امریکا نہیں چاہتا کہ رُوس سے تیل خریدا جائے۔ جو مُمالک روس سے تیل خریدتے ہیں، اُنہیں امریکا اور اُس کے چند اتحادیوں کی ناراضی مَول لینا پڑتی ہے۔ یوکرین جنگ کے نتیجے میں روس
امریکا اور یورپ کے لیے عالمی معیشت میں انتہائی نوعیت کے چیلنج بڑھتے جارہے ہیں۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں اِن دونوں خِطّوں کے لیے مسابقت انتہائی دشوار ہوچکی ہے اور اب ہائی ٹیک میں بھی جاپان،
حال ہی میں بھارتی جریدے ’آؤٹ لُک‘ نے مجھ سے فلسطین کے محبوس علاقے غزہ پر آئی نئی آفت یعنی قحط و بھوک پر رپورٹ لکھنے کی فرمائش کی۔ میں نے نوے کی دہائی کے
ایک عرصے تک ایشیا پیسفک میں مغربی مفادات کو تحفظ فراہم کرانے اور چین کا مقابلہ کرنے کا خواب سجانے کے بعد حالیہ امریکی سرد مُہری نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو مکمل یوٹرن لینے
اسرائیل کے لیے امریکا ایک طویل عرصے سے کوشاں ہے کہ اسے عرب مملکتیں بشمول اسلامی ممالک ایک ’نارمل ریاست‘ کے طور پر تسلیم کرلیں، تاکہ اسرائیلی ریاست کے لیے عرب و عجم کے وہ
امریکی ریاست الاسکا میں امریکا اور روس کے صدور کی حالیہ ملاقات کے بعد سے روسی پروپیگنڈا بازوں نے ایک بار پھر زور و شور سے امریکا کے بارے میں وارم اَپ شروع کردیا ہے۔
سو سال قبل جرمنی کے فرماں روا نے ملک کو ایک بلا جواز جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ یہ عمل اُس کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا تھا کیونکہ پورا ملک اُس
ایک برس قبل میری عزیز دوست اور رشتہ دار صحافی آمنہ حُمید، اپنے گیارہ سالہ بیٹے مَہدی کے ہمراہ نہایت سفاکانہ طریقے سے قتل کر دی گئیں۔ اُنہیں براہِ راست اسرائیلی میڈیا کی جانب سے