پاک فضائیہ کی فتح کے تجزیے

پاکستان نے محض چار روزہ فضائی معرکہ آرائی میں بھارت کو جس طریقے سے دُھول چٹائی، وہ اب پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ ایک دنیا ہے جو یہ جاننا چاہتی ہے کہ اِتنے بڑے ملک کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا ملک عسکری محاذ پر اِس قدر غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیونکر کر پایا۔ سوال صرف ٹیکنالوجی کا نہیں، انسانی مہارت اور جذبے کا بھی تو ہے۔ بھارت کے پاس بھی جدید ترین اسلحہ خانہ ہے۔ اُس کی فضائیہ حجم میں بہت بڑی ہے اور برّی فوج بھی کم نہیں۔ ایسے میں پاکستان کے پاس آپشن بہت کم تھے اور ہر آپشن کو پوری قطعیت اور جامعیت کے ساتھ بروئے کار لانا تھا۔ ایسا کرنے کے لیے غیرمعمولی صلاحیت و سکت ہی نہیں بلکہ غیرمعمولی عزم بھی درکار ہوتا ہے۔ پاکستانی فضائیہ نے ثابت کیا کہ وہ بھارت سمیت پورے خِطّے میں کسی بھی ملک کی طرف سے کسی بھی بڑے حمل کا ڈٹ کر سامنا کرسکتی ہے اور خود کو منواسکتی ہے۔

پاکستان نے مئی کے اوائل میں بھارت کو فضائی معرکہ آرائی میں جس ہزیمت سے دوچار کیا تھا، اُس میں بہت سے ممالک نے بھرپور دلچسپی لی ہے۔ سوشل میڈیا پر حال ہی میں چند خبریں اور تصاویر شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق دی رائل تھائی ایئر فورس نے ’’اینیلسز آف انڈیا پاکستان ایئر کانفلکٹ‘‘ کے زیرِعنوان ایک فورم کا انعقاد کیا۔ اس فورم کا مقصد یا مرکزی خیال تاریخ کی طویل ترین مدت کی بی وی آر فضائی معرکہ آرائی کا جائزہ لینا تھا۔ بی وی آر یعنی بیونڈ وِژیوئل رینج (حدِنظر سے پرے)۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے طیاروں کو براہِ راست نہیں دیکھ سکتے تھے۔ یہ جنگ ٹیکنالوجی اور مہارت کی بنیاد پر لڑی گئی۔

تھائی لینڈ کی فضائیہ کی طرف سے اس معرکہ آرائی کا تجزیہ کرنا کوئی حیرت انگیز بات نہیں۔ دنیا بھر کی فضائی قوتوں نے اس فضائی ڈاگ فائٹ کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اِس حوالے سے دستیاب ڈیٹا کا جائزہ لیا جارہا ہے، تجزیہ کیا جارہا ہے۔

بہت سے ملکوں کی فضائیہ کے ساتھ ساتھ اب تھائی لینڈ کی فضائیہ نے بھی اِس لڑائی کا بھرپور جائزہ لیا ہے تاکہ پاکستان کی تکنیکی مہارت کا بھرپور اندازہ لگایا جاسکے اور یہ بھی دیکھا جاسکے کہ اُس نے کس طور بھارتی جیسی بڑے حجم کی فضائیہ کو ہزیمت سے دوچار کیا۔

امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ سی این این کے مطابق پاکستان کے سینئر حکام بتاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان مئی کے اوائل میں ہونے والی معرکہ آرائی تاریخ کی سب سے بڑی فضائی لڑائی تھی۔ اِس میں ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں ملکوں کے طیاروں نے بڑی تعداد میں حصہ لیا۔

سی این این نے بتایا ہے کہ اس معرکہ آرائی کے دوران دونوں ممالک کے طیارے اپنی اپنی فضائی حدود میں رہے تاہم کم و بیش ۱۶۰؍کلومیٹر کے فاصلے سے ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل داغتے رہے۔ طیاروں کی نشاندہی کے لیے جدید ترین رڈار سسٹم کا سہارا لیا گیا اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے گئے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے بھارت کے ۷۵ سے ۸۰ لڑاکا طیاروں کا بھرپور قوت اور قطعیت کے ساتھ سامنا کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ حدِنظر سے باہر رہتے ہوئے کی جانے والی سب سے بڑی فضائی معرکہ آرائی تھی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان نے فرانس کے بنائے ہوئے رافیل طیارے سمیت بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے۔ دنیا بھر کے میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس کے مطابق اس لڑائی میں بھارت نے مجموعی طور پر ۶ طیارے کھوئے۔ ان میں رافیل کے علاوہ ایک سُخوئی Su-30MKI، ایک MiG-29 Fulcrum طیارہ اور ایک Mirage 2000 طیارہ بھی شامل تھا۔ بھارت کے پاس ۲۰۱۶ء سے فرانس کے تیار کردہ رافیل طیاروں کا بیڑا موجود ہے جو متنوع کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے طیاروں کا اچھا لڑاکا اثاثہ ہے۔ یہ طیارے فضائی برتری اور قطعیت کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان نے بھارتی فضائیہ کو J-10C لڑاکا طیاروں کی مدد سے نشانہ بنایا۔ یہ طیارے چین کے تیار کردہ PL-15E BVR میزائلوں سے لیس ہوتے ہیں جو فضا سے فضا میں مار کرتے ہیں۔ رافیل طیاروں کا بہت غلغلہ تھا۔ بھارتی فضائیہ کو فرانسیسی طیاروں پر ناز تھا اور اُس کا دعویٰ تھا کہ اب پاکستانی فضائیہ کسی بھی طور بھارت کو فضائی جنگ میں زیادہ نقصان نہیں پہنچاسکتی۔

غیرجانبدار میڈیا کی رپورٹس میں بھی بتایا گیا ہے کہ پاک فضائیہ کے ایک J-10C طیارے نے رافیل کو ۱۸۲؍کلومیٹر کے فاصلے سے PL-15 میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا۔ فاصلے کی تصدیق ہونی ہے۔ روسی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ روسی ساختہ SU-35S طیارے نے یوکرین کے ایک MiG-29 طیارے کو ۲۱۳؍کلومیٹر کے فاصلے سے مار گرایا تھا۔ اس کے لیے فضا سے فضا میں مار کرنے والا ہائپر سونک R-37M میزائل استعمال کیا گیا تھا۔ اس میزائل کی رسائی ۴۰۰ کلومیٹر دور واقع ہدف تک ہے۔

چین کی ایئر بورن میزائل اکیڈمی کے تیار کردہ PL-15 میزائل نے انتہائی غیرمعمولی بی وی آر میزائل کی حیثیت سے بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ میزائل امریکا کے AIM-120D AMRAAM اور یورپ کے MBDA Meteor میزائل کے مقابل رکھا جاسکتا ہے۔

پاکستانی لڑاکا طیاروں نے بھارتی طیاروں پر جتنے بھی میزائل برسائے، وہ اپنی فضائی حدود میں رہتے ہوئے برسائے اور یہی اِس لڑائی کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ دونوں ملکوں کے پائلٹس کے سامنے طیارے براہِ راست نہیں تھے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے طیاروں کی نشاندہی ممکن بناکر میزائل داغے گئے۔ پاکستانی پائلٹس نے اِس معاملے میں غیرمعمولی مہارت، حاضر دماغی اور چابک دستی کا مظاہرہ کیا اور دنیا بھر سے داد وصول کی۔

پاکستان کو چینی ساختہ J-10C لڑاکا طیاروں کی ڈلیوری ملنے کا سلسلہ ۴ جون ۲۰۲۲ء کو شروع ہوا۔ ابتدائی مرحلے میں ۶ طیارے کامرہ کے منہاس ایئر بیس پر اُترے۔ اِن تمام طیاروں کو پاک فضائیہ کے نمبر ۱۵؍کوبراز اسکواڈرن میں شامل کیا گیا۔

پاک فضائیہ میں J-10C طیاروں کے شامل کیے جانے کو بھارتی فضائیہ میں موجود رافیل طیاروں کا توڑ قرار دیا گیا۔ بھارتی فضائیہ کو بڑے پیمانے پر طیارے اور ساز و سامان ملنے کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا۔ صورتحال کی نزاکت کے پیشِ نظر پاکستان نے اپنی فضائی قوت بڑھانے کے لیے جو کچھ بھی کیا، وہ بہت حد تک ناگزیر تھا۔

جدید طیاروں میں J-10C کا اپنا مقام ہے۔ اِس میں جدید ترین ایکٹیو الیکٹرانیکلی اسکینڈ ایرے (اے ای ایس اے) راڈار، جدید اور کارگر الیکٹرانک وارفیئر سسٹم کے علاوہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی وی آر میزائل لے جانے کی صلاحیت بھی ہے۔ پاکستان نے اصلاً ۲۵ J-10C طیاروں کا آرڈر دیا تھا۔ اب چین سے گفت و شنید جاری ہے کہ پاک فضائیہ کے پاس ۶۰ کی تعداد J-10C طیارے ہونے چاہئیں۔ بھارتی فضائیہ میں رافیل طیاروں کے بیڑے کے ہوتے ہوئے پاکستان کے پاس اپنے لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

امریکا کے فضائی امور کے ماہر اور مچل انسٹیٹیوٹ فار ایئرو اسپیس اسٹڈیز کے سینئر فیلو مائیکل ڈیم کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے حالیہ فضائی معرکہ آرائی میں جدید ترین طیاروں، آلات اور دیگر ساز و سامان کو عمدگی سے بروئے کار لانے کی صلاحیت اور مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ چین سے ملنے والی تکنیکی معاونت کے ذریعے پاکستان نے خود کو ایک بڑی فضائی قوت میں عمدگی سے تبدیل کیا ہے۔

ایئر اینڈ اسپیس فورسز میگزین کے مطابق مائیکل ڈیم کا کہنا ہے کہ اہداف کو شناخت کرکے اُسے تباہ کرنے کے حوالے سے جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کے معاملے میں پاکستانی مہارت اب ثابت ہوچکی ہے۔ پاکستانی پائلٹس کی کارکردگی کسی بھی طیارے کی عمدہ کارکردگی کے حوالے سے کی جانے والی تشہیر سے کہیں بڑھ کر ہے۔ پاکستان نے زمین پر موجود راڈار کو لڑاکا طیاروں اور ایئر بورن ارلی وارننگ ایئر کرافٹ سے بخوبی جوڑا۔ پاکستانی پائلٹس اور گراؤنڈ اسٹاف نے کئی کڑیوں کو ملایا اور ایک کامیاب لڑی تیار کی جس نے متعدد اہداف حاصل کیے۔ یہ تمام تفصیلات چین کی دفاعی صنعت کے ایک جریدے ’چائنا اسپیس نیوز‘ میں شائع ہوئی ہیں۔

جدید اسلحہ خانے میں رفتار، ریئل ٹائم انٹیلی جنس اور قطعیت فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہیں۔ کسی بھی ایئر کامبیٹ ڈاکٹرائن میں یہ تینوں معاملات انتہائی اہم بلکہ کلیدی ہیں۔

آج کی فضائی لڑائی میں بنیادی طور پر ۶ مراحل ہوتے ہیں۔ تلاش کرنا، فکس کرنا، پیچھا کرنا، نشانہ بنانا، لڑائی میں ملوث کرنا اور کارکردگی کا جائزہ لینا۔ آئی ایس آر ڈرونز کے حوالے سے ہونے والی پیشرفت نے اِن میں سے ہر مرحلے کو آگے بڑھایا ہے، مضبوط بنایا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیٹا لِنک کی بھی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ سیٹلائٹ سے رابطے بھی ناگزیر ہیں کیونکہ اُنہی کی مدد سے درست نشانہ لیا جاسکتا ہے۔ فی زمانہ بیشتر ہتھیار خودکار ہیں یعنی اپنے طور پر کام کرتے ہیں۔ رائفلز اور توپوں کے علاوہ میزائل اور ڈرون بھی خودکار ہیں۔

مائیکل ڈیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زمینی راڈار نے ممکنہ طور پر بھارتی لڑاکا طیاروں کی موجودگی بھانپ کر اُنہیں نشانے پر لیا تھا۔ یہ راڈار ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

پاکستانی پائلٹ نے اسٹینڈ آف رینج سے ایک بی وی آر میزائل داغا جسے فضا میں موجود نگراں طیارے کی مدد سے ڈیٹا لِنک ملا اور میزائل کو مطلوبہ طیارے کو نشانہ بنانے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

پاکستان نے فضائی معرکہ آرائی میں طیاروں، راڈار اور پہلے سے مطلع کرنے کے نظام کو آپس میں جوڑنے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے، جو بہت حد تک امریکی فوج کی متعلقہ کمانڈ کی عمدہ کارکردگی سے مماثل ہے۔ کئی خدمات اور ڈومینز کو آپس میں جوڑ کر متعدد سرگرمیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت یقینی بنائی گئی ہے۔ مائیکل ڈیم کہتے ہیں کہ ابھی اِس معرکہ آرائی کے حوالے سے تفصیلات کا انتظار ہے۔ جب متعلقہ امور سامنے آئیں گے، تب اندازہ ہوسکے گا کہ پاک فضائیہ کو بھارتی فضائیہ پر مہارت اور چابک دستی کے حوالے سے کس حد تک برتری حاصل ہے۔

یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ پاکستان نے چین سے حاصل کیے جانے والے اے ای ڈبلیو اینڈ سی طیاروں کو الیکٹرانک وارفیئر کے مشن کے لیے موزوں بنانے پر توجہ دی ہے۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ پاکستان نے اِس حوالے سے اپنی اہلیت کو عملی طور پر آزمایا ہے یا نہیں۔ مائیکل ڈیم کا کہنا ہے کہ ہم چینی اور مغربی ٹیکنالوجی کے موازنے کے حوالے سے کچھ زیادہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ سب سے زیادہ اہمیت سسٹمز کو آپس میں جوڑنے کی ہے۔ عملے کی تربیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دفاعی یا حربی ہتھکنڈوں کے حوالے سے تربیت بھی لازم ہے۔ اِس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات ہیں جو کاغذ پر درج کرکے دکھائے نہیں جاسکتے۔

مائیکل ڈیم کا کہنا ہے کہ سوال محض لڑاکا طیاروں کا نہیں۔ جدید ترین لڑاکا طیاروں کے ساتھ بہت سی چیزیں جُڑی ہوئی ہیں۔ راڈار اور دیگر ساز و سامان کو ایک لڑی میں پرو کر دُشمن کے لیے انتہائی خطرناک شکل میں سامنے لانا ہی اب کسی بھی فضائیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اگر کوئی فضائیہ جدید ترین طیارے اور میزائل حاصل کر بھی لیتی ہے مگر عملے کی تربیت میں کسر رہ جائے اور جدید ترین ساز و سامان کو طیاروں اور میزائل سے بالکل درست طور پر جوڑا نہ جاسکے تو سمجھ لیجیے ہوگیا کام۔

مائیکل ڈیم کہتے ہیں بھارتی فضائیہ حجم کے لحاظ سے بہت بڑی ہے۔ اِس کی انوینٹری بھی متنوع ہے یعنی لڑاکا طیاروں اور ساز و سامان میں بھی خاصی نیرنگی پائی جاتی ہے۔ کئی ملکوں سے بہت کچھ لیا گیا ہے۔ مغربی دنیا، اسرائیل اور روس سے لی جانے والی ٹیکنالوجی کے علاوہ خانہ ساز ٹیکنالوجی بھی ہیں۔ کسی بھی فضائیہ کے لیے ایسی فضائیہ سے لڑنا کوئی آسان کام نہیں۔ بھارتی فضائیہ کے پاس دنیا کے متنوع ترین فائٹر فلیٹس میں سے ایک پایا جاتا ہے۔ فرانس کے رافیل طیارے، روس کے Su-30MKI، MiG-29، ڈیسالٹ Mirage 2000 اندرونِ ملک تیار کیے گئے تیجس طیارے بھارتی فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں برطانوی ساخت کے اسپیس کیٹ جیگوارز بھی بھارت کے پاس ہیں۔ یہ تنوع بھارت کو جنگ کے دوران مختلف انداز سے کارروائی کرنے کی بھرپور آزادی فراہم کرتا ہے۔ زمین پر موجود راڈار اور ایواکس پلیٹ فارمز کو عمدگی سے بروئے کار لانے پر بھی بھارت نے توجہ دی ہے۔ فضائی جنگ کے جدید ترین پلیٹ فارمز کو ایک لڑی میں پرونے کی صلاحیت بھی بھارتی فضائیہ کے پاس خوب ہے۔

آج کی دنیا میں ہر طرح اور ہر سطح کی جنگ ڈیٹا کی بنیاد پر لڑی جارہی ہے۔ کسی بھی فضائیہ کے پاس متنوع سسٹم اور پلیٹ فارمز کا ہونا زیادہ کارآمد نہیں ہوسکتا اگر وہ اِن تمام سسٹمز اور پلیٹ فارمز کو ایک لڑی میں پرو کر دشمن کے خلاف فیصلہ کن انداز سے بروئے کار لانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

(مترجم: محمد ابراہیم خان)

“World’s largest BVR dogfight: Thailand studies Pakistan-India 125-Jet aerial clash”. (“defencesecurityasia.com”. June 29, 2025)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو