پاکستانی جین زی: ذہنی دباؤ کا بڑھتا بحران

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت سے ترقی یافتہ ممالک نوجوان آبادی کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں، پاکستان کی یہ جواں سال ملت ملک کے روشن مستقبل کے لیے ایک اچھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
چند روز قبل اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک مذاکرے میں ایک نوجوان لڑکی نے سوال کیا ’’کیا اس ملک میں ہمارے لیے کوئی امید ہے‘‘۔ راقم نے جواب میں کہا ’’دراصل آپ اس قوم کی امید ہیں‘‘۔ اس موقع پر سامعین میں موجود نوجوانوں نے تالیاں بجا کر اس جملے کو سراہا۔ راقم جین زی کی بہت سی امتیازی خصوصیات کا معترف ہے، ان سے بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور ان کی افضلیت کا ذکر بارہا اپنی تحریر و تقریر میں کرتا رہا ہے۔
جب ہمارے لیے یہ نسل اتنی اہم ہے تو اس کی دیکھ بھال اور اس کی اٹھان پر خصوصی توجہ لازمی ہے۔ تاہم، اس کے لیے انہیں اور ان کے مسائل کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمیں پہلے اپنے قائم شدہ تصورات کو چھوڑنا ہوگا۔ ان سے تبادلۂ خیال کے نئے انداز اختیار کرنے ہوں گے۔ اسی سوچ کے ساتھ، پچھلے رمضان میں راہ ٹی وی کے تعاون سے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں راقم نے جین زی کے مختلف نمائندوں کے ہمراہ قرآن فہمی کے ۰۳ پروگرام ریکارڈ کروائے۔ ریکارڈنگ کے دوران ان لڑکے لڑکیوں کے تیکھے سوالات جہاں راقم کے لیے نئی معلومات کا باعث بنے، وہاں یہ خیال بھی آتا رہا کہ ہم ان کے انداز فکر سے کتنے ناواقف ہیں۔
پاکستان میں نوجوان نسل، خصوصاً موجودہ ’’جنریشن زی‘‘ یا نئی ڈیجیٹل نسل، ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں بظاہر سہولتیں بڑھ رہی ہیں لیکن اندرونی بے چینی، ذہنی دباؤ، خوف، عدم تحفظ اور ہراسانی کے مسائل بھی شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پنجاب کی مفت نفسیاتی معاونت کی سہولت اور ہنگامی خدمات سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے اس موضوع کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نوجوانوں میں ذہنی مسائل اور ہراسانی کے واقعات بڑھ رہے ہیں یا صرف ان کی رپورٹنگ زیادہ مؤثر اور نمایاں ہو گئی ہے؟ حقیقت شاید ان دونوں عوامل کا مجموعہ ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کی نئی نسل ایک غیر معمولی نفسیاتی اور سماجی دباؤ کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے، جو شاید کئی زاویوں سے دیگر ممالک میں موجود جین زی کے مسائل سے زیادہ شدید ہے۔
چند برس پہلے تک ہمارے معاشرے میں ذہنی دباؤ، خوف، افسردگی یا ہراسانی جیسے معاملات پر گفتگو کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔ خصوصاً لڑکیوں کے لیے کسی قسم کی ہراسانی یا ذہنی اذیت کا ذکر کرنا اکثر خاندان کی ’’بدنامی‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بے شمار واقعات خاموشی میں دفن ہو جاتے تھے۔ اب حالات کسی حد تک بدل رہے ہیں۔ نوجوان نسل اپنے مسائل بیان کرنے لگی ہے، مدد لینے میں نسبتاً کم جھجک محسوس کرتی ہے اور جدید ذرائع ابلاغ نے شکایات درج کروانے کو بھی آسان بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کے مقابلے میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد زیادہ نظر آتی ہے۔
لیکن اگر ہم صرف رپورٹنگ میں اضافے کو اصل وجہ قرار دے دیں تو یہ حقیقت سے فرار ہوگا۔ موجودہ دور میں نوجوانوں کو جن حالات کا سامنا ہے وہ ماضی کی نسلوں سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور دباؤ سے بھرپور ہیں۔ آج کا نوجوان بیک وقت دو متضاد دنیاؤں میں زندہ ہے۔ ایک طرف روایتی خاندانی اور سماجی اقدار ہیں جہاں ابھی بھی سخت نگرانی، توقعات اور سماجی دباؤ موجود ہے، جبکہ دوسری طرف عالمی ڈیجیٹل دنیا ہے جہاں ہر لمحہ نئی خواہشات، نئی تمنائیں اور مصنوعی کامیابیوں کے نمونے نوجوانوں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ اس تصادم نے نوجوان ذہنوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
سماجی ذرائع ابلاغ نے زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انسان کو مسلسل تقابل کے عذاب میں بھی مبتلا کر دیا ہے۔ نوجوان ہر وقت دوسروں کی بظاہر خوشحال زندگی، مہنگی اشیاء، بیرونی سیاحت، خوبصورتی اور مصنوعی کامیابیوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے۔ ایک متوسط یا غریب گھرانے کا نوجوان جب اپنی حقیقت کا موازنہ ان چمکتی ہوئی تصویروں سے کرتا ہے تو اس کے اندر ناکامی، بے چینی اور کمتری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ اہم ہوگا کہ ہم اپنے نوجوانوں میں خود اعتمادی اور اسلامی تشخص کو مضبوط کرنے کے بہترین طریقے اور ذرائع تلاش کریں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آن لائن ہراسانی ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے۔ پہلے ہراسانی محدود دائرے تک رہتی تھی، لیکن اب یہ ہر وقت موبائل فون کے ذریعے انسان کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔ جعلی تصاویر، بلیک میلنگ، خفیہ معلومات کی تشہیر، جعلی شناختی اکاؤنٹ، دھمکیاں اور کردار کشی جیسے جرائم نوجوانوں، خصوصاً لڑکیوں، کے لیے خوف کا مستقل سبب بنتے جا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی نئی ٹیکنالوجی نے اس خطرے میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جہاں جعلی ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے لوگوں کی عزت اور ذہنی سکون کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے معاشی حالات بھی نوجوان نسل کی ذہنی کیفیت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، غیر یقینی سیاسی صورتِ حال اور مستقبل کے حوالے سے مایوسی نوجوانوں کے اندر شدید اضطراب پیدا کر رہی ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار نہ ملنا، تعلیم تک رسائی ہی نہ ملنا، کم آمدنی، بیرون ملک جانے کی تمنا اور بے بسی، غرض یہ معاشی عدم استحکام نوجوانوں کو احساسِ ناکامی میں مبتلا کر رہا ہے۔ ماضی میں شاید وسائل کم تھے مگر امید زیادہ تھی، جبکہ آج معلومات اور خواہشات زیادہ ہیں لیکن امید کم ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیمی نظام بھی نوجوانوں کے لیے ایک مستقل ذہنی دباؤ کا ذریعہ بن چکا ہے۔ نمبروں کی دوڑ، مقابلے کی فضا، والدین کی بلند توقعات اور کامیابی کے محدود پیمانے نوجوانوں کو مسلسل ذہنی تھکن میں مبتلا رکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں بچے کی شخصیت، صلاحیت یا ذہنی سکون سے زیادہ اس کے امتحانی نتائج کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں مگر بظاہر معمول کی زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ماں باپ کا اپنے بچوں کے درمیان صرف امتحانی نتائج کی بنیاد پر تقابل کرنا نہایت تباہ کن ہو سکتا ہے۔
خاندانی نظام میں تبدیلی بھی ایک اہم عنصر ہے۔ پہلے مشترکہ خاندانوں میں انسان کو جذباتی سہارا مل جاتا تھا۔ بزرگوں کی موجودگی، رشتوں کی قربت اور سماجی تعلقات انسان کو تنہائی سے بچاتے تھے۔ اب شہری زندگی میں تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔ نوجوان بظاہر ہزاروں افراد سے آن لائن جڑے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں جذباتی طور پر تنہا ہوتے ہیں۔ یہی تنہائی ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ ان حالات میں خاندان کے بزرگوں، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ میری اطلاع کے مطابق ترکی میں ایسے بزرگوں کو جو خاندان کے بچوں کی پرورش و دیکھ بھال میں مددگار ہوں، حکومت انہیں وظائف دیتی ہے۔
اس صورتِ حال کا ایک مثبت پہلو یہ ضرور ہے کہ نئی نسل ذہنی صحت کے مسائل کو پہچاننے اور ان پر گفتگو کرنے لگی ہے۔ یہ تبدیلی ضروری بھی تھی کیونکہ خاموشی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ تاہم صرف شکایات درج کرنے یا ہنگامی خدمات کا نظام قائم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل ضرورت ایک ایسے معاشرتی ماحول کی ہے جہاں نوجوان خود کو محفوظ، باعزت اور امید سے بھرپور محسوس کریں۔
ہمارے تعلیمی اداروں، خاندانوں، مذہبی حلقوں اور حکومتی اداروں کو مل کر نوجوان نسل کے لیے ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں اخلاقی تربیت، جذباتی معاونت، معاشی مواقع اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کیا جا سکے۔ نوجوانوں کو صرف نصیحت کی نہیں بلکہ سنجیدہ توجہ، اعتماد اور رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اس نسل کے ذہنی اور سماجی مسائل کو نظرانداز کیا تو مستقبل میں اس کے اثرات صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان کی نوجوان نسل ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر اسے امید، تحفظ اور مقصد فراہم کر دیا جائے تو یہی نسل ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے، لیکن اگر اسے تنہائی، خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تو یہ بحران آنے والے برسوں میں مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ پیشہ ورانہ معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ دنیا کو جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ کم ہیں اور جن شعبوں میں افرادی قوت پہلے ہی طلب سے بہت