مغربی کنارے کی دو حصوں میں تقسیم کا منصوبہ

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو دو ایسے حصّوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا ایک مقصد مستقبل میں کسی بھی اعتبار سے فلسطینی ریاست کے تصوّر ہی کو ناکام بنانا ہے۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں ایک نیا غزہ ٹھہرا کر اِسے بھی اُسی طرح تورا بورا کر دیا جائے، جس طرح امریکا نے بعض پہاڑوں کو ڈیزی کٹر بموں سے تورا بورا کر دیا تھا۔ اس کا تیسرا مقصد ان علاقوں میں یہودی نوآبادیات کی صورت میں نئی یہودی بستیاں بنانا ہے۔

اسرائیل کے متنازع اور انتہا پسند وزیر خزانہ بزازیل سموٹریک نے ۱۴؍اگست کو ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اب وہ اس بارے میں مختلف حوالوں سے منعقد ہونے والے پروگراموں اور تقریبات میں خطاب کرتے ہیں اور خود ہی اس منصوبے پر مبارک بادیں دیتے اور وصول کرتے ہیں۔

ایک پروگرام میں انہوں نے حال ہی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی میز سے کسی بھی فلسطینی ریاست کو ہمیشہ کے لیے مٹادیا گیا ہے اور یہ کام نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سموٹریک خود بھی آبادکار صہیونی یا نوآبادیاتی صہیونی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی نئی یہودی بستی بنتی ہے، کوئی محلہ یا گلی بنائی جاتی ہے، کوئی نیا ہاؤسنگ یونٹ قائم کیا جاتا ہے، یہ فلسطینی ریاست کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونکی جاتی ہے۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ مغربی کنارے کو اوسلو معاہدوں کے ذریعے مختلف علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ مغربی کنارے کا کل رقبہ ۲۱۸۰ میل یا ۵۶۴۰ مربع کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ یہاں تیس لاکھ یا اس سے کم و بیش فلسطینی آباد ہیں۔ یہ دریائے اُردن کا غربی حصہ یا غربِ اُردن بھی کہلاتا ہے اور بنیادی طور پر لیوانت کے نام سے جانا جانے والا خطّہ ہے۔ فلسطینی یہاں کے آبائی طور پر رہنے والے شہری ہیں۔ ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، اس لیے یہ مقبوضہ عرب علاقے کہلاتے ہیں۔

اگر عمومی طور پر سمجھنا ہو تو مغربی کنارے کے علاقوں کو یوں دیکھا جا سکتا ہے:

ایریا A: طولکرم ڈسٹرکٹ     ایریا B: نابلس ڈسٹرکٹ

ایریاC: سلفیت ڈسٹرکٹ        ایریا D: جریکو ڈسٹرکٹ

ایریاE: قلقیلیہ ڈسٹرکٹ         ایریا F: جنین ڈسٹرکٹ

ایریاG: الخلیل ڈسٹرکٹ        ایریاH: رام اللہ ڈسٹرکٹ

ایریا I: بیت اللحم ڈسٹرکٹ

ان ڈسٹرکٹس پر مشتمل ایریاز کو مزید تقسیم کیا گیا ہے، جس طرح E1 یا E2 وغیرہ ۔ اگر E ایریا کو ہی لیں تو یہاں یہودی بستیاں E1 میں اس طرح بنائی گئی ہیں کہ وہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے پشت تک چلی گئی ہیں۔ ان کے لیے گزشتہ بیس سال سے کام جاری ہے۔ ایک موقع پر امریکا کے دباؤ پر یہاں تعمیر و توسیع اور مرمت کا کام کچھ عرصے کے لیے روک دیا گیا تھا۔ یہاں ہر طرح کی آبادکاری اور بستیوں کا کام بین الاقوامی قانون کی رو سے غیرقانونی اور ناجائز ہے۔

اب کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں یہاں یعنی E1 میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا کام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد فوراً نئے گھروں کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق یہاں ۳۵۰۰؍اپارٹمنٹس بنائے جانے کا منصوبہ ہے۔ جہاں یہ گھر بنائے جائیں گے، یہ پہلے سے تعمیر شدہ یہودی بستی Maale Adumim میں توسیعی منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

E1 کا محلِ وقوع اِس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ واحد جغرافیائی رابطہ ہوگا جو مغربی کنارے کے بڑے شہروں شمال میں رام اللہ اور جنوب میں بیت اللحم کو جوڑے گا۔ یہ وسیع فلسطینی آبادیوں کے علاقے ہیں۔ Maale Adumim کے میئر گائے یفراچ نے اس منصوبے کے بارے میں کہا کہ مجھے اس کا اعلان کر کے خوشی ہو رہی ہے کہ سول ایڈ منسٹریشن نے اس کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بات بہت اہم ہے کہ رام اللہ اور بیت اللحم کا درمیانی فاصلہ ۲۲ کلومیٹر ہے۔ یہ ایک وسیع علاقہ ہے۔ ان دونوں شہروں کے درمیان سفر کرنے والے کسی بھی فلسطینی کو نہایت مشکل پیش آئے گی اور اسے درمیان میں آنے والی متعدد اسرائیلی چیک پوسٹوں سے گزرنا ہوگا۔ ہر مقام پر پرمٹ دکھانا ہوگا اور سفر کی وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔ آزاد فلسطینی ریاست کا خواب دیکھنے والوں کو اُمید تھی کہ وہ بیت اللحم سے رام اللہ تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔ اب یہ خواب محض ایک خواب ہی رہے گا۔

Peace Now تنظیم کا کہنا ہے کہ E1 بنانے کا واحد مقصد فلسطینی ریاست کے خواب کو ہی ختم کرنا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موجود ہمارے دوستوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ دو ریاستی حل کی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کے ایسے اقدامات کامیاب نہیں ہوں گے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ E1 کا منصوبہ اور اسی طرح دیگر علاقوں میں ہر منصوبے سے بین الاقوامی قانون پامال کرنے کا سلسلہ روکا جائے ۔ اس بات کا خدشہ اب خطرہ بن رہا ہے کہ ۲۲ کلومیٹر کے وسیع رقبے پر نئی یہودی بستی یا بستیاں تعمیر کی جائیں گی۔

ایک سابق اسرائیلی فوجی کے قائم کردہ رائٹس گروپ کا کہنا ہے کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس بارے میں موجود خاموشی کو توڑا جائے ۔ یہ دراصل زمین ہتھیانے کے منصوبے ہیں۔ یہ فلسطینی سرزمین کو تنگ کرتے اور یہودی بستیاں وسیع کرتے جارہے ہیں۔

پہلے ان شہروں میں ۲ لاکھ ۵۰ ہزار یہودی باہر سے لا کر بسائے گئے تھے۔ اب ان کی تعداد ۷ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نیتن یاہو نے بارہا کہا ہے کہ اب کسی فلسطینی ریاست کا وجود ممکن نہیں ہے۔ اس لیے جو ممالک دو ریاستوں کی بات کر رہے ہیں، وہ اس کو بھول جائیں۔

مغربی کنارے میں نئے منصوبوں کے لیے اسرائیل تشدد کا استعمال کر رہا ہے۔ تشدد کے اس ہتھکنڈے کو Iron Wall Offensive کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا بڑا ہدف مغربی کنارے میں شمال اور جنوب کو الگ تھلگ کرنا ہے۔ فلسطینی شہروں میں تشدد کی نئی لہر دوڑا دی گئی ہے۔ پناہ گزین کیمپوں میں بھی چھاپے، جگہ جگہ گرفتاریاں، سر عام مار پیٹ اور قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد علاقہ ہے جہاں یہ سب بہت کھلے عام ہو رہا ہے اور قابض فوج ان واقعات میں خود ملوث ہے۔

جب سے اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے مغربی کنارے کو ضم کرنے کی قرارداد منظور کی ہے تا کہ وہ یہاں یہودی بستیوں کے ناجائز قیام اور تعمیر وتوسیع میں تیزی لا سکے، تشدد اور دہشت گردی میں بھی اس سے کہیں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

اگر اس سال میں غور کیا جائے تو فروری تا اپریل غزہ پر قبضے کے دعوؤں کی تین بار نا کامی کا ملبہ مغربی کنارے پر بھی ڈال کر جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔

رام اللہ کے علاقے تر موحیہ میں اسکول کے بچوں پر اسرائیلی فوج نے اس وقت بلا جواز فائر کھول دیا جب وہ گھر واپس آرہے تھے۔ اس فائرنگ کی زد میں آکر ۱۴ سالہ فلسطینی امریکی شہری عمر سعد ہلاک ہو گئے ۔ اس سے اگلے دن فوج نے پھر فائرنگ کر کے ۳۰ سالہ فلسطینی خاتون امینہ یعقوب کو شمالی مغربی کنارے کے علاقے سلفیٹ میں ہلاک کر دیا۔

اس سال اپریل تک ۲۰۲۳ء کے بعد سے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے ۸۰۰ فلسطینی شہید کیے جاچکے ہیں۔ ان تمام شہادتوں میں قابض فوج نے قوت کا بے دریغ استعمال کیا اور اس سرگرمی کو زیادہ تر مشغلے کے طور پر اختیار کیا۔

اپریل ۲۰۲۵ء  کے آغاز میں ۳۳ سالہ نوجوان حمزہ خماش کو گولی مار دی گئی۔ اس کے بھائی کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ واقعہ نابلس میں پیش آیا۔ اسی دن قابض فوج نے Dheishah پناہ گزین کیمپ پر حملہ کیا۔ یہ کیمپ جنوبی بیت اللحم میں واقع ہے۔ اس حملے میں ۱۵ سالہ فلسطینی لڑکے اور ۴۶ اور ۵۰ سال کے دو مردوں کو فائرنگ سے شدید زخمی کر دیا گیا۔ اس کیمپ پر حملہ سات گھنٹے جاری رہا۔ اس حملے میں گھر گھر تلاشی ، بچوں کو ہراساں کیا جانا، گھر یلو سامان کی توڑ پھوڑ اور خواتین کی بے حرمتی اور متعدد گرفتاریاں بھی کی گئیں ۔ اس کیمپ پر پمفلٹ بھی گرائے گئے جن میں دھمکی دی گئی کہ تم لوگوں کا بھی وہی حال کیا جائے گا جس کا سامنا طولکرم اور جنین کے فلسطینیوں کو کرنا پڑا، اس لیے اپنے کیمپ میں کسی بھی طرح کی عسکری سرگرمی سے باز آجاؤ۔ پمفلٹ میں مغربی کیمپ کے ایک محلے کی تصویر بھی تھی جس میں ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کی سڑکوں پر پریڈ کرائی گئی تھی۔

جنین میں قابض فوج نے آبادی کو گھروں سے نکالا۔ اس کی فضائیہ نے ان گھروں کو نشانے پر رکھ لیا۔ کیمپ اور اس کے ارد گرد سے نوجوانوں کو مشکوک قرار دے کر گرفتار کر لیا۔ ان سے ان کے سیل فون چھین لیے گئے۔ فوجی آپریشن اس وقت شروع ہوا جب سال کے شروع میں سیز فائر معاہدے پر دستخط ہو چکے تھے۔ اسرائیل نے خود ہی اس معاہدے کو توڑا۔ اس کے بعد آپریشن آئرن وال شروع کر دیا گیا۔ پہلے جنین میں اس کو شروع کیا گیا اور پھر دوسرے علاقوں تک پھیلا دیا گیا۔

یہ آپریشن مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی طے شدہ کارروائی کا آغاز تھا۔ اس کا اعلان قابض وزیر خزانہ بزازیل سموٹر یک بار بار کر چکے تھے۔ یر غمال اسرائیلیوں کے خاندانوں نے اس بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ دراصل بنیامین نیتن یاہو کی طرف سے بزازیل سموٹریک کے لیے ایک رشوت تھی جس کے بدلے میں بزازیل نے سیز فائر پردستخط کرنا قبول کیا تھا۔

بزازیل سموٹر ایک کا یہ ایجنڈا ہے کہ وہ فلسطینی پناہ گزین کیمپوں اور وہاں کے باسیوں کو ہر حال میں اور ہر طرح سے کچلنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی کابینہ کے ہر رکن کی ذہنیت یہی ہے۔ ان میں سے ہر ایک مجرمانہ کردار اور ذہنیت کا حامل ہے۔ یہ سب مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنا چاہتے ہیں۔ مغربی کنارے میں ہونے والے تمام فوجی آپریشن غزہ میں ہونے والے حملوں کی بازگشت ہیں۔ غزہ میں اسرائیل نے زمینی حملے میں رفح کو بھی شامل کرلیا ہے۔ اسے غزہ پر قبضہ کرنے کی کوئی جلدی بھی نہیں ہے۔ مغربی کنارے میں اس کے غیر قانونی اقدامات اس لیے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ان کی آڑ لے کر یہودی بستیاں آباد کی جا رہی ہیں۔

اسی سال ۳۰ مارچ کو اسرائیل کی کابینہ نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ تبدیل اور ضم شدہ مغربی کنارے میں سڑکوں کا جال کس طرح بچھایا جائے گا، فلسطینی زمینیں کس طرح ختم کی جائیں گی ، ان کے گھر کس طرح مسمار کیے جائیں گے اور یہ سڑکیں وہیں سے ہی نکالی جائیں گے۔ اس پلان کے تحت ایک سڑک ایسی ہو گی جو یروشلم سے خم کھاتی ہوئی وادی اردن تک جائے گی ۔ اس طرح فلسطینی مسافروں کو بیت اللحم سے جیر کو جانا ہو گا تو وہ ان علاقوں سے الگ ہو جائیں گے اور یروشلم ( بیت المقدس ) سے ان کا رابطہ ہی ختم ہو جائے گا۔

موجودہ شاہراہ پر فلسطینیوں کو سفر کی اجازت ہے۔ نئی سڑک پر صرف اسرائیلی سفر کر سکیں گے۔ یہ شاہراہ اسرائیل کی نو آبادیات کو یروشلم یعنی بیت المقدس سے ملائے گی۔ اسے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے وادی اردن تک پھیلا دیا جائے گا۔ اس منصوبے کی اہم بات یہ ہے کہ یہ دوسرا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو اسرائیلی یہودی بستی Maale Adumim تک جائے گا جس میں ۴ لاکھ یہودی آباد کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی کابینہ کے ۳۰ مارچ کے اجلاس میں ایک اور منصوبے کی بھی منظوری دی گئی جس سے مغربی کنارے کو القدس اور مقبوضہ بیت المقدس کی آبادی سے جدا کر دیا جائے گا۔ جب یہودی بستیوں کو بیت المقدس سے جوڑا جائے گا تو شمال اور جنوب سے مغربی کنارہ الگ کر دیا جائے گا۔ اس طرح ان منصوبوں کی تکمیل سے مسجدِ اقصیٰ تک رسائی فلسطینیوں کے لیے خواب بنادی جائے گی۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’براہِ راست‘‘ لاہور۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں