جو کچھ امریکی صدر ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں، اُس کی راہ میں خود اُن کا وجود حائل ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹرمپ زمینی حقیقتوں کو یکسر نظرانداز کرنے کے موڈ میں ہیں اور اس معاملے میں کسی کی رائے سُننے، مشورہ ماننے کو تیار نہیں۔ ٹیسلا کا شمار امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بڑے آٹو میکرز میں ہوتا ہے۔ اس کے سربراہ ایلون مسک ہیں جو اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دایاں بازو بنے ہوئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ٹیسلا کو دھچکے لگ رہے ہیں۔ خود ایلون مسک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ امریکی صدر نے انہیں سرکاری اداروں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر اخراجات کم کرنے سے متعلق ادارے DOGE کی سربراہی سونپ کر مشکلات سے دوچار کردیا ہے کیونکہ وہ ٹیسلا کے معاملات پر خاطر خواہ حد تک توجہ نہیں دے پارہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک نے مل کر دنیا کی سب سے زیادہ آتش گیر ’’من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو سوسائٹی‘‘ تشکیل دی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو وقفے وقفے سے سراہتے رہتے ہیں۔ دنیا کو یہ تاثر یا دھوکا دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اِس وقت اُن سے زیادہ ذہین اور معاملہ فہم کوئی نہیں اور یہ کہ اُن کی قیادت میں امریکا مزید اِتنی ترقی کرلے گا کہ دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ صدر ٹرمپ کا جھکاؤ ایلون مسک کی طرف کچھ زیادہ ہے۔ اِتنا جھکاؤ خرابیاں پیدا کرتا ہے اور کر رہا ہے۔
حال ہی میں کانگریس میں تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کے حوالے سے کہا کہ اُنہیں فلاں کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ’’انہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا‘‘ جیسے الفاظ سُن کر لوگوں کو محسوس ہوا کہ شاید وہ اپنے آپ سے کہہ رہے ہیں کہ اُنہیں دوسری بار امریکا کا صدر بننے سے گریز کرنا چاہیے تھا!
ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے تعلق، دوستی یا محبت کے بارے میں عالمگیر سطح پر معاملہ یہ ہے کہ جتنی منہ اُتنی باتیں۔ مبصرین اور تجزیہ کار اپنے جائزوں میں طرح طرح کی پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ کسی کا خیال ہے کہ یہ دوستی امریکا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی۔ کسی کا اندازہ ہے کہ اگر امریکا کو آگے بڑھنا ہے تو ٹرمپ اور مسک کے تعلق کو ایک حد میں رہنا ہوگا۔ عالمگیر سطح پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اس تعلق سے ٹرمپ کا بھلا ہوگا نہ مسک کا۔ ٹیسلا کے شیئرز کی ویلیو گر رہی ہے۔ مارکیٹ میں اس ادارے کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ٹیسلا کی کاروباری حیثیت کے گراف کا گرنا امریکا کے لیے کوئی واضح انتباہ ہے، قدرت کا خفیہ اشارا ہے۔ امریکا واحد سپر پاور ہے مگر یہ اسٹیٹس برائے نام رہ گیا ہے۔ امریکا کی ساری برتری اس لیے دکھائی دے رہی ہے کہ اُس نے تمام عالمی اداروں کو، یورپ کے ساتھ مل کر، ایک لڑی میں پرو رکھا ہے اور اِس لڑی کا سِرا تھام رکھا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ امریکا نے عالمی سیاسی و معاشی نظام اور مالیاتی نظام دونوں کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے۔
ایک وقت تھا جب امریکا اور ٹیسلا کو ورلڈ بیٹرز سمجھا جاتا ہے یعنی دونوں نے ایک دنیا کو پچھاڑنے کی ٹھان رکھی تھی اور اس حوالے سے بھرپور کامیابی مل بھی رہی تھی۔ امریکا عالمی سیاست و معیشت میں دوبارہ بھرپور غلبہ حاصل کرنے کے لیے بے تاب تھا۔ اُس نے اسٹریٹجک معاملات کو بھی اپنی مٹھی میں بھینچے رکھنے کے لیے ہر کارڈ کھیلنے کا سوچ لیا تھا اور یہی حال کاروباری دنیا میں ٹیسلا کا تھا۔ انہوں نے ٹیسلا کو دنیا کا نمبر ون آٹو میکنگ ادارہ بنانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرنے کی قسم کھالی تھی۔ تین ماہ کے دوران بہت کچھ بدل گیا ہے اور ٹیسلا کے لیے تو جیسے سبھی کچھ بدل گیا ہے۔ ان تین ماہ کے دوران ٹیسلا کے شیئرز کی مارکیٹ ویلیو میں ۵۰ فیصد تک گراوٹ آچکی ہے۔ جس امریکا کا نظم و نسق ٹرمپ اور مسک نے سنبھال رکھا ہے، اُس کے لیے یہ کوئی اچھی علامت یا مبارک اشارا نہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ ٹیسلا پر زوال اس لیے آیا ہے کہ ایلون مسک نے امریکی محکموں اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ٹیسلا کے لیے معاملات تو ٹرمپ کے منتخب ہونے سے بہت پہلے ہی بگڑنے لگے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ ایلون مسک نے اپنی کاروباری سلطنت کو مضبوط بنانے ہی کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ تھاما ہو۔ معاملہ صرف اتنا ہے کہ ایلون مسک نے اپنے آپ پر گنجائش سے بہت زیادہ بوجھ لاد لیا ہے۔ سرکاری سطح پر اُن کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اُن کے پاس اب اپنے اداروں کے لیے وقت نہیں رہا۔ اُن کی سرکاری مصروفیت چونکہ غیرمعمولی ہوچکی ہے، اس لیے یہ بھی لازم ہے کہ اُن کے کاروباری اداروں کو خاطر خواہ توجہ نہ مل پائے۔ کچھ مدت کے لیے تو ایلون مسک نے ٹیسلا کے شیئرز کی ویلیو میں اضافے کی خاطر چند اقدامات کیے مگر کچھ خاص فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ چند ماہ کے دوران ایلون مسک نے کام کم کیا ہے اور بڑھکیں زیادہ ماری ہیں۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور مشین لرننگ کے حوالے سے ایسی باتیں کہیں جن سے یہ عندیہ ملتا تھا کہ وہ اِس شعبے میں کوئی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں مگر پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ سب کچھ محض زبانی جمع خرچ تھا۔
ایک وقت تھا کہ ٹیسلا کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں قائدانہ سا کردار مل چکا تھا۔ دنیا بھر کے ادارے جدت اور ندرت کا اندازہ لگانے کے لیے ٹیسلا کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ کہانی یہ ہے کہ پہلے تو ہائی ٹیک کے شعبے میں ٹیسلا میں ٹھہراؤ آیا اور اب معاملہ ختم کی طرف جارہا ہے۔ ایلون مسک کا یہ حال ہے کہ جب سے اُنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ہاتھ تھاما ہے، چین سے تجارت اور ہائی ٹیک میں مسابقت پر اُن کی توجہ رہی نہیں اور اب عمومی تاثر یہ ہے کہ وہ صرف بڑھکیں مار سکتے ہیں یا جی بھر کے بلند بانگ دعوے، اوٹ پٹانگ وعدے کرسکتے ہیں۔ کاروباری دنیا میں مسابقت بڑھتی ہی جارہی ہے اور ایلون مسک، سرکاری مصروفیت کے باعث، اِس طرف توجہ دینے کی پوزیشن میں ہیں ہی نہیں۔ سیاسی سطح پر بہت زیادہ طاقت حاصل کرکے اپنے کاروباری معاملات کو زیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچانے کی ہوس اور حکمتِ عملی نے ایلون مسک کو عجیب دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔
ایلون مسک جس انداز سے اپنے اداروں کو چلارہے ہیں، وہ انداز انتہائی حیرت انگیز اور بہت حد تک مضحکہ خیز بھی ہے۔ ٹیسلا اور ایلون مسک کے دیگر کاروباری اداروں میں ایلون مسک کے نظم و نسق کے اسٹائل کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا۔ ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کی بہت گاڑھی محض اس لیے نہیں چھن رہی کہ دونوں بزنس مین ہیں بلکہ یہ گاڑھا پن اس لیے بھی ہے کہ دونوں کا انتظامی انداز یکساں ہے۔ اِسے کبوتر کا سا انداز کہا جاتا ہے۔ ایلون مسک کبوتر کی طرح اڑتے ہیں، جہاں تہاں لوگوں پر بیٹ کردیتے ہیں اور پھر تیزی سے اڑ کر اپنے جنگلے اور پنجرے کی طرف واپس آجاتے ہیں۔
انتظامی امور کی انجام دہی کا یہ انداز انتہائی خطرناک ہے۔ اِس کے نتیجے میں ٹیسلا کے تمام ایسے سینئر منیجرز یا تو جاچکے ہیں یا پھر جانے کی تیاری کر رہے ہیں جنہیں عزتِ نفس پیاری ہے۔ دوسری طرف خود ایلون مسک بھی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں یعنی جس سے ذرا سے بھی خفا ہوں، اُسے برطرف کرنے میں دیر نہیں لگارہے۔ اِس کے نتیجے میں ٹیسلا اور اُن کے دیگر اداروں میں شدید بددلی پھیلی ہوئی ہے۔
معاملات بہت عجیب ہیں۔ اگر ایلون مسک اعلیٰ سطح پر کسی کو برطرف نہ کریں اور اُس کے لیے بے روزگاری کا مسئلہ کھڑا نہ ہو تب بھی ادارے کی بگڑتی ہوئی ساکھ اور مارکیٹ میں طرح طرح کے منفی تصورات اُس کی اپنی ذاتی شناخت اور حیثیت کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہیں۔
اب ایسا تاثر مل رہا ہے کہ کبھی ساتھ ساتھ چل کر پوری دنیا کے لیے شدید نوعیت کی مسابقت پیدا کرنے والے امریکا اور ٹیسلا اب مل کر زوال کی طرف رواں ہیں۔ ٹیسلا جیسے انتہائی کامیاب ادارے کے شیئرز کی ویلیو کا اچانک ۵۰ فیصد کی حد تک گر جانا، اِس بات کا واضح اشارا ہے کہ عالمی سطح پر اب امریکا کے لیے بھی معاملات اچھے اور حوصلہ افزا نہیں رہے۔ امریکی قیادت کو اپنی بات منوانے کے لیے بہت زور لگانا پڑے گا۔ دھونس دھمکی اور بلیک میلنگ کل تک چلتی تھی، اب اِس کی زیادہ گنجائش نہیں رہی۔ انتہائی کمزور ممالک کو تو دبوچا جاسکتا ہے مگر ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو انگوٹھے کے نیچے رکھنا کسی کے لیے بھی کوئی آسان معاملہ نہیں۔ ٹیسلا کا بحران اس لیے زیادہ خطرناک دکھائی دے رہا ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ ساتھ خود امریکا میں بھی اُسے صارفین کی طرف سے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ لوگوں کی سوچ بدل گئی ہے۔
ٹیسلا کے لیے مسابقت اس لیے خطرناک ہوگئی ہے کہ ایک طرف تو اُس نے ٹیکنالوجی کے محاذ پر متوجہ رہنا چھوڑ دیا ہے اور دوسری طرف لاگت کا فیکٹر بھی قیامت ڈھارہا ہے۔ چین اور جنوبی کوریا کی بنائی ہوئی گاڑیاں جب دنیا کو قدرے کم قیمت پر مل رہی ہیں تو وہ ٹیسلا کی گاڑیاں کیوں خریدے گی؟ یورپ کو بھی چین کی طرف سے شدید نوعیت کی مسابقت کا سامنا ہے۔ ایک جیسی مصنوعات کی قیمت میں ۲۰ فیصد تک کا فرق پایا جاتا ہو تو کوئی احمق ہی ہوگا جو چینی مصنوعات چھوڑ کر امریکی مصنوعات کو اپنائے گا یا یورپ کی طرف دیکھے گا۔
ایسا نہیں ہے کہ مغربی دنیا میں صرف ٹیسلا کو شدید مسابقت اور بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ مغربی دنیا کے بہت سے بڑے کاروباری اداروں کو اس وقت کسی نہ کسی حوالے سے بائیکاٹ، مسابقت یا کسی اور چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ ایک طرف تو مغربی دنیا کی پالیسیاں خرابی پیدا کر رہی ہیں اور دوسری طرف لاگت کا عنصر بھی مشکلات بڑھا رہا ہے۔ مغربی دنیا میں اجرت بہت زیادہ ہے اور دیگر اخراجات بھی کمتر نہیں۔ ایسے میں کم قیمت والی اشیا عالمی منڈی میں لانا ممکن ہی نہیں رہا۔
جیف بیزوز نے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ میں انتہائی شرمناک ریمارکس کے ذریعے لوگوں کو ناراض کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ لوگ اب امیزون سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ آن لائن خریداری کے لیے اب پورٹلز کی کمی نہیں۔ امیزون پر جو آئٹم پیش کیے جاتے ہیں، وہی آئٹم دوسرے بہت سے پورٹلز پر کہیں کم قیمت میں دستیاب ہیں۔ فیس بک کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مارک زکربرگ نے حال ہی میں معافی مانگی ہے۔ امریکی سینیٹ میں پیش ہوکر بھی اُنہوں نے والدین کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے معافی مانگی تھی۔
ٹیسلا اور امریکا میں اب ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ایلون مسک اپنی راہ سے ہٹ چکے ہیں، اُن کی توجہ منتشر ہوچکی ہے جبکہ صدر ٹرمپ اپنے اقتدار کو عالمی امن کی تباہی کے لیے بروئے کار لانے کے معاملے میں ون مین آرمی میں تبدیل کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا وجود عالمی سیاسی و معاشی نظام کے لیے مزید خرابیاں پیدا کر رہا ہے۔ امریکا نے جن جن باتوں کے ذریعے فقیدالمثال کامیابی حاصل کی، اُن سب کو باری باری ختم کرنا ٹرمپ کا ایجنڈا دکھائی دے رہا ہے۔
تاریخ کے ریکارڈ میں درج ہے کہ رومن شہنشاہ نیرو اُس وقت بانسری بجارہا تھا جب روم جل رہا تھا۔ کچھ ایسی ہی کیفیت ڈونلڈ ٹرمپ بھی پیدا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ امریکا کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں اور دوسری طرف ٹرمپ ہیں کہ کسی بھی معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ اُن کا کھلنڈرا مزاج امریکا کی الجھنوں کو مزید پیچیدہ بنارہا ہے۔ کچھ باتیں ڈونلڈ ٹرمپ نے فرض کرلی ہیں۔ مثلاً اُن کی ایک رائے یہ ہے کہ امریکا عالمگیریت کے دور کا شہنشاہ ہے مگر ایک دنیا ہے کہ امریکا کو غلط سمجھتی رہی ہے اور اُس سے غلط سلوک روا رکھتی آئی ہے۔ اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ امریکا کو تمام معاملات میں خرابی کا حتمی طور پر ذمہ دار قرار دینا کسی بھی طور درست نہیں۔
امریکی صدر جو کچھ بھی کہہ اور کر رہے ہیں، اُس کا بنیادی مقصد اب یہ ہے کہ دنیا نے امریکا کے ساتھ جو کچھ بھی غلط کیا ہے، اُس کا بھگتان کرے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دنیا نے امریکا سے لیا بہت کچھ ہے مگر دیا بہت کم ہے اور یہ کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا کو وہ سب کچھ ملے جس کا وہ مستحق ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ کوئی اور ملک اِتنا طاقتور ہوکر نہ ابھرے کہ امریکا کی قائدانہ حیثیت کھٹائی میں پڑ جائے۔
یہ کہنے کی تو اب ضرورت نہیں رہی کہ جو کچھ بھی صدر ٹرمپ کرنا چاہتے ہیں، اُس کی پشت پر کوئی منطق تلاش کرنا آسان کام نہیں۔ ٹیرف ہی کا معاملہ لیجیے۔ ٹرمپ نے تھوڑا سا رونا روکر آؤ دیکھا نہ تاؤ، میکسیکو، چین اور کینیڈا کے خلاف ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ مقصد یہ تھا کہ امریکی مصنوعات کے لیے مارکیٹ میں زیادہ گنجائش پیدا ہو۔ صدر ٹرمپ ٹیرف کے ذریعے دنیا کو سبق سکھانا اور انتقام لینا چاہتے ہیں۔ اس کوشش میں کیا ہوگا، اِس کا ٹرمپ کو اندازہ نہیں اور اگر اندازہ ہو بھی تو بظاہر کوئی فکر نہیں۔ دنیا بھر میں عام اشیا کی جو لاگت ہے، اُس سے کہیں زیادہ لاگت امریکا میں ہے۔ یہی سبب ہے کہ امریکا کا درآمدی بل بڑھتا جارہا ہے۔ چین اور دیگر مینوفیکچرنگ جاینٹس مل کر امریکا اور دیگر بڑے، ترقی یافتہ ملکوں کی مارکیٹ پر قبضہ کرچکے ہیں۔ اگر امریکا ٹیرف نافذ کرے گا تو فریقِ ثانی بھی ٹیرف نافذ کرنے کی طرف جائے گا۔ اس کے نتیجے میں امریکا میں عام آدمی کو، جو پہلے ہی مالیاتی مشکلات کا شکار ہے، درآمد شدہ اشیا زیادہ مہنگی پڑیں گی۔
امریکیوں کی اکثریت بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ ایک ہی رخ پر رہتی ہے۔ وہ فکر و نظر کے حوالے سے ساکت و جامد اور قدرے غیرلچکدار ہیں۔ جو کچھ وہ ٹھان لیتے ہیں، اُسے ہر حال میں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے۔ سوال حقیقت پسندی کا ہے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار سوچ لیں کہ کوئی معاملہ درست نہیں تو پھر کوئی نہیں جو اُن سے منوالے کہ وہ معاملہ درست ہے۔ وہ کسی بھی معاملے کے بارے میں جو رائے قائم کرلیتے ہیں، اُسے تبدیل کرنے کی طرف نہیں جاتے۔ پھر وہ حقائق سے بھی رُوگردانی کرتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پیشرَو جوبائیڈن کا مسئلہ یہ تھا کہ اُن کا حافظہ کمزور ہوچکا تھا اور وہ حقائق یاد نہیں رکھ پاتے تھے مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا معاملہ اِس سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ وہ حقائق کو نظرانداز کرکے ایسی باتوں کو یاد رکھتے ہیں اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یوں معاملات بگڑتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وہ معاملات کو ایک خاص زاویے سے دیکھتے ہیں اور اُس زاویے کو کبھی تبدیل نہیں کرتے۔ حقائق کچھ اور کہہ رہے ہوں تب بھی نہیں۔ وہ خود کو حقائق سے مکمل طور پر محفوظ و ممنون رکھتے ہیں!
ڈونلڈ ٹرمپ کے ذہن میں وہ زمانہ بسا ہوا ہے جب مغربی طاقتیں پوری دنیا پر ہر اعتبار سے چھائی ہوئی تھیں یعنی معاملات صرف تجارت تک محدود نہ تھے بلکہ امریکا اور یورپ مل کر پورے پورے خطوں کو غلام بنائے رکھتے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کے ساتھی مل کر ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہیں جسے باقی دنیا پر تھوپا جاسکے۔ یہ ماسٹر پلان امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے سے متعلق ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے امکانات اور گنجائش کے حوالے سے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس حقیقت کا ادراک نہیں کر پارہے کہ جو کچھ بھی وہ باقی دنیا کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، اُس کے نتیجے میں سب سے زیادہ خطرات اور مشکلات کا سامنا امریکیوں کو کرنا پڑے گا۔ اُن کی پالیسیاں امریکیوں کے لیے سوہانِ روح بن سکتی ہیں۔ تجارت کے معاملات کی خرابی امریکی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔
دائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی رومن کیتھولک روایات کی حامل امریکی سپریم کورٹ صدر ٹرمپ اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف ایک خاص حد تک ہی جاسکتی ہے۔ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم نے مل کر جتنی طاقت حاصل کرلی ہے، اُس کی راہ میں فیصلہ کن حد تک دیوار بننے کی ہمت یا سکت امریکی سپریم کورٹ میں نہیں۔
ٹیسلا نے بھرپور کامیابی دنیا کے لیے نمونہ بن کر حاصل کی تھی۔ یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ سوچ عالمگیر تھی۔ امریکا کی کامیابی کی بھی یہی کہانی تھی۔ جب تک امریکا دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کرتا رہا، تب تک وہ ترقی کرتا رہا۔ جب اُس نے باقی دنیا کو صرف دبوچ کر رکھنے کا سوچنا شروع کیا، تب سے اُس کے لیے انتہائی نوعیت کی مشکلات پیدا ہونے لگیں اور اب یہ سلسلہ تیز تر ہوگیا ہے۔ دنیا کے ساتھ چلنے یا دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کی سوچ اگر گم ہو جائے یا دم توڑ دے تو پھر عظمتِ رفتہ کو بحال کرنا تقریباً ناممکن ٹھہرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ ساری کی ساری بالادستی صرف امریکا کی ہونی چاہیے۔ وہ ’’صرف اور صرف امریکا‘‘ والی سوچ کے حامل ہیں۔ یہ بات اس لیے زیادہ حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے کہ ساتھ ہی ساتھ ٹرمپ خود کو روس اور چین کے صدور کے ذاتی دوست کی حیثیت میں بھی دیکھتے ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کو امریکی ہم منصب کی کوتاہ نظری کا پورا احساس ہے۔ وہ دونوں اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسیوں میں زیادہ تسلسل ہے نہ دور اندیشی۔ پختگی کا بھی فقدان ہے۔ ایسے میں وہ صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ امریکا کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن اور غیرمتوازن پالیسیوں سے وہ اپنے اپنے قومی مفادات کے لیے زیادہ سے زیادہ استحکام کی گنجائش پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے کہ ٹرمپ اگر چین میں ہوتے تو کسی چھوٹے شہر کے میئر سے زیادہ کا درجہ نہیں پاسکتے تھے۔
روس اور چین مل کر ایسی کیفیت بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں امریکا اور یورپ کا اتحاد ختم ہوجائے۔ روسی صدر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اُن کے چینی ہم منصب یہ مقصد کس طور حاصل کرپائیں گے۔ بہرکیف، اِس سمت میں کام ہو رہا ہے۔
پوٹن کے لیے ٹرمپ کسی نعمت سے کم نہیں۔ سابق سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچوف کے تعمیری کام کے مقابل جو تباہ کن اقدامات پوٹن نے کیے، وہ اُن کے لیے شرم کا باعث تھے۔ ٹرمپ کی بدولت پوٹن کی شرمساری نمایاں حد تک ختم ہوئی ہے۔
ٹیسلا کی ناکامی ایلون مسک کے لیے پریشان کن ضرور ہے مگر اِتنی زیادہ نہیں کہ سب کچھ ہاتھ سے جاتا دکھائی دے۔ اُن کی کاروباری سلطنت بہت بڑی ہے۔ ایکس جیسا بڑا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اُنہی کا ہے اور اسپیس ایکس بھی اُن کا ہے۔ دوسرے بہت سے معیاری کاروباری ادارے بھی اُنہی کے ہیں۔ وہ خود بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کے پاس اب ٹیسلا سے بڑے کاروباری ادارے بھی ہیں۔ اسپیس ایکس کے متعدد راکٹ ٹیک آف کے چند لمحات کے بعد ہی پھٹے ہیں۔ یہ امر بھی ایلون مسک کے لیے کم پریشان کن نہیں۔ روس کی طرح امریکا میں بھی ٹرمپ کے کیمپ میں موجود کاروباری نوگزے پیر جب تک منافع کمارہے ہیں، تب تک اُنہیں اِس بات کی پروا نہیں کہ معیشت خسارے سے دوچار ہو رہی ہے۔ ٹرمپ کا مزاج ہی ایسا ہے کہ جب تک اُن کے کاروبار میں پیش رفت ہو رہی ہے، تب تک قومی معیشت کی اُنہیں چنداں فکر نہیں۔ یوکرین کے معاملے میں بھی اُنہوں نے اِسی ذہنیت کو بروئے کار لانے پر دھیان دیا ہے۔ جب تک ذاتی فائدہ ہو رہا ہے، تب تک سب کچھ ٹھیک ہے۔
دکھائی یہ دے رہا ہے کہ ٹرمپ اور اُن کی ٹیم نے بہت زیادہ جنونیت کا مظاہرہ کیا ہے مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ جہاں فائدہ ہے بس وہیں توجہ دی جارہی ہے۔ سرکاری اداروں کی املاک فروخت کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ سرکاری اداروں کے حوالے سے غیرمعمولی انتشار پیدا کیا جارہا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے صدر دفتر کی عمارت کو بھی فروخت کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ یہ بھی ٹرمپ اور اُن کی ٹیم ہی کا ایجنڈا ہوگا۔ پسماندہ ممالک کی طرح اب امریکا میں بھی اقتدار سے چمٹے ہوئے لوگ سرکاری زمینیں اور عمارتیں خرید کر ذاتی منفعت کے لیے بروئے کار لانے کی راہ پر گامزن ہیں۔
اب ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ قانونی طور پر مشکوک سمجھے جانے والے کسی بھی اقدام کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تو زیادہ طاقتور ہوکر ابھریں گے۔ یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ صدر کی حیثیت سے سپریم کورٹ نے اُنہیں استثنیٰ دے رکھا ہے۔
ٹرمپ کے پہلے عہدِ صدارت میں امریکی عوام نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے تھے، مگر اب وہ بہت تھکے ہوئے ہیں۔ جو لوگ ٹرمپ کے مخالف ہیں، وہ بہت حد تک اندرونی نوعیت کی نقل مکانی کا سہارا لے رہے ہیں۔ ری پبلک ٹاؤن ہال میٹنگز میں جب کوئی احتجاج کرتا ہے تو اُسے نجی ملیشیا حراست میں لے لیتی ہے۔
اسٹیفن رِکٹر دی گلوبلسٹ ڈاٹ کام کے پبلشر اور ایڈیٹر انچیف ہیں۔ وہ مصنفین اور تجزیہ کاروں کے عالمی نیٹ ورک گلوبل آئیڈیاز سینٹر کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“As Tesla goes down, so does Trump’s United States?” (“The Globalist”. March 11, 2025)