بجٹ خسارے کی کہانی

دُنیا بھر میں معیشتیں اُلجھنوں کا شکار ہیں۔ یہ مستقل نوعیت کی کیفیت ہے کیونکہ فی زمانہ معیشتیں اُدھار یعنی قرض پر چلتی ہیں۔ کوئی بھی ملک ایسا نہیں جس پر قرضوں کا بوجھ یا دباؤ نہ ہو۔ امریکا ہو یا جاپان، چین ہو یا بھارت، یورپی یونین ہو یا کوئی اور معاشی اتحاد… سبھی کے لیے قرضے ناگزیر حقیقت کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہی معاملہ بجٹ خسارے کا ہے۔ ہر ملک کو بجٹ خسارے کا سامنا رہتا ہے۔ معاشی سرگرمیاں، بجٹ خسارہ، قرضے اور دوسرا بہت کچھ ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ اِس وقت بھی دنیا بھر میں درجنوں ممالک غیرمعمولی بجٹ خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ بڑی معیشتوں کے لیے بھی اِس معاملے میں کچھ خاص آسانی دکھائی نہیں دیتی۔

ایسا نہیں ہے کہ معیشتیں قرضوں اور بجٹ خسارے کے بحران سے نپٹنے کی کوششیں نہیں کر رہیں۔ بات یہ ہے کہ اب معاشی لین دَین کی نوعیت ہی کچھ ایسی پیچیدہ ہے کہ کسی بھی ملک کے لیے قرضوں کے بغیر زیادہ دُور تک چلنا ممکن نہیں اور بجٹ خسارے کے ساتھ بھی جینا ہی پڑ رہا ہے۔

دنیا بھر میں حکومتیں قرضوں تلے دَبی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتوں کے مجموعی قرضے اب عالمی مجموعی خام پیداوار کے ۹۵ فیصد کے مساوی ہوچکے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک بات ہے کیونکہ اِس کے نتیجے میں معیشتوں کی اندرونی پیچیدگیاں بڑھتی ہیں اور حکومتوں کے لیے بہبودِ عامہ کے منصوبوں کو جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ پریشان کُن بات یہ ہے کہ مجموعی خام پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کا تناسب گَھٹنے کے آثار نہیں کیونکہ یہ ٹرینڈ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ۲۰۳۰ء تک دنیا بھر کی حکومتوں کے مجموعی قرضے مجموعی عالمی خام پیداوار کے مساوی ہوجائیں گے۔ تب حکومتوں پر کتنا دباؤ ہوگا، اِس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

اِس وقت دنیا بھر کی حکومتوں کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی یعنی خام قومی پیداوار کے ۱ء۵ فیصد کے مساوی ہے۔ بجٹ خسارے میں کمی کی اُمید نہیں کی جاسکتی کیونکہ معیشتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور اِس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ بھی خام قومی پیداوار کے تناسب سے بڑھ رہا ہے۔

زیادہ پریشان کُن بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے قرضوں کے بوجھ سے نجات پانے اور بجٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کا ٹاسک مزید مشکل ہوگیا ہے کیونکہ معاشی بحالی کی شرح معمولی ہے اور دنیا بھر میں افراطِ زر پنجے گاڑ رہا ہے۔ حکومتیں اپنی اپنی حُدود میں عام آدمی کی بہبود کے حوالے سے بہت پریشان ہیں۔ وہ زمانہ اب جاچکا ہے جب لوگ بچت کے عادی تھی اور بچت کو سرمایہ کاری کے لیے بروئے کار لاتے تھے۔ اب اخراجات ہی اِتنے زیادہ ہیں کہ عام آدمی کے پاس کچھ بچ نہیں پاتا۔

ویسے تو خیر دنیا بھر میں معیشتیں شدید اُلجھن محسوس کر رہی ہیں مگر اِس معاملے میں فرانس حیرت انگیز طور پر زیادہ خرابیوں کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ یورپی یونین میں کئی ممالک معاشی مشکلات سے لڑ رہے ہیں مگر فرانس کا معاملہ بہت ہی پریشان کن ہے۔ ۱۵؍سال قبل فرانس بھی اُتنا ہی مقروض تھا جتنا اُس وقت جرمنی تھا مگر اب فرانس کا معاملہ بہت بگڑ چکا ہے۔ اِس وقت فرانس کے قومی قرضے اُس کی خام قومی پیداوار کے ۱۱۳؍فیصد کے مساوی ہیں۔ فرانس کا سالانہ بجٹ خسارہ سرِدست ۶ فیصد سے بھی زائد ہے۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی معیشتوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور اُن کے لیے بھی بحالی کا عمل انتہائی دُشوار گزار ثابت ہورہا ہے۔ کورونا کی وبا نے یورپ کو بھی بُری طرح متاثر کیا تھا۔ یورپ کے متاثر ہونے سے دوسرے خِطّوں کے وہ تمام ممالک بھی شدید متاثر ہوئے تھے جن کی یورپ سے تجارت غیرمعمولی نوعیت کی ہے۔ سامان کی ترسیل کے رُک جانے سے یورپ کے بہت سے ممالک کو روزمرّہ استعمال کی بیشتر اشیا کی قلّت کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فرانس کا بھی یہی حال تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی معیشت کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، حقیقت اُن سے زیادہ خطرناک اور پریشان کُن ہے۔ جاپان کی طرح فرانس میں بھی پنشن کا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ہر محکمہ اور ہر وزارت اِس حوالے سے مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ انسٹیٹیوٹ دیز پالٹکس پبلکز کے بیان کے مطابق سالانہ ۱۸؍ارب یورو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں دِکھائے جارہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ رقم پنشن کی مد میں دی جارہی ہے۔ ایسی کیفیت معیشتی معاملات میں الجھاؤ پیدا کرتی ہے اور حکومتیں مشکلات میں گِھرتی چلی جاتی ہیں۔

فرانس میں سیاسی اُکھاڑ پچھاڑ بھی اب بہت بڑھ گئی ہے۔ بجٹ کو مضبوط بنانے کے حوالے سے سیاست دانوں میں اتفاقِ رائے کم ہے۔ اگر معاملات جلد درست نہ ہوئے تو فرانس میں حکومت ایک سال کے اندر گِر بھی سکتی ہے۔

سیاسی محاذ آرائی بڑھنے سے معاشی معاملات بھی خرابی سے دوچار ہو رہے ہیں۔ اصلاحات کے لیے حمایت گَھٹتی جارہی ہے۔ معیشت میں پیدا ہونے والی خرابی کے نتیجے میں افراطِ زر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ سرکاری بونڈز پر سُود کی شرح کے حوالے سے بھی فرانس اور جرمنی میں اچھا خاصا فرق پایا جاتا ہے۔

یہ بات بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ یورپی یونین کے ممالک میں اگر کبھی بجٹ خسارہ کم تھا یا نہ ہونے کے برابر تھا تو اِس کا سبب یہ نہیں تھا کہ معیشتوں کی کارکردگی اچھی تھی یا سیاسی استحکام نے معاملات کو درست کردیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپی مرکزی بینک کی کارکردگی بہت اچھی تھی اور اُس نے یورپی یونین کے لیے برآمدات کی راہیں بہت حد تک وا کردی تھیں۔ اِس کے نتیجے میں یورپی یونین کے ہر ملک کی معیشت کو کُھل کر پنپنے کا موقع ملا۔

یورپی یونین سمیت پوری دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ہر طرح کے ممالک کے لیے معاشی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ عالمی منڈی راتوں رات اپنے رجحانات بدل لیتی ہے۔ برآمدی تجارت کو متوازن رکھنا انتہائی دُشوار ہوچکا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کا نیٹ ورک اَب تک بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے ڈھانچے میں ایسی بنیادی تبدیلیاں متعارف کرانے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے دنیا بھر کی معیشتوں کو پنپنے کا موقع ملے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ کسی ایک بڑی معیشت کے لڑکھڑانے سے دنیا بھر میں معاشی معاملات بگڑنے لگتے ہیں۔ ایسے میں معاشی معاملات کو درست کرنے کے اقدامات بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتے ہیں کیونکہ کوئی ایک بڑی غلطی پوری دنیا کی معیشت کو داؤ پر لگاسکتی ہے۔                                                     

(مترجم: ابو صباحت)

“Budget deficits globally”.

(“The Globalist”. September 5, 2025)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں