امریکا کو جنگ کے نقصانات برسوں بھگتنے پڑیں گے!

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔
انہوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکا کے پاس اتنے ہتھیار نہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ممکنہ طور پر مشرقی ایشیا میں جنگوں کا سامنا کرسکے۔
اب ان کے باس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد یہ خدشات حقیقت بنتے نظر آرہے ہیں۔
اس جنگ نے امریکی فوج پر پہلے سے موجود دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور اس کی ایشیا میں کسی ممکنہ تنازع کے لیے تیاری بھی متاثر ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف امریکا کے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے اثرات کئی سال تک محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق امریکا نے جنگ کے ابتدائی چار دنوں میں ۵ ہزار سے زائد مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے جبکہ پہلے ۱۶؍دنوں میں یہ تعداد تقریباً ۱۱؍ہزار تک پہنچ گئی۔ اس طرح یہ مہم جدید تاریخ کی سب سے شدید فضائی کارروائی بن گئی جس نے ۲۰۱۱ء میں لیبیا پر نیٹو کے حملوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔
جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کی فضائی دفاعی صلاحیت کو تباہ کر کے فضا پر کنٹرول حاصل کر لیا تو وہ اپنے اہداف کے قریب جا کر کم فاصلے والے سستے اور وافر بم استعمال کرنے لگے۔ امریکا کے پاس ایسی لاکھوں JDAM کٹس موجود ہیں جو عام بموں کو گائیڈڈ ہتھیاروں میں تبدیل کردیتی ہیں۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکا کے پاس ان کٹس کا تقریباً لامحدود ذخیرہ موجود ہے اور پینٹاگون کے اندازے کے مطابق جنگ کے ۲ ہفتے بعد استعمال ہونے والے ۹۹ فیصد ہتھیار اسی نوعیت کے تھے۔
تاہم اصل مسئلہ ان ہتھیاروں کا ہے جو جنگ کے ابتدائی دنوں میں استعمال ہوئے۔ ابتدائی چھ دنوں میں جب امریکی طیاروں کو فاصلے سے حملے کرنا پڑ رہے تھے، ایک ہزار سے زائد مہنگے اسٹینڈ آف ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ درمیانے فاصلے کے میزائل اور ریڈار کو نشانہ بنانے والے میزائل بھی بڑی تعداد میں استعمال ہوئے جن کے ذخائر پہلے ہی محدود تھے۔
اس سے بھی بڑا مسئلہ فضائی دفاع کا ہے۔ ایران کے ابتدائی میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال ہوچکا ہے۔ صرف پہلے ہفتے میں امریکا نے تقریباً ۱۴۰؍پیٹریاٹ اور ۱۵۰؍سے زائد تھاڈ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے جبکہ ان کا ذخیرہ پہلے ہی کم تھا۔
ماہرین کے مطابق ’ہر میزائل جو ہم آج استعمال کرتے ہیں، وہ ان میزائلوں میں سے ایک میزائل کم کردیتا ہے جو کل یوکرین یا بحرالکاہل میں کام آسکتا تھا‘۔
ان ہتھیاروں کی دوبارہ تیاری میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف ابتدائی چار دنوں میں استعمال ہونے والے اسلحے کی جگہ نئے ہتھیار بنانے کی لاگت ۲۰ سے ۲۶؍ارب ڈالر تک ہوسکتی ہے۔ مگر اصل مسئلہ صرف اخراجات نہیں بلکہ دستیابی کا ہے۔
مثال کے طور پر امریکا نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ۳۰۰ سے زائد ٹومہاک کروز میزائل استعمال کیے جبکہ پینٹاگون نے پورے سال میں صرف ۵۷ نئے میزائل خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اسی طرح تھاڈ انٹرسیپٹر میزائلوں کی ۲۰۲۳ء کے بعد کوئی نئی فراہمی نہیں ہوئی اور ۲۰۲۷ء تک صرف ۳۹ میزائل فراہم کیے جانے کا امکان ہے، وہ بھی آرڈر دینے کے چھ سال بعد۔
پینٹاگون نے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے کے بڑے منصوبے پیش کیے ہیں۔ ان میں ٹومہاک میزائلوں کی سالانہ پیداوار ۶۰ سے بڑھا کر ۱۰۰۰ تک لے جانا، اور ’’پی اے سی۔۳ ایم ایس ای‘‘ میزائلوں کی پیداوار ۶۰۰ سے بڑھا کر ۲۰۰۰ تک کرنا شامل ہے۔ تاہم امریکی کانگریس نے ابھی تک ان منصوبوں کے لیے مکمل فنڈز کی منظوری نہیں دی۔
مزید یہ کہ اسلحہ سازی کی سپلائی چین پیچیدہ اور سست روی کا شکار ہے۔ میزائلوں کے انجن بنانے کے لیے استعمال ہونے والے کچھ کیمیائی مواد صرف ایک یا دو کمپنیوں سے دستیاب ہوتے ہیں اور ان کی فراہمی میں طویل وقت لگتا ہے۔
کچھ اہم اجزا ایسے معدنیات پر مشتمل ہیں جن پر چین کا کنٹرول ہے، جیسے گیلیم، نیوڈیمیم اور امونیم پرکلوریٹ۔ ماہرین کے مطابق ’کانگریس ایک رات میں اربوں ڈالر مختص تو کرسکتی ہے، مگر وہ ان معدنیات کو فوری طور پر پیدا نہیں کرسکتی‘۔
دوسری جانب جنگ میں بہت کم طیارے یا ڈرون تباہ ہوئے ہیں مگر اصل مسئلہ فوجی ساز و سامان کے مسلسل استعمال اور خرابی کا ہے، خاص طور پر امریکی بحریہ کے لیے۔
امریکا کے پاس ۱۱؍بڑے طیارہ بردار جہاز (ایئرکرافٹ کیریئر) ہیں مگر ایک وقت میں ان میں سے چند ہی فعال ہوتے ہیں۔ اس وقت ’یو ایس ایس ابراہام لنکن‘ اور ’یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ‘ اس جنگ میں مصروف ہیں، جبکہ ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش‘ بھی ممکنہ طور پر جنگ میں شامل ہونے جارہا ہے۔
’جیرالڈ آر فورڈ‘ تقریباً ۲۷۰ دنوں سے مسلسل سمندر میں موجود ہے اور جلد ہی ویتنام جنگ کے بعد سب سے طویل تعیناتی کا ریکارڈ توڑ سکتا ہے۔
اس دباؤ کے اثرات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسی جہاز پر ۳۰ گھنٹے تک آگ لگی رہی جس کے باعث ۶۰۰ سے زائد اہلکاروں کو سونے کی جگہ نہیں مل سکی۔
ایک سابق پینٹاگون اہلکار کے مطابق ’یہ ایسا ہے جیسے آپ ایک گاڑی کو مہینوں تک ۲۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائیں اور کبھی انجن آئل نہ بدلیں‘۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ کی موجودہ رفتار کے باعث ایسے مواقع بھی آسکتے ہیں جب امریکا کچھ علاقوں میں طیارہ بردار جہاز تعینات ہی نہ کر سکے اور یہ صورتِ حال دو سے تین سال تک برقرار رہ سکتی ہے۔
فوجی اہلکار بھی شدید تھکن کا شکار ہورہے ہیں۔ طویل تعیناتیاں خاندانی دباؤ بڑھاتی ہیں، جو خودکشی جیسے سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
تاہم کچھ ماہرین کے مطابق اس جنگ کے چند مثبت پہلو بھی ہیں۔ ایک سابق پینٹاگون اہلکار کے مطابق اس جنگ کے تین اہم فائدے سامنے آئے ہیں۔
پہلا، کم لاگت والے نئے ہتھیاروں کا استعمال، جیسے ’لوکاسٹ اَن مینڈ اٹیک سسٹم‘ (لوکاس) جو ایران کے شاہد ڈرونز کی طرز پر تیار کیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر جلد تیار کیا جاسکتا ہے۔
دوسرا، امریکی فوج کو عملی جنگی تجربہ حاصل ہو رہا ہے جو چین کے مقابلے میں ایک بڑی برتری سمجھی جاتی ہے۔
تیسرا، جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کا استعمال جو اہداف کے تعین اور کمانڈ اینڈ کنٹرول جیسے امور میں پہلی بار بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں۔
لیکن ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ یہ فوائد طویل مدتی نقصانات سے زیادہ اہم ہیں۔ درحقیقت نئی ٹیکنالوجی کی آزمائش اور جنگی حکمت عملیوں کا استعمال ایک خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
ایک ماہر کے مطابق ’ہم اپنی حکمت عملی چین کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ اگر چین کو ہمارے طریقہ کار اور وقت کا اندازہ ہوگیا تو وہ اسے تائیوان پر ممکنہ حملے میں استعمال کرسکتا ہے‘۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی افراد پہلے یہ مؤقف رکھتے تھے کہ امریکا کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں سے نکل کر چین کے مقابلے پر توجہ دینی چاہیے۔
مگر اب ایران کی جنگ نے الٹا امریکا کے ایشیا میں موجود وسائل کو کمزور کر دیا ہے۔ جاپان سے ایک میرین یونٹ کو ہٹا دیا گیا ہے جبکہ جنوبی کوریا سے تھاڈ دفاعی نظام کے کچھ حصے منتقل کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس صورتِ حال کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں اور حالیہ جنگ میں ہتھیاروں کے بڑے پیمانے پر استعمال اور میزائل دفاعی نظام کی کمزوری اس دہائی کے باقی حصے میں بحرالکاہل میں امریکی دفاعی صلاحیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

(مترجم: ابن فاروق)
“The Iran war could sap American military power for years”. (“Economist”. Mar 18, 2026)

تازہ مضامین

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔تاہم ایک بات واضح ہے

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو

وکٹورین عہد کے ایڈمرل سرجیکی فشر نے کہا تھا کہ پانچ اسٹریٹجک چابیاں ایسی ہیں جو دنیا کو مقفل کردیتی ہیں۔ اُن کا اشارہ اُن نازک اور حساس مقامات کی طرف تھا جو بڑی کاروباری