سپر پاور بننا اور اِس حیثیت کو برقرار رکھنا بچوں کا کھیل نہیں۔ امریکا واحد سپر پاور ہے۔ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک بن گیا۔ اب اُس کے سامنے، اُس کی ٹکر کا کوئی نہ تھا۔ سپر پاور ہونا انتہائی مشکل مرحلہ ہے مگر اِس سے زیادہ مشکل مرحلہ ہے اِس حیثیت کو برقرار رکھنا۔ ہر عہد کی سپر پاور پر غیرمعمولی دباؤ رہا ہے اور امریکا بھی اِس فطری اصول سے مستثنیٰ نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دوسری کسی بھی سپر پاور کے مقابلے میں امریکا پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔
اِس وقت مختلف خطوں کے ۸۰ ممالک میں امریکا کی ۷۵۰ فوجی تنصیبات ہیں جن پر تعینات فوجیوں کی تعداد ۲ لاکھ سے زائد ہے۔ امریکا نے طالع آزمائی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ وہ عسکری مہم جُوئی بھی کرتا رہتا ہے۔ اِس کے لیے عسکری قوت کا برقرار رکھا جانا لازم ہے۔
جرمنی، جاپان اور جنوبی کوریا میں امریکی فوجی اڈے کوئی آج کی حقیقت نہیں۔ یہ فوجی اڈے وہاں دوسری جنگِ عظیم کے زمانے سے قائم ہیں۔ اِن اڈوں کے قیام کا بنیادی مقصد روس اور چین پر نظر رکھنا، اُن پر دباؤ رکھنا ہے تاکہ سپر پاور کی حیثیت کو برقرار رکھنے میں خاطر خواہ حد تک مدد ملے۔
امریکی محکمۂ دفاع نے حال ہی میں جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی طرف سے غیرمعمولی نکتہ چینی کے بعد کیا گیا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک جرمنی کے علاوہ برطانیہ اور اٹلی میں بھی امریکی فوجی اڈے یورپ کی سلامتی کے حوالے سے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے ہیں۔ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے کے امریکی فیصلے نے یورپی قائدین کو سلامتی یقینی بنانے کے حوالے سے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ اِس وقت یورپ کے لیے یہ تصور بھی سوہانِ روح ہے کہ امریکا اُس کے دفاع کی ذمہ داری سے خود کو الگ کرلے۔ یوکرین پر روس کی لشکرکشی کے بعد لازم ہوچکا ہے کہ امریکا اور یورپ ایک ہو رہیں مگر اِس کی گنجائش میں کمی آرہی ہے کیونکہ یورپ میں بہت سے ممالک امریکا کا ساتھ زیادہ نہیں چاہتے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے امریکا کی عسکری مہم جُوئی کے نام پر بہت کچھ جھیلا ہے۔
یورپ میں امریکی فوجی کمان اسٹٹ گارٹ میں اور یورپی و افریقی خطے کے لیے امریکی فوج کا مرکزی کمان سینٹر وِسباڈین میں ہے۔ جرمنی کی بوخیل ایئر بیس پر تعینات امریکی فوجی وہاں رکھے ہوئے ۱۰ سے ۲۰ ایٹم بموں (بی۔۶۱) کی نگرانی پر مامور ہیں۔ جرمنی میں مجموعی طور پر ۳۸ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ علاوہ ازیں ہزاروں امریکی شہری، اُن کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد بھی جرمنی میں مقیم ہیں۔ امریکا کی دسویں اسپیشل فورسز کے سپاہی اور افسران جرمنی میں یوکرین کے فوجیوں کو خصوصی مشن کے ذریعے بہتر طور پر لڑنے کی تربیت فراہم کرتے ہیں۔
اٹلی میں امریکا کے ۵ فوجی اڈے ہیں جن میں وینس سے ۸۰ کلومیٹر دور واقع ایویانا کا فوجی اڈا اہم ترین ہے۔ اٹلی میں کیمپ ڈاربی، ایڈریزل، سِسلی میں سیگونیلا اور نیپلز میں بھی امریکا کے فوجی اڈے ہیں۔ اٹلی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۱۵۴۰۰ ہے۔
برطانیہ اب تک امریکا کا سب سے دیرینہ اور سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ساتھی رہا ہے۔ اِسی لیے یورپ میں امریکا کے سب سے زیادہ فوجی اڈے برطانوی سرزمین پر ہیں۔ رائل ایئر فورس لیکنہیڈ پر امریکا نے ایف۔۳۵ لڑاکا طیارے کھڑے کر رکھے ہیں۔ فضائی حملوں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے آر اے ایف ملڈنہول کا بروئے کار لایا جاتا ہے۔ آر اے ایف فیئر فورٹ پر امریکا نے بہت بڑے پیمانے پر بم برسانے والے بڑے لڑاکا طیارے تعینات کر رکھے ہیں۔ برطانوی سرزمین پر تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۱۱ ہزار ۶۰۰ ہے۔ کاؤنسل آن فارن ریلیشنز نے بتایا ہے کہ ۲۰۲۵ء کے اوائل میں یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۸۴ ہزار تھی جن میں سے ۳۸ ہزار اٹلی میں تعینات تھے۔ یوکرین جنگ کے حوالے سے امریکا نے یورپ میں مزید فوجی بھیجے ہیں جس کے بعد اب وہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ جرمنی میں رامشٹائن کے مقام پر واقع امریکی فوجی اڈا اپنی سرزمین سے باہر اُس کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے جو ۳ ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔
پولینڈ میں امریکی فوجی اڈے ریڈ سیکووو کیمپ، کوسی یُسکو اور لاسک ایئر بیس پر واقع ہیں جو یورپ کی سلامتی یقینی بنانے کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کے حامل گردانے جاتے ہیں۔ لاسک ایئر بیس پر امریکی فوجی ایف۔۱۵ طیاروں کے ساتھ ہر وقت مکمل تیاری کی حالت میں رہتے ہیں۔ فروری ۲۰۲۲ء میں یوکرین پر روس کی لشکر کشی کے بعد سے اِس ایئر بیس کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ امریکا نے کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں یوکرین کی سب سے زیادہ مدد کی ہے۔ یوکرین کو امریکا نے ہتھیار بھی دیے ہیں، تکنیکی آلات بھی اور تکنیکی معاونت بھی۔ ترکی میں اِنجرلِک کے مقام پر واقع امریکی فوجی اڈا مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ روم کے خطے کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں امریکی بحریہ کا ایک ایسا دستہ تعینات رہتا ہے جو امریکی فضائیہ اور دیگر مشن کے لیے غیرمعمولی معاونت یقینی بناسکتا ہے۔ امریکی فوجی پورے یورپ میں سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی کسی بھی صورتِ حال کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر اختلافات کے باوجود سلامتی کے معاملات پر امریکا اور یورپ اب تک ایک ہیں اور یورپ چاہتا ہے کہ اُس کی سلامتی یقینی بنانے کی ذمہ داری سے امریکا دست بردار نہ ہو۔
یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کو طویل المیعاد بنیاد پر کام کرنا پڑتا ہے۔ مشترکہ مشقوں کے لیے امریکا خصوصی فوجی دستے بھیجتا ہے جو ایک خاص، محدود مدت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں۔ کام پورا ہونے کے بعد یہ فوجی دستے واپس چلے جاتے ہیں۔ امریکی محکمۂ دفاع کے افرادی قوت مرکز برائے اعداد و شمار نے بتایا ہے کہ جون ۲۰۲۵ء تک (یورپ سمیت) دنیا بھر کے ۸۰ ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں اور دیگر اہم عسکری تنصیبات کی تعداد ۷۵۰ سے زائد تھی اور اِن تمام مقامات پر تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۲ لاکھ سے زائد تھی۔ یو ایس اے فیکٹس کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگر عراق، شام، یمن اور صومالیہ جیسے سرگرم لڑائی کے علاقے کہلائے جانے والے ممالک میں بھیجے گئے امریکی فوجیوں کو بھی شمار کیا جائے تو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امریکی فوجیوں کی تعداد ۲ لاکھ ۴۳ ہزار تک جاپہنچتی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جاپان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۵۰ ہزار تا ۵۷ ہزار ہے۔ جنوبی کوریا میں تعینات ۲۶۷۰۰ امریکی فوجی شمالی کوریا پر نظر رکھتے ہیں۔ جنوبی امریکا میں کیوبا کے مغربی کنارے پر واقع گوانتانامو بے کے فوجی اڈے پر تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ۱۸۸۸ ہے۔ سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای، عمان اور عراق میں مجموعی طور پر ۳۰ سے ۴۰ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع العدُید ایئر بیس اِس خطے میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔ ایران نے حال ہی میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ۴۰ دن جاری رہنے والی جنگ میں امریکا کے اِن فوجی اڈوں کو نشانہ بناکر ایک دنیا کو حیران کردیا تھا۔ ایران نے صرف ڈرونز اور میزائلز کے ذریعے امریکا اور اسرائیل کا سامنا کرکے دنیا کو جنگ کا ایک نیا پہلو دکھایا۔
۱۰؍ایکڑ سے زائد رقبے پر قائم فوجی اڈوں کو بڑے اڈے شمار کیا جاتا ہے۔ ایسے ہر فوجی اڈے پر امریکا کے کم و بیش ۲۰۰ فوجی تعینات ہوتے ہیں۔ ایسے میں لوگ یہ ضرور سوچتے ہیں کہ امریکا دنیا بھر میں اپنے فوجی اڈوں کا نظم و نسق کس طور کرتا ہے، فوجیوں کی تعیناتی کس طور ہوتی ہے، اُن کا خیال کس طور رکھا جاتا ہے اور اُن پر نظر کس طرح رکھی جاتی ہے۔ ایران سے ہونے والی لڑائی کے بعد سے دنیا اِس طرف زیادہ متوجہ ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک یورپ بھر میں امریکی فوجی اڈے قائم رہے ہیں اور اُن پر بڑی تعداد میں فوجی بھی تعینات رہے ہیں۔ یورپ میں امریکی فوجی اڈے مشرق (روس) کی طرف سے ابھرنے والے کسی بھی خطرے کو رفع کرنے والے انتظام کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ فوجی اڈے دنیا کے سب سے بڑے عسکری اتحاد ’’نیٹو‘‘ (معاہدۂ شمالی بحرِ اوقیانوس کی تنظیم) کے لیے سب سے بڑے سہارے کا درجہ رکھتے ہیں۔ اِن اڈوں کے ذریعے نیٹو کو یورپ کی سلامتی یقینی بنانے میں غیرمعمولی مدد ملتی ہے۔ امریکا کے دیگر فوجی اڈے روس اور چین کے نزدیک ہیں کیونکہ یہ دونوں ہی امریکا کی بالادستی کے لیے حقیقی خطرے کا درجہ رکھتے ہیں۔ اِن پر نظر رکھنا امریکا کی مجبوری ہے کیونکہ ایسا کرنا سلامتی یقینی بنائے رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ یورپ میں تعینات امریکی فوجی روس کو اور جنوبی کوریا میں تعینات امریکی فوجی شمالی کوریا کو ایک خاص حد تک رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اِس لیے ناگزیر ہے کہ امریکا محض واحد سپر پاور ہی نہیں ہے بلکہ وہ خود کو انٹرنیشنل پولیس مین بھی سمجھتا ہے اور جہاں تہاں مداخلت کرتا پھرتا ہے۔
امریکا کے لیے اب ناگزیر ہوچکا ہے کہ جن ملکوں سے بھی ذرا سا خطرہ محسوس ہو، اُن کے خلاف کھڑا ہو، ڈٹ جائے۔ واحد سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور سستا بھی نہیں۔ امریکا کو اپنے عسکری یا تزویراتی مفادات کی تکمیل کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے، بہت خرچ کرنا پڑتا ہے۔ عسکری مہم جُوئی بھی اِسی ذیل میں آتی ہے۔ فوجی اڈوں اور عسکری موجودگی کے دیگر مظاہر کے ذریعے امریکا اپنی بالادستی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ اُس کی عسکری موجودگی حریفوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے اور اِس بات کا اشارا بھی کہ اُنہیں دور رہنا چاہیے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک امریکا نے جاپان اور جنوبی کوریا کی سلامتی کا ٹھیکا لے رکھا ہے۔ جاپان سے اُس نے ۱۹۶۰ء میں دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تھا۔ جنوبی کوریا کا بھی یہی معاملہ رہا ہے۔ جب امریکا کسی بھی ملک کی سلامتی کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو اُس سے بہت کچھ چاہتا بھی ہے۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر اِس طور امریکا اپنا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ سلامتی یقینی بنانے کے وعدے یا عہد کی بنیاد پر امریکا نے کئی خطوں میں فوجی اتارے ہیں اور اڈے بھی قائم کیے ہیں۔
