امن کے نوبیل انعام کے حوالے سے تنازعات اکثر سَر اٹھاتے رہتے ہیں۔ طبعیات، کیمیا اور حیاتیات کے شعبوں میں دیے جانے والے نوبیل انعام کے بارے میں اُلٹی سیدھی باتیں کم ہی کی جاتی ہیں۔ تحقیق کے میدان میں تنازعات کم ہی اُبھرتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں جتنی بھی تحقیق کی جارہی ہے، اُس میں معاملات کی شفّافیت کا پورا خیال رکھا جاتا ہے اور پھر نتائج خود ثابت کرتے ہیں کہ کون سی تحقیق اعلیٰ اور حقیقی ہے۔
اگر آپ ناروے میں امریکا کے سفیر ہوں (جیسا کہ میں ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۸ء تک تھا) تو آپ کو ہر سال اکتوبر میں اپنے اِن باکس میں کئی ای میل ایسی ملیں گی، جن میں امن کے نوبیل انعام کے حوالے سے لابنگ اور سیاست کی کہانیاں بیان کی گئی ہوں گی۔ نوبیل کمیٹی کی طرف سے امن کے نوبیل انعام کے اعلان کے بعد اِن باکس میں ٹریفک بڑھ جاتی ہے۔ دنیا بھر سے لوگ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں یعنی امن کے نوبیل انعام کے پسِ پردہ کارفرما سیاست کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
۱۹۰۱ء سے اب تک چار امریکی صدور کو امن کا نوبیل انعام دیا جاچکا ہے۔ پہلی بار امن کا نوبیل انعام ۱۹۰۶ء میں تھیوڈور روزویلٹ کو دیا گیا۔ ۱۹۱۹ء میں یہ انعام وُڈرو وِلسن نے پایا۔ ۲۰۰۲ء میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر اور ۲۰۰۹ء میں براک اوباما کو امن کا نوبیل انعام دیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ امن کا نوبیل انعام کس بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ عالمی امن کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کی جانچ کا پیمانہ کیا ہے۔
تھیوڈور روزیلٹ کو روس اور جاپان کی جنگ ختم کرانے کے صِلے کے طور پر امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ یہ جنگ وسیع تر اثرات کی حامل تھی اور اگر بروقت ختم نہ کرائی جاتی تو عالمی امن کے لیے شدید خطرات پیدا ہوسکتے تھے۔ روس بھی تب کمزور نہیں تھا اور جاپان بھی اچھا خاصا طاقتور تھا۔ امن کا یہ نوبیل انعام اُس وقت دیا گیا جب فریقین نے جامع امن معاہدے پر دستخط کردیے۔ تھیوڈور روزویلٹ نے امن کا نوبیل انعام حاصل کرتے وقت اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دنیا کے معاملات بہت پیچیدہ ہوچکے ہیں۔ اب لازم ہوچکا ہے کہ تمام اقوامِ عالم کے درمیان پائے جانے والے تنازعات کے مؤثر اور جامع حل کے لیے ایک عالمی ادارہ بنایا جائے۔ اِس ادارے کا، روزویلٹ کے خیال میں، بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ دنیا سے جنگ کا خاتمہ ہو یعنی دنیا بھر کے ممالک جنگ پسندی کی ذہنیت ترک کرکے معاملات کو پُرامن طریقے سے طے کرنے کا میکینزم اپنائیں۔
وُڈرو وِلسن کو امن کا نوبیل انعام پہلی عالمی جنگ ختم کرانے اور اقوامِ متحدہ کی پیشرَو لیگ آف نیشنز کے قیام کی راہ ہموار کرنے سے متعلق خدمات کے صِلے کے طور پر دیا گیا۔ اس تنظیم کا خواب، جیسا کہ ہم پڑھ چکے ہیں، تھیوڈور روزویلٹ نے دیکھا تھا۔ وُڈرو وِلسن نے اقوام متحدہ کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے غیرمعمولی نوعیت کی خدمات انجام دیں۔ اُس وقت ایسے عالمگیر مکینزم کی ضرورت بھی تھی جس کے دَم سے جنگ کی راہ مسدود کرنا آسان ہو۔ بعد میں یہ ثابت ہوا کہ لیگ آف نیشنز دوسری عالمی جنگ کی راہ روکنے میں ناکام رہی اور دنیا کو ایک بار پھر قتل و غارت اور بربادی کی بھٹّی میں جھونک دیا گیا۔
جس وقت جمی کارٹر کو امن کا نوبیل انعام دیا گیا تب وہ امریکا کے صدر نہیں تھے۔ اُنہیں یہ انعام کسی ایک کارنامے یا مخصوص کارکردگی کی بنیاد پر نہیں دیا گیا۔ جمی کارٹر نے کم و بیش دو عشروں تک عالمی امن، بنیادی حقوق اور لبرل جمہوریت کے حوالے سے جو خدمات انجام دی تھیں، اُن کے اعتراف کے طور پر یہ انعام اُنہیں دیا گیا۔ جمی کارٹر نے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک میں معاشی اور معاشرتی بہبود کے حوالے سے خاصا کام کیا تھا۔
اوباما کا تنازع
براک اوباما کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے پر ایک دنیا کو حیرت ہوئی تھی۔ ہونی ہی چاہیے تھی۔ براک اوباما نے ۲۰۰۸ء میں امریکی صدر کا منصب سنبھالا تھا اور اگلے ہی سال اُنہیں امن کا نوبیل انعام دے دیا گیا۔ لوگوں نے سوچا تھا کہ اِتنی کم مدت میں اُنہوں نے ایسی کون سی خدمات انجام دے دیں جن کی بنیاد پر انہیں امن کے نوبیل انعام سے نواز دیا گیا۔ براک اوباما کو امن کا نوبیل انعام جوہری عدم پھیلاؤ اور ہمہ جہت جمہوریت کو فروغ دینے کے حوالے سے دیا گیا تھا۔ بہرحال، امن کا یہ نوبیل انعام انتہائی متنازع فیہ ثابت ہوا۔
براک اوباما نے تب کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف سے مذاکرات کے نتیجے میں اسٹریٹجک (جوہری) ہتھیاروں میں تخفیف سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ روس کے موجودہ صدر ولادیمیر پیوٹن اُس وقت روس کے وزیرِاعظم تھے۔ یہ معاہدہ ۵ فروری ۲۰۲۶ء کو ختم ہوگا۔
جس وقت امن کا نوبیل انعام براک اوباما کو دیا گیا تب نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر گیئر لینڈسٹیڈ تھے۔ آں جہانی لینڈسٹیڈ ۱۹۹۰ء سے ۲۰۱۴ء تک نوبیل انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد گیئر لینڈسٹیڈ نے براک اوباما کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے ناروے کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیرِاعظم تھاربجون جیگلینڈ کو نوبیل کمیٹی میں تعینات کیے جانے پر اعتراض کیا تھا کیونکہ اُن کے خیال میں ایسا کرنے سے کمیٹی کی خود مختار حیثیت متاثر ہوئی تھی۔ براک اوباما کو امن کا نوبیل انعام دیے جانے کے وقت یعنی ۲۰۰۹ء میں جیگلینڈ نوبیل کمیٹی کے چیئرمین تھے۔
امن کے نوبیل انعام کا ’’ناغہ‘‘
امن کا نوبیل انعام ہر دور میں متنازع رہا ہے۔ ان انعام کے حقدار کا تعین کرنے کے حوالے سے لابنگ اور سیاست کی شکایات عام رہی ہیں۔ نوبیل کمیٹی کو اس حوالے سے بارہا شش و پنج کا سامنا رہا ہے۔ فطری علوم و فنون اور ادب کے مقابلے میں امن کے نوبیل انعام کا تعین بہت مشکل ثابت ہوتا رہا ہے کیونکہ اِس حوالے سے بہت بڑی تعداد میں اُمیدوار سامنے آتے رہے ہیں۔
اب تک ۱۹؍سال ایسے رہے ہیں جب امن کا نوبیل انعام نہیں دیا گیا۔ دونوں عالمی جنگوں کے دوران بھی یہ انعام نہیں دیا گیا تھا۔ امن کے نوبیل انعام کے متازع فیہ ثابت ہوتے رہنے کا بنیادی سبب یہ ہے کہ طاقتور ممالک دباؤ ڈال کر اپنی شخصیات کو یہ انعام دلواتے رہے ہیں۔ ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ امن کا نوبیل انعام کسی زندہ شخصیت کو دیا جاسکتا ہے۔
اوسلو ہی میں کیوں؟
سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے ہتھیاروں کے تاجر اور ڈائنامائٹ کے موجد الفریڈ نوبیل نے جو دولت چھوڑی تھی، اُس سے ایک نوبیل انعام قائم کیا تھا تاکہ ہر سال فطری علوم و فنون، ادب اور امن سے متعلق خدمات انجام دینے والوں کی عزت افزائی ہو۔ الفریڈ نوبیل کا انتقال ۱۸۹۶ء میں ہوا تھا۔ نوبیل انعامات اسٹاک ہوم (سوئیڈن) میں دیے جاتے ہیں۔ امن کا نوبیل انعام ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں دیے جاتے ہیں۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ الفریڈ نوبیل کے خیال میں سوئیڈن کے مقابلے میں ناروے زیادہ پُرامن اور امن پسند ملک ہے۔
کون کون ہوتا ہے کمیٹی میں؟
نوبیل انعام کے حقدار کا تعین پانچ رکنی نوبیل پیس پرائز کمیٹی کرتی ہے۔ کمیٹی کے ارکان کا تعلق ناروے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والے سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہے تاہم وہ پارلیمنٹ کے رکن نہیں ہوسکتے۔ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت سے دو ارکان لیے جاتے ہیں۔
نوبیل پیس پرائز کمیٹی کے ارکان تجربہ کار سیاست دان ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی سیاست ہی میں گزاری ہوتی ہے۔ اِن کا کیریئر شاندار ہونا چاہیے۔ عام طور پر اس کمیٹی میں ایسی شخصیات کو لیا جاتا ہے جن کی زندگی اور کارکردگی سے کوئی تنازع جُڑا ہوا نہ ہو۔
امن کے نوبیل انعام کے حقدار کا تعین کرنے کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی حکومتی یا ریاستی مداخلت سختی سے ممنوع ہے۔ ناروے کی حکومت اس معاملے سے بالکل دور رہتی ہے۔ اگر کوئی اسکینڈل اُٹھ کھڑا ہو تو ایسا ہنگامہ برپا ہوتا ہے کہ حکومت کا وجود بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
کون تجویز کرسکتا ہے؟
جو افراد اور تنظیمیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نام تجویز کرسکتی ہیں، اُن کی باضابطہ فہرست موجود ہے۔ ہر سال سیکڑوں افراد اور تنظیموں کو اِس انعام کے لیے نامزد کیا جاتا ہے اور کسی بھی طرح کے تنازع سے بچنے کے لیے اُن کے نام پچاس سال بعد منظرِعام پر لائے جاتے ہیں۔ ہر سال دنیا بھر میں اکتوبر کے مہینے میں سیاسی کھیل شروع ہوتا ہے جو امن کے نوبیل انعام کے حقدار کا تعین کرنے کے حوالے سے مداخلت پر مبنی ہوتا ہے، بالخصوص تب کہ جب انتخابات نزدیک ہوں۔ دنیا بھر سے تعلیمی اداروں کے سربراہوں، اعلیٰ علمی و ادبی شخصیات، ڈاکٹرز، سوشل ورکر، فلسفیوں، سماجی کارکنوں، امدادی اداروں کے سربراہوں، امدادی اداروں، پروفیسرز، امن سے متعلق اداروں کے سربراہوں، قانون دانوں اور مذہبی رہنماؤں کے نام امن کے نوبیل انعام کے لیے تجویز کیے جاتے ہیں۔
اِس سال کیا ہوگا؟
رواں سال امن کے نوبیل انعام کے تعیّن کا معاملہ بہت ٹیڑھا ہے۔ اب تک کوئی ایسا امیدوار سامنے نہیں آیا ہے جس کے بارے میں کمیٹی پورے یقین کے ساتھ درست فیصلہ کرسکے۔ کئی امیدوار میدان میں ہیں مگر کسی کی بھی کارکردگی ایسی نہیں کہ اُسے امن کے نوبیل انعام کا حقدار قرار دیا جائے اور ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس نہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ ۲۰۲۵ء بیسواں ایسا سال ہو جب امن کا نوبیل انعام نہیں دیا گیا۔ رواں سال امن کا نوبیل انعام کیونکر دیا جاسکتا ہے جبکہ ہر طرف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خوف پایا جاتا ہے؟ پاکستان اور بھارت کے درمیان غیرمعمولی کشیدگی ہے۔ اسرائیل اور ایران بھی لڑچکے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ جاری ہے۔ اس جنگ کے ختم ہونے کے آثار بھی نہیں۔ روس کے لیے اب یہ جنگ اَنا کا مسئلہ بن چکی ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر نقصان سے دوچار ہونے کے بعد بھی روس پسپائی کے لیے تیار نہیں۔ مغربی دنیا یوکرین کے ساتھ ہے۔ وہ اُس کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے تاکہ جنگ جاری رہ سکے۔
یورپ کے معاملات بھی اچھے دکھائی نہیں دے رہے۔ ناروے میں رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے میں شرکا کی اکثریت نے کہا کہ اُنہیں بہت جلد یورپ میں ایک بہت بڑا تنازع ابھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ ناروے کے لوگ کسی بڑی جنگ کے خوف میں مبتلا ہیں۔
ناروے کے وزیرِاعظم نے کسی بڑے بحران اور جنگ کا سامنا کرنے کی تیاریوں سے متعلق وائٹ پیپر بھی جاری کیا ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اِس وقت یورپ میں کیا ہو رہا ہے اور مستقبل قریب میں کیا ہوسکتا ہے۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Nobel peace prizes: The inside story”.
(“The Globalist”. September 6, 2025)