جنگ کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے، نقصان دونوں یا تمام ہی فریقوں کا ہوتا ہے۔ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتی ہے۔ جن اقوام نے برسوں کی محنت کے بعد کچھ پایا ہوتا ہے، جنگ انہیں کچھ ہی دنوں میں کنگال اور کھوکھلا کردیتی ہے۔ جنگ کسی بھی حال میں بہترین حل قرار نہیں دی جاسکتی۔ عالمی تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ نے انسانوں کو پسماندگی سے دوچار کیا ہے، خرابیوں کے گڑھے میں دھکیلا ہے۔
امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ چھیڑی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت نے معاملات کو مکمل جنگ تک پہنچا دیا۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکا مل کر ایران کو نشانہ بنارہے ہیں اور ایرانی فوج اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں امریکا کے فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنارہا ہے۔ یہ سب کچھ کسی بہت بڑی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روس اور چین کے بیانات بہت پریشان کن ہیں۔ امریکی قیادت بھی اِس بات سے ڈرتی ہے کہ کہیں کوئی حقیقی بین الاقوامی جنگ نہ چھڑ جائے۔ ایسی حالت میں بہت تباہی واقع ہوگی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایران سے جنگ کیسے ختم کی جائے۔ امریکی قیادت اِس حوالے سے پریشان ہے کیونکہ اُس پر اندرونِ ملک بھی بہت تنقید کی جارہی ہے۔
ایران سے جنگ چھیڑے ہوئے امریکی قیادت کو اب ایک ماہ ہونے والا ہے مگر اب تک واضح نہیں ہے کہ یہ جنگ ختم کیسے ہوگی اور ہو بھی سکے گی یا نہیں۔ امریکا کے پاس اِس وقت واپسی کا کوئی حقیقی کارگر راستہ نہیں۔
چار منظرنامے
بہت سے منظرنامے ذہنوں کے پردوں پر ابھر رہے ہیں۔ ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ امریکی فضائیہ اور بحریہ ایران کو بڑے پیمانے پر نشانہ بناتی رہیں اور پھر یک طرفہ طور پر جنگ میں فتح کا اعلان کردیں۔ دوسرا ممکنہ منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ چند علاقائی اور دیگر ممالک مل کر مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کروائیں۔ ایسی صورت میں ہونے والی جنگ بندی قدرے پائیدار ثابت ہوسکتی ہے۔ تیسرا منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ جنگ میں زمینی یا بری فوج کا کردار وسعت اختیار کرے اور معاملات انتہائی خطرناک رخ اختیار کریں۔ چوتھا منظرنامہ یہ ہوسکتا ہے کہ علاقائی سطح پر ہونے والی یہ جنگ وسعت اختیار کرے اور کئی ممالک اِس جنگ کی بھٹّی میں کود پڑیں۔ ایسی صورت میں تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مزید توانا ہوسکتا ہے۔
اِن چار ممکنہ منظرناموں میں صرف بات چیت کے ذریعے جنگ بندی کا آپشن ہی معقول ہے کیونکہ اِسی صورت اِس بظاہر بلاجواز جنگ کو مزید وسعت اختیار کرنے اور عالمی جنگ کی سی شکل اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
عراق اور لیبیا کو ذہن میں رکھیے!
ٹرمپ انتظامیہ میں انتہا پسندوں کی بھرمار ہے۔ بیرونِ ملک عسکری مہم جُوئی کے شوقین بڑی تعداد میں ہیں۔ امریکا نے چند عشروں کے دوران متعدد ممالک میں عسکری مہم جُوئی کی ہے اور اِس کے نتائج بھی بھگتے ہیں۔ امریکیوں کا ایک بڑا شوق یہ بھی ہے کہ جن ملکوں سے خطرہ محسوس ہو رہا ہو یا جو امریکی پالیسیوں کی کُھل کر مخالفت کرتے ہوں اُن کی حکومت بدل دی جائے اور اگر ممکن ہو تو طرزِ حکومت بھی تبدیل کردی جائے۔ ایران، ویتنام، نکاراگوا، افغانستان، عراق، لیبیا اور دوسرے بہت سے مسلم اور غیرمسلم ممالک میں یہ سارے تماشے ہوتے رہے ہیں۔ حکومتیں تبدیل کرنے کی کوششوں نے بہت تباہی مچائی ہے اور امریکا کو بھی اِس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
عراق اور لیبیا میں عسکری مہم جُوئی اور حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں امریکا سمیت پورے مغرب نے بہت اہم سبق سیکھا ہے۔ یورپ نے معاملات کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔
امریکا کو کیا چاہیے؟
امریکا اِس وقت الجھا ہوا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ اُس نے ایران پر حملہ تو کیا ہے اور جنگ بھی مسلط کی ہے مگر جو کچھ وہ چاہتا تھا، وہ نہیں ہوسکا ہے۔ ہو بھی نہیں سکتا۔ ایران کے معاملے میں اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ اب امریکا چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طور ٹرمپ انتظامیہ کو فتح کا اعلان کرنے کا موقع مل جائے اور اِس کے لیے وہ ایران کو دبوچنے سے بھی گریز کر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ایران کا گلا دبانے کے لیے ایک خاص حد سے آگے جانے کی کوشش نہ کی جائے اور ایران شکست بھی تسلیم کرلے۔
امریکا چاہے گا کہ ایک ایسا بیانیہ تیار کیا جائے جس میں ایران کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت سے پیدا ہونے والی سُبکی کا بھی ازالہ ہو اور یہ دعویٰ پوری قوت سے کیا جاسکے کہ امریکا نے ایرانی فوج کی کمر توڑ دی ہے، میزائل پروگرام تباہ کر دیا ہے اور ایٹمی ہتھیار بنانے کے عزائم کی بھی بنیاد ہلادی ہے۔
ایسا کوئی بھی بیانیہ آسانی سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا کو ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اُس نے ایران کے خلاف جنگ جیت کر دراصل کوئی بہت بڑا تعمیری کام کیا ہے۔ جنگ کے خاتمے اور فتح کے اعلان پر مبنی اعلانیے کو سفارت کاری اور تعمیری سوچ کے حوالے سے بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ امریکا کو بتانا ہوگا کہ اُس نے ایران پر حملہ کرکے کوئی غلطی نہیں کی، بلکہ دنیا کو بہت کچھ دیا ہے۔ اِس کے لیے لازم ہے کہ امریکا جنگی کارروائیاں روکے اور دنیا کو بتائے کہ معاملات اب مکمل امن کی طرف چل پڑے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بیک ڈور چینل کے ذریعے بات چیت کی جاتی رہنی چاہیے تاکہ دنیا کو یقین ہو کہ اب کچھ مثبت اور تعمیری ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔
ایران کو کیا چاہیے؟
ایران کے لیے بھی صورتِ حال بہت نازک ہے۔ اُسے کئی بار انتہائی پریشان کن صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جدید ایران کی تاریخ بہت سے ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کے بطن سے ایرانی عوام اور حکومت دونوں ہی کے لیے ذلت اور پریشانی کا سامان ہوا ہے۔ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے ۱۹۵۳ء میں ایران میں مداخلت کی اور منتخب وزیرِاعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جس کے نتیجے میں بادشاہت کا ادارہ انتہائی مضبوط ہوگیا۔ اِس کے بعد انقلاب کے پیش منظر میں عراق نے ایران پر جنگ تھوپی۔ اس آٹھ سالہ جنگ نے دونوں ہی ملکوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا۔ ایران کو اپنی طرزِ حکومت کے باعث عشروں تک اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران نے مغرب کے سامنے ڈٹ کر مزاحمت کرنے کی بہت بھاری قیمت چُکائی ہے۔
اگر امریکا نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت یا ایرانی فوج کو کچلنے کے عمل کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کیا اور ایرانی قوم کو ذلیل کرنے کی کوشش کی تو ایرانی قیادت کے لیے مذاکرات کی میز پر آنا انتہائی دشوار ہوجائے گا۔
اگر امریکا چاہتا ہے کہ ایران لچک دکھائے تو لازم ہے کہ ایرانی قیادت کو عوام کے سامنے یہ کہنے کا موقع دیا جائے کہ ایرانی فوج نے پورے وقار کے ساتھ قوم اور وطن کا دفاع کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران کو چند ایک معاملات میں رعایتیں بھی دینا پڑیں گی۔ امریکی قیادت کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ ایرانی فوج اور حکومت دونوں کو جھکنے پر مجبور کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔
بیک ڈور چینل اور بات چیت
اس وقت بیک ڈور چینلز کے ذریعے بات چیت بہت مشکل دکھائی دیتی ہے مگر یہ سب تو کرنا ہی پڑے گا۔ قطر اور عمان اِس معاملے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کسی بھی جنگ کو رُکوانے کے لیے بیک ڈور چینل کام کرتے ہی ہیں۔ یہ مرحلے جس قدر جلد آئے، اُتنا ہی اچھا ہے۔ بلاواسطہ یا بالواسطہ بات چیت سے قبل بہت کچھ طے کرنا ہوگا۔ پہلے تو ریڈ لائنز کا تعین کرنا ہوگا۔ اِس کے بعد متعدد معاملات کو آپس میں جوڑنا ہوگا۔ تصدیق بھی لازم ہے۔ ایرانی قیادت بھی بات چیت چاہتی ہوگی مگر اُس کے لیے تمام لوازم کے بغیر مذاکرات کی میز پر آنا ممکن نہ ہوگا۔
ایران کو امریکا کے ہاتھوں غیرمعمولی نقصان اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ پر بھروسا نہیں کرسکتا۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں ایران سے کیا جانے والا ایٹمی معاہدہ مسترد کردیا تھا۔ یہ معاہدہ ایران نے ۶ ترقی یافتہ ملکوں کے نمائندوں سے مذاکرات کے بعد کیا تھا۔ جون ۲۰۲۵ء میں مذاکرات کے دوران اور پھر فروری ۲۰۲۶ء میں بھی مذاکرات کے دوران ہی امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ اگر ایران سے بات چیت کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو لازم ہے کہ پہلے خلیجی طاقتیں یہ عمل شروع کریں اور پھر برطانیہ اور سعودی عرب بھی اس عمل میں شریک ہوسکتے ہیں۔
ایران چاہے گا کہ مذاکرات اگر ہوں تو جامع اور بامعنی ہوں۔ جنگ بندی ہو تو طویل اور پائیدار ہو۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ فریقین واقعی امن چاہتے ہیں۔
ایران کی تفہیم اور مذاکرات کار
ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر امریکا کو ایران سے مذاکرات کرنے ہوں تو مذاکرات کار کون ہوں۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ ذاتی وفاداروں اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کو مذاکرات کے لیے بھیجتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں اپنے ذاتی مفادات کو ذہن نشین اور مقدم رکھتے ہیں۔ جب مذاکرات کے نام پر محض سودے بازی ہو رہی ہو تو مذاکرات کی کامیابی اور کسی حقیقی امن معاہدے کی کچھ زیادہ توقع نہیں رکھی جاسکتی۔
ایران سے مذاکرات وہی لوگ کریں جو ایران کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے ہوں۔ انہیں ایران پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے تمام محرکات کا بخوبی علم ہو۔ وہ ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے بارے میں بھی سب کچھ جانتے ہوں۔ ایرانی سیاست کی مجموعی نفسیات اور مختلف سیاسی دھڑوں کی حرکیات کو بھی اِس کا بھرپور علم ہونا چاہیے۔
ایران سے مذاکرات کے لیے امریکا کے پہلی صف کے سفارت کار اور بین الاقوامی امور کے ماہرین متعین کرنے چاہئیں۔ یہ مذاکرات غیرمعمولی نوعیت کے ہوں گے۔ اِن کے نتائج پر پوری دنیا کے امن کا مدار ہوگا۔
حقیقت پسندانہ امریکی ایجنڈا؟
اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنی ہر بات منوانے میں کامیاب ہوجائے گا تو یہ محض خوش فہمی ہے اور غلط سوچ بھی۔ ایران ہر بات نہیں مان سکتا۔ امریکی قیادت کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ مذاکرات کا معقول ایجنڈا تیار کیا جاسکے۔ امریکا اگر معقول مذاکراتی ایجنڈا تیار کرنا چاہے تو اُس میں درجِ ذیل نکات شامل کیے جاسکتے ہیں۔
٭ ایرانی قیادت امریکی افواج پر حملے کرنے اور پڑوسی ممالک کو کمزور کرنے والے اپنے عسکریت پسند گروپوں کی فنڈنگ بند کرے۔
٭ ۱۹۶۰ء کی دہائی سے جاری یورینیم افزودہ کرنے کا اپنا پروگرام بند کرے۔ اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جاسکتا ہے جس کے تحت افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔
٭ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک ایسا سکیورٹی فریم ورک تیار کیا جاسکتا ہے جس کے تحت ایرانی قیادت اسرائیل کو بلاواسطہ اور بالواسطہ دھمکیاں دینا ترک کرے اور دوسری طرف اسرائیل بھی ایرانی قیادت کو دھمکانے کا سلسلہ روک دے۔
اگر امریکا اپنے بنیادی نکات منوانا چاہتا ہے تو اُسے بھی خالصاً سویلین مقاصد کے لیے چلائے جانے والے ایرانی ایٹمی پروگرام کا احترام کرنا ہوگا اور اُسے بند کرنے کے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ امریکا کو ایران کے خلاف، ایٹمی پروگرام کی پاداش میں لگائی جانے والی، پابندیوں کو اٹھانا ہوگا اور اِس سلسلے میں اپنے کلیدی حلیفوں سے مشاورت کرنا ہوگی۔ ایران کو ایٹمی پروگرام کے حوالے سے چند ایک حدود کا خیال رکھنے کا پابند کرنا ہوگا۔ ایران کے اثاثوں کو بحال کرنا بھی ایک بنیادی معاملہ ہے۔ جب تک ایران کے اثاثے بحال نہیں کیے جاتے تب تک معاملات درست نہ ہوں گے اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کے اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ ایران سے معاملات کو معمول کی سطح پر لانے میں ایک زمانہ لگ سکتا ہے۔ یہ عمل ایک بار شروع ہو جائے تو پھر پیشرفت بھی ہوتی رہے گی۔
یہ راستہ آسان نہیں!
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جب ایران سے مذاکرات کا معاملہ آئے گا تو امریکا اور یورپ میں بہت سے انتہا پسند چاہیں گے کہ ایران سے اوّل تو بات چیت نہ ہو اور اگر ہو تو چند بنیادی شرائط کے تحت ہوں یعنی ایران کو پابند کیا جائے کہ وہ عسکریت پسند گروپوں کی حمایت اور امداد بند کرے۔ امریکا میں بھی ایسے انتہا پسند بہت بڑی تعداد میں ہیں اور اُن کا اثر و رسوخ بھی بہت زیادہ ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی غیرمعمولی انتہا پسند ہیں اور قدرے منتقم مزاج بھی۔ امریکا میں انتہا پسند نہیں چاہیں گے کہ ایران کو سویلین مقاصد کے لیے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
اگر معاملات کو درست نہ کیا گیا تو دنیا بھر میں طرح طرح کے بحران سر اٹھاتے رہیں گے۔ بیشتر معیشتیں ڈانواڈول حالت میں رہیں گی اور توانائی کا بحران خطرناک شکل اختیار کرتا رہے گا۔ اگر ایران کو زیادہ دبانے کی کوشش کی گئی تو وہاں انتہا پسندوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوگا اور یوں ایرانی قیادت انتہا پسندی کی راہ ہی پر گامزن رہے گی۔
اسرائیل ڈیل کی راہ روکے گا؟
اگر امریکا چاہتا ہے کہ ایران سے مذاکرات بامقصد، بامعنی اور تعمیری ہوں (جن کے نتیجے میں کوئی معقول امن معاہدہ ممکن ہو پائے) تو پھر اُسے اپنی ایران پالیسی کو اپنے حالات و واقعات کے تناظر میں چلانا ہوگا نہ کہ اسرائیل کی مرضی کے مطابق۔ اگر امریکا کی ایران پالیسی پر اسرائیل اثرانداز ہوتا رہے تو پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ایران کے ساتھ جامع، مثبت اور تعمیری امن معاہدہ شاید کبھی نہ ہوپائے۔
ایران کو اپنی سلامتی کے حوالے سے بہت سے خدشات لاحق ہیں۔ ایران کو کسی بھی حالت میں اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بنے۔ ایران اپنی مرضی کے مطابق فلسطین کے مسئلے کو بھی بروئے کار لاکر اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
ایران کو اپنی مرضی کی حکومت کے تحت زندہ رہنے کا حق ہے۔ امریکا یا اسرائیل کو اس بات کی پروا نہیں ہونی چاہیے کہ ایران میں کس کی حکومت ہے۔ اگر ایرانی عوام اپنی حکومت سے خوش اور مطمئن ہوں تو پھر کسی کو بھی کوئی فکر لاحق نہیں رہنی چاہیے۔
جب تک ایرانی قیادت اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں مداخلت سے گریز کرے اور اسرائیل کو دھمکیاں دینا بند رکھے تب تک امریکا کو چاہیے کہ ایرانی حکومت کو اُس کی طرزِ عمل کی بنیاد پر برتے نہ کہ نظریاتی طور پر۔
ایران کہیں نہیں جارہا۔ اور اسرائیل بھی وہیں رہے گا جہاں وہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے تزویراتی مفادات ہیں۔ وہ عالمی سطح پر بہت کچھ کرتے رہنے کی ذہنیت بھی رکھتا ہے۔ لازم ہے کہ سب ایک دوسرے کو سمجھیں۔
امریکا نے اپنی مرضی سے جنگ شروع کی ہے اور اُسے ختم کرنا بھی امریکا کا اپنا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ مطلوب مقاصد کے حصول کے بغیر جنگ ختم کی جاسکتی ہے تاکہ مزید خرابیوں کی راہ مسدود کی جاسکے۔ جنگ روکنا تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر فریق اِتنی دانائی کا حامل ہے کہ مزید خرابیوں کے پیدا ہونے سے پہلے اور کسی بہتر متبادل کا امکان ختم ہو جانے سے قبل جنگ کو روکنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔
(مترجم: محمد ابراہیم خان)
“Why the U.S. must focus on Iran end-of-war scenarios”. (“The Globalist”. March 20, 2026)