مختلف خطوں میں قائم فوجی اڈوں کے ذریعے امریکا نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن بہت مضبوط بنائی ہے۔ بہت سے ممالک اِس بات سے خوش رہتے ہیں کہ اُن کی سرزمین پر یا اُس کے نزدیک امریکی فوجی اڈے ہیں جبکہ دوسرے بہت سے ملک امریکی فوجی اڈوں سے خائف ہوکر کچھ بھی اُلٹا سیدھا کرنے سے مجتنب رہتے ہیں۔ امریکی فوجی اڈے بحری تجارت کے مرکزی راستوں کی سلامتی یقینی بناتے ہیں۔ خام تیل کی سپلائی بلا رکاوٹ جاری رہے یہ بھی امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کے ذریعے ہی ممکن ہو پائی ہے۔ امریکا دنیا بھر کے تجارتی جہازوں کو محفوظ گزر گاہ فراہم کرتا ہے اور اِس کے عوض اُسے بہت کچھ حاصل بھی ہوتا ہے۔ خام تیل کی نصف رسد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے آتی ہے اور نصف بین الاقوامی تجارت بحرِ ہند اور بحرالکاہل کے خطے کے ذریعے ہوتی ہے۔ اِن دونوں سمندروں میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے میں امریکا نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
امریکا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے فوجی اڈوں اور دیگر عسکری تنصیبات پر سالانہ ۱۰؍ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ رقم اُس کے دفاعی بجٹ کے ۲ فیصد کے مساوی ہے۔ اِن ۱۰؍ارب ڈالر میں سے ۷؍ارب ڈالر یورپ، جاپان اور جنوبی کوریا میں قائم فوجی اڈوں پر خرچ ہوتے ہیں۔ اِس سلسلے میں متعلقہ ممالک بھی مدد کرتے ہیں۔ امریکی احتساب دفتر کے مطابق ۲۰۱۶ء سے ۲۰۱۹ء کے دوران امریکی فوجی اڈوں کے نظم و نسق پر جاپان نے ۱۲؍ارب ۶۰ کروڑ ڈالر اور جنوبی کوریا نے ۵؍ارب ۷۰ کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ جاپان امریکی فوجی اڈوں کا ۵۰ فیصد اور جنوبی کوریا ۴۱ فیصد خرچ برداشت کرتا ہے۔ یورپ، ایشیا اور چھوٹے چھوٹے جزائر پر امریکی فوجی اڈوں کا قیام امریکا کی مستقل پالیسی کا حصہ ہے۔ پہلے یوکرین اور اب ایران جنگ کے نتیجے میں امریکا اور یورپ کے تعلقات میں غیرمعمولی بگاڑ پیدا ہوا ہے اور نیٹو کے حوالے سے بھی سوال اُٹھ رہے ہیں۔ نیٹو نے خود کو ایران سے امریکا و اسرائیل کی جنگ سے دور رکھا ہے۔ امریکا چاہتا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کروانے کے لیے نیٹو فورسز آگے بڑھیں اور امریکا کی مدد کریں مگر ایسا نہیں ہوا۔ نیٹو نے اِس معاملے میں خاطر خواہ دلچسپی لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ جرمنی سے پانچ ہزار امریکی فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کو صدر ٹرمپ کی یورپ سے ناراضی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ امریکا میں بہت سے ری پبلکن لیڈرز نے خبردار کیا ہے کہ یورپ سے امریکی فوجیوں کو نکالنا روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے لیے بہت خوش کُن پیغام ہوگا۔ اب اِس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ آنے والا وقت امریکا اور یورپ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرے گا اور وہ بھی فیصلہ کُن حد تک۔ (مترجم: ابو صباحت)
(بحوالہ: ’’گجرات سماچار‘‘ احمد آباد، بھارت۔ ۱۳؍مئی ۲۰۲۶ء)