تقریباً گزشتہ آٹھ سال تک میں نے اپنا ہر دن کمپیوٹر اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر گزارا ہے۔ میں بہت بڑا ٹریڈر تھا اور میرا کام ایسے الگورتھم تیار کرنا تھا جو مائکروسیکنڈز کی رفتار سے اربوں ڈالر کی ٹریڈنگ کرسکیں۔ یہ ریاضیاتی قیمتوں کے درمیان ایک ایک کوڑی کے فرق کو پکڑنے کی کوشش تھی۔
وقت کے ساتھ ساتھ، یہ الگورتھم اس بینک کے لیے کئی ملین ڈالر کا منافع تخلیق کرسکتے تھے کہ جس کے ساتھ میں کام کررہا تھا۔ میں نے جو کچھ کیا، اس کی بنیاد ریاضی اور ڈیٹا پر تھی۔ میں ان کمپنیوں کے بارے میں کہ جن کے ساتھ ٹریڈنگ کررہا تھا، ان کی اسٹاک ٹیکر (stock ticker) سے ہٹ کر کچھ نہیں جانتا تھا اور اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔ یہ سارا کھیل نمبروں کا تھا۔
انتہائی تیز رفتار ٹریڈنگ کی دنیا میں، ایک مائکروسیکنڈ کا حاصل ہونا یا کھونا، کئی ملین ڈالر کے منافع ہونے یا کھونے کے مترادف ہوسکتا ہے۔
مجھے یاد ہے، میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ کانفرنس کالز پر تھا اور ان کے نئے ٹاور کی اونچائی پر تبادلۂ خیال کر رہا تھا اور حساب لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا یہ واقعی شکاگو اور نیویارک کے درمیان سب سے اچھے راستے میں مائکروویو سگنل بھیج سکتا ہے۔ یہ مائکروسیکنڈ بہت اہم تھے۔
اس کام سے مجھے کئی قابل قدر سبق سیکھنے کو ملے، لیکن ان میں سے ایک نکتے نے واقعی میری زندگی بدل دی اور میں نے سیکنڈ کی حقیقی قدر جانی۔
دیکھیں، بہت سے لوگ یہ محسوس کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ان کے پاس اپنا وقت بچانے کے ہزاروں چھوٹے چھوٹے مواقع ہوتے ہیں اور جیسے، پیسے کے مہین اجزا کی طرح جو میرے الگورتھم نے تخلیق کیا، یہ چھوٹی چھوٹی وقت کی بچتیں اگر جاری رہیں (اور کئی افراد کے گروپوں پر محیط ہوں) تو خاصی نمایاں ہوسکتی ہیں۔
آج میں وال اسٹریٹ جرنل کا بیسٹ سیلر مصنف ہوں (Come Up for Air: How Teams Can Leverage Systems and Tools to Stop Drowning in Work) اور Leverage کا سی ای او ہوں جو آپریشنل کارکردگی کی ٹریننگ کمپنی ہے۔ میری ٹیم اور میں نے ہزاروں اداروں کی کاکردگی کو بڑھاتے ہوئے اور اسٹریس اور بوجھ کو کم کرتے ہوئے انھیں فورچیون دس کمپنیوں میں شامل ہونے میں مدد کی ہے۔
میں نے یہ جانا کہ ہم جن کلائنٹس کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان میں سے اکثر ہمارے پاس بڑی کامیابیوں کے لیے آتے ہیں۔ وہ کسی عمل پر کئی کئی گھنٹے بچانا چاہتے ہیں یا پھر کوئی نیا ٹول لاگو کرکے ہر ہفتے چند روز بچانا چاہتے ہیں۔ وہ کھیل اور کام کو بدل دینے والی کسی انقلابی شے کی تلاش میں ہیں۔
ہم سسٹم کو آپٹیمائز کرکے (مثلاً ای میل، سلیک، مائکروسافٹ ٹیمز، پراجیکٹ مینجمنٹ سافٹ ویئر وغیرہ) ہر ہفتے تیزی سے کئی گھنٹے بچانے کے قابل ہیں۔ اور، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے پاس وقت کی بچت کے کئی انقلابی طریقے ہیں۔ یہ مواقع یقینا موجود ہیں اور انھیں ترجیح دی جانی چاہیے۔ لیکن اکثر اداروں میں (اور اکثر ہماری روزمرزہ زندگی میں) ان حالات کی ایک محدود تعداد ہوتی ہے۔
زیادہ تر افراد اس چیز کو جانچنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ابتدائی وقت کی بچت کے بعد کیا ہوتا ہے۔ طویل مدت بعد کیا ہوتا ہے؟ آپ کیسے اس بہتری کو برقرار اور سال بہ سال وقت کی بچت کو جاری رکھ سکتے ہیں؟
میں نے یہ جانا کہ وقت کی چھوٹی چھوٹی بچتوں کے تقریباً لامحدود مواقع ہمارے پاس ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگ انھیں نظرانداز کردیتے ہیں یا پھر انھیں دیکھتے ہی نہیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ان بظاہر چھوٹے مواقع کی اہمیت کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی جائے اور انھیں آنکھیں کھول کر دیکھا جائے کیونکہ یہ مواقع ہر جگہ موجود ہیں۔
ہماری زندگی میں اگر ہزاروں نہیں تو سیکڑوں ایسے مواقع ضرور موجود ہیں اور نہ صرف یہ ہمارے لیے دستیاب ہیں بلکہ ان کا نفاذ بہت ہی آسان بھی ہے۔ پھر بھی ہم میں سے بہت سے ان سے گزرجاتے ہیں کیونکہ ہم ایک سیکنڈ کی قوت کے بارے میں نہیں سوچتے۔
یہاں ایک مثال دی جارہی ہے جو اکثر قارئین کے لیے قابلِ عمل ہوگی۔ ایک کام جو میری کمپنی ملازمین کو سکھاتی ہے، وہ ای میل کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرنا ہے۔ ہم کئی قسم کی بہترین مشقیں سکھاتے ہیں، لیکن ان میں سے ایک بہت ہی سادہ ٹوٹکا کیبورڈ شارٹ کٹ کا استعمال ہے۔ یہ بظاہر کچھ خاص نہیں دِکھتا، لیکن ہم نے دیکھا کہ اپنے کمپیوٹر ماؤس کے ذریعے archive button پر کلک کرنے کے مقابلے میں E کی کلید دبانے سے ہم فی ای میل دو سیکنڈ بچاسکتے ہیں۔
ہارورڈ بزنس ریویو کے مطابق، ایک اوسط آفس ورکر کو ایک دن میں ۱۲۰؍ای میل وصول ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر آپ اس کیبورڈ شارٹ کٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ایک دن میں اپنے چار منٹ بچاسکتے ہیں۔ اس طرح، یہ ہفتے بھر کے ۲۰ منٹ، یا ایک سال کے ۱۶ گھنٹے اور چالیس منٹ ہوگئے۔
چنانچہ محض اپنے کیبورڈ کا ایک بٹن استعمال کرکے آپ ایک سال میں اپنے کام کے پورے دو ایام بچاسکتے ہیں۔ اور، اس میں آپ کے کام سے ہٹ کر آپ جو ای میل استعمال کرتے ہیں، وہ شامل نہیں۔ جب آپ کو یہ پتا چلتا ہے کہ یہ تو بہت سے کیبورڈ شارٹ کٹس میں سے صرف ایک شارٹ کٹ کے ساتھ ایسا معاملہ ہے اور کیبورڈ شارٹ کٹ تو سیکنڈ بچانے کی صرف ایک حکمت عملی ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ میں اس پر اتنا زور کیوں دیتا ہوں۔
اب، اگر آپ دواؤں کی ڈبیا (pill box) استعمال کرکے ہر روز بیس سیکنڈ بچاسکتے ہیں تو یہ ہر سال کے دو گھنٹے ہوجائیں گے۔ اتنی بات حیران کن نہیں، بلکہ جب آپ دیگر اسی قسم کے طریقے ایک ساتھ استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں تو آپ کو اس کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔ یہ وہ کلیدی مائنڈسیٹ ہے جو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی تبدیلی غیرنمایاں ہوتی ہے، مگر کئی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک بڑی تبدیلی لاسکتی ہیں۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہم ایک سال میں دو ہزار گھنٹے اوسطاً کام کرتے ہیں، اور ایک سال میں دو گھنٹے بچانے کا مطلب ہے، آپ اپنے کام میں ایک فیصد زیادہ پروڈکٹو ہوگئے ہیں۔
اس قسم کی سوچ یقینا کام کی جگہ پر اہمیت رکھتی ہے جہاں کئی افراد کی پوری ٹیم پر مرکب (کمپاؤنڈ) اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگر آپ ای میل شارٹ کٹ کی گزشتہ مثال کو دس افراد کی ٹیم پر نافذ کردیں تو ایک سال میں اس ٹیم کے مجموعی طور پر ۱۶۷؍گھنٹے بچیں گے۔ اگر آپ اوسط ۵۰ ڈالر فی گھنٹہ کے حساب سے بھی لگائیں تو محض کیبورڈ شارٹ کٹ کا استعمال کرکے آپ ۸۰۰۰ ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں۔
عملی طور پر، ہر قسم کی جاب میں کسی نہ کسی قسم کی تکرار ہوتی ہے۔ آپ اپنے کام کی جگہ پر جو کام بھی ہر دن یا ہر ہفتے کئی بار کرتے ہیں، اسے آپٹیمائز کیا جاسکتا ہے۔ اور، جب آپ سیکنڈ کے تناظر میں سوچتے ہیں تو ایسا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایک سافٹ ویئر جیسے Zapier آپ کو مختلف سافٹ ویئرز کے درمیان کسٹم آٹومیشن کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ وہ سادہ کام کرسکتا ہے جو آپ کو بصورتِ دیگر مینوئلی کرنے پڑتے ہیں۔ یہ آپ کے کئی سیکنڈز (بعض اوقات گھنٹے) بچانے کا ایک حیرت انگیز مفید آلہ ہے۔
چلیں، فرض کیجیے، آپ ہر نئی کمپنی کا بلاگ پوسٹ اپنی ٹیم کو Slack میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ چند منٹ کے اندر اندر، آپ ایسی آٹومیشن تیار کرسکتے ہیں جس کے ذریعے ہر بار جب بلاگ پوسٹ شائع ہوگا، زیپیٔر اسے Slack channel کے لنک کو بھیج دے گا۔ اس طرح، یہ کام مینوئلی کرنے پر تیس سیکنڈ لگانے کی بجائے یہ کام خود بخود ہوگیا۔
اس اقدام کا محض دفتری کام کرنے والوں (Knowledge workers) پر ہی اطلاق نہیں ہوتا۔ ایک دن میں نے اپنے ملازم کو سموتھی کا آرڈر دیا اور دیکھا کہ اسے کیلے کے چھلکے کچرا دان میں پھینکنے کے لیے بلینڈر سے تین فٹ دور جانا پڑا۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ یہ کچرا دان بلینڈر کے پاس ہی رکھ لے تو وہ ہر بار سموتھی بناتے ہوئے چند سیکنڈ کی بچت کرسکتا ہے۔
جب آپ وقت کی ان چھوٹی چھوٹی بچتوں کو دیکھنا شروع کردیں گے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ بچتیں آپ کے ارد گرد بھری ہوئی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر ان کاموں کو اسی طرح کرنے میں مشغول رہتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں، اور یوں ہم ان بچتوں کو دیکھ نہیں پاتے۔ ہزاروں ٹیموں کے ساتھ کام کرنے کے بعد میں یہ آپ کو ببانگ دہل بتاسکتا ہوں کہ کوئی بھی اپنے کام کے پرانے انداز کو جیسا وہ کرتا چلا آرہا ہے، بدلنا نہیں چاہتا۔ ایسا کرنا مشکل، اضطراب انگیز اور پریشان کن ہوتا ہے، خاص کر ابتدا میں۔ لیکن، ایک بار جب آپ اس پہلی رکاوٹ پر قابو پالیتے اور یہ تسلیم کرنا شروع کردیتے ہیں کہ کام کرنے کے اس سے بہتر طریقے بھی ہیں تو آپ کے سامنے مواقع کی دنیا کھلتی چلی جاتی ہے۔
اگرچہ آپ کی روزمرہ زندگی میں بہت سی چھوٹی کامیابیاں اہم ہوسکتی ہیں، لیکن یہاں کھیل میں کچھ زیادہ بڑا بھی ہے۔ تصور کیجیے کہ اگر ادارے میں ہر فرد یہ سوچ اختیار کرلے۔ تصور کیجیے، اگر آپ کی تمام فیملی ایسا کرنے لگے۔ جب جتھے کے جھتے اس قسم کی سوچ پر عمل شروع کردیں، تو یہ واقعی انقلاب ہوسکتا ہے۔
اور، اس کا آغاز ایک سیکنڈ کی حقیقی قدر کو جاننے سے ہوتا ہے۔
(ترجمہ: سید عرفان احمد)
“Saving seconds is better than hours”. (“Time”)