جہنم سے بھی بدتر اسرائیلی عقوبت خانے

اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں انسانیت سوز ماحول میں رکھا گیا، مظالم ڈھائے گئے، برہنہ بھی کیا جاتا رہا، عصمتیں بھی پامال کی گئیں۔ بہت سے معاملات میں کتوں کے ذریعے بھی ہراساں کیا گیا۔
محمد ذکی البکری نے اپنی کہانی کسی جیل کے نام سے شروع نہیں کی۔ اُس نے ایک کتے کے ذکر سے اپنا احوال بتانا شروع کیا۔ ’الجزیرہ‘ نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے جس کا نام ’باڈیز آف ایویڈنس: اسرائیلز ڈارکیسٹ ویپن‘ ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں انسانیت سوز مناظر عام تھے۔ قیدیوں کو برہنہ کرکے باندھ دیا جاتا تھا اور یہ سب کچھ دیکھ کر اسرائیلی سپاہی خوب ہنستے تھے اور وڈیوز بھی بناتے تھے۔ ذکی البکری نے بتایا کہ وہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں برپا کی جانے والی نسلی تطہیر سے بمشکل بچ پایا۔ اُس کا تعلق غربِ اردن کے علاقے خان یونس سے ہے۔ اُس نے پانچ اسرائیلی جیلوں میں ۲۰ ماہ گزارے۔ اسرائیلی جیلوں کے حکام فلسطینی قیدیوں کے ہاتھ پیچھے کی طرف رکھ کر ہتھکڑی لگاتے تھے۔ ٹانگیں بھی باندھ دی جاتی تھیں اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی تھی۔
ذکی البکری کہتے ہیں کہ اسرائیلی جیلوں کے حالات ایسے انسانیت سوز تھے اور لوگوں نے اِتنے ظلم سہے کہ اگر اُن سے کہا جائے کہ کُھل کر بیان کریں تو وہ شاید پوری طرح بیان بھی نہ کر پائیں۔ اُن باتوں کے بیان کرنے سے بھی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برہنہ کرنے کے بعد اُن سے ’’زیادتی‘‘ کی گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن سمیت ۷ فلسطینیوں پر کتوں کے ذریعے جنسی حملے کرائے گئے۔
کئی ماہ کی رپورٹنگ کے دوران ’الجزیرہ‘ کی ڈاکیومینٹری ٹیم نے سابق فلسطینی قیدیوں سے کتوں کے ذریعے کرائے جانے والے جنسی حملوں سے متعلق شواہد جمع کیے۔ قیدیوں کو شدید خوفزدہ کرنے کا یہ کوئی واحد حربہ نہ تھا۔ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے اور بھی کئی طریقے اسرائیلی جیلوں میں آزمائے گئے۔ مقصود صرف یہ تھا کہ قیدیوں کی عزتِ نفس اِس قدر مجروح ہو جائے کہ اُن کا مورال خطرناک حد تک گر جائے اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ زندہ رہنے کے قابل نہ رہ سکیں۔
کئی سابق فلسطینی قیدیوں نے وہ سب کچھ بتایا جو اُن پر بیتا تھا مگر اُن کی استدعا تھی کہ ان کا نام پوشیدہ رکھا جائے۔ ایک فلسطینی نے بتایا کہ اُسے باری باری ۸؍اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں رکھا گیا، تفتیش اور تحقیقات کے نام پر غیرمعمولی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان قیدیوں پر تربیت یافتہ کتّے چھوڑ دیے جاتے تھے جو اُنہیں محض بھونک کر ہراساں نہیں کرتے تھے بلکہ اُن پر حملے بھی کرتے تھے۔ بہت سے قیدی اِن کتوں کے کاٹے سے شدید زخمی ہوئے اور پھر کبھی مکمل بحال نہ ہو پائے۔ اسرائیل کی ’’سدے تائمن‘‘ نامی جیل میں ایسے کئی واقعات رونما ہوئے۔
یہ سب کچھ محض جیلوں کی چار دیواری تک محدود نہ تھا۔ فلسطینی علاقے رملہ کے ’ویمنز سینٹر فار لیگل ایڈ اینڈ کائونسلنگ‘ کی انٹرنیشنل ایڈووکیسی کورآرڈی نیٹر کفایہ خرائم نے ’الجزیرہ‘ کو الخلیل کی ایک فیملی پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں بتایا۔ یہ جولائی ۲۰۲۳ء کی بات ہے۔ اسرائیلی فوجی کتوں کے ساتھ بزور گھر میں داخل ہوئے۔ خواتین کو حکم دیا گیا کہ برہنہ ہوجائیں اور گھر کے اندر سپاہیوں کے ساتھ مارچ کریں۔
شیریں (جس کا اصل نام پوشیدہ رکھا گیا ہے) اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں وقت گزار چکی ہے۔ اُس نے بھی اسرائیلی مظالم جھیلے ہیں اور اب وہ ایک نمایاں سیاسی کارکن ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ کتوں کو بروئے کار لانے کے علاوہ قیدیوں کو بار بار برہنہ بھی کیا جاتا تھا۔ جنین کے علاقے سے تعلق رکھنے والے نوعمر عدنان حسن نے بتایا کہ اُسے ۱۷؍سال کی عمر میں گرفتار کیا گیا اور ۵ ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔ مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے سابق فلسطینی قیدی میس ابو غوش نے بتایا کہ اسرائیلی جیلوں میں انسانیت سوز مظالم معمول کا حصہ ہیں۔ قیدیوں کی انتہائی تذلیل یقینی بنانے میں کوئی الجھن یا قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔ ان تمام قیدیوں کے بیانات یا گواہیوں سے کسی ایک جیل، ایک گارڈ یا ایک واقعے کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ اسرائیل کی تمام ہی جیلوں کا معاملہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کو انتہائی نوعیت کے حالات سے دوچار رکھا جاتا ہے۔ یہ محض واقعات نہیں بلکہ سسٹم ہے۔ ایک مکمل نظام کے تحت فلسطینی قیدیوں کا مورال ہلاکت خیز حد تک گرانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ وہ کبھی مکمل بحالی کی زندگی بسر ہی نہ کرسکیں اور جینے سے اُن کا جی اُچاٹ ہو جائے۔
فلسطینی حکام نے مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ۱۹۶۷ء سے اب تک اسرائیلی جیلوں میں ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو طرح طرح کے مصائب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ۱۹۶۷ء سے ۲۰۰۶ء کے دوران کم و بیش آٹھ لاکھ فلسطینیوں کو اسرائیلی جیلوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ اپریل ۲۰۰۶ء میں ’ادامیر پریزنر سپورٹ اینڈ ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن‘ نے بتایا کہ سرِدست اسرائیلی جیلوں میں ۶۰۰,۹ فلسطینی سیاسی قیدی ہیں۔ ان میں ۵۳۲,۳ وہ ہیں جنہیں انتظامی حراست کے تحت رکھا گیا ہے۔ ان پر کوئی الزام عائد کیا گیا ہے نہ مقدمہ ہی چلایا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں فلسطینی جیلوں میں ۳۴۲ بچے اور ۸۴ خواتین ہیں۔
بیشتر فلسطینیوں کے لیے اسرائیلی جیلیں محض منفی نوعیت کا تجربہ ہی نہیں بلکہ زندگی اور نفسی ساخت کا حصہ ہیں۔ کسی بھی فلسطینی کو اُس کے گھر، دفتر، اسپتال اور پناہ گاہ سے، فوج کے چھاپے کے دوران یا چیک پوائنٹ پر حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی فلسطینی مرد یا عورت کو حراست میں لینے کے بعد سپاہیوں، خفیہ اداروں کے افسروں، فوج کے حراستی مراکز، پولیس کی تحویل، فوجی عدالتوں اور جیلوں کے مراحل سے گزارا جاسکتا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں سدے تائمن، اوفر، نیگیو، ایشکیلون، تفتیشی مراکز، چیک پوائنٹس اور فوجی کیمپ نمایاں ہیں۔
گرفتاری کے بعد قیدی کا نام صرف نمبر میں تبدیل ہوتا ہے۔ حراست میں لیے گئے فرد کو کپڑوں سے محروم کیا جاتا ہے۔ آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔ ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے جاتے ہیں۔ کھانا کم دیا جاتا ہے۔ سونے نہیں دیا جاتا۔ کتوں کی اِنٹری ہوتی ہے۔ قیدیوں کو عصمت سے محروم کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ بہت سوں کو یہ سب کچھ جھیلنا ہی پڑتا ہے۔ بعض نے بتایا کہ اُن سے محض زیادتی ہی نہیں کی گئی بلکہ وڈیوز بھی بنائی گئیں۔ بیشتر فلسطینی قیدیوں کا کہنا ہے کہ شکایت کا کوئی فائدہ نہیں۔ کارروائی تو کیا ہوگی، شُنوائی بھی نہیں ہوتی۔
ذکی البکری نے بتایا کہ کتوں کو تفتیش کے دوران محض موجود ہی نہیں رکھا جاتا بلکہ اُن سے قیدیوں پر حملے بھی کرائے جاتے ہیں۔ قیدیوں کے گرد سپاہی کتوں کو ٹہلاتے ہیں اور لاتیں مارتے جاتے ہیں۔
فلسطینی قیدی یہ سب کچھ اِس لیے جھیلتے ہیں کہ اِس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں۔ وہ یکسر بے اختیار ہوتے ہیں۔ سپاہی تفتیش کے دوران تشدد ڈھاتے ہوئے ہنستے ہیں، قہقہے لگاتے ہیں، طنز کرتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اِس پوری ذلت کی وڈیوز بھی بنائی جاتی ہیں۔ ’الجزیرہ‘ کو بہت کچھ بتایا گیا جو اِس خیال سے بیان نہیں کیا جارہا کہ اُسے سُن اور پڑھ کر لوگ مزید بے مزا ہوں گے، مزاج میں مزید تکدّر پیدا ہوگا۔ بنیادی طریقِ کار یہ ہے کہ کتّے بار بار نمودار ہوتے ہیں اور قیدیوں کو انتہائی نوعیت کی تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ اسرائیلی جیلوں کے حالات چند قیدیوں ہی نے بیان کیے ہیں۔ بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں تشدد عام ہے۔ اور انسانیت سوز سلوک بھی اس قدر اور اس حد تک ہے کہ اُنہیں بیان کرتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ کتوں کا استعمال اس قدر ہے کہ اُنہیں انسان ہی سمجھا جانا چاہیے یعنی وہ اپنے ہینڈلرز کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ جیسے ہی اشارہ ہوتا ہے، یہ تربیت یافتہ کتے فلسطینی قیدیوں پر پِل پڑتے ہیں۔
ایک فلسطینی قیدی نے بتایا کہ یہ کتے اس قدر تربیت ہوتے ہیں کہ اشارہ ہونے پر منہ میں دبائی ہوئی فولادی سلاخ سے قیدی کے سر کو نشانہ بنانے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ جسم کو نوچتے ہیں، زیادتی کی کوشش کرتے ہیں۔
ریاستی دیواروں کے پیچھے
اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں سے کی جانے والی تفتیش کے دوران تشدد اور کتوں کے بے دریغ استعمال سے متعلق تفصیلات نے دنیا بھر کے میڈیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اِس حوالے سے اسرائیل کو غیرمعمولی تنقید کا سامنا ہے۔ ایک طرف تو فلسطینیوں کی طرف سے عائد کیے جانے والے الزامات ہیں اور دوسری طرف اسرائیلی حکام کی طرف سے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اِن مظالم اور زیادتیوں سے کیا جانے والا انکار ہے۔ اسرائیلی حکومت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں سے انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے یا تشدد ہی کیا جاتا ہے۔
جن فلسطینیوں اور تنظیموں نے اسرائیلی حکام کو بدسلوکی کا ذمہ دار قرار دیا ہے، اُن کے یہ الزامات راتوں رات منظرِعام پر نہیں آئے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی خصوصی رابطہ کار فرانشیسکا البانیزی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ فلسطینیوں کو ایک طویل مدت سے شدید انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اُن کی وڈیوز بھی بنائی گئی ہیں اور کتوں سمیت دیگر جانوروں کو بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ فرانسیسکا البانیزی کا کہنا ہے کہ یہ تمام وہ حقائق ہیں جن سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔ اسرائیلی حکام، سپاہی اور تفتیش کار ایک باقاعدہ نظام اور طریقِ کار کے تحت کام کرتے ہیں۔ فلسطینی قیدیوں کو زنجیروں سے اس حد تک جکڑ کر رکھا جاتا ہے کہ خون نکل آتا ہے۔ اُنہیں بلاجواز مارا پیٹا جاتا ہے۔ گھسیٹا جاتا ہے۔ بھوکا رکھا جاتا ہے۔ سخت سرد یا سخت گرم ماحول کے حوالے کیا جاتا ہے۔ علاج کی سہولت دینے سے یکسر انکار کیا جاتا ہے۔ کتوں سے حملے کرائے جاتے ہیں۔ قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ جنسی ہراساں کیا جاتا ہے۔ زیادتی کی جاتی ہے۔ جبری برہنہ کیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ گھر کے دیگر افراد کو بھی مارنے یا جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔
کفایہ خرائم کہتی ہیں کہ فلسطینیوں کو انتہائی نوعیت کے مظالم کا سامنا اِس لیے کرنا پڑتا ہے کہ اسرائیلی حکام اُنہیں خاموش رکھنا چاہتے ہیں۔ فلسطینی مرد اور لڑکے بالعموم اپنی کہانی اِس لیے نہیں سُناتے کہ اُنہیں اپنی بدنامی کا خوف ہوتا ہے، معاشرہ اُنہیں عجیب نظروں سے دیکھتا ہے۔ اس معاملے میں خواتین زیادہ الجھن کا شکار رہتی ہیں۔ وہ کسی کو بتا نہیں پاتیں کہ اُن کی عصمت پامال کی گئی۔ یہی حال بچوں کا بھی ہے۔ وہ بھی بتا نہیں پاتے کہ اُنہیں اسرائیلی جیلوں میں کس نوعیت کے مسائل اور مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کے پاس اپنی کہانی بیان کرنے کے لیے موزوں الفاظ بھی نہیں ہوتے۔ یہی سبب ہے کہ فلسطینیوں نے جو مصائب ’الجزیرہ‘ کے رپورٹنگ پینل کے سامنے بیان کیے ہیں، وہ اہم ہیں، اُنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ کوئی قانونی مقدمات نہیں ہیں۔ یہ ٹوٹی پھوٹی یادیں ہیں جو شدید خوف اور اشتعال کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ یہ اُن لوگوں کا قصہ ہے کہ جن کے لیے کسی نہ کسی طور اپنے وجود کو بچا پانا ہی سب کچھ تھا۔ وہ بقا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔
تذلیل کا ڈھانچا
نقب کے صحرائی علاقے میں قائم ’سدے تائمن‘ نامی اسرائیلی ملٹری حراستی مرکز ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد فلسطینیوں پر انتہائی بہیمانہ تشدد کے حوالے سے خبروں میں نمایاں ہوکر ابھرا ہے۔ اس جیل کے حوالے سے خبریں آئی ہیں کہ فلسطینیوں کو زنجیروں میں باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے۔ بیمار پڑنے یا زخمی ہونے کی صورت میں طبی سہولت بھی نہیں دی جاتی۔ بہت زیادہ تشدد بھی کیا جاتا ہے اور زیادتی کے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔
پانچ اسرائیلی فوجیوں پر ’سدے تائمن‘ جیل میں ایک فلسطینی قیدی سے زیادتی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ نام نہاد تفتیش کا مرحلہ مکمل کیا گیا۔ اِس کے بعد اسرائیلی حکام نے مارچ ۲۰۲۶ء میں اِن فوجیوں پر عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کردیا۔ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ اسرائیلی حکومت یہ بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ فلسطینیوں قیدیوں کو انسانیت سوز سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جن فلسطینیوں کو حراست میں لیا جاتا ہے، اُنہیں کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ فوجی حراستی مرکز، خفیہ اداروں کے ہاتھوں پوچھ گچھ، پولیس کی تحویل، فوجی عدالتیں اور رسمی جیلیں۔ اسرائیلی پریزن سروس اور پولیس کو اسرائیل میں قومی سلامتی کی وزارت کے ماتحت رکھا گیا ہے۔ اِس کی قیادت اتامر بین گوِر کے ہاتھ میں ہے۔ ’سدے تائمن‘ جیسے تفتیشی اور حراستی مراکز اسرائیلی فوج کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے ’شِن بیت‘ کو وزیرِاعظم ہاؤس کے ماتحت رکھا گیا ہے۔ وزارتِ انصاف ریاست کی قانونی پالیسی، استغاثہ اور حکومت کے قانونی دفاع کی ذمہ دار ہے۔ ذمہ داری کئی حصوں میں بانٹی گئی ہے۔
کوئی بھی شخص سپاہیوں کے ہاتھوں قید ہوسکتا ہے، خفیہ اداروں کے افسر پوچھ گچھ کرسکتے ہیں، جیل کے گارڈز اُس کی نگرانی کرسکتے ہیں، اُسے فوجی عدالتوں کے روبرو پیش کیا جاسکتا ہے اور سویلین لیگل باڈیز کے ذریعے بھی اُن کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ سوال جواب کے مرحلے سے گزرنے کی بنیاد پر کوئی بھی ادارہ کسی بھی قیدی کا کسی بھی چین آف کمانڈ کے حوالے کرسکتا ہے۔ یہ تمام معاملات اسرائیل میں حراست سے متعلق ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ یہی سبب ہے کہ فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کے بانی اور ڈائریکٹر راجی سَورانی کہتے ہیں کہ معاملہ اسرائیل کی کسی ایک جیل کا نہیں ہے۔ سَورانی نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ ہمارے سامنے جرائم بھی ہیں اور شواہد بھی۔ چین آف کمانڈ بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ سَورانی کے مطابق ’سدے تائمن‘ تو برفانی تودے کا محض سِرا ہے۔
جنسی تشدد بحیثیت ہتھیار
حراستی مراکز میں جنسی تشدد عصمت دری، عصمت دری کی دھمکیوں، بزور برہنہ کیے جانے، بہت زیادہ جامہ تلاشی لیے جانے اور جنسی بنیاد پر تذلیل جیسے واقعات پر مشتمل ہوتا ہے۔
جو کچھ اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں ہوتا رہا ہے، وہ بین الاقوامی قانونی تحت بین السطور اور نیت کی بنیاد پر جنگی جرم، انسانیت کے خلاف جرم یا نسلی تطہیر کا اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے بظاہر پالیسی کے تحت جنسی تشدد کو ہتھیار کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ جنسی معاملات میں انتہائی نوعیت کی بدسلوکی کا سامنا کرنے والوں کی نفسی ساخت انتہائی متاثر ہوتی ہے۔ وہ زندگی بھر اپنے آپ سے شرمندہ رہتے ہیں۔ جنسی درندگی کا شکار بننے والوں کا مورال جان لیوا حد تک گر جاتا ہے، زندہ رہنے میں اُن کی دلچسپی بہت نمایاں حد تک گھٹ جاتی ہے۔ اور معاملہ صرف جنسی تشدد تک محدود نہیں رہتا۔ اِس قبیح عمل کی وڈیو بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ اس گھناؤنے فعل میں اسرائیلی خواتین حکام بھی شریک ہوتی ہیں۔ کئی فلسطینیوں کو حراستی مراکز میں شدید جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور وڈیوز بھی تیار کی گئیں۔ شیریں، جس کی اصل شناخت چھپائی گئی ہے، نے بتایا کہ اُسے بار بار برہنہ کیا گیا۔ اہلکار ایک کمرے میں لے گئے اور حکم دیا کہ کپڑے اُتارو۔ اِس کے بعد اُس نے جو کچھ بیان کیا، اُسے بیان کرتے ہوئے انسانیت شرما جاتی ہے۔
