مودی مات کھاگئے

پاکستان خود کو سفارتی معاملات میں ایک انتہائی پسندیدہ مقام پر دیکھ رہا ہے۔ بھارت کی غیرمعمولی کوششوں کے باوجود عالمی سفارت کاری کے منظر پر پاکستان بہت نمایاں ہے اور یہ سب کچھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، چین اور مشرقِ وسطیٰ کی مہربانی سے ہوا ہے۔ پاکستان کی سفارتی نمو کی شرح کے بڑھنے میں بھارتی قیادت کی چند خامیوں اور خرابیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے چند ایک ایسے اقدامات کیے جن کے نتیجے میں پاکستان کے لیے خود کو منوانے کی گنجائش پیدا ہوئی۔
بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے ایک عشرہ قبل پاکستان کے قائدین کو پہلی بار براہِ راست چیلنج کیا۔ بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’’بھارت تمہیں الگ تھلگ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ہم اس حوالے سے اپنی کوششیں مزید تیز کریں گے اور اُن کا حجم بھی بڑھائیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تم دنیا بھر میں بالکل تنہا رہ جاؤ۔‘‘
یہ ۱۶؍ستمبر ۲۰۱۶ئء کی بات ہے۔ نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں کچھ دن قبل کیے گئے ایک مسلح حملے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔ اس حملے میں ۱۸؍بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ’’پاکستان کے قائدین سُن لیں ہمارے ۱۸؍سپاہیوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔‘‘
نریندر مودی نے جس عزم کا اظہار کیا، وہ ایک عشرے پرانا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں سفارتی سطح پر الگ تھلگ ہونے کی منزل سے بہت دور ہے۔ وہ اس وقت چین کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے اور دوسری طرف پاکستانی قیادت امریکا کا اعتماد جیتنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے عہدِ صدارت میں امریکی قیادت پاکستان کے بہت قریب آگئی ہے۔
ایک سال کے دوران پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے امریکی ایوانِ صدر کا دورہ کیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے مرکزی مصالحت کار اور مذاکرات میں سہولت کار کا کردار عمدگی سے ادا کیا ہے۔ پاکستان کی مساعی سے دونوں ممالک قریب آئے ہیں اور اب جنگ بندی کا باضابطہ معاہدہ ہوا چاہتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مواقع پر پاکستان کی قیادت کو سراہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت اب تک تو امریکا اور دیگر قوتوں کی توجہ پانے میں بہت حد تک کامیاب رہی ہے۔ علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں پاکستانی قیادت نے سنہرے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور علاقائی و عالمی معاملات میں اُس کی کامیابی نمایاں رہی ہے۔ وہ عالمی اور علاقائی، دونوں ہی سطح کی طاقتوں اور اسٹریٹجک بساط کے بڑے مہروں کے ساتھ چلنے میں کامیاب رہی ہے۔ دوسری طرف سیاسی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کی بھرپور سفارتی کامیابیاں یقینی بنانے میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بھارتی قیادت کی اغلاط نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکا کے معروف تھنک ٹینک دی اٹلانٹک کاؤنسل میں جنوبی ایشیا کے امور کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر تنہا کرنے سے متعلق بھارت کی تمام کوششیں بہت حد تک بیک فائر کرگئی ہیں۔ نریندر مودی کے بہت سے اقدامات اُن کے لیے پورس کے ہاتھی ثابت ہوئے ہیں۔
جنگ بندی اور نوبیل کی نامزدگی
۱۰؍مئی ۲۰۲۵ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی حامل ریاستوں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ قابلِ رشک مساعی کے بعد امریکا کے صدر کی حیثیت سے یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے غیرمعمولی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان فوری اور مکمل جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔
اِس کے فوراً پاکستان کے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بیلسٹک میزائل، جیٹ طیاروں اور ڈرونز کی مدد سے ہونے والی چار روزہ لڑائی کو رکوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ گزشتہ برس پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی معرکہ آرائی کئی عشروں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بُری لڑائی تھی۔ سرحدوں پر افواج کا اجتماع تھا۔ دونوں طرف درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔
یہ مسلح تصادم اُس وقت شروع ہوا جب بھارتی فوج نے پاکستان میں بعض مقامات کو دہشت گردی کی مراکز قرار دے کر اُن پر بمباری کی۔ اِس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں نامعلوم مسلح افراد نے ۲۶ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی اُس وقت امریکی گڈ بک میں تھے۔ صدر ٹرمپ سے اُن کے ذاتی تعلقات بھی بہت اچھے تھے۔ انہوں نے چند ماہ قبل ہی امریکی ایوانِ صدر کے اوول آفس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ جنگ بندی کے پاک بھارت معاہدے کے حوالے سے نریندر مودی نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ ہاں، بھارت کے سیکرٹری خارجہ نے جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق کی۔
کچھ ہی دن بعد امریکی صدر نے دونوں ملکوں کو کشمیر کے مسئلہ پر بھی تصفیہ کرانے کی پیشکش کی۔ اس حوالے سے معاملات آگے نہ بڑھ پائے۔ ٹرمپ اپنے آپ کو امن کے مصالحت کار کے طور پر پیش کر رہے تھے اور بھارت کو یہ بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئی۔ معاملہ یہ ہے کہ بھارتی قیادت عشروں سے یہ کہتی آئی ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جتنے بھی متنازع معاملات ہیں، وہ سراسر دوطرفہ نوعیت کے ہیں اور کسی تیسرے فریق کے کسی کردار کی کوئی گنجائش نہیں۔ خیر، ایسا بھی نہیں ہے کہ بھارت نے کبھی نام نہاد دوطرفہ معاملات کو نپٹانے سے متعلق کسی کی مصالحت قبول نہیں کی۔ ۱۹۹۹ء میں کارگل کی جنگ ختم کرانے میں اُس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
جون میں جب نریندر مودی کینیڈا جارہے تھے تب صدر ٹرمپ نے اُن سے کہا کہ واشنگٹن ہوتے ہوئے جائیں۔ مودی نے یہ پیشکش ٹھکرادی۔ انہوں نے ٹیلی فون پر گفتگو میں امریکی صدر سے کہا کہ نئی دہلی تیسرے فریق کی ثالثی یا مصالحت کاری قبول نہیں کرے گا اور یہ بھی کہ مئی میں ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ تھا نہ کہ کسی کی ثالثی کا۔
خیر، مئی میں جو کچھ ہوا تھا، اُس کے حوالے سے فریقین کے دعوے کئی ماہ تک جاری رہے۔ جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق بھی طرح طرح کے دعوے سامنے آتے رہے۔ تب سے اب تک امریکی صدر نے کم و بیش ۳۰ مواقع پر دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ اُنہوں نے کرایا تھا۔ انہوں نے بارہا یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی ایٹمی جنگ ٹالی جس میں لاکھوں ہلاکتیں ہوسکتی تھیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ لڑائی کے پہلے دن بھارت کے جیٹ طیارے مار گرائے تھے۔ یہ گویا پاکستان کے اس بیانیے کی تصدیق تھی کہ اُس نے بھارت کے سات طیارے مار گرائے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی عالمی برادری کو اِس بات کا یقین دلانے میں بھی ناکام رہا کہ مئی ۲۰۲۵ء میں جو کچھ ہوا، اُس میں پاکستان کا کردار نمایاں تھا یعنی لڑائی اُس نے شروع کی تھی۔ مائیکل کوگلمین کہتے ہیں ’’دنیا نے پیچھے ہٹ کر حملوں کے لیے بھارت کی پیٹھ تھپتھپانے سے گریز کیا۔ بڑے ممالک نے محسوس کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت میں پاکستان کا ہاتھ یا کردار ثابت کرنے کے لیے بھارت نے کوئی بھی قابلِ قبول یا ناقابلِ تردید ثبوت فراہم نہیں کیا۔ پاکستان بیانیوں کی عالمی جنگ جیت گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس معرکہ آرائی کے دوران پورے حواس میں رہا اور کئی بھارتی جیٹ طیارے مار گرائے۔ اِس کارنامے کی بدولت پاکستان نے ایک دنیا کی توجہ حاصل کی۔ اور اُس پر متوجہ ہونے والوں میں امریکی ایوانِ صدر بھی شامل تھا۔‘‘
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت اپنے طیاروں کے مار گرائے جانے سے متعلق بیانیے پر کم و بیش تین ہفتوں تک خاموش رہا۔ اِس سے دنیا یہ اندازہ لگانے میں بھرپور مدد ملی کہ پاکستان نے جو کچھ کہا ہے، وہ مبنی بر حقیقت ہے۔ بعد میں بھارت کے ایک جنرل نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے بھارت کے کئی لڑاکا طیارے مار گرائے تھے۔ ہاں، تعداد کی بھارت نے اب تک تصدیق نہیں کی۔
گزشتہ برس کی معرکہ آرائی سے متعلق امور نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی پوزیشن نازک کردی۔ نریندر مودی نے پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے سے انکار کیا جس کے نتیجے میں بھارت اور امریکا کے تعلقات میں تھوڑی سی سرد مہری اور تلخی در آئی۔
دوسری طرف پاکستان نے بھارت سے جنگ بندی کے معاہدے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہنے میں ذرا دیر نہ لگائی اور اُنہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا۔ خود ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ اس انعام کے مستحق ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران پاکستان پر دروغ گوئی اور فریب کاری کا الزام عائد کیا تھا۔ اب وہ پاکستان کو سراہنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ پاکستان کے آرمی چیف کی بھی خوب ستائش کر رہے ہیں۔
بھارتی قیادت کے لیے اضافی اذیت یہ ہوئی کہ صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی ایوانِ صدر میں ظہرانے پر مدعو کیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی امریکی صدر نے ایسے پاکستانی آرمی چیف کی میزبانی کی جو سربراہِ مملکت نہ تھا۔ عاصم منیر کو ٹرمپ نے اپنا فیورٹ فیلڈ مارشل اور غیرمعمولی انسان قرار دیا ہے۔ یہ ساری باتیں بھارتی قیادت کے بہت بڑا جھٹکا تھیں جو پاکستانی آرمی چیف کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کا معمار قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔
مذاکرات سے انکار
بھارت نے ایک زمانے سے یہ راگ الاپنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے کہ جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی تب تک پاکستان سے مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔ بھارتی قیادت نے پاکستان کے حوالے سے اسٹریٹجک معاملات میں تحمل کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ بھارت نے اپنی معیشت ۱۹۹۰ء کے عشرے میں کھولی تھی جب من موہن سنگھ بھارت کے وزیرِاعظم تھے۔ تب بھارت نے خود کو احساسِ ذمہ داری کی حامل ایسی طاقت قرار دیا جو صرف معاشی قوت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ بھارت نے سفارت اور اپنی بڑھتی ہوئی معاشی قوت کو پاکستان کے خلاف دباؤ پیدا کرنے کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا۔ بھارتی قیادت یہ بات بہت زور دے کر کہنے لگی کہ وہ ایٹمی قوت کی حامل ریاستوں کے درمیان جنگ کو ہر حال میں ٹالنا چاہتی ہے۔
یہی وہ بیانیہ تھا جس نے نومبر ۲۰۰۸ء میں ممبئی پر کیے جانے والے حملوں کے باوجود بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے یا جنگ شروع کرنے سے روکا۔ تب بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی۔ تب بھارتیہ جنتا پارٹی اپوزیشن میں تھی، اُس نے کانگریس کی حکومت کو شدید نکتہ چینی سے نشانہ بنانے سے ذرا بھی گریز نہیں کیا۔
جب بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت بنائی تو وزیرِاعظم نریندر مودی نے ابتدا میں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وزیرِاعظم محمد نواز شریف کو مدعو کیا اور پھر نواز شریف کی نواسی کی شادی میں شریک ہونے کے لیے لاہور بھی گئے۔
جب بھارت میں بڑی دہشت گردی کے چند واقعات ہوئے تو نئی دہلی نے اپنی اپروچ تبدیل کیا۔ اِس کے بعد نریندر مودی نے پاکستان کو سیاسی اور سفارتی طور پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ تب مودی سرکار نے کُھل کر کہنا شروع کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔
تب تک بھارتی فوج ضبط و تحمل کی راہ پر گامزن تھی۔ پھر یہ ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے چند واقعات کو بنیاد بناکر بھارتی فوج نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ ۲۰۱۶ء کے بعد بھارتی فوج نے پاکستان کی حدود میں حملوں کو ترجیح دی۔ بھارت کا بنیادی الزام یہ تھا کہ آزاد کشمیر میں دہشت گردی کی تربیت دینے والے کیمپ ہیں جن میں تربیت پانے والے مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرتے ہیں۔
۲۰۱۹ء میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلواما میں نامعلوم مسلح افراد کے ایک بڑے حملے میں ۴۰ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی لڑاکا طیاروں نے پاکستان کے علاقے بالا کوٹ میں بمباری کی۔
کئی سال تک پاکستان کے خلاف بھارت کا سخت مؤقف کام کرتا دکھائی دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت کے دوران مجموعی کیفیت یہی تھی۔ جوبائیڈن کے عہدِ صدارت میں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ رہا۔ تب نریندر مودی نے کئی بار امریکا کا دورہ کیا۔ ٹرمپ اور جوبائیڈن نے بھی بھارت کا دورہ کیا اور اس معاملے میں پاکستان کو یکسر نظرانداز کیا۔
گزشتہ برس جو کچھ ہوا اُس نے معاملات کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ کم و بیش دو عشروں کے دوران بھارت اور امریکا کے تعلقات قدرے خوش گوار رہے۔ جب صدر ٹرمپ نے ٹیرف کی جنگ شروع کی تو معاملات خراب ہونے لگے، تعلقات میں کشیدگی در آئی۔ امریکا نے بھارت کے مالِ تجارت پر سب سے زیادہ لیوی لگائی۔ بھارتی قیادت سے یہ بات ہضم نہ ہو پائی۔
بھارت اور امریکا کے درمیان ٹیرف کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے اور ٹیرف میں کمی بھی آئی تاہم اب بھی کشیدگی برقرار رہی ہے۔ بھارتی قیادت کو امریکا کی فیورٹ کا درجہ حاصل تھا۔ وہ درجہ بحال نہیں ہوسکا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ امریکا کو بھارت سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی فکر لاحق نہیں۔ امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا ہے اور دہلی میں امریکی سفارت خانے میں امریکی آزادی کی ڈھائی صدیوں کے جشن میں شرکت کی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا ہے کہ وہ بھارت سے اور مودی سے پیار کرتے ہیں۔ خیر، یہ سب کچھ اپنی جگہ اور امریکی بیورو کریسی کی طرف سے بھارت پر دباؤ برقرار رکھنے کی پالیسی اپنی جگہ۔ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ بھارت پر دباؤ بنا رہے تاکہ وہ کوئی بھی ایسا ویسا اقدام کرنے سے قبل کچھ سوچے، ممکنہ عواقب پر غور کرے۔
۲۳ مئی کو مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ بھارت نے پانچ سال کی مدت میں امریکا سے مجموعی طور پر ۵۰۰؍ارب ڈالر کی اشیا و خدمات خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یاد رہے کہ بھارت کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے بھارت کے خلاف عائد کیے جانے والے ٹیرف کو درست قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے میں تجارتی عدم توازن کا حوالہ دیا تھا۔ امریکا کو شکایت ہے کہ بھارت اُس سے مال خریدتا کم ہے اور بیچتا زیادہ ہے۔
جب صحافیوں نے پوچھا کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات پر پاک امریکا تعلقات کا کچھ اثر تو مرتب نہیں ہوا تو مارکو روبیو نے کہا کہ کسی بھی ملک سے امریکا کے تعلقات کا کسی بھی دوسرے ملک سے امریکا کے تعلقات کا کچھ لینا دینا نہیں۔
بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوششیں کی ہیں، اُن کے نتیجے میں علاقائی سطح پر بھی بھارت کے لیے مسائل پیدا کیے ہیں۔ علاقائی ممالک کے حوالے سے بھارتی خارجہ پالیسی کمزور پڑی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے۔ علاقائی ممالک کا جھکاؤ پاکستان کی طرف بڑھا ہے۔
دھچکے اور تبدیلیاں
نریندر مودی نے جب ۲۰۱۴ء میں وزیرِاعظم کے منصب کا حلف اٹھایا تھا تب انہوں نے جنوبی ایشیا کے بیشتر قائدین کو تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ بھارت تعلقات بہتر بنائے رکھنے کے معاملے میں پڑوسیوں کو اولین ترجیح دے گا۔
۲۰۱۶ء میں جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی مارے گئے تو مودی سرکار نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ بھارت کی طرف سے شرکت نہ کرنے کے اعلان پر سارک سربراہ کانفرنس منسوخ کردی گئی۔ تب سے اب تک جنوبی ایشیائی میں تعاون کی تنظیم کا کوئی اجلاس نہیں ہوسکا ہے۔ اِس کے مقابلے میں بھارت نے جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کی تنظیم BIMSTEC کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان اس تنظیم کا رکن نہیں۔ یہ تنظیم بھرپور قوت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم اب تک قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر پائی ہے۔
اسلام آباد کی قائدِاعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ایمیریٹس اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو سفارتی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی اپنی کوشش میں خاصے موثر طور پر سارک کو چھوڑ دیا ہے۔
اِس دوران بنگلا دیش سے پاکستان کے تعلقات ڈرامائی طور پر بہتر ہوئے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش اِس طور قریب آئے ہیں کہ بھارت پریشان ہو اُٹھا ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ دونوں مختلف شعبوں میں غیرمعمولی نوعیت کے تعاون اور اشتراکِ عمل کے حامل رہے ہیں۔ گزشتہ برس پاکستانی فوج کے ہاتھوں بھارت کے ۷ طیارے گرائے جانے کے بعد سے پاک چین تعلقات مزید خوش گوار ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت کے خلاف اِس معرکہ آرائی میں پاکستان نے چین کا میزائل ڈیفنس سسٹم اور چین کے تعاون سے تیار کیے جانے والے لڑاکا طیارے استعمال کیے تھے۔ چینی صدر شی جن پنگ بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان سے اُن کے ملک کے تعلقات غیرمعمولی نوعیت کے ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں اشتراکِ عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے سارک کو عملاً ترک کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اسٹریٹجک معاملات میں خود مختاری کی راہ پر بھی گامزن ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تمام علاقائی اور عالمی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرے تاہم کسی بھی تنازع میں نہ اُلجھے۔ اس حوالے سے وہ انتہائی محتاط طرزِ فکر و عمل کا مظاہرہ کرتا آیا ہے۔
بھارت ایک زمانے تک ناوابستہ ممالک کی تنظیم NAM کا روحِ رواں رہا۔ یہ ۱۲۰؍ملکوں کا گروپ تھا جنہوں نے امریکا یا سوویت یونین میں سے کسی کے ساتھ بھی وابستہ نہ رہنے کو ترجیح دی تھی۔ اقتصادی پابندیوں کے معاملے میں بھارت نے اقوامِ متحدہ کا ساتھ دینے کو ترجیح دی تھی۔
برسلز میں قائم انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے سینئر تجزیہ کار پروین ڈونتھی کہتے ہیں ’’ایک عشرے کے دوران بھارت کی معاشی قوت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ اِس کے نتیجے میں وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ عالمی سطح پر تیزی سے ابھرا ہے۔ اُس نے پُرانی متوازن اور ناوابستگی کی پالیسی ترک کردی ہے۔ اب اُس نے خاص کاروباری سوچ اپنائی ہوئی ہے یعنی کچھ دو اور کچھ لو کی ذہنیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔‘‘
نریندر مودی کی آمد سے قبل من موہن سنگھ کی وزارتِ عظمیٰ کے دور ہی میں بھارت نے اپنی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی راہ ہموار کردی تھی۔ ۲۰۱۳ء میں اُس وقت کے امریکی صدر براک اوباما نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بہت سے ملکوں پر زور دیا کہ وہ ایران سے خام تیل نہ خریدیں۔ تب بھارت نے بھی ایران سے خام تیل کی خریداری کم کرنے کو ترجیح دی مگر جب صدر ٹرمپ نے ۲۰۱۸ء میں ایران پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے اُس پر اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو مودی سرکار نے ایران سے خام تیل بالکل نہ خریدنے کی پالیسی اپنائی۔ نریندر مودی امریکا سے زیادہ قریب ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
بھارت کا معروف روزنامہ ’دی ہندو‘ کی ڈپلومیٹک ایڈیٹر سُہاسِنی حیدر کہتی ہیں ’’کسی بھی ملک پر امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں سے بھارت کو صرف معاشی نوعیت کے خسارے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا بلکہ کسی ایک یا چند ممالک کی طرف جھکنے کی صورت میں اُس کی خارجہ پالیسی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اِس سے اسٹریٹجک خودمختاری کے بھارتی قیادت کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
اسرائیل اور اسلاموفوبیا
یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ بھارت نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائے جانے والے تنازع کے حوالے سے بھی اپنی پوزیشن تبدیل کی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں بھارت پہلا غیرعرب ملک تھا جس نے تنظیم آزادیٔ فلسطین کو فلسطینی عوام کے نمائندے کی حیثیت سے قبول کیا۔ ۱۹۸۸ء میں بھارت فلسطینیوں کا حقِ ریاست تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں سے تھا۔
بھارت نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ۱۹۹۲ء میں قائم کیے۔ اِس سے بہت پہلے وہ سلامتی اور دفاع کے معاملات میں اسرائیل سے ڈھکے چھپے انداز سے اشتراکِ عمل کا حامل ہوچکا تھا۔ سرد جنگ کے ختم ہونے کے بعد دو عشروں کے دوران بھارت نے اسرائیل سے تعلقات خاصی سُست رفتاری سے بہتر بنائے۔ اِس دوران وہ فلسطینیوں سے بھی خاصے متوازن انداز سے اظہارِ یکجہتی کرتا رہا۔
نریندر مودی کی قیادت میں بھارت اب اسرائیل کے قریب ترین اتحادیوں میں سے ہے۔ اسرائیل سے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والا ملک اِس وقت بھارت ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیل کی مذمت میں پیش کی جانے والی قراردادوں کی حمایت سے گریز کرتا رہا ہے۔ گزشتہ ماہ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا پر مشتمل اتحاد BRICS کے اعلامیے کی تیاری کے دوران نریندر مودی نے اسرائیل فلسطین تنازع پر زبان تبدیل کرانے کی کوشش کی۔ یہ گویا دو ریاستوں کے اُصولی موقف سے دست بردار ہونے کا اشارہ تھا۔ نریندر مودی نے غزہ میں فلسطینیوں کے انتہائی بہیمانہ قتلِ عام کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی ہے۔
نریندر مودی نے حال ہی میں ایک اور انتہائی علامتی اقدام کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عرب اسرائیل تنازع کے حوالے سے بھارتی خارجہ پالیسی کو پوری طرح اسرائیل کی طرف جھکا چکے ہیں۔ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے سے صرف دو دن قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کو بالکل بے وقت قرار دیا اور کہا کہ اِس سے یہ پیغام گیا ہے کہ علاقائی تنازع میں بھارتی قیادت اسرائیل کے ساتھ کھڑی رہی اور عرب دنیا کو ایک طرف ہٹا چکی ہے۔ یہ تشویش اِس لیے ظاہر کی گئی کہ بھارت عرب ممالک سے بہت بڑے پیمانے پر خام تیل اور قدرتی گیس خریدتا ہے۔ خطے کے ممالک سے تعلقات بگڑنے پر بھارت کے لیے توانائی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ پروین ڈونتھی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے بھارت کی پوزیشن نازک بنا ڈالی ہے کیونکہ وہ اسرائیل کی طرف واضح جھکاؤ رکھتا ہے۔
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اِس حقیقت کے باجود نریندر مودی کا اسرائیلی وزیرِاعظم کو اپنا دوست کہنا خلیجِ فارس کی عرب ریاستوں سے بھارت کے تعلقات میں بگاڑ کا باعث بنا ہے۔ اور یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان نے خلیجی کی متمول ریاستوں سے سلامتی اور دفاع کے معاہدے کیے ہیں۔
خطے کی صورتِ حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ اسرائیل نے ایک طرف غزہ اور مقبوضہ غربِ اردن کو نشانے پر لے رکھا ہے، دوسری طرف وہ ایران، لبنان اور قطر پر بھی بمباری کرتا رہا ہے۔ ایسے میں خلیج کی ریاستوں نے بھی صرف امریکا پر منحصر رہنا ترک کردیا ہے۔
گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب نے دنیا کی واحد مسلم ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ ایک جامع دفاعی معاہدے کا اعلان کیا۔ اب معلوم ہوا ہے کہ ترکی اور چند خلیجی ریاستیں بھی پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔
گزشتہ مئی میں پاکستان نے بھارت کو جو منہ توڑ جواب دیا اور اُس کے طیارے مار گرائے، اُس کے بعد سے پاکستان کی پوزیشن خاصی مستحکم ہوچکی ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کی طلب بڑھی ہے۔ دوسری طرف چین کے دفاعی آلات کی طرف بھی دنیا تیزی سے اور بہت زیادہ متوجہ ہوئی ہے۔
دوسری طرف بھارت میں مودی سرکار نے مسلم مخالف پالیسیاں اپنائی ہوئی ہیں۔ اِس کے نتیجے میں بنگلادیش اور مالدیپ سے بھی بھارت کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ خلیج کی ریاستیں بھی بھارت سے نالاں دکھائی دیتی ہیں۔ مئی ۲۰۲۲ء میں اُس کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نپور شرما نے حضرت محمدؐ کے لیے اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے جس نے خلیج کے خطے میں شدید ردِعمل کی لہر پیدا کی۔ اِن ملکوں میں بھارتی سفیروں کو طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ بی جے پی نے اس واقعے کے بعد نپور شرما کو ایک طرف کردیا تاکہ مسلم دنیا میں پیدا ہونے والے شدید ردِعمل کو رفع کیا جاسکے۔
۲۰۱۴ء میں نریندر مودی کے وزیرِاعظم بننے کے بعد سے بھارت بھر میں مسلمانوں سے بدسلوکی، اُنہیں اجتماعی تشدد کا نشانہ بنانے، مساجد کو شہید کرنے، عبادت گزاروں کو مارنے پیٹنے اور تہواروں کے موقع پر مسلمانوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے واقعات میڈیا کی شہ سُرخیوں میں رہے ہیں۔ بنیادی حقوق کی تنظیموں اور نگراں گروپوں نے بھارت میں اقلیتوں سے بڑھتی ہوئی بدسلوکی کے حوالے سے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارت میں مسلمانوں سے کی جانے والی بدسلوکی اور تشدد کو پاکستان نے ایک اچھے موقع کی حیثیت سے بروئے کار لاکر بھارت کے خلاف اپنا کیس مضبوط بنایا ہے۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان نے بھارت میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک اور اُنہیں قتل و غارت سے دوچار کرنے کے واقعات کو اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم کے ذریعے عالمی سطح پر اُٹھایا۔ پاکستان نے اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ ۱۵؍مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف لڑائی کے عالمی دن کا درجہ دے۔
ٹرمپ پر پاکستان کا جادو
جنوری ۲۰۲۵ء میں ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ امریکی صدر بنے۔ پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اہم معدنیات اور کرپٹو مائننگ کے حوالے سے معاہدے کیے۔ گزشتہ جولائی میں پاکستان نے ٹرمپ انتظامیہ سے ایک ڈیل کی جس کا مقصد کمیاب معدنیات امریکا کو بڑے پیمانے پر فراہم کرنا تھا۔ یہ معدنیات ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ناگزیر ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ اِن کی عالمی سپلائی پر بہت حد تک چین کا اجارہ ہے۔ ایک امریکی فرم نے پاکستان میں اس حوالے سے ۵۰ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
ستمبر ۲۰۲۵ء میں پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کو وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ امریکی ایوانِ صدر کے اوول آفس میں مدعو کیا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر نے گزشتہ دسمبر میں میامی میں اپنی ذاتی جاگیر مار اے لیگو میں مدعو کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب مسعود خان کہتے ہیں ’’ایک سال کے دوران پاکستان نے واشنگٹن میں اپنی پوزیشن قابلِ رشک حد تک مستحکم کرلی ہے، بالخصوص گزشتہ مئی میں بھارت سے معرکہ آرائی کے بعد۔ پاکستان کی سفارت کاری کامیاب رہی ہے۔ پاکستان نے امریکا سے کمیاب معدنیات اور کرپٹو کرنسی کے حوالے سے قابلِ رشک ڈیلز کی ہیں۔‘‘
ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان خوش گوار تعلقات نے امریکا کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات اور عدمِ اعتماد کی فضا کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا اور اس کے ہم خیال ممالک کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ پاکستان افغانستان میں لڑی جانے والی جنگ میں امریکا کا اہم پارٹنر رہا۔
پاکستان پر امریکا کی جانب سے افغان طالبان کی حمایت و امداد کا الزام عائد کیا جاتا رہا۔ یہ طالبان امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچاتے رہے۔ پھر یہ ہوا کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں موجود پائے گئے اور امریکا نے رات کی تاریکی میں کی جانے والی ایک بڑی فوجی کارروائی میں اُنہیں ہلاک کیا۔ اس واقعے نے امریکی قیادت کو پاکستان کے بارے میں مزید بدگمان کردیا۔
دوسری طرف بھارت نے اس صورتِ حال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی تحریک کو القاعدہ سے جوڑنے کی کوشش کی اور اِسے ایک بڑی مذہبی جنگ کا حصہ قرار دیا۔ پاکستان پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کی پُشت پر وہی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
بھارت نے کم و بیش دو عشروں تک پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر کیس مضبوط کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ بھارت میں بننے والی حکومتیں اقوامِ متحدہ سمیت تمام ہی عالمی اور علاقائی پلیٹ فارمز پر پاکستان کو مطعون کرتی رہیں۔ بڑی طاقتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا جاتا رہا کہ دہشت گردی کی فنڈنگ کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں چھان بین کی جائے۔ ۲۰۰۸ء میں ممبئی حملوں کے بعد، جن میں ۱۶۵؍افراد مارے گئے، بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر مطعون کرنے کی مہم تیز کردی۔
پاکستان کو مختلف مسلح گروپوں سے تعلق کے حوالے سے عالمی سطح پر چھان بین اور چھان پھٹک کے مرحلے سے گزرنا پڑا جس کے نتیجے میں اُس کی ساکھ قابلِ ذکر حد تک متاثر ہوئی۔ پاکستان کی اپنی (اندرونی) سلامتی بھی متاثر ہوئی کیونکہ بہت سے مسلح گروپوں کی طرف سے اُسے شدید ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بیرونی سرمایہ کاری کی راہ مسدود ہوگئی، دنیا بھر کی بڑی اور نمایاں حکومت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے متنبہ کیا۔ کھیلوں کے مقابلے منسوخ ہوئے۔ اِس کے نتیجے میں پاکستان عالمی برادری میں الگ تھلگ ہوکر رہ گیا۔ بھارت یہی تو چاہتا تھا۔
پروفیسر اشتیاق احمد کہتے ہیں ’’بھارت نے یہ سمجھ لیا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کے بارے میں جو بیانیہ تیار ہوا، وہ دائمی ہے۔ پاکستان نے خاموشی سے مسلح گروپوں کے قائدین اور مالیاتی سہولت کاروں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اِس کے نتیجے میں اُس کی ساکھ بہتر ہوتی چلی گئی۔ مسلح گروپوں نے عشروں تک پاکستان کو نشانے پر رکھا اور اِس کے نتیجے میں پاکستانیوں کو شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کو سفارت کاری کے محاذ پر بہت بڑے چیلنج کا سامنا تھا۔ معاشی معاملات بھی درست کرنے تھے اور باقی دنیا سے احسن طریقے سے جُڑنا بھی تھا۔ جب پاکستان نے اپنی ساکھ درست کرنے کی بھرپور کوششیں شروع کیں تو دنیا نے اُسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنا شروع کیا جو بحرانوں پر محض ردِعمل ظاہر کرنے کے مرحلے سے کہیں آگے بڑھ کر علاقائی سطح پر معاملات کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاکستان اُن چند ممالک میں سے ہے جو بیک وقت واشنگٹن، تہران، ریاض اور بیجنگ کو عمدگی سے لُوپ میں لے سکتے ہیں، انگیج کرسکتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی جو پوزیشن تھی، وہ اب تحلیل ہوچکی ہے اور پاکستان خاصے اعتماد کے ساتھ عالمی سطح پر ابھرا ہے۔‘‘
اب اس امر کے اشارے مل رہے ہیں کہ بھارت بھی تسلیم کر رہا ہے کہ اُس کی اپروچ محدود رہی ہے۔ حالیہ تین ماہ کے دوران دونوں پاکستان اور بھارت کے ریٹائرڈ سفارت کار اور جرنیل دو بار ملاقات کرچکے ہیں۔
بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی روحانی گرو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک سینئر رہنما پاکستان سے مکالمہ دوبارہ شروع کرنے کے طرف دار ہیں اور سابق بھارتی آرمی چیف منوج مُکُند نے بھی پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی ہے۔
اِس دوران بھارتی قیادت امریکا سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایک سال کے دوران بھارت امریکا تعلقات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ بھارت اب امریکا کے لیے زیادہ پسندیدہ ملک نہیں رہا کیونکہ ایک سال کے دوران نریندر مودی نے بعض غلط اشارے دیے ہیں، اُن کی طرف سے بعض بیانات اور اقدامات کی شکل میں ایسے پیغام گئے ہیں جنہوں نے امریکی قیادت کو منہ موڑ کر کسی اور طرف دیکھنے پر مجبور کیا ہے۔ ٹرمپ کے ٹاپ ڈپلومیٹ کی حیثیت سے وزیرِخارجہ مارکو روبیو کا حالیہ دورۂ بھارت دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کی سمت اٹھایا جانے والا اہم قدم تھا۔
بھارت امریکا کشیدگی
مارکو روبیو کا دورۂ نئی دہلی بھارتی قیادت کے لیے کوئی بہت بڑا معاملہ نہ تھا۔ وہ تو چاہتا تھا کہ خود صدر ٹرمپ بھارت آئیں۔ جون ۲۰۲۵ء میں کینیڈا جاتے ہوئے جب نریندر مودی نے امریکی صدر کی کال وصول کی تھی تب اِس نکتے پر زور دیا تھا کہ چار روزہ معرکہ آرائی کے بعد پاکستان سے طے پانے والا جنگ بندی کا معاہدہ امریکا کی وساطت سے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا تھا۔
ایک سال گزر چکا ہے مگر صدر ٹرمپ اب تک بھارت کے دورے سے بہت دور ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران جنگ ختم کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے وہ پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں۔
ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔
ڈھائی عشروں کے دوران چار امریکی صدور جارج واکر بش، براک اوباما، ٹرمپ اور جوبائیڈن نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔ واشنگٹن نے ایک ارب ۴۰ کروڑ نفوس پر مشتمل ملک کی حیثیت سے بھارت کو ایک بڑھتی ہوئی معاشی قوت اور چین کے خلاف بڑے کاؤنٹر ویٹ کے طور پر دیکھا ہے۔ اِن چاروں امریکی صدور نے بھارت کا دورہ کیا۔ اوباما دو بار بھارت گئے۔ اور اس دوران جارج واکر بش کے سوا کسی بھی امریکی صدر نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔
چین کو قابو میں رکھنے کے مقصد کے تحت بھارت اور امریکا کے قائدین نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ گہری کرنے پر اتفاق کیا۔ بھارت روایتی طور پر دفاعی معاملات میں روس پر منحصر رہا ہے مگر پھر بھارتی قیادت نے امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں سے بھی بڑے پیمانے پر جدید ترین طیارے، میزائل اور ہتھیار حاصل کرتا رہا ہے۔
پروین ڈونتھی (انٹرنیشنل کرائسز گروپ) نے خبردار کیا ہے کہ جب تک بھارت اور پاکستان مل بیٹھ کر اپنے بنیادی تنازعات دور نہیں کریں گے تب تک اِن کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ برقرار رہے گا۔ پروین کہتے ہیں ’’پاک بھارت تعلقات ایک زمانے سے اندرونی سیاست کے ہاتھوں یرغمال بنے رہے ہیں۔ بھارتی قیادت پاکستان سے ڈرا کر ووٹ حاصل کرتی ہے اور پاکستان میں بھی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک بھارت سے مخاصمت کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ چین عسکری طور پر کُھل کر پاکستان کی حمایت اور مدد کر رہا ہے۔ ایسے میں بھارت اب پاکستان کو محض دو طرفہ تعلقات کے عدسے سے دیکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔‘‘
پروین ڈونتھی کا کہنا ہے کہ حملوں، جنگ اور سفارتی سردمہری روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ دونوں ملک اعلیٰ سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ اس حوالے سے فی الحال بیک ڈور چینل قائم کیے جانے چاہئیں جو براہِ راست بات چیت کی راہ ہموار کریں۔
امریکا اور بھارت نے جاپان اور آسٹریلیا سے ہاتھ ملا کر کوارڈیلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ (QUAD) کے نام سے پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے۔ کُھل کر تو کہا نہیں گیا مگر اِس اتحاد کا بنیادی مقصد ایشیا و بحرالکاہل کے خطے (اوشیانا) کے خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کی راہ میں دیواریں کھڑی کرنا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار امریکی صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد ایشیا پر زیادہ توجہ نہیں دی ہے۔ بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ وجے گوکھلے نے ۱۳؍مئی کو ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں لکھا کہ امریکا اب QUAD میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا۔ اس اتحاد کا ایک سربراہ اجلاس بلایا گیا تھا جس کی میزبانی نریندر مودی کرنے والے تھے۔ ۲۰۲۵ء میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس کبھی منعقد نہیں ہوا اور یہ بھی واضح نہیں کہ رواں سال بھی ہوگا یا نہیں۔ ویسے نئی دہلی کے دورے میں امریکی وزیرِخارجہ مارکو روبیو نے QUAD کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
وجے گوکھلے نے مزید لکھا ’’ایسا لگتا ہے کہ بھارت ٹرمپ انتظامیہ کی ایشیا و بحرالکاہل اسٹریٹجی میں جغرافیائی طور پر فِٹ نہیں بیٹھتا۔ امریکا اِس وقت نئی دہلی کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا خیال ہے کہ بھارت مغربی بحرالکاہل اور بحرِ ہند میں سلامتی کے حوالے سے کوئی بھاری ذمہ داری نبھانے کی سکت سے محروم ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب امریکا متبادل تیار کر رہا ہے۔‘‘
ایشیا پر زیادہ متوجہ ہونے کے بجائے صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں ٹیرف کی جنگ میں وقت اور صلاحیت کی زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ تجارتی جنگ نے عالمی تجارت کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تارکینِ وطن کے خلاف جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں اور اُن کی توجہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کی تحریک MAGA پر زیادہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے بیرونِ ملک عسکری مہم جوئی پر بھی زیادہ توجہ دینی شروع کی ہے۔ وینزویلا اور ایران کے معاملے میں یہی تو ثابت ہوا ہے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کا کریڈٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو دینے سے مودی کے انکار نے دوطرفہ تعلقات کو کشیدگی سے دوچار کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر پروٹیکشن اِزم کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں یعنی بھارت امریکا کو برآمد تو بہت کچھ کرتا ہے مگر وہاں سے منگواتا بہت کم ہے۔ علاوہ ازیں یوکرین پر لشکر کشی کی پاداش میں امریکا نے روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں مگر بھارت نے امریکی دباؤ کی چنداں پروا نہیں کی اور روس سے خام تیل خریدنا بند نہیں کیا۔ یہی سبب ہے کہ امریکی صدر نے ایران کی چابہار بندرگاہ کے حوالے سے عائد پابندیوں کو ختم کرنے سے انکار کیا۔ اس بندرگاہ میں بھارت نے اربوں ڈالر لگا رکھے ہیں۔ امریکا کی طرف سے پروفیشنلز کو جاری کیے جانے والے H-1B ویزا سے سب سے زیادہ بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز مستفید ہوتے تھے۔ امریکا نے اب یہ ویزا پروگرام ہی بند کردیا ہے۔ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کی جو مہم ڈونلڈ ٹرمپ نے شروع کی ہے، اُس کے تحت اب امریکا بھر میں بھارتی نژاد باشندوں کے خلاف نسلی منافرت کے واقعات ہو رہے ہیں۔
کچھ کہا نہیں جاسکتا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی یا بین الریاستی تعلقات صرف اور صرف قومی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ پورے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ بھارت یا پاکستان سے امریکا کے خوشگوار تعلقات کب تک برقرار رہ پائیں گے۔ وقت بدلتا ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن بن سکتے ہیں اور جن سے کل دشمنی تھی، وہ آج دوست کے طور پر قبول کیے جاسکتے ہیں۔
مئی میں ’’دی نیشنل انٹریسٹ‘‘ کے لیے ایک مضمون میں Ailia Zehra نے لکھا ’’اِس وقت پورے یقین سے یہ بات نہیں کہی جاسکتی کہ امریکی سفارت کاری میں پاکستان کی اہمیت میں جس قدر اضافہ ہوا ہے، وہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں غیرمعمولی وسعت کی راہ ہموار کرے گی اور یہ معاملہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعد واشنگٹن میں پاکستان کی قدر و قیمت کا نیا باب کھولے گا۔‘‘
مستقبل کا معاملہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسائل اب بھی حل نہیں ہوسکے ہیں۔ دونوں پڑوسی وقتاً فوقتاً مسلح تصادم کی طرف چل پڑتے ہیں۔ میساچوسیٹس کالج آف لبرل آرٹس میں اینتھروپولوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد جنید کا کہنا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلۂ کشمیر ہے۔ ’’مقبوضہ کشمیر کے باشندے چاہتے ہیں کہ اسلحے پر قابو پایا جائے، سیاسی آزادی کا گراف بلند کیا جائے، معاشی طور پر پنپنے کی گنجائش پیدا کی جائے، تشدد کا قلع قمع ہو اور جبری یا ظالمانہ قوانین کا خاتمہ ہو۔‘‘
مقبوضہ کشمیر کا شمار سب سے زیادہ عسکریت زدہ خطوں میں ہوتا ہے۔ وہاں بھارت کے ساڑھے سات لاکھ فوجی اور نیم فوجی تعینات ہیں۔ کئی عشروں کے دوران، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ۶۰ لاکھ سے زائد کشمیری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اِن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ بنیادی حقوق کے علم بردار گروپوں نے بھارتی فوجیوں پر کشمیریوں سے شدید بدسلوکی کا الزام عائد کیا ہے۔
۲۰۱۹ء میں مودی سرکار نے آئین کے تحت جموں و کشمیر کو دیا جانے والا خصوصی درجہ ختم کردیا تھا جس کے ذریعے کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت ملی ہوئی تھی۔ کشمیر کے دو حصے کردیے گئے اور اِس سے ریاست کا حق چھین لیا گیا۔ اب یہ براہِ راست نئی دہلی کے کنٹرول میں ہے۔ اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ کشمیر کو اپنے براہِ راست کنٹرول میں رکھ کر نئی دہلی کیا حاصل کر رہا ہے۔
محمد جنید کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اِس وقت دھماکا خیز صورتِ حال کا شکار ہے۔ پورا خطہ بارود کے ڈھیر کے مانند ہے۔ کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اور بھارت مذاکرات کا سلسلہ بحال کریں تو کسی جامع اور قابلِ قبول تصفیے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
محمد جنید کہتے ہیں ’’جنوبی ایشیا کی سلامتی اور خوش حالی کا مدار اشتراکِ عمل پر ہے۔ لازم ہے کہ انتہائی قوم پرستانہ بڑبولے پن کا خاتمہ ہو۔ جمہوری کلچر کو تیزی سے اور وسیع پیمانے پر فروغ دیا جائے اور ثقافتی و مذہبی سطح پر ایک دوسرے کو اپنانے کا رجحان اپنایا جائے۔ اگر جموں و کشمیر میں جمہوری کلچر اپنایاجائے تو پورے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
سیاسیات کے ماہر اور سیاسی کارکن اچِن ونایک کہتے ہیں ’’بھارت کو پاکستان کی مسلح افواج اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے درمیان فرق کرنا اور فرق سمجھنا ہوگا۔ عسکریت پسند گروہوں کو سزا دلوانے کے لیے انٹرنیشنل میکینزم کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔ پاکستان پر حملے کی صورت میں دو ایٹمی قوتوں کے درمیان شدید محاذ آرائی و معرکہ آرائی کا خطرہ موجود ہے۔ دونوں ملکوں کو ڈی فیکٹو بارڈر (لائن آف کنٹرول) کے دونوں طرف ۱۰؍کلومیٹر کا ڈی ملٹرائزڈ زون قائم کرنا چاہیے اور اِس کی نگرانی بین الاقوامی امن فورس کو سونپی جائے۔
(مترجم: ابو صباحت)
“How Indian PM Modi’s efforts to isolate Pakistan ‘backfired’.” (“Aljazeera”. May 29, 2026)

تازہ مضامین

اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اُنہیں انسانیت سوز ماحول میں رکھا گیا، مظالم ڈھائے گئے، برہنہ بھی کیا جاتا رہا، عصمتیں بھی پامال کی گئیں۔ بہت سے معاملات میں

سپر پاور بننا اور اِس حیثیت کو برقرار رکھنا بچوں کا کھیل نہیں۔ امریکا واحد سپر پاور ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک

امن معاہدہ یا اس کا ایم او یو کہہ لیں، وہ تو ہوگیا، اب سوال آگے کا ہے۔ اللہ کرے اگلے دو مہینوں میں باقاعدہ، مکمل اور حتمی معاہدہ ہوجائے جس کے قوی امکانات ہیں

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور