ۴۷ سالہ کسان گُروِندر سِنگھ نے اپنی سب سے بڑی
دُنیا بھر میں معیشتیں اُلجھنوں کا شکار ہیں۔ یہ مستقل نوعیت کی کیفیت ہے کیونکہ فی زمانہ معیشتیں اُدھار یعنی قرض پر چلتی ہیں۔ کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس پر قرضوں کا بوجھ یا