عدنان، جس کی اصل شناخت چھپائی گئی ہے، مقبوضہ غربِ اردن کے علاقے جنین سے تعلق رکھتا ہے۔ جب وہ ۱۷؍سال کا تھا تب ایک دن وہ اسکول سے گھر آرہا تھا کہ ایک ایسے مقام پر پھنس گیا جہاں اسرائیلی فوج چھاپہ مار رہی تھی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اُس کی طرف ایک دھماکا خیز آئٹم اُچھالا۔ دھماکا ہوا اور عدنان کا دایاں ہاتھ شدید متاثر ہوا۔ ایک ہفتے کے بعد، جبکہ عدنان کا علاج ہو رہا تھا، اسرائیلی فوجی دوبارہ آئے اور اُسے حراست میں لے لیا۔ اُسے پانچ ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔ اُس نے بتایا کہ اِس مدت کے دوران اُسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جسم کے نازک حصوں پر بھی تشدد کیا گیا۔ کئی بار اُسے برہنہ کیا گیا۔ وہ شدید زخمی تھا مگر اِس بات کا بھی کچھ خیال نہ کیا گیا۔
محمد ابو کباش نے سب سے پہلے کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی۔ جمعہ کی رات، ایک بجے کا وقت تھا۔ یہ مقبوضہ غربِ اردن کے علاقے خربۃ حمصۃ الفوقا کی بات ہے۔ اُس کی فیملی سو رہی تھی۔ وہ ایک فلیش لائٹ لے کر باہر نکلا تو دیکھا کہ سامنے پہاڑی کے ساتھ ساتھ کئی لوگ جمع تھے اور مختلف سمتوں میں رواں تھے۔
ابو کباش کو یہ بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہودی آبادکاروں نے حملہ کردیا ہے۔ وہ مسلح تھے۔ چار یہودی آبادکاروں نے ابوکباش کو پکڑ لیا اور اُس کے ہاتھ باندھ دیے۔ اُس کے ہاتھوں پر خنجر سے وار کیا گیا اور غیرمعمولی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
محمد ابو کباش کے بھائی صہیب نے بتایا کہ فلسطینیوں پر یہودی آبادکاروں نے اُس وقت حملہ کیا جب وہ سو رہے تھے۔ حملہ آوروں نے ہر گھر کو نشانے پر لیا۔ ہر گھر پر کم و بیش بیس یہودی آبادکاروں نے حملہ کیا۔ کچھ لوگ فلسطینیوں کے ہاتھ باندھ رہے تھے اور دیگر افراد انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔
محمد ابو کباش نے بتایا کہ اُس کے بھائی صہیب کو کئی یہودی آبادکاروں نے گھیر رکھا تھا۔ اُسے مارا پیٹا جارہا تھا۔ وہ بہت بڑی تعداد میں تھے اور اسرائیلی فوجیوں یا پولیس اہلکاروں کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ صہیب کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اُس کے جسم کے نازک حصوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ بعد میں ایک انٹرویو میں صہیب نے بتایا کہ نائلون کی رسی سے اُس کے ہاتھ اور پاؤں ہی نہیں باندھے گئے بلکہ شرم گاہ کو بھی باندھا گیا۔
محمد ابو کباش نے بتایا کہ جب یہودی حملہ آور چلے گئے تب صہیب میرے پاس آیا۔ اُس سے چلا بھی نہیں جارہا تھا۔ اُس کی بہت بُری حالت تھی۔ رات تھی، اندھیرا تھا۔ صہیب کی بیوی کو بلایا گیا۔ فلیش لائٹ میں نائلون کی رسی کاٹی گئی۔ ہاتھ اور پاؤں اِس طرح کس کر باندھے گئے تھے کہ جسم سے خون رِسنے لگا تھا۔
یہودی آباد کاروں نے تمام فلسطینیوں کو ایک میدان میں جمع کیا۔ انہوں نے تمام خواتین کو بھی گھروں سے نکالا اور دھمکی دی کہ اگر علاقے کو خالی نہ کیا گیا تو خواتین اور بچوں کی عصمت پامال کردی جائے گی۔
یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ ہی نہیں بلکہ اُن کی روزی روٹی بھی چھین لی۔ محمد ابو کباش نے بتایا کہ اُس کے گھر کی آمدنی کا واحد ذریعہ بھیڑیں ہیں۔ یہ ذریعہ بھی چھین لیا گیا۔ یہودی آبادکار تمام بھیڑیں بھی ساتھ لے گئے۔ اب اِن فلسطینیوں کا ذریعۂ معاش کچھ بھی نہیں۔
فلسطینیوں کی مشکلات کم تو کیا ہوں گی، اُن میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔ لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی یوں چھین لی جاتی ہے کہ وہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور شکایت بھی نہیں کرسکتے۔ اسرائیلی حکام اور عدالتیں اُنہیں انصاف فراہم کرنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں لیتیں۔ بعض خاندانوں کی کئی نسلوں کی کمائی دیکھتے ہی دیکھتے لُٹ جاتی ہے اور وہ بس تکتے ہی رہ جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟
پولیس کو بلایا گیا مگر وہ بہت دیر سے آئی۔ ایک فوجی گاڑی بھی آئی مگر تب تک بستی کے تمام فلسطینیوں کو غیرمعمولی تشدد کا نشانہ بنایا جاچکا تھا۔
اسرائیلی پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی چھان بین کی جارہی ہے۔ ایک زمانہ گزر چکا ہے مگر اب تک پوچھ گچھ اور چھان بین کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ کسی کو سزا نہیں ملی اور کسی کو سرزنش تک نہیں کی گئی۔ جن لوگوں نے اس حوالے سے ’الجزیرہ‘ سے بات کی ہے، اُن میں سے کسی کو بھی انصاف نہیں ملا، زرِتلافی بھی ادا نہیں کیا گیا۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ حالات چاہے کوئی بھی رُخ اختیار کریں، کچھ بھی ہوجائے، وہ لوگ اس علاقے کو کسی طور خیرباد نہیں کہیں گے۔ محمد ابو کباش کا کہنا ہے کہ ہم ثابت قدم ہیں۔ ہمیں کسی بھی ظلم کی پروا نہیں۔ ہم جہاں ہیں، وہیں رہیں گے۔ ہم اپنی زمین سے کسی بھی صورت دست بردار نہیں ہوں گے۔
تردید، صرف تردید
’دی اسرائیل پریزن سروس‘ کا کہنا ہے کہ وہ ایک قانونی ادارہ ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں جاری کی جانے والی رپورٹس کے مطابق ’دی اسرائیلی پریزن سروس‘ کے حکام کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے الزامات بے بنیاد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی جیلوں میں کسی بھی قیدی سے بالائے قانون سلوک روا نہیں رکھا جاتا، کسی پر تشدد نہیں ڈھایا جاتا اور کسی کو بھی علاج کی سہولت سے محروم بھی نہیں رکھا جاتا۔ اسرائیلی حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں تمام قیدیوں کے بنیادی حقوق کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی جیلوں میں فلسطینیوں سے غیرانسانی سلوک روا رکھے جانے اور قیدیوں پر جنسی تشدد ڈھائے جانے سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس کو یکسر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے امریکا میں اسرائیل کے سفیر یحیئیل لیتیر کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیرقانونی اقدام کی صورت میں باضابطہ شکایت درج کی جانی چاہیے اور معیاری جمہوری معاشرے کے بنیادی اصولوں کی طرح اسرائیل بھی ایسی شکایات پر چھان بین اور پوچھ گچھ کرے گا تاکہ سچائی تک پہنچا جاسکے۔
۳ جون ۲۰۲۶ء کو واشنگٹن میں امریکی محکمۂ خارجہ کی میزبانی میں اسرائیلی اور لبنانی وفود کی میٹنگ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکا میں اسرائیلی سفیر لیتیر کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا جیسا کہ بیان کیا جارہا ہے۔
’الجزیرہ‘ نے جو حقائق جمع کیے ہیں، اُن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کا تحفظ یقینی بنانے کی کوشش نہیں کی جاتی اور ایسا لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک خاص نظام یا طریقِ کار کے تحت ہے۔ ایک سابق قیدی کا کہنا ہے کہ جب رہائی کا وقت قریب آگیا تب چند خواتین آئیں جو خود کو وکیل بتارہی تھیں۔ اُنہوں نے جیل کے ماحول کے بارے میں پوچھا۔ وہ قیدیوں سے معلوم کر رہی تھیں کہ کھانا ضرورت کے مطابق دیا جاتا تھا یا نہیں، مارا پیٹا تو نہیں جاتا تھا اور یہ کہ تفتیش کے عمل میں کتے استعمال کیے جاتے تھے یا نہیں۔ یہ خواتین بہت کچھ پوچھ رہی تھیں اور رپورٹ مرتب کرنے کا عندیہ دے رہی تھیں۔ جو کچھ بھی فلسطینیوں پر بیتی تھی، وہ اُنہوں نے اِن نام نہاد وکلا کو بتادیا۔ انہوں نے بہت کچھ نوٹ کیا۔ اِتنا تو ہوا مگر اِس کے بعد کچھ بھی نہ ہوا۔ کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جن فلسطینیوں کو زیادتی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اُن کے نقصان کی تلافی کسی بھی صورت نہیں کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی حکام اور پورے نظامِ سیاست و حکومت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ایک دنیا ہے جو جان چکی ہے کہ جو کچھ بھی اسرائیل کی جیلوں میں ہوتا ہے، وہ انسانیت سوز ہے۔ فلسطینیوں کو انتہائی بے چارگی کے عالم میں یوں نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اُن کا مورال ہلاکت خیز حد تک گرجائے۔
تاریخ کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ یورپ میں یہودیوں کو اس الزام کے تحت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ وہ اپنی عبادت سے متعلق رسوم کے لیے عیسائی بچوں کو قتل کرکے اُن کا خون استعمال کرتے تھے۔ اب اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیدی بھی من گھڑت باتیں پھیلاکر یہودیوں کے خلاف نفرت کی فضا کو پروان چڑھارہے ہیں۔
شرمندہ ہونے کے بجائے اسرائیلی اپنے مظالم کو چھپارہے ہیں، اُس پر مٹی ڈال رہے ہیں اور فلسطینیوں پر یعنی ظلم و ستم کا نشانہ بننے والوں پر الزام دھر رہے ہیں کہ وہ جھوٹ بول کر یہودیوں کو بدنام کر رہے ہیں، اُن کے خلاف فضا تیار کر رہے ہیں۔ اسرائیلی جیلوں میں انسانیت سوز مظالم اور انتہائی نوعیت کی تذلیل کا سامنا کرنے والوں پر جو کچھ بھی بیتی اُسے یکسر جھٹلایا جارہا ہے اور یہ بھی نہیں سوچا جارہا کہ یہ قبیح عمل کس طور انصاف کی راہ میں دیواریں کھڑی کرسکتا ہے۔
اسرائیلی حکام دکھاوے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں۔ وہ شکایات جمع کرتے ہیں اور تفتیش کا دعویٰ کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ایسا بہت کچھ کرتے ہیں جو محض خانہ پُری کے ذیل میں آتا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اگر کوئی اسرائیلی حکام کے بارے میں شکایت کرے، اُنہیں مظالم پر لتاڑے تو اِس عمل کو یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے ہتھکنڈے کے طور پر لیا جاتا ہے یعنی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر کوئی کارروائی تو کیا ہوگی، اُن کی شکایات کو یہودیت مخالف پروپیگنڈا قرار دے کر انتہائی ڈھٹائی کا ثبوت دیا جاتا ہے۔
خیر، گزرے ہوئے زمانوں اور بالخصوص یورپ کے وسطی زمانوں میں ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کا معاملہ بہت مختلف تھا۔ اُس زمانے میں باضابطہ بیانات اور گواہیاں ہوتی تھیں نہ شواہد۔ آج زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ سابق فلسطینی قیدیوں پر جو مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں اُن سے متعلق تفصیلات بھی موجود ہیں اور شواہد بھی۔ فلسطینی تنظیموں اور بنیادی حقوق کے علم بردار اداروں نے اس حوالے سے دستاویزات اور دستاویزی فلمیں بھی تیار کی ہیں۔ بنیادی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اس حوالے سے غیرمعمولی تحرک کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھی اِس پورے معاملے کو بہت آسانی سے نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ جو کچھ بھی اسرائیلی حکام کے ہاتھوں فلسطینیوں کو برداشت کرنا پڑا ہے، وہ سب کچھ اس قدر واضح ہے کہ چھپائے نہیں چھپ سکتا۔ اسرائیلی جیلوں میں ہر طرح کے تشدد اور انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بننے والوں کے لیے اسرائیلی وکیل بِن مرمریلی نے بتایا کہ اُس نے ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد اپنے موکلین سے پہلی بار اپریل ۲۰۲۴ء میں ملاقات کی۔ اُس کا کہنا ہے کہ میں نے کئی فلسطینی قیدیوں کو اس حال میں دیکھا کہ وہ محض ڈھانچا دکھائی دے رہے تھے۔ اقوامِ متحدہ نے کسی بھی انسان کی بقا کے لیے یومیہ ۲۱۰۰ کیلوریز والی خوراک کو لازم قرار دیا ہے جبکہ ان فلسطینی قیدیوں کو یومیہ زیادہ سے زیادہ ۸۰۰ کیلوریز والی خوراک دی جارہی تھی۔ بعض فلسطینی قیدیوں کو ایسا لگا جیسے ہولوکاسٹ سے متعلق کسی فلم کا منظر آنکھوں کے سامنے ہو۔
اقوامِ متحدہ کا انتباہ
اگست ۲۰۲۵ء میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنسی تشدد اور دیگر الزامات کی بنیاد پر اسرائیل کو اقوامِ متحدہ کی سالانہ فہرست میں نوٹس پر رکھا۔ یہ انتہائی شرمناک بات تھی۔ اسرائیلی ریاست پر براہِ راست الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی قیدیوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھارہی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں متعین اسرائیلی سفیر کے نام ایک خط میں انتونیو گوتریس نے لکھا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر جنسی تشدد سے متعلق خبریں انتہائی تشویشناک ہیں۔ اِسی رپورٹ میں حماس کو بھی نوٹس پر رکھا گیا تھا۔
یہ انتباہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی علم بردار تنظیموں کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا کے تمام ممالک کی نمائندہ تنظیم اقوامِ متحدہ کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ہر رپورٹ ایک خاص عمل کے ذریعے مرتب کی جاتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یہ بھی کہا کہ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کو فلسطینی قیدیوں تک رسائی نہیں دی جارہی جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ معاملات کتنے تشویشناک ہیں۔ فلسطینی قیدی جو کچھ بھی کہتے ہیں، اُس کی تصدیق کے لیے لازم ہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کو قیدیوں تک رسائی دی جائے۔ یہی مرکزی نکتہ ہے۔ اگر غیرجانبدار مانیٹرز کو رسائی نہ دی جائے تو پھر کوئی بھی ریاست یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اُس پر جو الزامات عائد کیے جارہے ہیں، ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔
’انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس‘ کا بھی کہنا ہے کہ ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے اب تک اُسے فلسطینی قیدیوں تک رسائی نہیں دی گئی۔ تنظیم چاہتی ہے کہ اُسے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں موجود فلسطینیوں تک رسائی دی جائے تاکہ یہ بھی بتایا جائے کہ جو فلسطینی لاپتا ہیں، وہ کہاں رکھے گئے ہیں۔ عالمی ادارے اس حوالے سے میدان میں ہیں اور اپنے حصے کا کردار پوری تندہی سے ادا کر رہے ہیں۔
جو لوگ اسرائیلی جیلوں سے زندہ واپس آئے ہیں، اُن کے اور اُن کے وکلا کے لیے اسرائیلی منطق دائرے کی طرح ہے یعنی جہاں سے بھی چلیے، پہنچیں گے وہیں جہاں سے چلے تھے۔ فلسطینیوں سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اسرائیلی جیلوں میں ہوا، اُسے ثابت کرو اور جو ادارے اِن معاملات کی تصدیق کرسکتے ہیں، اُنہیں پورے عمل سے باہر رکھا جاتا ہے۔
اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر جو مظالم ڈھائے گئے، اُن کے بارے میں ’الجزیرہ‘ نے جو دستاویزی فلم بنائی ہے، اُس کا نام محض علامت کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔ کاغذی کارروائی میں جو کچھ نہیں ہوتا، وہ جسم پر درج ہوتا ہے۔ جس انسان کو گندے سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہو، وہ اُسے ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔ خراشیں غائب ہو جاتی ہیں۔ دستاویزات غائب ہو جاتی ہیں۔ وڈیوز اُن کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں جو اُنہوں نے تیار کی ہیں۔ طبی ریکارڈ روک دیا جاتا ہے، بگاڑ دیا جاتا ہے، تبدیل کردیا جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ طبی ریکارڈ کبھی تیار ہی نہ کیا جائے۔ گواہ اِدھر سے اُدھر ہوسکتے ہیں۔ اُن کا تبادلہ ہوسکتا ہے، رہائی عمل میں لائی جاسکتی ہے، ملک بدری ہوسکتی ہے۔ اُنہیں ’’خاموش‘‘ کیا جاسکتا ہے یا تذلیل کے ذریعے منہ بند رکھنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ جن پر بیتی ہو، وہ کبھی اپنا دُکھ نہیں بھولتے۔
بنیادی حقوق کی نمایاں تنظیموں نے فلسطینی قیدیوں کی گواہیوں اور بیانات کی مدد سے اچھا خاصا ریکارڈ تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان بیانات کی روشنی میں انسانیت سوز مظالم ڈھانے والے اسرائیلی حراستی مراکز، تفتیشی مراکز اور جیلوں سے متعلق تمام تفصیلات جمع کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ مستقبل میں قانونی کارروائیوں کے لیے اس ریکارڈ کو بروئے کار لایا جاسکے۔
فلسطین کے ’ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل‘ نامی ادارے (ڈی سی آئی) کے اکاؤنٹیبلٹی پروگرام ڈائریکٹر عاید ابو قطیش تمام معاملات کو باضابطہ دستاویزی شکل دینے کے حوالے کام کر رہے ہیں۔ وہ فلسطینی بچوں سے روا رکھے جانے والے گندے سلوک کے ازالے کے حوالے سے خصوصی طور پر متحرک ہیں۔ بنیادی حقوق کے وکیل تحسین علیان نے بھی بین الاقوامی سطح پر احتساب کے حوالے سے کام کیا ہے۔ بنیادی حقوق کے وکیل طیب علی خان نے بھی فلسطینیوں کے مقدمات کو بین الاقوامی سطح پر چلائے جانے کے حوالے تحریک چلائی ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ماہر شانتال میلونی نے بھی فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے متعلق امور کو باضابطہ قانونی اور دستاویزی شکل دینے کے حوالے سے بہت کچھ کیا ہے۔ وہ فلسطینی قیدیوں کی نمائندہ کے طور پر بھی کام کرتی رہی ہیں۔ وہ اسرائیلی حکام کے خلاف فلسطینیوں کی گواہیوں کو قانونی فورم میں لانے کے حوالے سے متحرک رہی ہیں۔ پروفیسر اور انٹرنیشنل کرمنل لا ایکسپرٹ تریستینو مارینیلو فلسطینیوں کے مقدمات کو بین الاقوامی اداروں تک لاکر اُن کے لیے انصاف یقینی بنانے کے حوالے سے غیر معمولی طور پر متحرک رہے ہیں۔
ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی معاملات کو باضابطہ دستاویزی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے تب اسرائیلی ریاست کی طرف سے غیرمعمولی ردِعمل دکھائی دیتا ہے۔ ’الجزیرہ‘ کی فلم میں دکھایا گیا ہے کہ ایک فلسطینی وکیل کے مطابق ایک پندرہ سالہ لڑکے نے بتایا کہ کس طور اُسے ایک چیز کے ذریعے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اُس بچے کا رابطہ امریکی محکمۂ خارجہ سے کرایا گیا۔
بچے کے الزامات پر تفتیش کرنے کے بجائے اسرائیلی حکام نے ڈی سی آئی کے دفتر پر چھاپہ مارا اور پھر اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
استغاثہ کا خلا
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی غیرقانونی اقدام کے حوالے سے تفتیش اور تحقیقات کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف فلسطینی حکام، اسرائیل اور عالمی برادری سے تعلق رکھنے والے بنیادی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں سے انتہائی شرمناک بدسلوکی کے واقعات کی بھی تفتیش و تحقیقات برائے نام ہوئی ہیں۔ یہ سب کچھ باضابطہ ریکارڈ پر ہے۔ اسرائیلی قانون دان مرمریلی کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں ایک ایسا نظام کام کر رہا ہے جو عزت سے کھیلنے دیتا ہے۔ یہ غیرمعمولی تشدد اور ایذا رسانی کی بھی اجازت دیتا ہے۔
دائیں بازو کے سیاسی کارکنوں اور ’اسرائیلی پریزن سروس‘ نے بِن مرمریلی کے خلاف اسرائیل بار ایسوسی ایشن سے شکایت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ریاستی مشینری پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ اُدھر مرمریلی کا کہنا ہے کہ مجھے اِس بات کی کچھ پروا نہیں کہ میرے خلاف کیا کہا جارہا ہے، کیسی شکایات درج کرائی جارہی ہیں۔ اگر یہ لوگ میرا وکالت کا لائسنس بھی ضبط کرلیں تو میں خاموش نہیں رہوں گا۔
’الجزیرہ‘ نے جو دستاویزی فلم تیار کی ہے، اُس میں اسرائیل سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے علم بردار لیئۃ تسیمل کی انٹری بھی ہے۔ وہ عشروں سے فلسطینی قیدیوں کے مقدمات لڑتی آئی ہیں۔ مرمریلی کی طرح لیئۃ تسیمل بھی ریاستی مشینری کے ہاتھوں فلسطینی قیدیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے سے نہیں کتراتیں اور اِس معاملے میں اُنہیں کسی کا بھی کچھ خوف نہیں۔
سابق جج اور انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے دوم نائب صدر کونو تارفوسیر کہتے ہیں کہ سوال صرف اسرائیل کے نظام کا نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ انصاف کے بین الاقوامی نظام میں بھی خامیاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جائے تو ایک دنیا خیرمقدم کرتی ہے۔ اور اگر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا جائے تو تنقید ہوتی ہے۔ یہ دوغلاپن ہے جو ختم ہونا چاہیے۔ یہ تفریق کیوں؟ ایسی صورت میں انصاف کیونکر یقینی بنایا جاسکتا ہے؟ یہ منافقت ناقابلِ قبول ہے۔ جو کچھ تارفوسیر نے کہا ہے، وہ کسی بھی اعتبار سے بڑبولے پن کے ذیل میں نہیں آتا نہ ہی بڑھک ہے۔ سوال ڈھانچے کا ہے۔ کوئی بھی نظام کسی نہ کسی ڈھانچے پر کھڑا ہوتا ہے۔ اگر قانون کا اطلاق بڑی طاقتوں کے دشمنوں ہی پر کیا جائے تو وہ لازمی طور پر محسوس کریں گے کہ قانون کسی بھی طور کوئی ڈھال نہیں۔ اِسے تو پھر طاقت کی ایک الگ زبان ہی کہا اور سمجھا جائے گا۔
تفتیش سے تصدیق
’الجزیرہ‘ نے جو دستاویزی فلم تیار کی ہے، اُس میں کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اسرائیلی جیلوں سے زندہ باہر آنے والوں نے جو کچھ بھی کہا ہے، اُس پورے کے پورے بیانیے کی غیرجانبدار ذرائع سے مکمل تصدیق کرائی جاچکی ہے۔ پوری دستاویزی فلم میں کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ ہر اسرائیلی سپاہی، گارڈ، تفتیش کار یا افسر نے قیدیوں سے بدسلوکی میں حصہ لیا۔ یہ دعویٰ بھی نہیں کیا گیا ہے کہ ہر اسرائیلی جیل، فوجی کیمپ یا تفتیشی مرکز میں جنسی تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔
’الجزیرہ‘ کی دستاویزی فلم میں یہ بات زیادہ زور دے کر بیان کی گئی ہے کہ فلسطینی قیدیوں پر تشدد تواتر سے ڈھایا جاتا رہا۔ اُنہیں بار بار برہنہ کیا جاتا رہا۔ کتوں کے ذریعے ہراساں کرنے کے واقعات بھی تواتر سے رونما ہوئے۔ یہ سب کچھ حراست اور تفتیش کے مختلف مراحل کے دوران ہوا اور بار بار ہوا۔ دستاویزی فلم میں قانون دانوں اور بنیادی حقوق کے لیے کام کرنے والے سیاسی کارکنوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں کہ یہ سب کچھ ہوتا رہا اور شکایات نظر انداز کی گئیں، گواہیاں روکنے کی کوشش کی گئی اور جن لوگوں نے شکایات درج کرائیں اُنہیں مزید ایذا دی گئی۔
’الجزیرہ‘ کی دستاویزی فلم میں بنیادی حقوق کے ماہرین کے بیانات بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ جو کچھ اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں ہوتا رہا ہے، وہ انسانیت کی تذلیل اور ایذا رسانی کے ایک جامع نظام کا حصہ ہے۔ اِن بیانات میں ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کا ذکر ہے جو سپاہیوں، خفیہ اداروں کے افسروں، جیلوں کے گارڈز، پولیس، وکلائے استغاثہ، عدالتوں اور وزارتوں میں منقسم ہے۔ یہی سبب ہے کہ کسی بھی غیرقانونی حرکت یا واردات کے حوالے سے احتساب کا عمل بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی کے زخم دکھائی بھی دے رہے ہوں تب بھی ذمہ داروں کا تعین بہت دشوار ٹھہرتا ہے۔
اسرائیلی حکام کہتے ہیں کہ شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسپکٹرز ہوتے ہیں۔ اِس دعوے کا بھی بار بار اعادہ کیا جاتا ہے کہ اسرائیلی جیلیں قانون کے مطابق کام کرتی ہیں۔ خیر، یہ سب کہنے کی حد تک ہے۔ شکایات پر کارروائی ہو یہ لازم نہیں۔ انسپکٹرز ہیں مگر وہ معائنے کے نام پر برائے نام یا رسمی نوعیت کی کارروائی کرتے ہیں اور اسرائیلی جیلوں کی جو حالت ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔
دنیا کے لیے آزمائش کی گھڑی
بِن مرمریلی کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی اسرائیلی جیلوں میں ہو رہا ہے، وہ انتہائی شرمناک ہے۔ سچ کو ہر حال میں سامنے لانا ہوگا۔ جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا اُنہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں تو وہ کہتا ہے کہ میں حقیقت کو دنیا کی نگاہوں سے چھپانے کے کھیل کا حصہ کبھی نہیں بنوں گا اور نہ ہی یہ کھیل کھیلوں گا۔ پھر چاہے اِس میں میری جان ہی چلی جائے۔
لیئۃ تسیمل بزرگ اسرائیلی قانون دان ہیں جو ۱۹۷۰ء کے عشرے سے فلسطینیوں کے مقدمات لڑتی آئی ہیں۔ وہ اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑے چیلنج کا درجہ رکھتی ہیں۔ وہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ایسے مظالم کے مقدمات لڑتی رہی ہیں جو ثابت ہونے کی صورت میں سزائے موت کی منزل تک لے جاسکتے ہیں۔ اسرائیل کے جن جنگی جرائم کا باضابطہ دستاویزی ثبوت بھی موجود ہے، وہ بھی اب تک سزا کی منزل سے بہت دور ہیں۔ اسرائیلی عدالتیں محض کٹھ پتلی کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔ تسیمل کہتی ہیں کہ اسرائیلی حکومت کو باہر سے وکلا لانے دیجیے، پھر دیکھ لیں گے۔
’الجزیرہ‘ نے جن فلسطینیوں کو دستاویزی فلم کے لیے ریکارڈ کیا، وہ اسرائیلی جیلوں میں اپنے پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انتہائی پریشان اور دل گرفتہ دکھائی دیے۔ بہت سوں کی حالت غیر ہوگئی۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ جو کچھ اُن پر بیتی ہے، اُس کے درست بیان کے لیے موزوں ترین الفاظ کہاں سے لائیں۔
فرانسیسکا البانیزی کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی آواز دبانے کی بھرپور کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اُن کا مورال اِس حد تک گرانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے کہ وہ پھر زندہ رہنے میں بھی زیادہ دلچسپی نہ لیں۔ جنسی تشدد کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے ہاتھوں محض جسم نہیں بلکہ روح بھی زخمی ہو اور لوگ دوبارہ سَر اُٹھانے کے قابل نہ ہوسکیں مگر فلسطینیوں نے ہمیشہ کے لیے سَر جھکانے سے انکار کردیا ہے۔ وہ ایک کمیونٹی کی حیثیت سے اپنے آپ زندہ رکھنے کی بھرپور تگ و دَو کے لیے ڈٹے ہوئے ہیں۔
’الجزیرہ‘ کی دستاویزی فلم ثابت کرتی ہے کہ جب کوئی کمیونٹی طے کرلیتی ہے کہ اُسے ہر حال میں جینا ہے تو وہ زندہ بھی رہتی ہے اور اپنے آپ کو منوانے پر بھی تُلی رہتی ہے۔ جنسی تشدد جیسی اذیت سہنے پر بھی فلسطینیوں میں زندہ رہنے اور خود کو منوانے کی آرزو اور لگن ماند نہیں پڑی۔ بوسنیا ہرزیگووینا کے مسلمانوں کے خلاف بھی سربوں نے یہی ہتھیار استعمال کیا تھا۔ عصمت دری کے ہزاروں واقعات رونما ہوئے تھے۔ بوسنیا ہرزیگووینا کے مسلمانوں کا مورال گرانے کے لیے جنسی تشدد کو بھرپور ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا گیا تھا۔
ایسا نہیں ہے کہ جن سابق فلسطینی قیدیوں سے رابطہ کیا گیا، وہ سبھی بولنے پر رضامند ہوئے۔ کچھ نے کہا کہ اُن کی اپنی زندگی خطرے میں پڑسکتی ہے اور بعض کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے اسرائیلی جیلوں میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی، زبان کھولی تو غزہ میں موجود اُن کے رشتہ داروں کے لیے مسائل پیدا ہوں گے۔ کچھ سابق فلسطینی قیدیوں نے یہ کہتے ہوئے کچھ کہنے سے گریز کیا کہ اب کیا فائدہ ہے کچھ بھی بولنے کا کیونکہ کوئی کارروائی ہونی نہیں تھی۔
جن فلسطینیوں نے سب کچھ بتانے پر رضامندی ظاہر کی، اُن کی بھی غالب اکثریت نے متبادل نام اپنانے کو ترجیح دی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنے آکر بات کریں اور کسی اضافی مشکل کا شکار ہو جائیں۔ اُنہیں ڈر تھا کہ شناخت ظاہر ہونے پر اُن کے ساتھ ساتھ اُن کی فیملی اور خاندان کے ارکان کو بھی پریشان کیا جاسکتا تھا۔ کوئی بھی الزام عائد کرکے اُنہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا تھا۔ (مترجم: ابو صباحت)
“Shackled, bleeding, raped: Palestinians describe abuse in Israel’s prisons”. (“Aljazeera”. June 9, 2026)

تازہ مضامین

سپر پاور بننا اور اِس حیثیت کو برقرار رکھنا بچوں کا کھیل نہیں۔ امریکا واحد سپر پاور ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک

پاکستان خود کو سفارتی معاملات میں ایک انتہائی پسندیدہ مقام پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی غیرمعمولی کوششوں کے باوجود عالمی سفارت کاری کے منظر پر پاکستان بہت نمایاں ہے اور یہ سب کچھ امریکی

امن معاہدہ یا اس کا ایم او یو کہہ لیں، وہ تو ہوگیا، اب سوال آگے کا ہے۔ اللہ کرے اگلے دو مہینوں میں باقاعدہ، مکمل اور حتمی معاہدہ ہوجائے جس کے قوی امکانات ہیں

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور