’حمیدتی‘ کے نام سے مشہور محمد حمدان دگولو سوڈان کے سیاسی منظرنامے پر ایک طاقتور شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کی نیم فوجی تنظیم، ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) اس وقت ملک کے نصف حصے پر قابض ہے۔
حال ہی میں آر ایس ایف نے ایک اہم فتح حاصل کی جب اس نے الفاشر شہر پر قبضہ کر لیا جو کہ دارفور کے مغربی خطے میں سوڈانی فوج اور اس کے مقامی اتحادیوں کا آخری مضبوط قلعہ تھا۔
اپنے مخالفوں کے لیے خوف اور نفرت کی علامت حمیدتی، اپنے حامیوں کے نزدیک جرات، بے رحمی، اور ایک بدنام ریاست کو منہدم کرنے کے عزم کی وجہ سے قابلِ ستائش ہیں۔
حمیدتی کا پس منظر نہایت سادہ ہے۔ ان کا خاندان شتر بانوں کی محاریہ شاخ سے تعلق رکھتا ہے۔ محاریہ اونٹ پالنے والے اور عربی بولنے والے رزیقات قبیلے کا حصہ ہیں اور یہ چاڈ اور دارفور کے درمیان آباد ہیں۔
حمیدتی کی پیدائش ۱۹۷۴ء یا ۱۹۷۵ء میں ہوئی۔ دیہی پس منظر رکھنے والے بہت سے لوگوں کی طرح ان کی تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش سرکاری طور پر درج نہیں کی گئی۔
ان کے چچا جمعہ دگولو کی قیادت میں ان کا قبیلہ ۱۹۷۰ء اور ۱۹۸۰ء کی دہائی میں جنگ سے بچنے اور بہتر چراگاہوں کی تلاش میں دارفور منتقل ہوا، جہاں انہیں سکونت کی اجازت مل گئی۔
نوجوانی میں ہی تعلیم ترک کرنے کے بعد حمیدتی نے اونٹوں کی تجارت کے ذریعے روزی کمانا شروع کیا، وہ اپنے اونٹ لیبیا اور مصر تک بیچا کرتے تھے۔
اس وقت دارفور سوڈان کا بیابان مغرب سمجھا جاتا تھا جو کہ پسماندہ، بے قانون اور عمر البشیر کی حکومت کی عدم توجہی کا شکار علاقہ رہا ہے۔ عرب جنگجو، جو ’جنجاوید‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، مقامی فُر قوم کی بستیوں پر حملے کرتے تھے۔ ان کے گروپ میں جمعہ دگولو کی قیادت میں ایک لشکر بھی شامل تھا۔
مکمل بغاوت
تشدد کے اس سلسلے نے ۲۰۰۳ء میں ایک مکمل بغاوت کی شکل اختیار کر لی، جب فُر جنگجوؤں کے ساتھ مسالیت، زغاوہ اور دیگر قبیلوں نے بھی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی عرب اشرافیہ نے انہیں نظرانداز کر رکھا ہے۔
جواب میں بشیر نے جنجاوید ملیشیا کو بڑے پیمانے پر پھیلایا تاکہ بغاوت کچلی جاسکے۔ ان ملیشیاؤں کی دیہات جلانے، لوٹ مار کرنے، قتل و غارتگری کرنے اور خواتین کی بے حرمتی کرنے پر بہت بدنامی ہوئی۔
حمیدتی کا دستہ بھی ان میں شامل تھا۔ افریقی یونین کے امن دستوں کی ایک رپورٹ کے مطابق، نومبر ۲۰۰۴ء میں ان کے دستے نے عدوا نامی گاؤں پر حملہ کر کے اسے تباہ کیا، جس میں ۱۲۶؍افراد مارے گئے، جن میں ۳۶ بچے بھی شامل تھے۔
امریکا کی ایک تحقیق کے مطابق جنجاوید نسل کشی کے مرتکب ہوئے۔ دارفور تنازع بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو بھیجا گیا، جس نے چار افراد پر فردِ جرم عائد کی، جن میں بشیر بھی شامل تھے، جنہوں نے نسل کشی کے الزامات سے انکار کیا۔
حمیدتی ان بہت سے جنجاوید کمانڈروں میں سے ایک تھے جو اس وقت استغاثہ کی نظر میں چھوٹے درجے کے سمجھے گئے۔
صرف ایک شخص، یعنی جنجاوید کے ’کرنلوں کے کرنل‘ علی عبدالرحمن کُشیب کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
گزشتہ ماہ انہیں ۲۷؍الزامات کا مرتکب قرار دیا گیا، جن میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل تھے۔ اب انہیں ۱۹؍نومبر کو سزا سنائی جائے گی۔
۲۰۰۴ء میں تشدد کے عروج کے بعد کے برسوں میں، حمیدتی نے چالاکی سے اپنے پتے کھیلے اور ایک طاقتور نیم فوجی قوت، کاروباری سلطنت اور سیاسی مشین کا سربراہ بن گئے۔
ان کی کہانی موقع پرستی اور کاروباری ذہانت کی کہانی ہے۔ انہوں نے مختصر وقت کے لیے بغاوت کی، اپنے سپاہیوں کے لیے تنخواہیں، ترقیاں اور اپنے بھائی کے لیے سیاسی عہدے کا مطالبہ کیا۔ بشیر نے زیادہ تر مطالبات مان لیے اور حمیدتی دوبارہ حکومت کے ساتھ ہو گئے۔
سونے کی کانوں پر قبضہ
بعد میں جب دیگر جنجاوید دستوں نے بغاوت کی، تو حمیدتی نے حکومتی افواج کی قیادت کی اور انہیں شکست دی۔ اسی دوران انہوں نے دارفور کی سب سے بڑی سونے کی کان ’جبل عامر‘ پر قبضہ کر لیا۔ جلد ہی، حمیدتی کے خاندانی کاروبار ’الجنید‘ نے سوڈان کے سب سے بڑے سونے کے برآمد کنندہ کا اعزاز حاصل کر لیا۔
۲۰۱۳ء میں حمیدتی نے ایک نئی نیم فوجی تنظیم، ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی سربراہی کے لیے سرکاری حیثیت حاصل کی۔ یہ فورس براہِ راست البشیر کو جواب دہ تھی۔
جنجاوید کو آر ایس ایف میں شامل کر لیا گیا، انہیں نئی وردیاں، گاڑیاں اور اسلحے دیے گئے اور باقاعدہ فوج کے افسران بھی ان کی مدد کے لیے تعینات کیے گئے۔
آر ایس ایف نے دارفور کے باغیوں کے خلاف ایک اہم فتح حاصل کی۔ اگرچہ جنوبی سوڈان سے متصل نوبا پہاڑوں میں اس کی کارکردگی کمزور رہی تاہم اس نے لیبیا کی سرحد کی نگرانی کا ٹھیکہ حاصل کر لیا۔ بظاہر ان کا مقصد افریقا سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی روکنا تھا، مگر حمیدتی کے کمانڈرز بھتہ خوری اور انسانوں کی سمگلنگ کے لیے بھی جانے گئے۔
۲۰۱۵ء میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے سوڈانی فوج سے یمن میں حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے فوجی بھیجنے کی درخواست کی۔ اس دستے کی قیادت ایک جنرل عبدالفتح البرہان کے پاس تھی، جو اب آر ایس ایف سے برسرِپیکار سوڈانی فوج کے سربراہ ہیں۔
حمیدتی نے موقع دیکھا اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں سے علیحدہ علیحدہ معاہدہ کیا کہ وہ انہیں آر ایس ایف کے کرائے کے فوجی فراہم کرے گا۔ ابو ظہبی سے اس تعلق نے حمیدتی کے لیے گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ اماراتی صدر محمد بن زاید کے ساتھ ان کے قریبی تعلق کی ابتدا تھی۔
نوجوان سوڈانی ہی نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک کے افراد بھی نقد رقم کے لالچ میں آر ایس ایف کے بھرتی مراکز کا رخ کرنے لگے، جہاں انہیں شامل ہونے پر چھ ہزار ڈالر تک ملتے تھے۔ حمیدتی نے روس کے ویگنر گروپ کے ساتھ بھی شراکت داری کی، جس کے بدلے میں انہیں اپنے فوجیوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ تجارتی فوائد، خصوصاً سونے کے کاروبار میں حاصل ہوئے۔
انہوں نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ماسکو کا دورہ کیا، اور وہ ابھی وہیں موجود تھے کہ روس نے یوکرین پر حملہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں سوڈان میں جنگ چھڑنے کے بعد انہوں نے آر ایس ایف کو ویگنر کی جانب سے کسی قسم کی مدد ملنے کی تردید کی۔
البشیر کی چال الٹی پڑ گئی
اگرچہ آر ایس ایف (ریپڈ سپورٹ فورسز) کی مرکزی لڑاکا اکائیاں بتدریج منظم اور پیشہ ور بنتی گئیں، لیکن اس کے اندر پرانے طرز کی نسلی ملیشیاؤں کا ایک اتحاد بھی شامل رہا۔
جب حکومت کو عوامی احتجاجات میں شدت کا سامنا ہوا تو بشیر نے حمیدتی کی افواج کو دارالحکومت خرطوم بھیجنے کا حکم دیا۔
بشیر نے اس کے نام پر ایک لفظی چال چلتے ہوئے اسے ’حمایتی‘ یعنی ’میرا محافظ‘ کہا، کیونکہ وہ آر ایس ایف کو باضابطہ فوج اور قومی سلامتی کے اداروں میں ممکنہ بغاوت کے خلاف توازن کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ان کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا۔ اپریل ۲۰۱۹ء میں جمہوریت کے مطالبے کے لیے ہزاروں شہری مظاہرین نے فوجی ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کر لیا۔
بشیر نے فوج کو ان پر گولی چلانے کا حکم دیا، مگر اعلیٰ جرنیلوں، جن میں حمیدتی بھی شامل تھے، نے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ بشیر ہی کو معزول کر دیا جائے۔ جمہوریت کے حامی عوام نے اس فیصلے کا جشن فتح کے طور پر منایا۔ کچھ عرصے کے لیے حمیدتی کو سوڈان کے روشن مستقبل کی علامت کے طور پر سراہا گیا۔ وہ نوجوان، خوش گفتار، ملنسار اور ملک کی پرانی اشرافیہ کے خلاف ایک نئے چہرے کے طور پر خود کو پیش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر یہ تاثر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
جب وہ اور فوجی کونسل کے شریک سربراہ، برہان اقتدار کو سویلین حکومت کے حوالے کرنے میں ٹال مٹول سے کام لینے لگے تو مظاہرین کے احتجاج میں شدت پیدا ہونے لگی۔ اس پر حمیدتی نے آر ایس ایف کو چھوڑ دیا۔ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ آر ایس ایف نے سیکڑوں افراد کو قتل کیا، عورتوں کی عصمت دری کی، اور مردوں کو اینٹیں باندھ کر دریائے نیل میں پھینک دیا۔
تاہم حمیدتی نے ان مظالم سے انکار کیا ہے۔
جب سوڈان میں امن و جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم چار ملکی اتحاد (امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) نے دباؤ ڈالا تو فوجی اور سویلین رہنماؤں نے افریقی ثالثوں کے تیار کردہ ایک سمجھوتے پر اتفاق کر لیا۔ دو برس تک ایک غیر مستحکم انتظام چلتا رہا، جس میں ایک فوجی غلبے والا خودمختار کونسل اور ایک سویلین کابینہ بظاہر ساتھ کام کرتے رہے۔
برہان اور حمیدتی ایک دوسرے کے خلاف
جب کابینہ کی جانب سے مقررہ ایک کمیٹی، جو فوج، سلامتی اداروں اور آر ایس ایف کی ملکیتی کمپنیوں کی تحقیقات کر رہی تھی، اپنی رپورٹ کے آخری مراحل میں پہنچی تو برہان اور حمیدتی نے سویلین حکومت کو برطرف کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا کیونکہ اس رپورٹ میں حمیدتی کے تیزی سے اپنی کاروباری سلطنت پھیلانے کی بات سامنے آنے والی تھی۔
مگر اقتدار پر قبضہ کرنے والے یہ دونوں جلد ہی ایک دوسرے کے خلاف ہو گئے۔ برہان نے مطالبہ کیا کہ آر ایس ایف کو باضابطہ طور پر فوج کے ماتحت کر دیا جائے۔
حمیدتی نے انکار کر دیا۔ اپریل ۲۰۲۳ء میں اس تنازع کے حل کی مقررہ تاریخ سے چند روز قبل آر ایس ایف کے دستے فوجی ہیڈکوارٹر، اہم فوجی اڈوں اور خرطوم کے قومی محل کو گھیرنے کے لیے حرکت میں آئے۔ یہ بغاوت ناکام رہی۔ اس کے نتیجے میں خرطوم ایک میدانِ جنگ بن گیا، جہاں متحارب فریق گلی اور کوچے میں لڑتے رہے۔ دارفور میں بھی شدید تشدد پھوٹ پڑا، جہاں آر ایس ایف کے دستوں نے مسالیت قوم کے خلاف ایک خونی مہم چھیڑ دی۔
اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس خونریزی میں تقریباً ۱۵؍ہزار عام شہری ہلاک ہوئے، جب کہ امریکا نے اسے نسل کشی قرار دیا۔ آر ایس ایف نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔
آر ایس ایف کے کمانڈروں نے اپنے جنگجوؤں کی جانب سے تشدد، اذیت اور قتل کے مناظر کی ویڈیوز خود پھیلائیں، جو ان کے بے خوف ہونے اور سزا سے استثنا کے احساس کی علامت تھیں۔ آر ایس ایف اور اس کی حامی ملیشیاؤں نے سوڈان بھر میں تباہی مچا دی۔ انہوں نے شہروں، بازاروں، اسکول کالجوں اور اسپتالوں کو لوٹا۔
لوٹے گئے سامان کے انبار اب ان بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں جو عوام میں ’دگالو مارکیٹ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں، اور ان کا دائرہ سوڈان سے نکل کر چاڈ اور دیگر ہمسایہ ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ آر ایس ایف نے اس میں اپنے جنگجوؤں کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
کوئی ندامت نہیں
جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں قومی محل میں توپ خانے اور فضائی حملوں کے گھیراؤ میں حمیدتی بری طرح زخمی ہوئے اور منظرِ عام سے غائب ہو گئے۔
جب وہ کئی ماہ بعد دوبارہ نمودار ہوئے تو انہوں نے مظالم پر کوئی ندامت ظاہر نہ کی اور نہ ہی جنگ جیتنے کے عزم میں کوئی کمی دکھائی۔
آر ایس ایف نے جدید ہتھیار حاصل کر لیے ہیں، جن میں جدید ڈرون بھی شامل ہیں۔ ان کے ذریعے برہان کے زیرِ قبضہ عارضی دارالحکومت پورٹ سوڈان پر حملے کیے اور الفاشر پر قبضے میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سمیت متعدد ذرائع کی تحقیقی رپورٹوں کے مطابق یہ ہتھیار متحدہ عرب امارات کے زیرِ انتظام چاڈ کی سرحد کے اندر بنائے گئے ایک فضائی اڈے اور سپلائی بیس کے ذریعے منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یو اے ای نے آر ایس ایف کو اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کی ہے۔
ان ہتھیاروں کے ساتھ آر ایس ایف اب اپنے سابق اتحادی سوڈانی فوج کے ساتھ ایک اسٹریٹجک تعطل کی کیفیت میں ہے۔ حمیدتی اب ایک سیاسی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں بعض سویلین گروہ اور مسلح تحریکیں شامل ہیں، جن میں سب سے نمایاں نوبا پہاڑوں کے وہ سابق دشمن ہیں جن سے وہ پہلے لڑ چکے ہیں۔
انہوں نے ’حکومتِ امن و اتحاد‘ کے نام سے ایک متوازی حکومت قائم کی ہے، جس کی سربراہی وہ خود کر رہے ہیں۔
الفاشر پر قبضے کے بعد آر ایس ایف اب دریائے نیل کے مغرب میں تقریباً تمام آباد علاقوں پر قابض ہے۔
جب بڑے پیمانے پر قتلِ عام کی رپورٹس سامنے آئیں اور بین الاقوامی سطح پر مذمت بڑھ گئی تو حمیدتی نے الفاشر کے قبضے کے دوران اپنے سپاہیوں کی مبینہ ’خلاف ورزیوں‘ کی تحقیقات کا اعلان کیا۔ سوڈانی عوام میں قیاس آرائیاں ہیں کہ حمیدتی خود کو یا تو ایک علیحدہ ریاست کا صدر بننے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا پھر پورے سوڈان پر حکمرانی کے خواب اب بھی دل میں رکھتے ہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایک ایسے طاقتور سیاسی سرپرست کے طور پر دیکھتے ہوں جو ایک کاروباری گروہ، کرائے کی فوج اور سیاسی جماعت تینوں پر اختیار رکھتا ہو۔ اس صورت میں، اگرچہ وہ سوڈان کے ’چہرے‘ کے طور پر قابلِ قبول نہ ہوں تب بھی اقتدار کی ڈوریں ان کے ہاتھ میں رہیں گی۔
ان کی فورسز خونریزی کر رہی ہیں اور انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس دنیا میں انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی۔
(بحوالہ: ’’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۴ نومبر ۲۰۲۵ء)