تکنیکی تربیت، خطرے کی گھنٹی

دنیا عجیب موڑ پر کھڑی ہے۔ پیشہ ورانہ معاملات کچھ کے کچھ ہوگئے ہیں۔ دنیا کو جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ کم ہیں اور جن شعبوں میں افرادی قوت پہلے ہی طلب سے بہت زیادہ ہے اُن میں مزید لوگ شامل ہوتے جارہے ہیں۔ یہ سب کچھ عدمِ توجہ کا نتیجہ ہے۔
دنیا بھر میں معاشی امور کے ماہرین بہت سے نقائص کی نشاندہی کر رہے ہیں مگر لوگ اِس طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔ آجروں کا یہ حال ہے کہ اب تک بھیڑ چال پر یقین رکھے ہوئے ہیں۔ وہ جس شعبے میں بڑھوتری ہوتی ہوئی دیکھتے ہیں، اُسی کی طرف لپکتے ہیں اور متعلقہ معاملات کے بارے میں زیادہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ایسا بنیادی طور پر اس لیے ہے کہ مثبت یا انقلابی سوچ اختیار کرنے سے واضح طور پر گریز کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے زمانے میں بھی آجر اور اجیر دونوں صدیوں پرانی سوچ کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ سوچ رہے ہیں، وہ زمانے کے تقاضوں سے تعلق اور مطابقت نہیں رکھتا مگر پھر بھی وہ لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور اپنے آپ کو زیادہ یا قابلِ قبول حد تک بدلنے کے لیے نہیں۔ اِس کا نتیجہ بھی صاف ہے۔ دنیا بھر میں کروڑ افراد کاروبار اور ہنر مندی کی سطح پر ناکامی سے دوچار ہیں۔
پیرس اسکول آف اکنامکس میں ’’ٹِلٹیڈ اِکوَلٹی‘‘ نامی کتاب کے اجرا کے موقع پر مصنف نے کچھ گفتگو کی جس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ کام کے معاملے میں بھی کشش اور رنگینی چاہتے ہیں۔ جن شعبوں میں محنت زیادہ اور تھوڑا رُوکھا پن بھی ہے، اُن سے واضح طور پر گریز کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جن شعبوں میں رنگینی نہ ہو اور انسان کو واضح رُوکھا پن محسوس ہوتا ہو، اُن میں یافت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگ زیادہ معاوضے یا مشاہرے کو بھی ایک طرف ہٹاکر دائرۂ آسائش میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
مائیکل سینڈل اور ٹھامس پِکیٹی کے درمیان جوگفتگو ہوئی، وہ حاضرین کے لیے بہت دلچسپ تھی کیونکہ اُنہیں بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کو ملا۔
’’ٹِلٹیڈ اِکوَلٹی‘‘ صرف ۱۵۰؍صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ میں اِس کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ بیچ میں ایک مقام پر رُک گیا۔ مجھے یاد آیا کہ چند برس قبل بروکنگز انسٹیٹیوشن نے کالج کے طلبہ کے لیے سبسڈیز، قرضوں اور ٹیکس کریڈٹس کے بارے میں تحقیق کی تھی۔ مجموعی بجٹ ۱۶۲؍ارب ڈالر تھا جس میں سے صرف ایک ارب ۱۰؍کروڑ ڈالر پیشہ ورانہ یا تکنیکی تعلیم کے لیے مختص تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تعلیم کے لیے دستیاب وسائل جامعات کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص تھے اور مقصود صرف یہ تھا کہ وائٹ کالر جاب کے لیے نئی نسل کو اچھی طرح تیار کیا جائے۔ طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات ٹھونس دی گئی تھی کہ ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر کمپیوٹر پر کام کرنا ہی اچھی جاب ہے۔ مزید یہ کہ فیلڈ کام کرنا کوئی اچھا تجربہ نہیں۔
امریکا سمیت بہت سے ترقی یافتہ ممالک اب بھی صرف وائٹ کالر جابز پر متوجہ ہیں۔ وہ نئی نسل کو تکنیکی معاملات میں آگے بڑھانے کے مُوڈ میں دکھائی نہیں دیتے۔ اُن کی کوشش ہے کہ نئی نسل ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں سکون سے کام کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہی سبب ہے کہ اب دنیا بھر میں اُن تربیت یافتہ نوجوانوں کی شدید کمی محسوس کی جارہی ہے جو تکنیکی شعبوں میں غیرمعمولی مہارت رکھتے ہوں۔
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام سمیت بیشتر ممالک تکنیکی تعلیم و تربیت کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیوں نہیں کرتے۔ بیشتر کا یہ حال ہے کہ جامعات کی سطح کی تعلیم ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور نئی نسل کے ذہنوں میں یہ بات ٹھونسی جاتی ہے کہ اگر انہیں ڈھنگ سے جینا ہے تو جامعہ سے کوئی سند لیں اور طالع آزمائی کریں۔ ہنر مندی اور تکنیکی تعلیم کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جارہی۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ بات زور دے کر بیان کی جاتی ہے کہ اگر ڈھنگ سے جینا ہے تو ہنر مندی بنیادی چیز نہیں، بنیادی چیز ہے کسی معروف جامعہ سے حاصل کردہ سند۔ دنیا بھر میں اب یہی مائنڈ سیٹ پایا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں اِس وقت ٹرینڈ یہ ہے کہ جو بچے ہائی اسکول کے بعد ٹیکنیکل لائن لیتے ہیں، اُن کی حوصلہ شکنی کی جائے، اُنہیں بار بار احساس دلایا جائے کہ جو لوگ کسی جامعہ سے سند لے کر ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھتے ہیں، وہ اعلیٰ درجے کے ہیں اور اُن کی زندگی ہی مثالی ہے۔
کارباری ادارے، حکومتیں اور مجموعی طور پر معاشرے تکنیکی تعلیم اور ہنر مندی کے معاملے میں رُوکھے پن پر مبنی رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کسی خاص ہنر میں اپنے آپ کو آزمانے والوں کو زیادہ احترام کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ جب تک کام کے مقامات ہیں اور کام ہے تب تک افرادی قوت ملتی رہے گی، منافع کمایا جاتا رہے گا اور افرادی وسائل کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کوئی کار خوب چلائی جارہی ہو اور اُس میں تیل تبدیل کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی جائے۔ جب تک گاڑی چل رہی ہوتی ہے تب تک اُس کے بیرونی حصے میں کوئی ٹوٹ پھوٹ دکھائی نہیں دے رہی ہوتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اندر ہی اندر شکست و ریخت کا شکار ہو رہی ہوتی ہے۔
معیشتوں کو پہنچنے والا نقصان بہت زیادہ ہے اور نمایاں بھی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں یہ نقصان بہت آسانی سے شناخت کیا جاسکتا ہے، حجم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ شپ یارڈز اور دیگر غیرمعمولی تکنیکی شعبوں میں افرادی قوت کی کمی اب نمایاں طور پر محسوس ہونے لگی ہے۔ سوال دفاتر کا نہیں، فیلڈز کا ہے۔ دفتر سے باہر فیلڈز میں کام کرنے والوں کی کمی بڑھتی جارہی ہے۔ تکنیکی مہارت کے حامل افراد کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ اُنہیں اچھے، بلکہ قابلِ رشک مشاہرے بھی دیے جارہے ہیں مگر پھر بھی معاشروں کی مجموعی کیفیت ایسی ہے کہ نئی نسل اِس طرف زیادہ متوجہ نہیں ہوتی۔ باقاعدگی سے یعنی پوری دلچسپی کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان ہنرمند خال خال ہیں۔ ہائی اسکول کے بعد کالج یا جامعہ کی سطح پر تعلیم پانے والے دفتر کی جاب چاہتے ہیں، فیلڈ کی نہیں۔ فیلڈ میں کام کرنا اُنہیں توہین جیسا محسوس ہوتا ہے۔ زیادہ محنت اور تکنیکی مہارت والے شعبوں سے نئی نسل دور ہو رہی ہے۔ سبھی کو اپنے اپنے دائرۂ آسائش میں رہتے ہوئے کام کرنا پسند ہے۔ جن شعبوں میں بظاہر کشش نہ ہو، اُن کی طرف نئی نسل مشکل سے متوجہ ہوتی ہے۔ شپ یارڈز اور دیگر محنت طلب مقاماتِ کار سے نئی نسل اِس لیے دور رہتی ہے کہ اُس کے خیال میں اِن شعبوں میں کام کرنے سے شخصیت بگڑ اور اُدھڑ جاتی ہے۔ سبھی چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ آرام دہ ماحول کی جاب میسر ہو۔
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ جب بعض تکنیکی شعبوں میں افرادی قوت کی شدید کمی ہے اور عمومی طور پر بھی تمام ہی تکنیکی شعبے افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں تو پھر حکومتیں اِس طرف زیادہ متوجہ کیوں نہیں ہورہیں یعنی نئی نسل کو اِن شعبوں کے لیے تیار کیوں نہیں کر رہیں۔
بہت سے نوجوان یہ سوچ کر صنعتی اداروں میں تکنیکی شعبے کی تربیت نہیں کر پاتے کہ آمدن کم رہے گی۔ ایسا نہیں ہے۔ بہت سے نوجوان کام کے دوران حادثے کے خطرے یا خدشے کے پیشِ نظر تکنیکی شعبوں کی طرف نہیں جاتے۔ ایسا بھی نہیں ہے۔ جدید ترین ٹیکالوجیز اور پروٹوکولز کے نتیجے میں اب صنعتی اداروں میں حادثے برائے نام رہ گئے ہیں۔ انسانی غلطی تو کسی بھی وقت ممکن ہے۔ بیشتر حادثے انسانی غلطی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ مشینری بھی ناکام ہوسکتی ہے مگر بالعموم اُسی وقت ناکام ہوتی ہے جب انسان کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے۔
سب سے پہلے تو چند تلخ حقیقتوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ تکنیکی شعبوں کی اکثریت کا عوام کی نظر میں تاثر اچھا نہیں۔ کام کا ماحول بہت پریشان کن ہوتا ہے اور نئی نسل اِس سے دور بھاگتی ہے۔ سخت محنت والے شعبوں میں کون زیادہ دیر کام کرنا پسند کرتا ہے؟ نئی نسل راتوں رات بہت زیادہ کمانا چاہتی ہے اور وہ بھی اپنے کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے۔ سوشل لائف کے لیے بھی وقت چاہیے۔ بیشتر آفس جابز میں یہ سب کچھ بہت حد تک ممکن ہے مگر سوال یہ ہے کہ آفس جابز اب رہی کتنی ہیں۔ کم وقت میں زیادہ کمانا ہو تو انسان کو ایسے شعبوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جن میں افرادی قوت کی شدید کمی ہو یعنی نئی نسل جن پر زیادہ متوجہ نہ ہوتی ہو، دلچسپی نہ لیتی ہو۔
نئی نسل کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ وہ فلموں اور ڈراموں سے بہت زیادہ متاثر رہتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جو ریلز وہ دیکھتی ہے، اُن سے ایسا بہت کچھ اخذ کرتی رہتی ہے جن کے اخذ کرنے کی ذرا بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ آج کے بیشتر نوجوان کیریئر کے حوالے سے ڈھنگ کا فیصلہ آسانی سے نہیں کر پاتے۔ تین چار شعبوں میں اپنے آپ کو آزمانے اور اچھا خاصا وقت اور توانائی ضائع کرنے کے بعد اُن کا ذہن کچھ کام کرتا ہے اور وہ کوئی شعبہ منتخب کرکے اُس کے سہارے گزر بسر کا فیصلہ کرتے ہیں مگر تب تک معاملہ بہت بگڑ چکا ہوتا ہے۔ کاروباری اداروں کو نئی نسل کی تکنیکی تربیت پر اچھا خاصا خرچ کرنا پڑتا ہے اور بہت کچھ جھیلنا بھی پڑتا ہے۔ جس طور کوئی فوج نئے رنگروٹوں کی تربیت کرتی ہے اور پھر افسران بھی تیار کرتی ہے تاکہ اُن سے مستفید ہوا جاسکے، بالکل اُسی طور صنعتی ادارے بھی نوجوانوں کو بہتر کام کے لیے تیار کرتے ہیں۔ پھر اُن سے بونڈز بھی بھروائے جاتے ہیں تاکہ وہ تربیت پانے کے بعد اِدھر اُدھر نہ ہوجائیں۔
تعلیمی اداروں سے تکنیکی معاملات میں تھوڑی بہت تربیت پاکر نکلنے والے نوجوانوں کی غالب اکثریت ڈھنگ کا فیصلہ نہیں کر پاتی اور تین چار سال ٹامک ٹوئیاں مارنے میں ضائع کر بیٹھتی ہے۔ اِس حوالے سے غیرمعمولی کاؤنسلنگ کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں کے ذہن منتشر نہ ہوں، وہ بروقت درست فیصلہ کرکے ڈھنگ سے کام کرنے کے قابل ہوسکیں۔
بیشتر نوجوانوں کے ذہن میں یہ خوش گمانی پروان چڑھتی رہتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اِس زمانے میں کچھ بھی بہت آسانی سے ممکن ہے۔ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو ہر تالے کی چابی سمجھ لیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن اداروں میں کام کا پورا ماحول اے آئی کے بَل پر قائم ہے، وہاں بھی انسان کی ضرورت اپنی جگہ ہے جو ختم نہیں ہوسکتی۔ جنہیں اسمارٹ کاروباری ادارے کہا جاتا ہے، اُن میں بھی انسانی وسائل کی ضرورت زیادہ کم نہیں ہوئی۔ اے آئی سے کام لینا بھی انسانوں ہی کا کام ہے۔ صنعتی اداروں میں پورا کا پورا پیداواری عمل مشینوں اور اے آئی کے حوالے سے نہیں کیا جاسکتا۔ روبوٹس سے ڈھنگ سے کام لینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ خود کاری ایک نمایاں حقیقت ہے مگر انسان پھر انسان ہے۔ اُسے معقول تربیت دے کر نگرانی پر لگایا جائے تو وہ مشینوں، روبوٹس اور اے آئی سے بہت اچھی طرح کام لیتا ہے اور یوں لاگت کے گھٹنے سے منافع کی شرح بلند ہوتی ہے۔
معقول اور معیاری تکنیکی، صنعتی افرادی قوت تیار کرنا صرف کاروباری اداروں کا معاملہ نہیں۔ اس نیک کام میں حکومتوں کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ اس معاملے میں بھرپور دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔ نیم دِلی کے ساتھ کیے جانے والے اقدامات ختم کیے جائیں، نئی نسل کو بھرپور کاؤنسلنگ کے ساتھ کام سکھایا جائے تاکہ وہ معقول، باعزت اور اپنی مرضی کا روزگار آسانی سے پاسکیں۔ موزوں ترین تربیت لازم ہے تاکہ کاروباری اداروں کو بھی الجھن کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ نئی نسل کو اگر صنعتی اداروں کے لیے تیار کرنا ہے تو طویل المدتی منصوبہ سازی کرنا ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ نئی نسل کو ایسے ماحول میں کام کرنے کا موقع دیا جائے جس سے الگ ہونا ان کے لیے ناممکن نہ بھی ہو تو دشوار ضرور ہو۔
دنیا بھر میں حکومتیں صنعتی اداروں کے ذریعے بہت کچھ حاصل کرتی ہیں۔ یہ نجی ادارے قومی معیشت کو چلانے میں بلاواسطہ اور بالواسطہ کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لاکھوں افراد کو روزگار کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ادارے حکومت کو بہت بڑے پیمانے پر محصول بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ محصول معیشت کو چلانے میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیتا ہے۔ صنعتی اداروں کی ملازمتوں کو زیادہ سے زیادہ پُرکشش بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اِن کی طرف تیزی سے اور بڑے پیمانے پر متوجہ ہو۔ ملازمت کے جاری رکھے جانے کی گارنٹی بنیادی شرط ہے۔ اگر ملازمت کے جانے کا خوف یا خدشہ نہ ہو تو نئی نسل زیادہ اور تیزی سے سیکھتی ہے۔ مشاہرہ تواتر سے بڑھایا جائے تاکہ دوسرے رخ پر سوچنے کی گنجائش کم رہ جائے۔ فیلڈ ورک کے دوران بھی تعلیم کی ضرورت ہے۔ بیشتر صنعتی ادارے اِس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کر بیٹھتے ہیں۔ اگر نئی نسل کو آٹھ گھنٹوں کے لیے اپرنٹس پر رکھا جائے تو اُس میں چار گھنٹے کی تعلیم بھی لازم ہے تاکہ وہ محض عملی کام کے چکر میں پڑکر بنیادی باتوں کو بھول نہ جائے۔ (مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Failure to nurture young skilled workers will collapse manufacturing”.
(“chosun.com”. April 30, 2026)

تازہ مضامین

آبنائے ہرمز کی بندش نے سعودی عرب کی ’’ویژن ۲۰۳۰ء‘‘ کی حکمتِ عملی اور اس کے معاشی انقلاب کے منصوبوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف

دنیا یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ کہیں امریکا اور چین کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے۔ تاہم پوری کوشش کی جارہی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ بات سیدھی سی ہے کہ اگر دو

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے ایکسپو سینٹر کے باہر گاڑیوں کی قطاریں اس قدر طویل ہو چکی تھیں کہ بعض مندوبین نے ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بجائے اپنی گاڑیاں وہیں چھوڑ دیں اور

جس کے واقع ہونے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا، وہ اب اختتام کی منزل تک پہنچتا دکھائی نہیں دے رہا۔ تیل کے عالمی تاجروں کا خیال تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی

پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کے بڑے تناسب کو اس ملک کی ایک اہم طاقت اور برتری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی۔ جہاں بہت

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سہولتیں ہی سہولتیں ہیں اور بحران ہی بحران ہیں۔ قدم قدم پر کچھ نہ کچھ نیا ہے۔ ایک طرف انسان کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی