آبنائے ہرمز کھلوانے کی جنگ کیسی ہوگی؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر حملے بند کرنے کے لیے ایرانی قیادت سے بات چیت کر رہے ہیں جبکہ ایران اس کی تردید کررہا ہے۔
تاہم ایک بات واضح ہے کہ امریکا مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں متبادل منصوبہ بھی تیار کررہا ہے۔
امریکی میرینز کے دو بڑے دستے خلیج کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی فضائی حملہ آور ڈویژن بھی جلد تعینات کیا جاسکتا ہے۔ یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے پر غور کر رہا ہے جو ایک نہایت مشکل اور خطرناک اقدام ہوگا۔
’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال رکھا ہے جس کے باعث دنیا بھر میں تیل اور مائع گیس کی تقریباً ۲۰ فیصد ترسیل متاثر ہورہی ہے۔ اب تک ۱۹؍تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے جس سے بحری ٹریفک انتہائی کم ہوگئی ہے اور عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔
پینٹاگون کے پاس آبنائے کو کھولنے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبہ موجود ہے۔
پہلا مرحلہ ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے جو جہاز رانی کے لیے خطرہ ہیں جیسے تیز رفتار کشتیاں، میزائل، ڈرونز اور بارودی سرنگیں۔ اس مرحلے میں بنیادی کردار فضائیہ ادا کرے گی تاہم زمینی فوج بھی اس میں شامل ہوسکتی ہے۔
دوسرا مرحلہ آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگوں کی صفائی ہے اور آخری مرحلے میں امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرے گی۔ ہر مرحلہ کئی ہفتوں پر محیط ہوسکتا ہے اور اس میں امریکی افواج کو بڑے خطرات کا سامنا ہوگا۔
ایران کے پاس جہازوں پر حملے کے متعدد طریقے موجود ہیں۔ میزائل اور ڈرونز فضا سے حملہ کرسکتے ہیں جبکہ تیز رفتار کشتیاں دھماکا خیز مواد کے ساتھ جہازوں سے ٹکرا سکتی ہیں یا ان پر میزائل فائر کرسکتی ہیں اسی طرح پانی کے اندر مختلف اقسام کی بارودی سرنگیں موجود ہوسکتی ہیں۔
ان حملوں کے لیے استعمال ہونے والا ساز و سامان اور اہلکار ساحلی علاقوں میں غاروں، سرنگوں اور خفیہ مقامات پر چھپے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں صرف فضائی حملوں سے مکمل طور پر ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
حالیہ دنوں میں امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے ساحلی علاقوں پر شدید بمباری کی ہے۔ ۱۹؍مارچ کو امریکا کے اعلیٰ فوجی افسر نے بتایا کہ لڑاکا طیاروں نے ۵ ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے تاکہ زیرِ زمین بنکروں کو تباہ کیا جاسکے جہاں اینٹی شپ میزائل محفوظ کیے گئے تھے۔
امریکا نے ہیلی کاپٹرز اور نچلی پرواز کرنے والے حملہ آور طیارے بھی تعینات کیے ہیں، جن میں اے۔۱۰ وار تھوگ شامل ہے، جو ایک طرح سے فضائی مشین گن کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ۱۲۰ سے زائد ایرانی بحری جہازوں اور ۴۴ بارودی سرنگ بچھانے والے جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا جاچکا ہے۔
ماہرین کے بقول امریکا اس وقت ہر اُس جگہ کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں ان ہتھیاروں کے موجود ہونے کا امکان ہو، چاہے وہ غار ہو، عمارت ہو یا کوئی گیراج لیکن تمام خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنا بہت مشکل ہے۔
اب ایک نئی حکمت عملی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کے تحت خصوصی فورسز یا میرینز کو قریبی جزائر پر تعینات کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ دشوار گزار علاقوں میں چھپے اہداف کی نشاندہی اور تباہی میں مدد دے سکیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے یا آبنائے ہرمز کے قریب موجود تین متنازع جزائر پر قبضے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں فوجی موجودگی نہ صرف خطرات کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہے بلکہ کم فاصلے کے فضائی دفاعی نظام نصب کر کے جہازوں کو تحفظ بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔
تاہم زمینی افواج کی تعیناتی خود ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ فوجی ایرانی توپ خانے، ڈرون حملوں اور دیگر ہتھیاروں کی زد میں ہوں گے، جبکہ ان کی رسد کے لیے مزید جہاز اور طیارے درکار ہوں گے جو خود خطرے میں ہوں گے۔
اس کے باوجود اس حکمت عملی کے فوائد محدود ہوسکتے ہیں کیونکہ ایران کے شاہد۔۱۳۶ ڈرونز ۱۵۰۰؍کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کرسکتے ہیں، یعنی وہ تقریباً کہیں سے بھی آبنائے ہرمز یا خلیج میں موجود اہداف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔
بارودی سرنگوں کی صفائی بھی اتنی ہی پیچیدہ اور خطرناک ہوگی۔ اگرچہ اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ ایران نے سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں مگر بحری کمپنیاں کسی بھی خطرے کا رسک لینے سے گریزاں ہیں۔
جنگ سے قبل اندازہ تھا کہ ایران کے پاس تقریباً ۶ ہزار مختلف اقسام کی بارودی سرنگیں موجود ہیں جن میں وہ سرنگیں بھی شامل ہیں جو پانی کی سطح کے قریب تیرتی رہتی ہیں اور جہاز سے ٹکرانے پر پھٹ جاتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ جدید سرنگیں بھی ہیں جو سمندر کی تہہ میں رہ کر جہاز کی آواز یا مقناطیسی اثر سے فعال ہوتی ہیں۔
تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنا اس پورے آپریشن کا سب سے پیچیدہ اور خطرناک مرحلہ ہوگا اور یہ ممکنہ طور پر طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
ایسے بحری قافلوں کے لیے درجنوں ڈرونز، حملہ آور ہیلی کاپٹرز اور لڑاکا طیاروں کو مسلسل فضا میں نگرانی کرنی ہوگی جبکہ آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی بروقت نشاندہی کے لیے خصوصی نگرانی کے طیارے بھی درکار ہوں گے۔
جنگی جہاز کم فاصلے سے آنے والے خطرات کو ہلکی توپوں اور الیکٹرانک نظاموں کے ذریعے ناکارہ بنانے کی کوشش کریں گے جبکہ میزائلوں کے خلاف مہنگے اور محدود دفاعی میزائل استعمال کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق ہر دو تیل بردار جہازوں کے ساتھ کم از کم ایک ڈسڑائر جنگی جہاز درکار ہوگا کیونکہ یہ جہاز آبنائے ہرمز کے نہایت قریب قریب گزریں گے۔
فی الحال اس خطے میں امریکا کے پاس ۱۴؍ڈسٹرائر موجود ہیں مگر ان میں سے ۶ پہلے ہی طیارہ بردار جہازوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ مزید جہاز لانے میں ہفتوں لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے امریکا کو دنیا کے دیگر علاقوں، خصوصاً ایشیا سے اپنے وسائل ہٹانا پڑیں گے۔
اگرچہ امریکا کے اتحادی اس حوالے سے مدد کرسکتے ہیں، لیکن زیادہ تر ممالک جنگ جاری رہنے کی صورت میں اپنے جہاز بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اس طرح کا مشن نہایت مہنگا بھی ہوگا اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے محدود دفاعی میزائل ذخائر کو مزید کم کر دے گا۔

آبنائے ہرمز کی جغرافیائی صورتِ حال بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ اپنے تنگ ترین مقام پر صرف ۵۰ کلومیٹر چوڑی ہے اور پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے جس کے باعث امریکی جہازوں کے پاس آنے والے حملوں کا پتا لگانے اور جواب دینے کے لیے بہت کم وقت ہوگا۔
اس کے علاوہ تیز سمندری لہروں میں جہازوں کو چلانا بھی ایک مشکل کام ہوگا اور یہ سب اس صورت میں ممکن ہوگا جب تجارتی جہاز اس خطرناک راستے سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔
ماہرین کے مطابق امریکا کو یمن میں حوثی گروپ کے خلاف کارروائیوں سے کچھ تجربہ ضرور حاصل ہوا ہے مگر ایران کے ہتھیار زیادہ جدید ہیں اور اس کا عزم بھی زیادہ مضبوط ہوسکتا ہے کیونکہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران نے دہائیوں تک اس صورتِ حال کے لیے تیاری کی ہے۔

(مترجم: بن فاروق)
“What a battle to reopen the Strait of Hormuz would look like.” (“Economist”. Mar 28, 2026)

تازہ مضامین

’ہم قلت کی دنیا میں جی رہے ہیں‘، یہ الفاظ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے ہیں جو انہوں نے ۲۰۲۴ء میں میونخ سکیورٹی کانفرنس میں ادا کیے تھے۔انہوں نے خبردار کیا تھا کہ

اسرائیل نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے نئی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کے ذریعے مہلک کارروائیاں تیز کردی ہیں۔امریکی اور اسرائیلی فوجی کمانڈر جب ایران کے خلاف جنگی حکمتِ عملی تیار

جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے

بریگیڈیئر جنرل محمد باقر ذوالقدر کو ممتاز ایرانی رہنما علی لاریجانی کی جگہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔علی لاریجانی حال ہی میں اپنے بیٹے کے ساتھ اس وقت

گزشتہ ۲۵ فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو

وکٹورین عہد کے ایڈمرل سرجیکی فشر نے کہا تھا کہ پانچ اسٹریٹجک چابیاں ایسی ہیں جو دنیا کو مقفل کردیتی ہیں۔ اُن کا اشارہ اُن نازک اور حساس مقامات کی طرف تھا جو بڑی کاروباری