نئے ورک کلچر کی تلاش

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کی شکل میں سہولتیں ہیں اور کام آسان ہوتا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف مشکلات ہیں کہ انسان کی جان نہیں چھوڑ رہیں۔ جن سہولتوں کے خواب دیکھے جاتے تھے، وہ اب زندگی کا حصہ ہیں مگر ستم یہ ہے کہ زندگی میں جتنی آسانی ہے، اُتنی ہی یا پھر اُس سے زیادہ الجھنیں ہیں۔ ایسا اِس لیے ہے کہ کام میں مدد دینے والے عوامل جس قدر بڑھ رہے ہیں، کام اُسی قدر پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسا اِس لیے ہے کہ ہر انسان پر ایک انوکھا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے، وقت کی بڑھتی ہوئی کمی کا بوجھ۔
وقت ہر انسان کے لیے گھٹ رہا ہے۔ مقابلہ بہت زیادہ ہے۔ ہر شعبے میں مسابقت کی فضا اِتنی پیچیدہ ہوچکی ہے کہ انسان کے لیے ڈھنگ سے کچھ کرنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔ وقت کی کمی کا احساس دن بہ دن توانا تر ہوتا جارہا ہے اور کیوں نہ ہو کہ وقت کی کمی واقعی اِس قدر واقع ہوچکی ہے کہ انسان کے لیے حواس برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔
انسان اگر وقت کے حوالے سے غیرمعمولی ذہنی دباؤ کا شکار ہے تو بات کچھ زیادہ حیرت انگیز نہیں۔ دنیا بھر میں لیبر مارکیٹ پوری شدت کے ساتھ ڈانواڈول ہے۔ ماحول پر غیر یقینیت چھائی ہوئی ہے۔ کسی کی بھی جاب کسی بھی وقت جاسکتی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت نے بہت سے شعبوں کی بساط لپیٹ دی ہے اور مزید بہت سے شعبوں کو بھی چلتا کرنے کی جستجو میں دکھائی دے رہی ہے۔ ایسی ملازمتیں اب برائے نام رہ گئی ہیں جن میں لوگوں کو تھوڑا سا زیادہ کام کرنے پر نوازا جاتا ہو۔ مقامِ کار کے اندر اور باہر مسابقت اِتنی زیادہ ہے کہ ہر انسان کسی بھی وقت کسی بھی صورتِ حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ایسے میں بیشتر انسان ڈھنگ سے سمجھ ہی نہیں پارہے کہ کریں تو کیا کریں۔ ایک طرف ملازمت کی غیر یقینیت بڑھ رہی ہے، دوسری طرف کام بڑھ رہا ہے یعنی انسان کو بیک وقت کئی کام کرنا پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ذہن پر دباؤ کا مرتب ہونا فطری امر ہے۔ ہر انسان کو روزانہ قدرت کی طرف سے چوبیس گھنٹے عنایت کیے جاتے ہیں مگر محسوس یہ ہو رہا ہے کہ یہ چوبیس گھنٹے تو بہت کم ہیں۔ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔
ماہرینِ نفسیات نے اب ایک خاص اصطلاح کا سہارا لیتے ہوئے مباحثے شروع کیے ہیں۔ جس انسان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے پاس وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ، اُسے time-poor کہا جاتا ہے۔ وقت بہت کم ہونے کی حالت کو time-poverty کہا جاتا ہے۔ اُردو میں اِسے ’’افلاسِ وقت‘‘ کہا جانا چاہیے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اِس سے چشم پوشی انسان کو مزید الجھنوں سے دوچار کرسکتی ہے۔ ہر انسان یہ محسوس کر رہا ہے کہ اُسے کام بہت زیادہ کرنا ہے جبکہ اُس کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اِس کم بلکہ کم سے کم ہوتے ہوئے وقت کو زیادہ سے زیادہ بارآور طریقے سے بروئے کار لانا ہر انسان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ زندگی کا معیار برقرار رکھنے اور بلند تر کرنے کے حوالے سے دباؤ اور بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ انسان کو بہت زیادہ کمانے کی صورت ہی میں معیارِ زندگی بلند کرنے کی کوئی راہ سُوجھتی ہے۔ بہبودِ عامہ کی امریکی فرم Wondr Health نے ایک حالیہ سروے میں بتایا ہے کہ امریکی محنت کشوں کی اکثریت (۶۲ فیصد) آرام کا وہ وقت حاصل نہیں کر پاتی جو اُس کے لیے مختص ہے اور اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اُس پر اندرونی سطح کا دباؤ بہت زیادہ ہے۔ ایک تہائی امریکی ملازمین اور محنت کش ایسے بھی ہیں جو سالانہ تعطیلات سے بھی کماحقہ مستفید نہیں ہو پاتے۔ آجر اُنہیں ایسا کرنے ہی نہیں دیتے یا پھر ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ اُن کے لیے تعطیلات پر جانا ممکن ہی نہیں رہتا۔
ونڈر ہیلتھ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ٹِم چرچ کہتے ہیں کہ کسی بھی انسان کو افلاسِ وقت کی کیفیت سے دوچار کرنے میں کسی اور کے مقابلے میں زیادہ اہم کردار خود اُس انسان کا ہوتا ہے۔ اِس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ معاشی اور غیرمعاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر زیادہ یا خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے یعنی لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ اُن کی زندگی میں اِس وقت کون سی بات ہنگامہ برپا کیے ہوئے ہے، ہلچل مچارہی ہے۔ کام کا ماحول انسان کو بہت زیادہ ذہنی دباؤسے دوچار کر رہا ہے۔ آجر یعنی ملازمت دینے والوں اور اجیر یعنی ملازمین کو یکساں طور پر سوچنا چاہیے کہ کام کے ماحول میں پائے جانے والے ذہنی دباؤ کو کس طور کم کیا جائے۔
کام کے ماحول میں پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کا حل پیش کرنے والی کمپنی One Mind at Work کے نائب صدر ڈیوڈ بیلارڈ کا کہنا ہے کہ آج کے بیشتر کاروباری اداروں میں کام کا مجموعی ماحول (ورک کلچر) ایسا ہے کہ لوگوں کے لیے ٹائم آف یعنی کام سے کچھ دیر الگ رہنے اور توانائی بحال کرنے کی گنجائش نہیں رکھی جاتی۔ آجر چاہتے ہیں کہ لوگ بس کام کرتے رہیں۔ معیار سے اُنہیں کچھ خاص غرض نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی ساتھ اِس بات کا اہتمام بھی نہیں کیا جاتا کہ جو زیادہ دلجمعی سے زیادہ کام کرے اُسے اضافی مشاہرہ دیا جائے۔ منصب کا دباؤ بھی انسان پر کم نہیں ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسے ورک کلچر والے ادارے کسی بھی اجیر یعنی ملازمین کے ہمہ وقت خدمت کے لیے حاضر ہونے کی حالت کو اُس کے لیے ایک اعزاز کا درجہ دیتے ہیں مگر اضافی طور پر کچھ ادا نہیں کرتے۔ اس نوعیت کے ورک کلچر میں ملازمین چھٹی کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں اُن کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
کام کے دباؤ سے انسان کی فکری ساخت اور اعصابی نظام میں جو ٹوٹ پھوٹ واقع ہو رہی ہے اُس کے حوالے سے دنیا بھر میں تحقیق کا بازار گرم ہے اور ماہرین تجاویز پیش کرتے رہتے ہیں تاکہ عام آدمی معاشی سرگرمیوں کے بوجھ تلے دب کر نہ رہ جائے۔ جانز ہاپکنز اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سینئر سائنسدان اور ملازمین کی بہبود سے متعلق امور کے ماہر ران گوٹزل نے ’’نیوز ویک‘‘ سے گفتگو میں بتایا کہ کام کی زیادتی افراد، کاروباری اداروں اور پورے معاشرے پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
گوٹزل کہتے ہیں ’’ہر انسان اِس کوشش میں دکھائی دیتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ کمانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہی رہے اور اِس کوشش میں وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے، اُس کا کوئی مثبت نتیجہ بھی برآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔ زندگی کا معیار بلند کرنے کا معاملہ ایک طرف رہ گیا ہے۔ لوگ اِس حوالے سے سوچنے کو ترجیح نہیں دے رہے۔ جو کچھ معاشی سرگرمیوں کے نام کیا جارہا ہے، اُس سے زندگی کو وسیع تر مفہوم میں کامیابی حاصل ہو بھی رہی ہے یا نہیں، اِس کے بارے میں سوچنے سے گریز کا رجحان بھی اب عام ہے۔‘‘
کام کی زیادتی اور وقت کی شدید قلت کے احساس نے ذہنی صحت کے حوالے سے انتہائی نوعیت کے چیلنج پہلے ہی کھڑے کر رکھے ہیں۔ آج بیشتر انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ ذہن مستقل دباؤ کی زد میں رہتا ہے۔ اعصابی تھکن ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ اِس کے نتیجے میں جسمانی صحت کا گراف گرتا چلا جاتا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ وقت کی کمی کا احساس انسان کو اندر ہی اندر کھارہا ہے۔ بہت سے بے روزگار افراد کو لاحق ذہنی الجھنوں سے کہیں زیادہ ذہنی الجھنیں اُنہیں لاحق ہیں جو دن رات کام کر رہے ہیں اور اِس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کہیں ملازمت ختم نہ ہوجائے، آمدنی کا گراف گر نہ جائے۔
بیشتر آجروں اور اُن کے لیے پالیسی تیار کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ اُنہیں اِس بات کی کوئی فکر ہی لاحق نہیں کہ جن لوگوں سے اُنہیں کام لینا ہے، اُن کی ذہنی صحت کا معیار بلند رکھنا لازم ہے کیونکہ ذہنی الجھنوں کے ساتھ کوئی بھی انسان اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، اپنی صلاحیت و سکت کو قابلِ رشک انداز سے بروئے کار نہیں لاسکتا۔ یہ بات اب بالکل واضح ہوچکی ہے کہ عہدِ حاضر کی متعدد پیچیدگیوں نے انسان کو انتہائی نوعیت کی پریشانیوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے میں ڈھنگ سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ہر انسان کو ایک طرف معاش کے لیے بہت کچھ کرنا پڑ رہا ہے اور دوسری طرف وہ گھر، خاندان اور احباب کے حلقوں میں بھی الجھا ہوا ہے۔ معاشرتی زندگی داؤ پر لگ چکی ہے۔ انسان مل پاتا ہے نہ ڈھنگ سے بات ہی کر پاتا ہے۔ ذاتی یا نجی نوعیت کے مسائل معاشی سرگرمیوں پر بھی بُری طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز کی جارہی ہے کہ جب انفرادی سطح پر اعصابی تھکن پیدا ہوتی ہے، ذہن الجھتا ہے تب صرف انفرادی نوعیت کی خرابیاں ہی پیدا نہیں ہوتیں بلکہ وہ کاروباری اداروں کی مجموعی کارکردگی پر بھی اثرانداز ہوتی ہیں۔ ملازمین کی بہبود سے متعلق امور کے ماہرین اور ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جب ملازمین کو وقت کی شدید کمی کا احساس ہوتا ہے تب اُن کی ذاتی کارکردگی کا گراف گرتا ہے، غیرحاضر رہنے کا رجحان پنپتا ہے اور جو لوگ باقاعدگی سے ڈیوٹی دیتے رہتے ہیں، وہ بھی بھرپور کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ اگر کوئی شخص ڈیوٹی پر آتا رہے مگر پورے ہوش و حواس اور توانائی کے ساتھ کام کرنے کے قابل نہ ہو تو اجیر یعنی ادارے کو اِس سے کیا فائدہ؟
اضطراب اور دباؤ سے نپٹنے کی امور کی ماہر اور کلینیکل سائیکولوجسٹ ڈاکٹر کلو کارمائیکل کہتی ہیں کہ جو ملازمین وقفے وقفے سے کام چھوڑ کر آرام نہیں کرتے، توانائی بحال نہیں کرتے، اُن پر ذہنی اور جسمانی تھکن طاری رہتی ہے۔ ایسی حالت میں اُن کے لیے زیادہ اور اچھی طرح کام کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت اُن کے ساتھ ساتھ ادارے کی کارکردگی پر بھی شدید منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ مستقل کام کرتے رہنے سے ملازمین میں بدمزگی بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بدمزگی اُن کی صلاحیت کو دُھندلا دیتی ہے اور سکت بھی گھٹ جاتی ہے۔
ڈاکٹر ٹِم چرچ کہتے ہیں کہ یہ معاملہ بالکل سادہ اور اخراجات بڑھانے والا ہے یعنی جب ملازمین بہت تھکے ہوئے ہوتے ہیں تب محض دفتر، دکان یا فیکٹری میں حاضر ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کارکردگی کیا ہے۔ شدید تھکن کی صورت میں تخلیقی جوہر اور کارکردگی دونوں کا گراف گرتا ہے اور ملازمین شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کے نتیجے میں عمومی جسمانی صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ذہن چونکہ پورے جسم کا کنٹرول سینٹر ہے، اِس لیے جو کچھ بھی ذہن پر بیت رہی ہوتی ہے، وہ لازمی طور پر پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔
جب کسی بھی ادارے میں کام کرنے والوں کو مستقل کام کرنا پڑے اور آرام کے خاطر خواہ مواقع نہ ملیں تو وہ کہیں اور بہتر مواقع تلاش کرنے لگتے ہیں۔ بہبودِ عامہ کی ماہر ڈاکٹر سوزین بایالی کا کہنا ہے کہ کام سے ہونے والی تھکن (برن آؤٹ) کے کئی پہلو ہوتے ہیں تاہم عمومی سطح پر ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ کام سے متعلق دباؤ کے سامنے ہدف پذیر رہنے اور توانائی بحال کرنے کی اہلیت سے محروم ہو جانے کی صورت میں انسان پر شدید ذہنی تھکن طاری ہوتی ہے، تخلیقی جوہر متاثر ہوتا ہے اور مزاج میں مایوسی در آتی ہے۔ ایسی کیفیت کے حامل افراد ادارے کے لیے زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتی، اُن کی کارکردگی کا گراف گرتا چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سوزین بایالی کا یہ بھی کہنا ہے کہ شدید ذہنی و جسمانی تھکن طاری ہونے پر انسان اُداس اور مایوس سا رہنے لگتا ہے اور اپنے معاشرتی ماحول میں بھی اجنبیت سی محسوس کرنے لگتا ہے گویا وہ کسی غلط جگہ پھنس گیا ہو۔
مونٹ کلیئر اسٹیٹ یونیورسٹی کی ماہرِ عمرانیات یاسمین بیسین کاسینو کا کہنا ہے کہ امریکا اِس وقت اوور ورک کلچر کے نرغے میں ہے یعنی لوگوں کو بہت زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ صورتِ حال انتہائی پریشان کن اور تشویشناک ہے۔ بے روزگاری کا گراف بلند ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز نے ہر طرح کی ملازمت کو غیرمحفوظ بنادیا ہے اور ورک کلچر نے معاملات کو مزید بگاڑا ہے۔ نئی ٹیکنالوجیز نے بیشتر ملازمین کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے اجیروں پر یہ ثابت کرتے رہیں کہ وہ ہر وقت کام کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ای میل اور ٹیکسٹ میسج کا فوری جواب دینا، کالز اٹینڈ کرنا یا جوابی کالز کرنا لوازم میں سے ہے۔ اداروں سے بڑے پیمانے پر چھانٹی اور بڑھتی ہوئی معاشی غیر یقینیت نے ملازمت پیشہ افراد کے لیے سوہانِ روح ثابت ہونے والا ماحول کھڑا کیا ہے۔ ملازمت برقرار رکھنے کے لیے لوگ چھٹی والے دن بھی بلائے جانے پر کام کرتے ہیں اور ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔
ایک بڑی قباحت یہ بھی ہے کہ ہفتہ وار تعطیل سے بھی لوگ کماحقہ مستفید نہیں ہوپاتے۔ گھر میں بھی بہت سی ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں۔ معاشرتی سرگرمیاں بھی داؤ پر لگ جاتی ہیں۔ ہفتے میں چار یا پانچ دن شدید نوعیت کی معاشی سرگرمیوں میں الجھے رہنے پر گھریلو یا معاشرتی سطح پر بہت کچھ کیے جانے سے رہ جاتا ہے۔ ہفتہ وار تعطیل یا تعطیلات میں انسان اُس خسارے کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔
ڈاکٹر کلو کارمائیکل کا کہنا ہے کہ اداروں کو اب اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے ملازمین کو آرام کے لمحات دینے چاہئیں اور وہ بھی اِس طور کہ جب وہ کام پر واپس آئیں تو ’’بے کیا کام‘‘ اُن کا ’’خیرمقدم‘‘ نہ کر رہا ہو۔ اگر کوئی دو دن دفتر سے دور رہنے پر پیر کو بیسیوں ای میلز اور پیغامات کو منتظر پائے تو ڈھنگ سے کام کرنے کی گنجائش برائے نام ہی رہے گی۔
چند ایک ماہرین نے تو یہ بھی تجویز کیا ہے کہ ملازمین کو ڈھنگ سے کام کرنے کے قابل بنائے رکھنے کے لیے ’’مینٹل ہیلتھ ڈیز‘‘ فراہم کیے جائیں یعنی ملازمین ایک یا ڈیڑھ ماہ کے بعد پورا ایک ہفتہ گھر پر گزاریں، اہلِ خانہ کو بھی وقت دیں اور اپنے آپ کو بھی۔ ایسا کرنا اِس لیے ضروری ہے کہ ایک طرف تو ملازمین کو آرام ملے گا اور دوسری طرف وہ اپنی زندگی کے معاشرتی پہلو کو بھی زیادہ توانا رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
بیسین کاسینو کا کہنا ہے کہ ایسا ورک کلچر پروان چڑھانے کی ضرورت ہے جس میں انسان کو آرام اور تفریح کا بھرپور موقع ملے اور وہ اپنی توانائی بحال کرسکے۔ انسان کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور اُس پر بیزاری سی چھانے لگتی ہے۔ ایسے میں وہ ڈھنگ سے کام نہیں کر پاتا یعنی اپنی صلاحیت و سکت کو پوری طرح بروئے کار لاکر مطلوب نتائج پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ ہر انسان کو زندگی بھر کام کرنا پڑتا ہے، اِس لیے تفریح کے مواقع فراہم کرنے والا ورک کلچر پروان چڑھانا لازم ہے۔
بیسین کاسینو کا کہنا ہے کہ کاروباری اداروں کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ آرام اور تفریح کے موزوں مواقع فراہم نہ کرکے وہ اپنی افرادی قوت میں سے بہترین لوگوں سے محروم ہونے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ جب ملازمین دیکھتے ہیں کہ اُن سے مسلسل کام لیا جارہا ہے اور آرام کرنے کا موقع نہ دینے کے ساتھ ساتھ قدر کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھا جارہا ہے تو وہ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں اُنہیں احترام ملے اور معقول معاوضہ بھی۔ اگر ملازمین کو ڈھنگ سے کام کرنے کا موقع دیا جائے تو ایسا کرنا ملازمین کے ساتھ ساتھ خود کاروباری اداروں کے حق میں بھی تو جاتا ہے۔
دی ہارورڈ بزنس اسکول نے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ مسلسل کام کرتے رہنے سے صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پیشہ ورانہ مہارت کا گراف بھی گرتا ہے۔ ڈھائی لاکھ سے زائد امریکیوں کی طرزِ زندگی اور معمولات کا جائزہ لے کر ماہرین اِس نتیجے تک پہنچے کہ بے روزگاری بھی ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے مگر اِس کے مقابلے میں کام کی زیادتی اور آرام کا موقع نہ ملنے سے انسان کو زیادہ الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہر انسان یہ محسوس کر رہا ہے کہ وقت کو پَر لگ گئے ہیں، وہ ہاتھوں سے نکلا جارہا ہے۔ کام کا دباؤ بھی بہت زیادہ ہے کیونکہ مسابقت بڑھ رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہر شعبے میں ملازمت کے مواقع گھٹادیے ہیں۔ حکومتیں اور کاروباری ادارے افلاس مٹانے کے لیے تو اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں مگر ’’افلاسِ وقت‘‘ کو بہت حد تک نظرانداز کیا ہوا ہے۔ اس کیفیت نے معاملے کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ وقت کی کمی کا مسئلہ صرف ملازمین یا محنت کشوں کے لیے نہیں ہے بلکہ آجروں کو بھی اِس چیلنج کا سامنا ہے۔ مسابقت اُن کے لیے بھی بڑھ رہی ہے۔
ایک طرف تو معاشی جدوجہد ہے اور دوسری طرف وہ جدوجہد ہے جسے کوئی تسلیم ہی نہیں کرتا۔ خواتین گھروں میں غیرمعمولی نوعیت کی مشقت کرتی ہیں۔ بچوں کو پالنا، کھانا پکانا، برتن اور کپڑے دھونا، کپڑے سُکھانا، استری کرنا، بچوں کو یومیہ بنیاد پر اسکول بھیجنے کے لیے تیار کرنا اور دیگر بہت سے گھریلو کام خواتین کسی معاوضے کے بغیر کرتی ہیں۔ یہی کام جب ملازماؤں سے کرایا جاتا ہے تب اچھی خاصی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ خواتینِ خانہ اپنی غیرمعمولی مشقت کے صلے سے محروم ہی رہتی ہیں۔
اِس وقت دنیا بھر میں ایسا ورک کلچر پنپ رہا ہے جس میں کسی بھی انسان کے افلاسِ وقت کو زیادہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے اور سارا زور صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ کام لینے پر ہے۔ بہتری اُسی وقت آسکتی ہے جب یہ تسلیم کیا جائے کہ وقت کی کمی کا سامنا سبھی کو ہے اور یہ کہ اِس بحران کو حل کیے بغیر ڈھنگ سے کام نہیں کیا جاسکتا۔
کاروباری اداروں کو پالیسیوں میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں یقینی بنانا ہوں گی۔ انہیں ملازمین کی زندگی میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرنے کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ یہ بہت حد تک اخلاقی معاملہ ہے۔ کاروباری اداروں کو اپنی سماجی ذمہ داری کا بھی احساس کرنا چاہیے۔ آجر اگر صرف کام لینے پر یقین رکھتا ہو اور اجیروں کو سراہنے، نوازنے سے گریز کرتا ہو تو کام ڈھنگ سے ہو ہی نہیں سکتا۔ معاملات میں لچک محض سہولت نہیں بلکہ مشترک قدر ہے۔ اِس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ کام کے اوقات معقول اور متوازن بنائے جائیں بلکہ انسانیت کا احترام بنیادی چیز ہے۔
دنیا بھر میں وقت کی قلت سے نپٹنے کا ایک طریقہ یہ بھی اپنایا گیا ہے کہ ہفتے میں چار دن کام لیا جائے۔ ہاں، ایسے ماحول میں فضول سرگرمیوں کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ملازمین ہفتے میں چار دن پوری لگن سے کام کریں تو زیادہ کام کرسکتے ہیں اور تھکن بھی سوار نہیں ہوگی۔ دنیا میں پایا جانے والا ورک کلچر کچھ اِس نوعیت کا ہوگیا ہے کہ دفاتر میں لوگ آدھا وقت فضول گفتگو میں ضائع کرتے ہیں۔ جو لوگ خود کام نہیں کرتے، وہ دوسروں کو بھی کام نہیں کرنے دیتے۔ ایسے میں ایک معقول حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ دفاتر اور دیگر کام کاج کے دیگر مقامات پر جہان بھر کے فضول معاملات پر بولنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ملازمین کو پوری توجہ کے ساتھ کام کرنے کی تحریک دی جائے اور ہفتے میں تین دن مکمل آرام کے دیے جائیں۔ بہت سے ممالک میں کام کے دوران فضول گفتگو کی گنجائش نہیں ہوتی اِس لیے لوگ کم وقت میں زیادہ کام کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں جتنا کام کرتے ہیں، وہ محض دو گھنٹے میں بھی ہوسکتا ہے۔ تو پھر کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ کام کے اوقات گھٹادیے جائیں اور کام کے ماحول کو غیرمعمولی نظم و ضبط کے تابع کردیا جائے؟
نئے، معقول اور متوازن ورک کلچر کو متعارف کرنے اور پروان چڑھانے کے لیے غیرمعمولی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ اِس بات کو زیادہ یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ کام کے اوقات میں صرف کام ہو، کسی بھی فضول سرگرمی میں حصہ لینے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ آجروں کے لیے لازم ہے کہ اجیر کو غلام نہ سمجھیں اور اجیر بھی کسی سہولت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ معقولیت کا تقاضا ہے کہ وقت کو بروئے کار لانے کے معاملے میں نظم و ضبط مثالی نوعیت کا ہو، اُسے ضائع کرنے سے گریز کیا جائے۔
صلے کے بغیر کی جانے والی محنت کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ بچوں کی نگہداشت کے معاملے میں زرِاعانت دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اِس صورت میں خواتینِ خانہ پر سے دباؤ گھٹایا جاسکتا ہے اور یوں گھر کا ماحول خوشگوار ہوسکتا ہے۔
افلاسِ وقت اور کام کے دباؤ سے نپٹنے کے لیے انفرادی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی بھی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اگر انسان یہ ثابت کردے کہ وہ اپنے وقت کو بہت گراں قدر جانتا ہے تو دوسروں کو بھی تحریک ملتی ہے کہ وہ اپنے وقت کی قدر کریں اور دوسروں کا وقت ضائع کرنے سے گریز کریں۔ خواہ مخواہ کی تیزی کسی کام کی نہیں۔ انسان کو اپنے معاملات کی فضول تیزی ختم کرنی چاہیے۔ اگر کسی کو اپنی زندگی کا ڈھانچا بدلنا ہے تو لازم ہے کہ سوچ سمجھ کر حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ وقت کو ہر حال میں ضائع ہونے سے بچایا جائے اور کام بھی اُتنا ہی کیا جائے جو کارکردگی کے گراف پر منفی اثرات مرتب نہ کرتا ہو۔
بڑے شہروں میں لوگ اپنا اچھا خاصا وقت کام پر جانے اور گھر واپس آنے میں ضائع کرتے ہیں۔ اِس ضیاع کو روکنا اُن کے لیے بہت حد تک ناممکن ہوتا ہے۔ وقت کو غیربارآور انداز سے صَرف کرنے کی مشق بھی ختم ہونی چاہیے۔ وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے نظام الاوقات کی پابندی کی ذہنیت اپنانا پڑتی ہے۔ کام کی زیادتی سے پیدا ہونے والی تھکن انسان کا وقت بھی ضائع کرتی ہے اور سکت بھی۔ اِس کے لیے منصوبہ سازی لازم ہے۔ فضول سرگرمیوں کو شناخت کرکے اُن سے بچنے کی بھرپور کوشش کی جانی چاہیے۔ پہلے سے وقت طے کیے بغیر کسی سے ملنا بھی ایسا معمول ہے جسے ترک کرنے کی ضرورت ہے۔

افلاسِ وقت محض ذاتی نوعیت کا مسئلہ نہیں۔ یہ تو اب پورے معاشرے اور کاروباری ماحول پر محیط چیلنج ہے جس کے ہاتھوں انسان تھکن سے بھی دوچار ہوتا ہے اور اپنے وقت کو ڈھنگ سے بروئے کار لانے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ اِس حوالے سے حکومتوں اور کاروباری اداروں کو مل کر سوچنا چاہیے تاکہ کوئی جامع اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جاسکے۔
(ترجمہ و تدوین: ابو صباحت)
“Americans are suffering from time poverty”. (“Newsweek”. Jun 12, 2025 & “wikipedia.org”.)

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ پیشہ ورانہ معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ دنیا کو جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ کم ہیں اور جن شعبوں میں افرادی قوت پہلے ہی طلب سے بہت