سوڈان کے دو شہروں میں قحط کی تصدیق

سوڈان کے جن علاقوں میں لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے وہاں غذائی تحفظ میں بہتری دیکھی گئی ہے جبکہ جنگ زدہ اور زیر محاصرہ علاقوں میں قحط پھیل رہا ہے۔

ملک میں بھوک اور غذائی قلت پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف)، ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کی نئی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، شمالی ڈارفر کے دارالحکومت الفاشر اور کادغلی میں قحط کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان علاقوں میں لوگ کئی ماہ سے خوراک اور طبی سہولیات تک قابل اعتماد رسائی سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ملک میں میں فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے جہاں الفاشر اور دیگر علاقوں میں اجتماعی قتل عام کے لرزہ خیز مناظر آن لائن گردش کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے الفاشر پر ’آر ایس ایف‘ کا قبضہ ہونے کے بعد شہر میں امدادی کارکنوں سمیت سیکڑوں لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ہزاروں شہری اب بھی مشکل حالات میں پھنسے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے سوڈانی مسلح افواج اور باغی ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ہولناک تشدد کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

۴۵ فیصد آبادی بھوک کا شکار

غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق، سوڈان میں تقریباً دو کروڑ ۱۲؍لاکھ افراد یعنی آبادی کا ۴۵ فیصد اب بھی شدید غذائی قلت کا شکار ہے، تاہم اندازاً ۳۴ لاکھ افراد اب بحرانی بھوک کے درجے سے باہر آ گئے ہیں۔

یہ بہتری مئی سے اب تک ریاست خرطوم، الجزیرہ اور سینار میں ہونے والے تشدد میں کمی، حالات کے استحکام اور خاندانوں کی واپسیوں کے باعث دیکھی گئی ہے۔ ان علاقوں میں فصلوں کی کاشت کے لیے سازگار حالات کی توقع ہے جو کٹائی کے بعد اور اگلے سال تک برقرار رہیں گے اور جنوری تک بھوک کے بحران کا شکار افراد کی تعداد کم ہو کر ایک کروڑ ۹۳ لاکھ افراد تک رہ جانے کی امید ہے۔

تاہم، اقوام متحدہ کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بہتری محدود ہے۔ وسیع تر بحران نے ملک کی معیشت اور اہم خدمات کو تباہ کر دیا ہے اور وہ بنیادی ڈھانچا شدید نقصان یا تباہی کا شکار ہو چکا ہے جس پر لوگ انحصار کرتے ہیں۔

ملک کے مغربی علاقوں بالخصوص شمالی اور جنوبی دارفور کے علاوہ مغربی اور جنوبی کردفان میں شدید لڑائی جاری ہے۔ فروری سے بھوک میں اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے کیونکہ خوراک کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔

محصور علاقوں میں قحط

جنوبی کردفان کے شہر دیلنگ میں بھی قحط جیسے حالات دکھائی دیتے ہیں لیکن قابل اعتبار معلومات کی کمی کے باعث وہاں کی صورتحال کو باضابطہ طور پر قحط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محصور علاقوں میں امداد کی رسائی محدود ہے اور تشدد بدستور جاری ہے۔

مغربی نوبا پہاڑیوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اگر امدادی رسائی بہتر نہ ہوئی تو قحط کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ’ایف آر سی‘ کے مطابق، دارفور اور کردفان کے پورے خطوں میں مزید ۲۰ فیصد علاقے قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آ رہی ہے جب جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ہیضے، ملیریا اور خسرہ جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

(بحوالہ: ’’نیوز ڈاٹ یو این ڈاٹ او آر جی‘‘۔ ۴ نومبر ۲۰۲۵ء)

تازہ مضامین

امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی افواج نے ایک ایسے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے جسے آیت اللہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے تیار کیا تھا۔

رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے

مسلمانوں نے اسپین پر کم و بیش آٹھ صدیوں تک حکومت کی۔ اِس دوران زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہوئی۔ ہسپانیہ میں آباد ہونے والے مسلمانوں اور اُن کی اولاد نے اِس خطے کو

کسی بھی انتہائی مالدار انسان کی زندگی میں عدمِ تحفظ کا احساس شدید اور گہرا ہوتا ہے۔ وہ ہر وقت اِس غم میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں یہ سب کچھ چِھن نہ جائے۔ بس

ہمارا زمانہ چونکہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی کی سمجھ میں کبھی نہیں آئے۔ وہ شاید چاہتے بھی یہی ہیں کہ لوگ بس سوچتے رہ جائیں اور وہ دانہ چُگ جائیں۔ امریکا میں ہر سال کانگریس میں