جنگی جُنون کی گرم بازاری

دنیا بھر میں ایک بار پھر اسلحے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ یہ دوڑ حالات نے شروع کی ہے۔ معاملات ہی کچھ ایسے ہیں کہ ہر ملک ڈرا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنی دفاعی قوت میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرے۔ فضائی معرکہ آرائی کے لیے بھرپور تیاری کا جنون سا پیدا ہوچکا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ یہ جنون پیدا ہوا ہے یا پیدا کیا گیا ہے۔

اِس وقت دنیا بھر میں فوج کو جدید ترین اسلحے اور تربیت سے لیس کرنے کی دوڑ سی جاری ہے۔ کئی خطوں کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے۔ طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ امریکا اور یورپ نے ایک زمانے تک جنگوں اور خانہ جنگیوں کو ہوا دی ہے مگر اب خود اُن کے لیے بھی خطرات انتہائی پریشان کن حد تک بڑھ گئے ہیں۔

یوکرین جنگ اور غزہ کی صورتحال نے معاملات کو بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ روس نے یوکرین پر لشکر کشی کرکے یورپ بھر میں دفاعی بجٹ میں اضافے کی راہ ہموار کی اور اِدھر اسرائیل نے غزہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کرکے ایسا ماحول پیدا کیا کہ خِطّے کا ہر ملک ڈرا ہوا ہے۔ ہر ملک چاہتا ہے کہ جدید ترین طیارے، ڈرون، نیویگیشن سسٹم اور میزائل زیادہ سے زیادہ تعداد میں خریدے یا پھر اپنے طور پر بنائے۔ مقامی اسلحے پر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کا انحصار کم ہی رہا ہے۔ اِس معاملے میں وہ ترقی یافتہ دنیا کی طرف دیکھتے رہے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں بجٹ کا بڑا حصہ دفاعی معاملات پر خرچ ہو جاتا ہے اور سماجی بہبود اور معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے کی جانے والی فنڈنگ شدید دباؤ کی زد میں رہتی ہے۔

حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی معرکہ آرائی ہوئی جس میں ایک دنیا نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ اِس معرکہ آرائی نے خطے میں اسلحے کی نئی دوڑ شروع کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے میں بھی معاملات تیزی سے خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ جاپان، آسٹریلیا اور دیگر ممالک چین سے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ چین اور تائیوان کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا بھی خطے میں اپنی موجودگی بڑھانے کی گنجائش پیدا کر رہا ہے اور اِس کے نتیجے میں کسی بڑی جنگ کے خطرے کے پیش نظر اِن خطوں کے بیشتر ممالک دفاعی اخراجات میں اضافے پر مجبور ہیں۔

سرد جنگ کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ یورپ کے دفاعی اخراجات مشرقی ایشیا کے ممالک کے دفاعی اخراجات سے بڑھ گئے ہیں۔ قابلِ ذکر اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ دفاعی اخراجات کے حوالے سے جو ۱۵؍ممالک سرفہرست ہیں، اُن کے مجموعی دفاعی اخراجات ۲ ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہیں جو عالمی دفاعی اخراجات کا ایک چوتھائی ہیں۔ امریکا اِس وقت دفاع پر جو کچھ خرچ کر رہا ہے، وہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ خرچ کرنے والے ملک چین کے مقابلے میں تین گنا ہے۔

دنیا بھر میں غیریقینی بڑھ رہی ہے۔ کئی خطے انتہائی خوفزدہ ہیں۔ یورپ کو یہ خوف ستا رہا ہے کہ یوکرین کی جنگ وسعت اختیار کرتے ہوئے کہیں پورے برِاعظم کو لپیٹ میں نہ لے بیٹھے۔ روس اپنے دفاعی اخراجات بڑھانے پر مجبور ہے کیونکہ یوکرین کو دباؤ میں رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ گولے داغنے ہیں، میزائل برسانے ہیں۔ یوکرین بھی دفاعی بجٹ بڑھانے پر مجبور ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں روس کے قابض ہوجانے کا خطرہ موجود ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ایک زمانے سے اسرائیل اور امریکا کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پیدا ہونے اور برقرار رہنے والی صورتحال کی خرابی سے دوچار ہیں۔ غزہ میں اسرائیل نے امریکا کی سرپرستی میں جو کچھ کیا ہے، اُس نے خطے کے تمام ممالک کو انتہائی خوفزدہ کر رکھا تھا۔ رہی سہی کسر اسرائیل اور ایران کی بارہ روزہ جنگ نے پوری کردی ہے۔ اِس جنگ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور خطے کے دیگر ممالک کو دفاعی بجٹ میں اضافے پر مجبور کردیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فضائی معرکہ آرائی نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ دونوں ممالک دفاعی بجٹ بڑھانے پر مجبور ہیں۔ جدید ترین طیاروں، نیویگیشن سسٹمز، ڈرون اور میزائلوں کے حصول کی دوڑ سی شروع ہوگئی ہے۔

کیا یورپ، کیا ایشیا اور کیا انڈو پیسفک، تمام ہی خطوں میں زیادہ سے زیادہ دفاعی قوت یقینی بنانے کا معاملہ اوّلین ترجیح کا درجہ حاصل کرگیا ہے۔ جو ممالک معاشی اعتبار سے کمزور ہیں، وہ بھی دفاعی تیاریوں کا گراف بلند کرنے پر مجبور ہیں۔ اِس کے نتیجے میں معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے اور تعلیم و صحتِ عامہ سمیت سماجی بہبود کے تمام شعبوں کے لیے کی جانے والی فنڈنگ میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ کیفیت عام انسان کے لیے زندگی کو مزید دشوار بنائے گی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی بار یورپ میں بھی بھرپور دفاع کے لیے تیار رہنے کا مزاج پیدا ہوا ہے۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی نے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اپنے اپنے دفاعی بجٹ میں تیزی سے اضافہ شروع کردیا ہے۔ کووِڈ کے زمانے میں معیشتوں کا پہیہ تھم جانے کے باعث بہت سے شعبے متاثر ہوئے تھے۔ سماجی بہبود کے لیے کی جانے والی فنڈنگ پر بہت اثر پڑا تھا۔ اِس معاملے میں یورپ انوکھا نہ تھا۔ دنیا بھر میں حکومتوں کے لیے لازم ہوگیا تھا کہ معاملات قابو میں رکھنے کے لیے بہبودِ عامہ کے منصوبوں کے لیے کی جانے والی فنڈنگ میں کٹوتی کریں۔ تب سے اب تک معاملات اِس قدر بگڑے ہوئے ہیں کہ درست ہونے کا نام نہیں لے رہے اور اِس حوالے سے حکومتوں میں عزم کی بھی شدید کمی ہے۔

چین کی بڑھتی ہوئی عسکری اور معاشی قوت نے پورے خطے کے لیے ایک بڑے دردِ سر کی شکل اختیار کر رکھی ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے چین کے معاملے میں بہت زیادہ دباؤ محسوس کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دفاعی تیاریوں کا گراف بلند تر رکھا جائے۔ جاپان دفاع پر ۵۵؍ارب سالانہ تک خرچ کرنے پر مجبور ہے۔ یہی حال آسٹریلیا کا ہے جو ۳۴؍ارب ڈالر کی منزل میں ہے۔

اسٹریٹجک امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس وقت دنیا کا مجموعی مُوڈ ایسا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جنگی تیاریوں کا جُنون کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ بہت سوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگی جُنون کو پروان چڑھانے کے شواہد بھی کچھ زیادہ ڈھکے چُھپے نہیں۔ تھوڑی سی توجہ کے ساتھ معاملات کی کڑیوں کو آپس میں ملاتے جائیے تو بات سمجھ میں آجائے گی۔ اِس وقت بیشتر خطوں میں جدید ترین اسلحے کے حصول اور جنگی تیاریوں کی دوڑ تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے اور یہ سب کچھ ترقی یافتہ دنیا کے اسلحہ ساز اداروں کے حق میں جاتا ہے۔ ایسے میں اِتنا سوچنا تو بنتا ہے کہ اسلحے کی دوڑ کو مہمیز دی جارہی ہے۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“Ranked: Top 15 countries by military budgets in 2025”. (“visualcapitalist.com”. June 27, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں