بنگلا دیش میں تبدیلیوں کی لہر جاری ہے۔ بہت کچھ بدل رہا ہے۔ دو سال قبل بنگلا دیش میں انتخابات کے بعد عوامی لیگ کے اقتدار کو تسلسل ملنے کے بعد طلبا نے شاندار تحریک چلا کر شیخ حسینہ واجد اور اُن کے ٹولے کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر کیا اور اِس کے بعد وہاں غیرجانبدار عبوری حکومت قائم ہوئی۔ اِس حکومت کے تحت بنگلا دیش کئی تبدیلیوں کے مراحل سے گزرا ہے۔ سب سے بڑی تبدیلی یہ واقع ہوئی ہے کہ بنگلا دیش اب بھارت سے دُور ہوچکا ہے اور پاکستان سمیت متعدد اسلامی و غیراسلامی ملکوں سے اُس کے تعلقات میں خاصی بہتری آئی ہے۔ اب بنگلا دیش میں انتخابات ہونے کو ہیں۔ اب کی بار بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این اپی) اور جماعتِ اسلامی کی پوزیشن خاصی مضبوط دکھائی دے رہی ہے۔ ایسے میں بنگلا دیش مستقبل قریب میں فیصلہ کُن انداز سے کون سی راہ پر گامزن ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے ایک دنیا بے تاب ہے۔ بھارت بھی اپنے طور پر ایسا بہت کچھ کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بنگلا دیش کو دوبارہ اپنا بغل بچہ بنانے میں کامیابی حاصل ہو۔
بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے بنگلادیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا مرحومہ کے بیٹے طارق رحمن سے ملاقات کی ہے۔ خطّے کی سیاست کے حوالے سے اِس ملاقات کو غیرمعمولی اہمیت دی جارہی ہے۔ تجزیہ کار اور تجزیہ نگار یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ اب بنگلادیش کس راہ پر گامزن ہوتا ہے۔
بیگم خالدہ ضیا کا انتقال ۳۰ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ہوا۔ اُن کی تدفین میں شرکت کے لیے علاقائی ملکوں کے سیاسی قائدین نے نمایاں طور پر شرکت کی۔ بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ڈھاکا میں تدفین سے متعلق تقریبات کے موقع پر طارق رحمن سے ملاقات کی جنہوں نے اپنی والدہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بی این پی کی قیادت سنبھالی ہے۔ ایس جے شنکر نے طارق رحمن کو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا خط بھی دیا۔ بعد ازاں اُنہوں نے طارق رحمن سے ملاقات کی تصویریں اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اُنہوں نے بھارت کی حکومت اور عوام کی طرف سے طارق رحمن سے اظہارِ تعزیت کیا اور اِس امید کا اظہار کیا کہ بیگم خالدہ ضیا کی بصیرت اور اقدار بھارت اور بنگلادیش کی پارٹنر شپ کو دن بہ دن توانا تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
یاد رہے کہ بھارت بہت سے مواقع پر، کبھی کُھل کر اور کبھی پوشیدہ طور پر، خالدہ ضیا کی ’’بصیرت اور اقدار‘‘ کی مخالفت کرتا رہا ہے۔
بیگم خالدہ ضیا کی زندگی بھرپور سیاسی جدوجہد سے عبارت تھی۔ اُنہوں نے ۱۹۸۰ء کی دہائی میں فوجی اقتدار کے خلاف بھرپور تحریک چلائی اور اِس کے نتیجے میں اُنہیں ۱۹۹۱ء میں پہلی بار اقتدار میں آنے کا موقع ملا۔ بیگم خالدہ ضیا کا اقتدار میں آنا بھارت کے لیے خاصی بدمزگی کا باعث ثابت ہوا۔ بھارتی قیادت نے اُنہیں شک کی نگاہ سے دیکھا۔ نئی دہلی کے سرکاری حلقوں کو اس بات کا یقین تھا کہ بیگم خالدہ ضیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا ممکن نہ ہوگا۔ اِس کا ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ بی این پی ایک طویل مدت تک بنگلادیش کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم جماعتِ اسلامی سے غیرمعمولی دوستانہ تعلق کی حامل رہی تھی۔ بنگلادیش جماعتِ اسلامی پاکستان سے بہتر تعلقات کی خواہش مند اور اِس کے لیے کوشاں رہی ہے۔ بھارتی قیادت کو بیگم خالدہ ضیا کا اقتدار قبول نہ تھا اور اُنہیں وہ شک کی نظر ہی سے دیکھتی رہی تاہم عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کا اقتدار بھارت کے لیے ہمیشہ قابلِ قبول رہا۔ عوامی لیگ بھارت نواز بھی تھی اور سیکولر بھی۔ سیکولرازم کے ساتھ ساتھ عوامی لیگ کا پاکستان سے دوری اختیار کرنا بھی بھارتی قیادت کے لیے بہت پسندیدہ معاملہ تھا۔
بنگلادیش میں فروری میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں ایس جے شنکر کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کو اِس بات کا یقین ہے کہ بنگلادیش میں قائم ہونے والی نئی حکومت سے اُس کے تعلقات بہتر ہوں گے۔ بنگلادیش میں ایک سال سے زائد مدت میں جو کچھ ہوا ہے، اُس کے پیشِ نظر بھارتی قیادت کا پریشان ہو اُٹھنا فطری امر ہے اور وہ چاہتی ہے کہ معاملات کو سلجھایا جائے تاکہ بنگلادیش کا جھکاؤ بھارت ہی کی طرف رہے۔
اُمورِ خارجہ میں طارق رحمن کے مشیر نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ طارق رحمن اور اُن کی ٹیم سے بھارتی وزیرِ خارجہ کی خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات اِس بات کی غماز ہے کہ دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے مرحلے کے آغاز کی خاصی توانا امید پائی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ ایسے میں بھارت بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا ہے اور دوسری طرف بی این پی کی قیادت سنبھالنے کے بعد طارق رحمن پر بھی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے غیرمعمولی دباؤ ہے۔ حالات غیرمعمولی تبدیلیوں کے متقاضی ہیں اور اِس حوالے سے بھارت بھی بہت کچھ کرنے کے مُوڈ میں ہے اور اِدھر بی این پی کی قیادت بھی دوطرفہ تعلقات کے ایک دَور کی ابتدا یقینی بنانے کے حوالے سے محض پُرامید ہی نہیں بلکہ تیار بھی ہے۔
ایک نیا آغاز؟
جولائی ۲۰۲۴ء میں چلائی جانے والی شاندار طلبہ تحریک نے عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سالہ اقتدار کی بنیادیں ہلادِیں تب اُنہیں بھاگ کر بھارت میں پناہ لینا پڑی۔ بھارت نے شیخ حسینہ واجد کو پناہ دے کر بنگلادیشی عوام کی ناراضی مول لی ہے۔ شیخ حسینہ واجد سے بھارتی قیادت نے جس غیرمعمولی یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اُس نے بنگلادیش کے طول و عرض میں بھارت مخالف جذبات کو انتہائی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ بنگلادیشی عوام ایک زمانے سے اِس بات کے شاکی رہے ہیں کہ بھارت نے اُن کے ملک کے معاملات میں مداخلت کرکے بہت خرابیاں پیدا کی ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے عہدِ اقتدار میں بنگلادیش کی پالیسیوں میں واضح طور پر بھارت کی طرف جھکاؤ رہا۔ اِس کے نتیجے میں بنگلادیش کے لیے کُھل کر اور غیرجانبداری سے کام کرنا کبھی آسان نہیں رہا۔ شیخ حسینہ واجد اِس وقت بھارت میں ہیں۔ بنگلادیش کی عدلیہ اُنہیں موت کی سزا سُناچکی ہے۔ بھارت اُنہیں بنگلادیشی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کرنے پر آمادہ نہیں۔ شیخ حسینہ واجد پر ۲۰۲۴ء میں حکومت مخالف مظاہرین کو سختی سے کچلنے کے احکام جاری کرنے کا الزام ہے۔ اِس کے نتیجے میں سیکڑوں ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ اقوامِ متحدہ نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کے اقتدار کے آخری دونوں میں حکومت کے مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ۱۴۰۰ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔
۲۰۲۴ء کی طلبہ تحریک کے ایک رہنما کی ہلاکت نے معاملات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ یہ رہنما بھارت کا شدید مخالف تھا۔ اِس ہلاکت کے بعد سے بنگلادیش بھر میں بھارت مخالف مظاہروں نے خاصا زور پکڑا ہے۔ بعض مقامات پر انتہائی پُرتشدد واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ اِس کے بعد دونوں ممالک نے ویزا کا اجرا عارضی طور پر روک دیا ہے۔
یہ امر بھی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ عوامی لیگ کو فروری کے عام انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی اُس خلا کو اپنے وجود سے پُر کرنا چاہتی ہے جو عوامی لیگ کے منظر سے ہٹنے کی صورت میں پیدا ہوا ہے۔ بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے تعلقات بہت اچھے تھے مگر جب جماعتِ اسلامی نے ۲۰۲۴ء کی طلبہ تحریک کے قائدین کی قائم کردہ سیاسی جماعت سے اتحاد کیا تو بی این پی نے اُس سے دوری اختیار کرلی۔ فروری کے انتخابات میں لوگوں کی نظریں بی این پی اور جماعتِ اسلامی کی سربراہی میں قائم سیاسی اتحاد پر جمی ہیں۔
بھارت سے یہ بات بالکل ہضم نہیں ہوتی کہ پاکستان کی طرف واضح جھکاؤ رکھنے والی بنگلادیش جماعتِ اسلامی انتخابات میں محض حصہ نہ لے بلکہ قابلِ ذکر کامیابی بھی حاصل کرے۔ دوسری طرف طارق رحمن نے حال ہی میں چند ایسے بیانات جاری کیے ہیں جو بھارت کے لیے خوش آئند نوعیت کے ہیں۔ ۱۷؍سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی پر طارق رحمن نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا بنگلادیش دیکھنا چاہتے ہیں جس میں سبھی کے لیے بہترین زندگی اور بہترین مواقع ہوں اور اقلیتوں کو خصوصی طور پر تحفظ حاصل ہو۔ بھارت کے سابق سیکرٹری خارجہ اور بنگلادیش میں بھارت کے سابق ہائی کمشنر ہرش وردھن شرِنگلا کا کہنا ہے کہ اب یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ طویل جلا وطنی نے طارق رحمن کو بہت کچھ سکھادیا ہے اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں کہ علاقائی سطح پر حقیقی استحکام پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔
باہمی بے اعتمادی اور مخاصمت
۲۰۰۶ء میں اقتدار سے محرومی کے بعد سے اب تک بی این پی کی قیادت کو جلا وطنی ہی کا سامنا رہا ہے۔ پہلے فوج کی حمایت سے قائم حکومت نے بی این پی کے قائدین اور کارکنوں کو انتقام کا نشانہ بنایا اور اُس کے بعد عوامی لیگ کی حکومت نے بھی اُن کا ناطقہ بند کیا۔ بی این پی کو بے بنیاد مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ اِس کے نتیجے میں اُنہیں سزاؤں کا سامنا بھی رہا ہے اور جلا وطنی کا عذاب بھی جھیلنا پڑا ہے۔ عوامی لیگ کے جبر و استبداد کا سامنا کرتے ہوئے بی این پی کے قائدین اور کارکنوں کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑی ہیں۔
بی این پی کو اب تک کے آخری دورِ اقتدار میں بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تب وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی تھے۔ بی جے پی کے اقتدار والے بھارت اور بی این پی کے اقتدار بنگلادیش کے درمیان مناقشوں کا تعلق تجارت، سرحد، دریائی پانی کی تقسیم، نقل مکانی، مسلح بغاوت اور اقلیتوں کے خلاف تشدد سے تھا۔ نئی دہلی یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ بنگلادیشی حکومت بہت سے مسلح بھارت مخالف باغیوں کو اپنی سرزمین پر ٹھکانے بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ اِس الزام تراشی نے دو طرفہ تعلقات کو غیرمعمولی نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت نے بی این پی پر پاکستانی خفیہ اداروں سے سازباز کا الزام بھی عائد کیا ہے اور بنگلادیش اِس الزام کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔ ہرش وردھن شرِنگلا کا کہنا ہے کہ بھارت اور بنگلادیش کے تعلقات میں بے اعتمادی اور مخاصمت کا زہر گُھلا ہوا ہے۔ ہرش وردھن بھارتی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں اُن کا مزید کہنا تھا کہ بی این پی نے ۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۶ء تک اقتدار کے دوران واضح طور پر بھارت مخالف لائن اپنائی اور پاکستان سے قریب تر ہوتی چلی گئی۔ بی این پی کی حکومت میں طارق رحمن بنیادی قوتِ محرکہ تھے۔ پارٹی اور حکومت کے بیشتر معاملات اور پالیسیوں پر اُن کا اثر و رسوخ غیرمعمولی تھا۔
طارق رحمن پر بھروسا ممکن ہے!
وہ زمانے گزر چکے۔ اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب طارق رحمن پر بہت حد تک بھروسا کیا جاسکتا ہے۔ بیگم خالدہ ضیا کی حالت طویل مدت سے خراب تھی مگر جب نومبر میں اُنہیں اسپتال میں داخل کرکے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تب بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے فوری رابطہ قائم کرکے بیگم خالدہ ضیا کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور بی این پی نے بھی خاصی خوش دِلی سے شکریہ ادا کیا۔ ہرش وردھن کا کہنا ہے کہ طارق رحمن بھی اِس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اگر اُنہیں وزیراعظم کی حیثیت سے کامیاب ہونا ہے تو بھارت کی طرف سے حمایت اور مدد کا حصول لازم ہے۔ وہ کسی بھی حال میں بھارت سے مخاصمت مول نہیں لے سکتے اور ایسا چاہتے بھی نہیں۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں، اُس پر پوری طرح سے عمل بھی کر پاتے ہیں یا نہیں۔
بھارت کی او پی جندل گلوبل یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا سے متعلق امور کی پروفیسر سری رادھا دَتّہ کا کہنا ہے کہ اس وقت طارق رحمن جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں وہ بھارت کے تناظر میں بہت خوش آئند ہے۔ ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں سری رادھا دَتّہ نے کہا کہ جب طارق رحمن لندن سے واپس آئے تو ڈھاکا کی سڑکوں پر لاکھوں افراد نے اُن کا خیرمقدم کیا۔ اِس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بھارت کے پڑوس میں بہت حد تک استحکام پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے لیے اِس وقت بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحاد اور دیگر سیاسی کھلاڑیوں کے مقابلے میں طارق رحمن زیادہ موزوں شخصیت ہیں جن پر بہت حد تک بھروسا کیا جاسکتا ہے۔
بنگلادیش میں دس سال تک خدمات انجام دینے والے سابق امریکی سفارت کار ڈان ڈینیلووِز کہتے ہیں کہ بھارت اِس وقت بنگلادیش جماعتِ اسلامی اور طلبہ تحریک کے انقلابیوں کو اپنے مفادات کے لیے سب سے بڑے خطرے کے روپ میں دیکھ رہا ہے۔ ایسے میں طارق رحمن نے جلاوطنی کے خاتمے پر جو بیانات دیے ہیں اُن سے غیرمعمولی پختگی جھلکتی ہے۔
جنوبی ایشیا کے امور کے متعلق سیاسی تجزیہ کار مائیکل کُگلمین کہتے ہیں کہ انتخابات سے قبل بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی راہوں کا الگ ہو جانا بھی طارق رحمن پر نئی دہلی کے اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بنا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں کُگلمین نے کہا کہ ماضی میں ایسا بہت کچھ ہوا ہے جسے بُھلانا کسی کے لیے آسان نہیں۔ بی این پی اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کے درمیان کئی عشروں تک دوستی اور اتحاد رہا ہے۔ بھارت کے لیے یہ سب کچھ بھلانا ایسا آسان نہیں۔ کُگلمین کے مطابق طارق رحمن کو مکمل طور پر قبول کرنا بھارت کے لیے آسان نہیں تاہم حالات کا تقاضا ہے کہ ایسا کیا جائے۔ بھارتی قیادت یہ سب کچھ ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے کھاتے میں کر رہی ہے۔
عوامی رابطوں کی بحالی
دو ملکوں کے درمیان تعلقات محض اعلیٰ سطح کی شخصیات کے مل بیٹھنے سے بحال نہیں ہوسکتے اور پروان بھی نہیں چڑھ سکتے۔ عوام کی سطح پر رابطوں کی بحالی بھی ناگزیر ہے۔ جب تک بھارت اور بنگلادیش کے عوام کے درمیان رابطوں کی گنجائش پیدا نہیں ہوگی تب تک دو طرفہ تعلقات میں حقیقی گرم جوشی پیدا نہیں ہوگی۔
طارق رحمن کے خارجہ امور کے مشیر ہمایوں کبیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایک نیا اچھا آغاز کرنا ہے تو لازم ہے کہ ماضی سے تعلق ختم کیا جائے، جو کچھ ہوچکا ہے، اُسے بھلادیا جائے۔ اگر ماضی سے رابطہ ختم نہ کیا گیا تو خطے میں حقیقی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ کیا جاسکے گا۔
بھارت یہ کہتا رہا ہے کہ وہ بنگلادیش سے تعلقات کا حامل رہا ہے، اُس کی کسی پارٹی یا لیڈر سے نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اُس کے لیے شیخ حسینہ واجد بہت موزوں اور قابلِ قبول رہی ہیں۔ بھارت نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی ہے کہ بنگلادیش میں عوامی لیگ ہی اقتدار میں رہے۔
ہمایوں کبیر کہتے ہیں کہ جب شیخ حسینہ واجد وزیرِاعظم تھیں تب بھارت کے لیے بنگلادیش پالتو کتے سے زیادہ کی حیثیت کا حامل نہیں رہا تھا۔ اگر طارق رحمن اقتدار میں آتے ہیں تو خطے کی تمام طاقتوں سے وہ یکساں فاصلہ رہیں گے اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار رکھنے کو ترجیح دیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کے مفادات کو ہر حال میں ترجیح دی جائے گی اور بھارت کو چین پر یا چین پر بھارت کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔
ہمایوں کبیر کہتے ہیں کہ شیخ حسینہ واجد نے اپنے جرائم کو جواز فراہم کرنے کے لیے بھارت کو بہت بھونڈے طریقے سے استعمال کیا۔ یہی سبب ہے کہ بنگلادیش کے عوام بھارت کے لیے شدید مخالف جذبات کے حامل ہیں۔ جولائی ۲۰۲۴ء کے بعد ابھرنے والا ’’نیا بنگلادیش‘‘ شیخ حسینہ واجد کو دہشت گرد کے روپ میں دیکھتا ہے۔
ہمایوں کبیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فروری کے انتخابات میں بی این پی اقتدار میں آئی اور طارق رحمن وزیراعظم بنے تو بنگلادیش کی حکومت بھارت پر شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کے لیے دباؤ ڈالتی رہے گی۔ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنائے رکھنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ اگر وہ شیخ حسینہ واجد کو بنگلادیش کے حوالے نہیں کرتا تو پھر تعلقات کی خرابی کی ذمہ داری اُسی پر عائد ہوگی۔
شیخ حسینہ واجد نے بھارت میں جلا وطنی کے دوران بنگلادیش کی عبوری انتظامیہ کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی کارکردگی پر تنقید کی ہے جس کے نتیجے میں بنگلادیشی اسٹیبلشمنٹ اُن کے بارے میں مزید مخاصمانہ جذبات کی حامل ہوئی ہے۔ ہمایوں کبیر کہتے ہیں کہ بھارتی قیادت کو اب شیخ حسینہ واجد سے آگے جانا چاہیے۔ ماضی کو بھول کر ایک نئے دور کی ابتدا کرنی ہے تو لازم ہے کہ بنگلادیش میں اقتدار پانے والی جماعت پر بھرپور اعتماد کیا جائے اور معاملات کو خوش اُسلوبی سے بہتر بنانے پر توجہ دی جائے۔ کسی کو یہ نہیں لگنا چاہیے کہ شیخ حسینہ واجد بھارتی سرزمین پر بیٹھ کر بنگلادیش مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور اِس معاملے میں اُنہیں بھارت کی بھرپور حمایت اور مدد حاصل ہے۔ اگر بنگلادیش کے عوام بھارت کو دشمن سمجھتے رہے اور اُس سے خُنّس کھاتے رہے تو بنگلادیش کی نئی، منتخب حکومت کے لیے بھارت کے ساتھ مل کر چلنا اور ڈھنگ سے کام کرنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔
بھارت اور بنگلادیش کے درمیان دوریاں پیدا کرنے والے معاملات صرف سیاسی نہیں ہیں بلکہ کھیل کا میدان بھی ایسے معاملات سے بھرا پڑا ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے انڈین پریمیر لیگ میں حصہ لینے والی ایک مرکزی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو حکم دیا ہے کہ بنگلادیش کے آل راؤنڈر مستفیض الرحمن کو ڈراپ کردے۔ مستفیض الرحمن کی شمولیت پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے اعتراض کیا تھا۔
اب کیا ہوگا؟
بنگلادیش میں پانچ سال تک خدمات انجام دینے والے سابق بھارتی سفارت کار انیل ٹرنگنایت کہتے ہیں کہ اگر بی این پی اقتدار میں آتی ہے تو بھارت کے لیے سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو بنگلادیش سے دور رکھنا اور بنگلادیش کی سرزمین پر موجود اور فعال بھارت مخالف عسکریت پسند گروپوں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔
ڈینیلووِز کا کہنا ہے کہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی سے ماضی میں گہرے تعلقات کے باعث بی این پی کو بھارتی قیادت شک کی نظر ہی سے دیکھتی رہے گی اور اِس حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کرتی رہے گی۔
دوسری طرف ہمایوں کبیر کہتے ہیں کہ یہ تمام خدشات بے بنیاد ہیں کیونکہ طارق رحمن خطے کے تمام ممالک سے مساوی اور خوش گوار تعلقات استوار رکھنے پر یقین رکھتے ہیں اور کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اُن کا جھکاؤ کسی ملک کی طرف ہوگا۔ وہ بھارت اور چین اور تعلقات میں بھی معقول توازن قائم رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ہمایوں کبیر کا استدلال یہ ہے کہ شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں بھارت اور بنگلادیش کے تعلقات تھے ہی نہیں۔ وہ تو بھارت اور شیخ حسینہ کے تعلقات کا دور تھا۔ اب ہمیں یقین ہے کہ بھارت نے حالت کو دیکھتے ہوئے اپنی پالیسی کی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کیا ہوگا اور عوامی سطح پر رابطوں کو بھی اہمیت دینے کے بارے میں سوچا ہوگا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
‘New phase’: India eyes Bangladesh thaw
with BNP before elections.
(“aljazeera”. January 6, 2026)