بھارت کو ہتھیار بیچنے میں وقت لگے گا!

گزشتہ برس اکیس نومبر کو دوبئی ایئر شو میں فضائی کرتب کے دوران بھارتی ساختہ لڑاکا طیارے تیجس کی تباہی اور وِنگ کمانڈر نمانش سیال کی موت کوئی حیران کن حادثہ نہیں۔ فضائی نمائشوں کی تاریخ میں اس سے بڑے المیے رونما ہوئے ہیں۔

۱۹۷۳ء میں پیرس ایئر شو کے دوران ایرو فلوٹ کا پہلا سپر سانک ٹیوپولوف ٹی یو ون فورٹی فور طیارہ پہلی نمائشی پرواز کے دوران ہی گر پڑا۔ عملے کے تمام پانچ افراد اور زمین پر موجود دیگر آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔

۱۸؍ اگست ۱۹۸۸ء کو مغربی جرمنی میں امریکی فضائیہ کے زیرِ استعمال رامسٹین ایئر بیس کے فضائی میلے میں آسمانی کرتب دکھانے والے اطالوی فضائیہ کے تین طیارے ٹکرا کر آگ کا گولہ بن گئے۔ تینوں پائلٹوں سمیت ۷۰؍افراد ہلاک اور ۳۵۶ تماشائی شدید زخمی ہوگئے۔

۸؍اکتوبر ۱۹۸۹ء کو بھارتی یومِ فضائیہ کے موقع پر دہلی میں ایک میراج طیّارہ قلابازیوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیچے گر پڑا۔ ونگ کمانڈر رمیش بخشی اور زمین پر کھڑا ایک اور شخص جان کی بازی ہار گئے۔

جولائی ۱۹۹۷ء میں بلجیم میں اوسٹینڈ ایئر شو کے دوران اردنی فضائیہ کا ایک طیارہ کرتب دکھانے کے لیے ٹیک آف کے دوران نیچے گر پڑا۔ پائلٹ سمیت ۸؍افراد ہلاک اور ۴۰ زخمی ہوئے۔

جولائی ۲۰۰۲ء میں یوکرین میں ایک فضائی نمائش کے دوران کرتب دکھاتے ہوئے یوکرینی فضائیہ کا سوخوئی طیارہ توازن کھونے کے سبب نیچے گر پڑا۔ اُس وقت نمائش میں دس ہزار تماشائی موجود تھے۔ ۲۸ بچّوں سمیت ۷۷؍افراد ہلاک اور ۵۵۰ زخمی ہوئے اور نیچے کھڑے کئی طیارے تباہ ہوگئے۔ مگر حادثاتی طیارے کے دونوں پائلٹ زندہ بچ گئے۔

البتہ ایسے حادثات کے کاروباری نقصانات بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً دوبئی ایئر شو میں تیجس کا پائلٹ سمیت تباہ ہو جانا ایک ایسا حادثہ ہے جس کے سبب بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کی شہرت اور صلاحیت پر بھی کچھ بنیادی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ویسے بھی دنیا میں چند ہی ممالک ہیں جن کے درمیان ہتھیاروں کی تجارت کا گلا کاٹ مقابلہ ہے۔ ایسا کوئی بھی حادثہ ہتھیار فروخت کرنے والے ملک کی شہرت پر وقتی طور پر سہی مگر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ اس ملک کا نقصان کروڑوں اربوں ڈالرز کے آرڈرز کی شکل میں اسلحے کے دیگر تاجر ممالک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔

جیسے انڈونیشیا نے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کا سودا کیا مگر پاکستان سے لڑائی کے دوران ایک بھارتی رافیل کی تباہی کے بعد انڈونیشیا نے سودا منسوخ کر دیا اور طیارہ ساز کمپنی کے حصص کی قیمت بھی گر گئی۔

فورتھ جنریشن کا تیجس بھارتی اسلحہ انڈسٹری کے سر کا تاج ہے۔ تیجس کا یہ پہلا حادثہ نہیں۔ مارچ ۲۰۲۴ء میں جیسلمیر کے قریب ایک تربیتی پرواز کے دوران پہلا تیجس گر کے تباہ ہوا۔ خوش قسمتی سے پائلٹ محفوظ رہا۔

تیجس ۱۹۸۳ء میں ڈرائنگ بورڈ پر آیا مگر اس کی پہلی ٹیسٹ فلائٹ ۱۷؍برس بعد ۲۰۰۱ء میں ممکن ہو سکی۔ اس کے ۵۵ فیصد آلات ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ نے تیار کیے ہیں۔ ریڈار اور الیکٹرونکس سسٹم ساختہ اسرائیل ہے۔ اس میڈ اِن انڈیا طیارے کی تیاری پر ۱۹۸۳ء سے اب تک ڈیڑھ بلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں۔

 ہندوستان ایرو ناٹیکل لمیٹڈ (ایچ اے ایل) عرصے سے طیارے اور ہیلی کاپٹر تیار کر رہا ہے مگر سب سے بڑا گاہک یعنی بھارتی فضائیہ بھی ایچ اے ایل کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ تیجس مارک ون کی پروڈکشن ۲۰۰۶ء میں شروع ہوگئی۔ ۲۰۱۱ء تک بیس طیارے فضائیہ کے حوالے کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تاہم یہ ڈلیوری ستمبر ۲۰۲۴ء میں مکمل ہوسکی۔

فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے تو کھلم کھلا چند ماہ پہلے کہہ دیا کہ فضائیہ کو ایچ اے ایل کی کارکردگی پر اعتماد نہیں۔ ایچ اے ایل نے گزشتہ فروری تک گیارہ تیجس فضائیہ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ ان میں سے ایک بھی طیارہ وعدے کے مطابق ڈلیور نہ کر سکی۔ مگر اب فضائیہ کو ۔۴ طیارے بالآخر مل گئے ہیں۔ بھارتی فضائیہ اپنے بیڑے میں ۳۲۴ تیجس (اٹھارہ اسکواڈرن) شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاکہ مگ اکیس نامی ’’فضائی تابوت‘‘ سے گزشتہ برس جان چھوٹنے سے پیدا ہونے والا خلا بھرا جاسکے۔ مگر پروڈکشن اور سپلائی لائن پر کلرک مزاج سرکاری بابو بیٹھے ہیں۔ بھارتی فضائیہ کا تین سو سے زائد طیاروں کا آرڈر ۲۰۳۲ء سے پہلے مکمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

جس قیمت پر تیجس غیرملکی گاہکوں کو مہیا کیا جاتا ہے، اُسی قیمت میں دوبئی ایئر شو میں چینی ساختہ جے ایف سیونٹین، جے ٹین اور جے تھرٹی ون طیارے اور سویڈن کا گروپن بھی موجود تھا۔

دوبئی ایئر شو میں تیجس کی تباہی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ آرمینیا نے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر مالیت کے ۱۲؍طیاروں کی خریداری کا سودا معطل کر دیا۔ یہ اس لیے بھی نیک شگون نہیں کہ پہلی بار کسی ملک نے تیجس خریدنے میں سنجیدگی سے دلچسپی ظاہر کی تھی۔ برازیل، ارجنٹینا، کانگو، مصر اور ملیشیا بھی تیجس کو مختلف اوقات میں شارٹ لسٹ کر چکے ہیں مگر سخت بین الاقوامی مقابلے کے سبب یہ بیل کہیں بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی۔

معاملہ صرف تیجس کی مارکیٹنگ کو دھچکا لگنے تک محدود نہیں۔ ہندوستان ایرو ناٹکس لمیٹڈ نے ۲۰۰۸ء میں جنوبی امریکا کے ملک ایکویڈور کی فضائیہ کو ۵ء۴۲ ملین ڈالر مالیت کے ۷ دھروو ایڈوانس ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔ بھارتی فوجی ہیلی کاپٹرز کا یہ پہلا بڑا بین الاقوامی آرڈر تھا۔

مگر سات میں سے چار ہیلی کاپٹر یکے بعد دیگرے تکنیکی وجوہات کے سبب کریش ہوگئے۔ ایکویڈور نے ۲۰۱۵ء میں ایچ اے ایل سے مزید ہیلی کاپٹرز کی خریداری کا سودا ہی منسوخ کر دیا۔

۲۰۲۲ء میں ایچ اے ایل کے سربراہ اننتھا کرشن نے اعلان کیا کہ ارجنٹینا، مصر اور فلپینز دھروو ہیلی کاپٹرز خریدنے پر آمادہ ہیں۔ مگر اس اعلان کے چند ماہ بعد ایک اور دھروو ہیلی کاپٹر ارونا چل پردیش میں کریش کرگیا۔ اس کے بعد اس ہیلی کاپٹر کی برآمد کے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ معلوم نہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر بھارتی فضائیہ بھی خوشی خوشی استعمال کر رہی ہے یا اسے زبردستی ٹکایا گیا ہے۔

اگرچہ امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین جیسے ممالک کے طیارے بھی حادثات کا شکار ہوتے رہے ہیں مگر یہ ممالک چونکہ اس میدان کے پرانے کھلاڑی ہیں لہٰذا گاہکوں پر ان کا اعتماد کسی ایک پروڈکٹ کے نقصان کے سبب وقتی طور پر تو متزلزل ہوتا ہے تاہم ان ممالک کی عسکری مصنوعات اتنی ہیں کہ کسی ایک نقصان سے ان کی تجارتی صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ بھارت جیسے ممالک چونکہ اسلحے کی فروخت کے میدان میں نئے نئے ہیں اور ان کے پاس بیچنے کے لیے آئٹم بھی کم ہیں۔ ایسے میں کوئی ایک گڑبڑ بھی گاہک کا اعتماد گڑبڑانے کے لیے کافی ہے۔

بھارت کے سرکردہ دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے بقول دنیا بھر میں جدید اسلحہ سازی کے شعبے میں نجی شعبہ چھا رہا ہے۔ مگر بھارت میں ہتھیار سازی کے کلیدی منصوبے آج بھی سرکاری سیکٹر میں ہیں۔ لہٰذا جب بابو ٹکنیکل کمپیٹیشن کے میدان میں اتریں گے تو بہت دُور اور دیر تک نہیں دوڑ سکتے۔ اس صنعت کو شفاف، اسمارٹ اور سخت مقابلے بازی کا عادی ہونے میں وقت لگے گا۔

(بحوالہ: روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کراچی۔ ۶ جنوری ۲۰۲۶ء)

تازہ مضامین

دنیا بھر میں سیاسی اور معاشی معاملات کچھ کے کچھ ہوتے جارہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں سے چلے آرہے اُصولوں اور طریقوں کو خیرباد کہتے ہوئے، بلکہ کچلتے ہوئے اپنے طریقے متعارف

بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک

ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل کے اندر چمکتے ہوئے سنگِ مرمر اور نرم روشنیوں سے سجے کانفرنس ہال میں فلسطین پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے سیشن چل رہے تھے۔ ہر

ترکیہ کے عروس البلاد استنبول میں دسمبر کی سردی غیرمعمولی تھی۔ آبنائے باسفورس کی طرف سے چلتی تیز ہوا کانفرنس ہال کے باہر کھڑے لوگوں کو اپنے کوٹ کے بٹن مضبوطی سے بند کرنے پر

گزشتہ چند مہینوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں ایک بڑی فوج تعینات کر رکھی تھی تاکہ وینزویلا کو دباؤ میں لایا جاسکے۔ حالیہ عرصے تک صدر اس عسکری قوت، جس میں

نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا