سوڈان کا اصل مسئلہ آخر کیا ہے؟ یہ کیوں باہم دست وگریباں ہیں؟ حالانکہ سوڈان وہ ملک ہے جو کبھی افریقا کا اناج گھر (Food Basket of Africa) کہلاتا تھا، جس کی زمینیں دریائے نیل کے پانی سے سیراب ہوتیں، جہاں دنیا کا سب سے بڑا زرعی منصوبہ جزیرہ پروجیکٹ (Gezira Scheme) قائم تھا۔ یہی سوڈان سونے کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک اور مویشیوں کی تعداد میں پانچویں درجے پر شمار ہوتا ہے۔ مگر آج وہی ملک بھوک، قحط، خانہ جنگی اور تباہی کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایک کروڑ سے زائد سوڈانی اس وقت شدید غذائی قلت اور قحط کے دہانے پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال یہ ملک آج خاک و خون میں کیوں لت پت ہے؟
سوڈان کی موجودہ خانہ جنگی اپریل ۲۰۲۳ء میں شروع ہوئی، جب ملک کی دو طاقتور عسکری قوتیں آپس میں برسرِ پیکار ہو گئیں۔ ایک سوڈان کی پیشہ ور افواج (Sudanese Armed Forces – SAF) اور دوسری ریپڈ سپورٹ فورسز (Rapid Support Forces – RSF) جسے جنجواد بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لڑائی دراصل اقتدار، فوجی بالادستی اور ملک کے سیاسی و اقتصادی وسائل پر قبضے کی جنگ ہے۔ جس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ۲۰۱۹ء میں جب عوامی احتجاج کے نتیجے میں صدر عمر البشیر کی تین دہائیوں پر محیط حکومت کا خاتمہ ہوا، تو ملک ایک عبوری فوجی و شہری حکومت قائم ہوئی۔ لیکن جلد ہی طاقت کی کشمکش شروع ہوئی۔ آرمی چیف عبد الفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے سربراہ محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کے درمیان اقتدار کی تقسیم، فوج کے انضمام اور آئندہ حکومت کے خدوخال پر اختلافات نے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا۔ ابتدائی دنوں میں یہ لڑائی محض خرطوم (Khartoum) اور اس کے مضافات تک محدود تھی، لیکن جلد ہی یہ آگ پورے ملک میں پھیل گئی۔ خصوصاً مغربی خطے دارفور (Darfur) میں یہ لڑائی نسلی رنگ اختیار کر گئی۔ جس کے نتیجے میں دارفور کا شہر الفاشر (Al-Fashir)، جو کبھی امن کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج کھنڈر بن چکا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ آر ایس ایف ملیشیا پہلے فوج کا حصہ نہیں، بلکہ قبائلی مسلح جنگجووں کا ٹولہ تھی۔ ۲۰۱۹ء میں جب عمر البشیر کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو انہوں نے اپنی حکومت بچانے کے لیے اس کی حمایت حاصل کی اور اسے ایک نیم فوجی حیثیت دے دی۔ اس کے سربراہ حمیدتی کو سود ساختہ جنرل بنا دیا۔ اس کی ملیشیا کو ریپڈ سپورٹ فورس کا نام دیا گیا۔ اپریل ۲۰۱۹ء میں عمر البشیر کو جیل بھیج کر جنرل عبدالفتاح البرہان اور اس کے ساتھی فوجی افسروں نے اقتدار سنبھال لیا۔ انہوں نے ایک عبوری فوجی کونسل (Transitional Military Council) قائم کی۔ عوام نے اسے عارضی طور پر قبول کیا، مگر جلد ہی مطالبہ کیا کہ اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کیا جائے۔ ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوئے۔ ’’قویۃ الحریۃ و التغییر‘‘ (Forces of Freedom and Change – FFC) کے نام سے ایک اتحاد ابھرا، جس نے سویلین حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ فوج نے پہلے مزاحمت کی، مگر پھر بین الاقوامی دباؤ اور داخلی احتجاج کے باعث اگست ۲۰۱۹ء میں ایک شراکتی حکومت پر اتفاق کیا۔ یہ حکومت فوج اور سویلین رہنماؤں پر مشتمل تھی۔
عبداللہ حمدوک وزیراعظم بنے، جبکہ جنرل البرہان فوجی سربراہ رہے۔ اس دور میں سوڈان نے عالمی سطح پر دوبارہ ر تعلقات بحال کیے، خاص طور پر امریکا سے اور ’’دہشت گردی کی فہرست‘‘ سے نام نکلوایا۔ پھر اکتوبر ۲۰۲۱ء میں جنرل البرہان نے اچانک بغاوت کر کے سویلین حکومت ختم کر دی۔وزیراعظم حمدوک کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ فوج نے پورے ملک پر کنٹرول سنبھال لیا اور یہیں سے نئی خانہ جنگی کی بنیاد پڑ گئی۔ عبوری دور میں ریپڈ سپورٹ فورسز بھی ایک نئی فوجی طاقت بن کر ابھری تھی۔ یہ فورس پہلے دارفور کے جنگوں میں سرگرم رہی، مگر بعد میں اسے نیم سرکاری حیثیت دی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مستقل فوج اور اس ملیشیا کے درمیان اقتدار کی کشمکش بڑھتی گئی، خاص طور پر فوج میں انضمام (integration) کے معاملے پر۔ پھر اپریل ۲۰۲۳ء میں اختلاف کھلی جنگ میں بدل گیا۔ دارالحکومت خرطوم تباہ ہو گیا۔ الفاشر شہر میں بدترین نسل کشی جیسی صورت پیدا ہوئی اور ایک کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے۔ گویا ۲۰۱۹ء میں عمر البشیر حکومت کا خاتمہ ’’آزادی‘‘ کی ایک امید تھی، مگر آج وہ امید ’’انارکی‘‘ میں بدل چکی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق ریپڈ سپورٹ فورسز نے عام شہریوں کے قتل عام، لوٹ مار اور دیہات جلانے جیسے جرائم کیے ہیں۔ اس وقت فاشر شہر میں قتل عام جاری ہے۔ اس شہر پر سوڈانی آرمی کا قبضہ تھا۔ باہر سے ریپڈ نے شہر کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یہ محاصرہ ۶۰۰ دنوں سے جاری ہے۔ جس کے نتیجے میں مقامی لوگ مردار تک کھانے پر مجبور ہوئے۔ لیکن حال ہی میں سخت لڑائی کے بعد فوج کر پسپا ہوکر شہر خالی کرنا پڑا۔ جس کے بعد ریپڈ ملیشیا کے جنگجو شہر میں داخل ہو کر قتل عام شروع کردیا۔ اسپتالوں میں لاشوں کا انبار اور بھوک سے تڑپتے بچوں کی المناک تصاویر سامنے آرہی ہیں۔
سوڈان کی اس خانہ جنگی میں بیرونی قوتوں کے مفادات ہیں۔
یہ ملک جغرافیائی طور پر بحر احمر (Red Sea) کے دہانے پر واقع ہے، وہی راستہ جو مشرقِ وسطیٰ، افریقا اور یورپ کی تجارتی شریان ہے۔ اسی محلِ وقوع نے سوڈان کو عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بنا دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کھلے یا خفیہ طور پر ریپڈ سپورٹ فورسز کی مدد کر رہا ہے۔ اس کے فراہم کردہ ہتھیاروں کی کئی کھیپ فوج پکڑ چکی ہے۔ بلکہ ان ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سوڈانی حکومت عالمی عدالت میں بھی یو اے ای کے خلاف مقدمہ دائر کرچکی ہے۔ یو اے ای کی دلچسپی سوڈان میں سونے کی کانوں، زرعی زمینوں اور بحری بندرگاہوں میں ہے۔ اماراتی کمپنیاں دارفور اور شمالی علاقوں سے سونا غیر قانونی طریقے سے برآمد کرتی رہی ہیں، جس کے بدلے ریپڈ کو اسلحہ اور مالی مدد ملتی رہی۔
دوسری جانب مصر سوڈانی فوج کی پشت پر کھڑا ہے، کیونکہ اسے خوف ہے کہ اگر نیم فوجی گروہ کامیاب ہو گئے تو اس کے لیے نیل دریا کے پانی کی تقسیم پر خطرہ بڑھ جائے گا۔ جبکہ سعودی عرب بظاہر ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے، مگر پسِ پردہ وہ بھی ایسے سیاسی انتظام کی خواہش رکھتا ہے جو اس کا ہمنوا اور تابع ہو۔
سوڈان میں روسی مداخلت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ روس کا مقصد واضح ہے۔ وہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر ایک مستقل بحری اڈہ (Naval Base) قائم کرنا چاہتا ہے۔ روس کی نجی قاتل کمپنی ’’ویگنر گروپ‘‘ (Wagner Group) پہلے ہی سوڈان کے سونے کی تجارت میں سرگرم رہی ہے۔
جہاں خانہ جنگی یا کشیدگی ہو، وہاں امریکا اور اسرائیل کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ یہ بھی اس کھیل کے تماشائی نہیں بلکہ کھلاڑی ہیں۔ امریکا کا مفاد یہ ہے کہ سوڈان کسی صورت روس یا چین کے قریب نہ جائے، جبکہ اسرائیل جس کے ساتھ عمر البشیر کے بعد تعلقات کی بحالی کا عمل شروع ہوا، سوڈان کو مشرقی افریقا میں اپنا نیا اتحادی بنانا چاہتا ہے تاکہ بحیرۂ احمر میں ایرانی اثر و رسوخ محدود کیا جا سکے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس نے ماضی میں ریپڈ کے قائدین سے براہِ راست رابطے کیے اور اطلاعات کے مطابق تل ابیب نے قاہرہ کے راستے دونوں فریقین پر اثر ڈالنے کی متعدد کوششیں کیں۔
سوڈان کی حالیہ خانہ جنگی میں ملک کی تقسیم کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے اور کئی مبصرین اسے ایک ممکنہ انجام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، اگرچہ باضابطہ طور پر کوئی فریق تقسیم کا اعلان نہیں کر رہا۔ اس وقت شمالی اور مشرقی سوڈان (جس میں پورٹ سوڈان شامل ہے) فوج کے قبضے میں ہے۔ مغربی علاقے، خاص طور پر دارفور اور الفاشر پر آر ایس ایف کا قبضہ ہوچکا ہے۔ اگر جنگ جاری رہی تو سوڈان دو یا تین حصوں میں تقسیم ہو سکتا ہے۔ شمال فوج کے زیرِ اثر ہوگا، مغرب حمیدتی ملیشیا کے قبضے میں اور مشرقی بندرگاہی علاقہ (Port Sudan) کسی بین الاقوامی نگرانی میں چلا جائے۔ گویا سوڈان آج صرف اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ وجود اور بقا کی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔ یہ ملک پہلے بھی جنوبی سوڈان اور شمالی سوڈان میں تقسیم ہوچکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اب تک بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک اور چودہ لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک کے اسپتال تباہ، خوراک کی ترسیل بند اور پینے کا پانی نایاب ہو چکا ہے۔ الفاشر، نیالا اور الجنینہ جیسے شہر انسانی المیے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ سونا، تیل، زمین اور اقتدار کے لیے لڑنے والے سرداروں کے درمیان پسنے والے عوام اب قحط اور بیماری سے مر رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب سوڈان کو ’’افریقا کا مستقبل‘‘ کہا جاتا تھا۔ زرخیز زمین، معدنی وسائل، وسیع مویشی فارم اور نیل کی برکتیں، یہ سب آج جنگ کے شعلوں میں بھسم ہو چکے ہیں۔ جہاں کبھی سبز کھیت لہراتے تھے، وہاں اب بارود کی بو ہے۔ جہاں کبھی کھجور کے درختوں کے سائے تلے بچے کھیلتے تھے، وہاں اب ماؤں کی چیخیں گونجتی ہیں۔
خلاصہ یہ کہ مفادات کی اس جنگ کا اصل ایندھن غریب عوام کا خون ہے۔